قادیانی جماعت قادیانیوں کی نظر میں مسترد - مستند حوالہ جات
میرزا قادیانی اور خلفاء کی اپنی جماعت کے بارے میں 25+ مستند حوالہ جات۔ خزائن، ملفوظات اور الفضل سے تاریخی دستاویزات جو قادیانی حقیقت کو بے نقاب کرتے ہیں۔
متعلقہ موضوعات
قادیانی جماعت قادیانیوں کی نظر میں مسترد - مستند حوالہ جات
تحریر: مولانا قاضی احسان احمد
خلاصہ
یہ مضمون قادیانی جماعت کے بانی مرزا قادیانی اور ان کے خلفاء کی اپنی جماعت کے بارے میں تحریروں کو پیش کرتا ہے۔ مستند قادیانی کتب سے لیے گئے یہ حوالہ جات ظاہر کرتے ہیں کہ خود قادیانی رہنماؤں نے اپنی جماعت کو کیسے دیکھا اور کیا کہا۔
تعارف: ماہنامہ انصار اللہ کا دعویٰ
قادیانی جماعت کا آرگن ماہنامہ "انصار اللہ” بابت ماہ اگست 2012ء میں یہ دعویٰ شائع کیا گیا:
"خدا تعالیٰ نے مجھے ایک مخلص، وفادار جماعت عطا کی ہے۔”
اس دعوے کے مطابق میرزا قادیانی فرماتے ہیں: "میں خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے ایک مخلص اور وفادار جماعت عطا کی ہے، میں دیکھتا ہوں کہ جس کام اور مقصد کے لئے میں ان کو بلاتا ہوں، نہایت تیزی اور جوش کے ساتھ ایک دوسرے سے پہلے اپنی ہمت اور توفیق کے موافق آگے بڑھتے ہیں اور میں دیکھتا ہوں کہ ان میں ایک صدق اور اخلاص پایا جاتا ہے۔” (ملفوظات، ج اول، ایڈیشن 2003ء، مطبوعہ نظارت اشاعت ربوہ، ص223،224)
لیکن کیا یہ دعویٰ سچ ہے؟ آئیے دیکھتے ہیں کہ خود میرزا قادیانی اور ان کے خلفاء نے اپنی جماعت کے بارے میں کیا کہا ہے۔
انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام اخلاص کے اعلیٰ ترین معیار کے حامل ہوتے ہیں، اس لئے ان کے متبعین پر بھی اس کے اثرات پڑتے ہیں اور وہ بھی مخلص ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس جھوٹے مدعیان نبوت چونکہ ذاتی مفادات اور شخصی اغراض سے بھر کر شیطان کے ایما پر اپنی جماعتوں کی بنیاد رکھتے ہیں، اس لئے ان کے پیروکاروں میں بھی اخلاص و اخلاق کی کوئی رمق نہیں پائی جاتی۔
میرزا قادیانی بھی ایسے ہی جھوٹے مدعیان نبوت میں سے ایک تھا جس نے اپنے مفادات کی خاطر انگریزوں کے ایما پر قادیانی جماعت کی بنیاد رکھی۔ لیکن اپنے قیام سے لے کر آج تک قادیانی جماعت کا اخلاق و کردار جیسا رہا ہے اور جن القابات سے اسے پکارا گیا ہے، اس پر روشنی ڈالنے کے لئے قادیانی جماعت کے بعض قائدین کی چند تحریرات ان کے نام کی صراحت کے ساتھ پیش کی جا رہی ہیں۔
میرزا قادیانی کی اپنی جماعت کے بارے میں رائے
بھیڑیوں کی جماعت
میرزا قادیانی خود لکھتے ہیں: "بعض حضرات جماعت میں داخل ہوکر اور اس عاجز سے بیعت کرکے اور عہد توبہ نصوح کرکے پھر بھی ویسے کج دل ہیں کہ اپنی جماعت کے غریبوں کو بھیڑیوں کی طرح دیکھتے ہیں۔” (مجموعہ اشتہارات ص441 تا 443 ج اول، شہادۃ القرآن ص2، خزائن ص 395-396 ج6)
درندوں سے بدتر جماعت
"بدی کا نیکی کے ساتھ جواب دینا سعادت کے آثار ہیں اور غصہ کو کھا لینا اور تلخ بات کو پی جانا نہایت درجہ کی جوانمردی ہے۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ یہ باتیں ہماری جماعت کے بعض لوگوں میں نہیں۔ بلکہ بعض میں ایسی بے تہذیبی ہے کہ اگر ایک بھائی ضد سے اس کی چارپائی پر بیٹھا ہے تو وہ اس کو سختی سے اٹھانا چاہتا ہے اور اگر نہیں اٹھتا تو چارپائی کو الٹا کردیتا ہے اور اس کو نیچے گراتا ہے۔ پھر دوسرا بھی فرق نہیں کرتا اور وہ اس کو گندی گالیاں دیتا ہے اور تمام بخارات نکالتا ہے۔ یہ حالات ہیں جو اس مجمع میں مشاہدہ کرتا ہوں۔ تب دل کباب ہوتا اور جلتا ہے اور بے اختیار دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ اگر درندوں میں رہوں تو ان بنی آدم سے اچھا ہے۔” (مجموعہ اشتہارات ص441 تا 443 ج اول، شہادۃ القرآن ص3، خزائن ص 395-396 ج6)
تہذیب اور پرہیزگاری سے عاری جماعت
"اخی مکرم حضرت مولوی نورالدین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ بارہا مجھ سے یہ تذکرہ کر چکے ہیں کہ ہماری جماعت کے اکثر لوگوں نے اب تک کوئی خاص اہلیت اور تہذیب اور پاک دلی اور پرہیزگاری اور للہی محبت باہم پیدا نہیں کی۔ سو میں دیکھتا ہوں کہ مولوی صاحب موصوف کا یہ مقولہ بالکل صحیح ہے۔” (مجموعہ اشتہارات ص441 تا 443 ج اول، شہادۃ القرآن ص2، خزائن ص 395ج6)
مخنثوں کی جماعت
میرزا قادیانی کا عجیب بیان: "اگر مسلمان ان تعلیموں کے پابند ہوجائیں تو میں قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ وہ فرشتے بن جائیں اور اگر وہ اس گورنمنٹ کے سب قوموں سے بڑھ کر خیرخواہ ہوجائیں تو تمام قوموں سے زیادہ خوش قسمت ہوجائیں۔ اگر وہ مجھے قبول کرلیں اور مخالفت نہ کریں تو یہ سب کچھ انہیں حاصل ہوگا اور ایک نیکی اور پاکیزگی کی روح ان میں پیدا ہوجائے گی اور جس طرح ایک انسان خوجہ (مخنث) ہوکر گندے شہوات کے جذبات سے الگ ہوجاتا ہے اسی طرح میری تعلیم سے ان میں تبدیلی پیدا ہوگی۔” ("حضور گورنمنٹ عالیہ میں ایک عاجزانہ درخواست” از میرزا قادیانی مجموعہ اشتہارات ص144 ج3)
کج دل جماعت
"میں اس وقت کج دل لوگوں کا ذکر کرتا ہوں اور میں حیران ہوتا ہوں کہ خدایا! یہ کیا حال ہے؟ اور یہ کون سی جماعت ہے جو میرے ساتھ ہے۔” (مجموعہ اشتہارات ص 442 ج1، شہادۃ القرآن ص2، خزائن ص 395ج6)
سفلی اور خود غرض جماعت
"بعض حضرات جماعت… انہیں سفلہ اور خود غرض اس قدر دیکھتا ہوں کہ وہ ادنیٰ ادنیٰ خود غرضی کی بنا پر لڑتے اور ایک دوسرے سے دست بدامن ہوتے ہیں اور ناکارہ باتوں کی وجہ سے ایک دوسرے پر حملہ ہوتا ہے۔ بلکہ بسا اوقات گالیوں تک نوبت پہنچتی ہے اور دلوں میں کینے پیدا کرلیتے ہیں۔” (مجموعہ اشتہارات ص 441 ج 1، شہادۃ القرآن ص2، خزائن ص 395ج6)
حکیم نورالدین (قادیانی خلیفہ اول) کی رائے
مرتدوں کی جماعت
حکیم نورالدین نے قادیانیوں کو دھمکی دی: "مجھے (یعنی حکیم نورالدین کو) خدا نے خلیفہ بنادیا ہے اور اب نہ تمہارے (یعنی قادیانیوں کے) کہنے سے معزول ہوسکتا ہوں اور نہ کسی میں طاقت ہے کہ معزول کرے۔ اگر تم زیادہ زور دوگے تو یاد رکھو! میرے پاس ایسے خالد بن ولید ہیں جو تمہیں مرتدوں کی طرح سزا دیں گے۔” (رسالہ تشحیذالاذہان قادیان ج9 نمبر11 ص 14 بابت ماہ نومبر 1914ء)
کوفی فطرت جماعت
"اللہ تعالیٰ نے نورالدین کو خلیفہ مقرر کیا۔ جن کے متعلق یہ کہا جاتا تھا کہ وہ لکھنا اور بولنا نہیں جانتے۔ اس وقت تو (قادیانی) لوگوں نے بیعت کرلی۔ مگر زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ بعض نے کہا: یہ ستّرا بہترا، لائی لگ ہے، کمزور طبیعت ہے اور اگر اس مسئلہ کا تصفیہ اس کے زمانہ میں نہ کردیا گیا تو پھر نہ ہوسکے گا کیونکہ یہ تو ڈر جاتا ہے۔” (اخبار الفضل قادیان ج25 نمبر77 مورخہ 3 اپریل 1937ء)
مرزا محمود (قادیانی خلیفہ دوم) کی تلخ رائے
سوروں کی جماعت
"مجھے نہایت افسوس سے معلوم ہوا کہ جامعہ احمدیہ میں جو طلبا تعلیم پاتے ہیں، انہیں کنوئوں کے مینڈک کی طرح رکھا گیا ہے۔ ان میں کوئی وسعت خیال نہ تھی، ان میں کوئی شاندار امنگیں نہ تھیں اور ان میں کوئی روشن دماغی نہ تھی… ‘جس طرح ہوگا’ تو سور کہا کرتا ہے۔ اگر سور کی زبان ہوتی اور اس سے پوچھا جاتا کہ تو کس طرح حملہ کرے گا؟ وہ یہی کہتا کہ: ‘جس طرح ہوگا کروں گا’۔” (خطبہ مرزا بشیر الدین محمود احمد سابق خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار "الفضل” ج22 نمبر 89 ص 8 مورخہ 24 جنوری 1935ء)
خصی جماعت
"ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام (یعنی میرزا قادیانی) نے خصی کردیا ہے۔” (ارشاد مرزا بشیر الدین محمود سابق خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار "الفضل” قادیان ج22نمبر 87 ص7 2 جنوری 1935ء)
اور پھر وضاحت: "حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرمایا کرتے تھے: ‘سچا مومن خصی ہوجاتا ہے’۔ پس حکومت کے افسروں کو، پولیس اور سول کے حکام کو اور احراریوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ باوجود اشتعال انگیزیوں کے جو وہ کررہے ہیں، ہم بالکل پرامن ہیں کیونکہ ہم سچے مومن ہیں اور مومن خصی ہوجاتا ہے۔” (ارشاد مرزا بشیر الدین محمود سابق خلیفہ قادیان مندرجہ "الفضل” قادیان ج22 نمبر 87 ص 5 مورخہ 20 جنوری1935ء)
دیوث جماعت
"میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ گندی گالیاں جو دو سال سے قادیان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام (یعنی میرزا قادیانی) کو دی جارہی ہیں، اگر ان میں سے ایک گالی بھی لندن میں مسیح ناصری (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام)کو دی جائے تو گالی دینے والا انگریزوں کے ہاتھ سے نہ بچ سکے… مگر خدا تعالیٰ نے یہ ہمیں ‘توفیق’ دی ہوئی ہے کہ ہم گالیاں سنتے ہیں مگر اس کے حکم کے ماتحت پرامن رہتے ہیں۔” (خطبہ جمعہ مندرجہ اخبار "الفضل” قادیان 9 جولائی 1935ء ج23 نمبر 7ص8)
بے حیاء اور بزدل جماعت
"کیا تمہیں شرم نہیں آتی کہ تم ایک سخت بدکلام دشمن کا جواب دے کر اسی سے حضرت مسیح علیہ السلام (یعنی میرزا قادیانی) کو گالیاں دلواتے ہو اور پھر خاموشی سے گھروں میں بیٹھ رہتے ہو۔ اگر تم میں ایک رائی کے دانے کے برابر بھی حیاء ہے اور تمہارا یہ سچ مچ عقیدہ ہے کہ دشمن کو سزا دینی چاہئے تو پھر تم دنیا سے مٹ جائو یا گالیاں دینے والوں کو مٹا ڈالو۔ مگر ایک طرف تم جوش اور بہادری کا دعویٰ کرتے ہو اور دوسری طرف بزدلی اور دوں ہمتی کا مظاہرہ کرتے ہو۔” (خطبہ مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج25 نمبر 129 ص6 مورخہ 5 جون1937ء)
جہنم کی آگ کی حامل جماعت
"رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جہنم کی آگ میں سے اگر ایک رائی کے برابر آگ بھی ساری دنیا پر ڈال دی جائے تو دنیا جل کر راکھ ہوجائے۔ میری کوشش یہ ہے کہ میں وہ جہنم کی آگ تمہارے اندر پیدا کروں جو پہاڑوں کے برابر ہے۔” (خطبہ جمعہ مندرجہ اخبار الفضل قادیان مورخہ 12 دسمبر 1935ء ج23 نمبر 139 ص9)
دیگر القابات
میرزا محمود نے اپنی جماعت کو مزید یہ القابات دیے:
- خوابیدہ جماعت – جو خوابوں کو آمد کا ذریعہ بناتے ہیں
- بددیانت جماعت – جنہوں نے اسٹور کے 60 ہزار میں سے 42 ہزار روپے غائب کر دیے
- گالیاں کھلوانے والی جماعت – جو دشمن سے الفاظ کہلواتے ہیں
- احمق جماعت – جو کبھی صدر کو احمق کہتے ہیں، کبھی خود احمق کہلاتے ہیں
- انگاروں والی جماعت – جن کے دل میں انگارے جمع ہونے چاہیئں
- بے ایمان اور بے وقوف جماعت – جو اللہ کی بات پر یقین نہیں کرتے
- جھگڑالو جماعت – جو عہدوں اور تنخواہوں پر لڑتے رہتے ہیں
- منافقوں پر مشتمل جماعت – جن میں درجن سے زائد منافق موجود ہیں
- غیر مہذب اور غیر شائستہ جماعت – جن کا رفتار دیکھ کر غیر احمدی متاثر ہوتے ہیں
- نفس پرور جماعت – جو نفسا نفسی میں پڑے رہتے ہیں
- ایک پیسے سے بھی کم حیثیت جماعت – جن کی ہزاروں جانوں کی حیثیت ایک پیسے سے بھی کم ہے
نتیجہ اور تبصرہ
یہ تمام حوالہ جات قادیانی جماعت کی اپنی کتابوں اور اخبارات سے لیے گئے ہیں۔ جب خود میرزا قادیانی اور ان کے خلفاء نے اپنی جماعت کو اتنے برے القابات دیے ہیں تو کیا واقعی یہ جماعت "مخلص اور وفادار” کہلانے کی حقدار ہے؟
یہ حقیقت ہے کہ جھوٹے مدعیان نبوت کی جماعتوں میں اخلاص اور پاکیزگی نہیں ہوتی۔ میرزا قادیانی کے اپنے بیانات اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ ان کی جماعت میں وہ خوبیاں نہیں تھیں جن کا دعویٰ آج کیا جاتا ہے۔
انشاء اللہ یہ مستند حوالہ جات خود قادیانیوں کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہونے چاہیئں کہ وہ اصل حقیقت کو سمجھ سکیں اور صراط مستقیم کی طرف لوٹ آئیں۔
یہ حوالہ جات کتنے مستند ہیں؟
یہ تمام حوالہ جات قادیانی جماعت کی اپنی مطبوعہ کتابوں اور اخبارات سے لیے گئے ہیں، جن میں خزائن، ملفوظات، اور الفضل شامل ہیں۔
کیا یہ حوالے تحریف شدہ ہیں؟
نہیں، یہ تمام حوالے مکمل کتاب کے نام، جلد نمبر، صفحہ نمبر اور تاریخ کے ساتھ دیے گئے ہیں جو تصدیق کے لیے چیک کیے جا سکتے ہیں۔
کیا قادیانی جماعت آج بھی ایسی ہے؟
یہ تاریخی حوالے ہیں جو قادیانی جماعت کی بنیادی کردار کو ظاہر کرتے ہیں۔ آج بھی ان کی حالت میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی۔
