ختم نبوت پر احادیث – مستند دلائلتفصیل دیکھیں

حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیب پر نہیں چڑھائے گئے - قرآنی حقائق

حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیب پر نہیں چڑھائے گئے بلکہ رفع الی السماء کیے گئے۔ قرآن و حدیث کی تصدیق، جدید مغربی تحقیقات بھی اسی کی تائید کرتے ہیں۔

متعلقہ موضوعات

حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیب پر نہیں چڑھائے گئے - قرآنی حقائق

تحریر: مولانا نسیم احمد باچنی

یہ مضمون حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع الی السماء کے اسلامی عقیدے کو قرآن و حدیث کی روشنی میں پیش کرتا ہے۔ بحر مردار کے مخطوطات کی جدید تحقیقات بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیب پر نہیں چڑھائے گئے۔


"حضرت مسیح علیہ السلام وقت کی ایک اجتماعی تحریک کے لیڈر تھے جو صلیب پر چڑھائے جانے کی سزا سے بچ کر نکل گئے۔ وہ کوئی خدا نہیں بلکہ ہماری اور آپ کی طرح کے ایک انسان تھے جس نے وقت کی جابر و ظالم حکومت کے خلاف چلنے والی تحریک کی قیادت کی۔ وہ کوئی اللہ کے بیٹے نہیں تھے۔”

ان خیالات کا اظہار آسٹریلیا کی ایک عیسائی "محققہ خاتون” (باربرا تارینج) نے اپنی ایک کتاب میں کیا ہے۔ مصنفہ و محققہ کا شمار آثار قدیمہ کے ماہرین میں کیا جاتا ہے۔

اس محققہ نے کہا کہ 1947ء میں بحر مردار کے مخطوطات کے برآمد ہونے کے بعد یہ مخطوطات جو بحر مردار کے شمال مغربی ساحل پر پائے گئے تھے، اس وقت سے لے کر آج تک عیسائیت کے مرکز ویٹی کن کی جانب سے ان مخطوطات کو مخفی رکھنے کی سازش کی جا رہی ہے جن میں مسیحی اصولوں کی حقیقت بیان کی گئی ہے۔

قدیمی مخطوطات مخفی رکھنے کی سازش

چنانچہ ایک سازش کے تحت برآمد ہونے والے 72 فیصد مخطوطات اب تک باہر کی دنیا سے مخفی رکھے جا چکے ہیں۔ کیونکہ اگر یہ تمام مخطوطات لوگوں کی نظر میں آ گئے تو موجودہ عیسائیت اور اس کا گمراہ کن عقیدہ دھڑام سے زمین بوس ہو جائے گا۔ لیکن بقیہ 28 فیصد مخطوطات ظاہر ہونے کے بعد باربرا اور اس کے مخالفین کے درمیان بحث برابر جاری و ساری ہے۔

عیسائی دنیا میں ہلچل

اس محققہ خاتون نے بحر مردار میں سے برآمد کیے جانے والے مخطوطات اور آثار پر تحقیق کی ہے اور اس موضوع پر کئی ایک کتب بھی تصنیف کی ہیں۔ ان کتابوں نے عیسائی دنیا میں ایک ہلچل مچا دی ہے اور عالمی سطح پر لوگ نہایت دلچسپی اور شوق سے اس کے لیکچرز میں حاضر ہو رہے ہیں۔

مصنفہ کا آخری لیکچر ایڈنبرگ میں رکھا گیا جسے لوگوں کی بہت بڑی تعداد نے بڑی دلچسپی اور سکون کے ساتھ سنا اور گنتی کے چند ہی لوگوں نے مصنفہ کی تحقیق پر اعتراض کیا۔

باربرا کا کہنا ہے کہ مسیح علیہ السلام کے صلیب پر چڑھائے جانے کا واقعہ من گھڑت اور جھوٹا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام کے ساتھیوں نے ان کو سزائے موت سے چھٹکارا دلایا اور وہ یروشلم سے باہر کہیں روپوش ہو گئے۔

لیکن اس حقیقت کو تو اللہ تعالیٰ نے آج سے چودہ سو سال پہلے ہی ارشاد فرما دیا ہے کہ ان لوگوں کا یہ کہنا کہ ہم نے مسیح عیسیٰ بن مریم کو قتل کر دیا، جبکہ نہ انہوں نے انہیں قتل کیا اور نہ ہی انہیں صلیب پر چڑھایا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں شبہ میں ڈال دیا اور اس معاملے میں ان میں اختلاف ڈال دیا اور انہیں شک میں مبتلا کر دیا۔ یہ صرف ان کا ظن یا گمان ہے۔ وہ نہ تو قتل ہوئے اور نہ ہی صلیب پر چڑھائے گئے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی طرف یعنی آسمان پر اٹھا لیا اور اللہ تعالیٰ عزیز و حکیم ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ایک شخص کو جو کہ اس سازش کا سرغنہ یا سردار تھا، اس کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شبیہ اور ہم شکل بنا دیا۔ حالانکہ وہ آخر وقت تک یہ کہتا رہا کہ میں عیسیٰ نہیں ہوں اور اس شخص کو حضرت عیسیٰ سمجھ کر قتل کر دیا اور صلیب پر چڑھا دیا۔ اسی وجہ سے یہود کو اشتباہ ہوا اور اس سے ان میں اختلاف پھیلا اور یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت سے ہوا۔

بے شک اللہ تعالیٰ غالب اور حکمت والا ہے کہ اپنی قدرت کاملہ سے اپنے نبی کو دشمنوں سے بچا لیا اور زندہ آسمان پر اٹھا لیا اور ان کی جگہ ایک شخص کو ان کا ہم شکل بنا کر قتل کرایا اور تمام قاتلین کو قیامت تک اشتباہ اور اختلاف میں ڈال دیا۔

ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اٹھانے کا ارادہ فرمایا تو عیسیٰ علیہ السلام اس چشمے سے کہ جو مکان میں تھا، غسل فرما کر باہر تشریف لائے اور سر مبارک سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے۔ یہ غسل آسمان پر جانے کے لیے تھا، جیسے مسجد میں آنے سے پہلے وضو کرتے ہیں۔

اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کے سردار کو جو کہ اس پوری سازش کا سرغنہ تھا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شبیہ ڈال دی گئی اور عیسیٰ علیہ السلام کو جبرائیل علیہ السلام مکان کے روشندان سے دوسرے آسمان پر لے گئے۔

بعد ازاں یہود کے پیادے عیسیٰ علیہ السلام کی گرفتاری کے لیے گھر میں داخل ہوئے اور اس شبیہ کو عیسیٰ علیہ السلام سمجھ کر گرفتار کیا اور قتل کر کے صلیب پر لٹکا دیا۔ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کی سند صحیح ہے اور بہت سے سلف سے اسی طرح مروی ہے۔ (تفسیر ابن کثیر ج3 ص238)

مندرجہ بالا روایت سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنے رفع الی السماء کا بذریعہ وحی پہلے ہی علم ہو چکا تھا اور یہ بھی علم تھا کہ اب آسمان پر جانے کا بہت تھوڑا ہی وقت رہ گیا ہے۔ لہذا یہ غسل آسمان پر جانے کے لیے تھا۔

تفسیر ابن کثیر (ص229 ج3) میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے رفع الی السماء سے پہلے اپنے بارہ کے بارہ حواریوں کی دعوت فرمائی اور خود اپنے دست مبارک سے اپنے ہاتھ دھوئے اور بجائے رومال کے اپنے جسم کے کپڑوں سے ان کے ہاتھ پونچھے۔ گویا کہ یہ اپنے احباب و اصحاب کی الوداعی دعوت تھی۔

صحیح مسلم میں نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام جب دمشق کے مینارہ شرقیہ کے قریب اتریں گے تو سر مبارک سے پانی ٹپکتا ہوا ہوگا اور یہ اس طرح ممکن ہے کہ وہاں کے اور یہاں کے وقتوں میں بڑا فرق ہے۔ وہاں کا ایک دن اس دنیا کے پچاس ہزار سال کے برابر ہے۔

لہذا جب عیسیٰ علیہ السلام اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو وہاں کے مطابق چند لمحے ہی گزریں گے۔ لہذا آپ کے سر مبارک سے غسل کا پانی گر رہا ہوگا۔

جس طرح ہمارے پیارے نبی ﷺ شب معراج میں براق نامی سواری پر گئے، ساتوں آسمانوں کی سیر کی، سدرۃ المنتہیٰ تک تشریف لے گئے، اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہوئے اور پھر جب دنیا میں تشریف لائے تو نہ صرف دروازے کی کھڑکیاں ہل رہی تھیں بلکہ بستر تک گرم تھا۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، بیشک عنقریب تم میں عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے۔ درآنحالیکہ وہ فیصلہ کرنے والے اور انصاف کرنے والے ہوں گے۔ صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے اور لڑائی ختم کر دیں گے۔ مال کو بہا دیں گے یہاں تک کہ مال کو قبول کرنے والا کوئی نہ ملے گا اور ایک سجدہ دنیا و ما فیہا سے بہتر ہوگا۔”

تفسیر ابن کثیر (ص481 جلد دوم) میں ہے کہ توفی کے معنی کسی شے کو پورا پورا اور بجمیع اجزاء لینے کے ہیں۔ یعنی اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کو روح اور جسم دونوں کے ساتھ دوسرے آسمان پر بلا کر مہمان رکھا ہوا ہے۔

رہا یہ سوال کہ زمین سے لے کر آسمان تک طویل مسافت کا چند لمحوں میں طے کر لینا کیسے ہوا؟ تو اس کا جواب یہ ہے:

لفظ براق برق سے بنا ہوا ہے اور برق یعنی نور کی رفتار ایک منٹ میں ایک کروڑ بیس لاکھ میل کی مسافت طے کرتا ہے۔ بجلی ایک منٹ میں پانچ سو مرتبہ زمین کے گرد گھومتی ہے اور بعض ستارے ایک ساعت میں آٹھ لاکھ اسی ہزار میل کی رفتار سے حرکت کرتے ہیں۔

جس طرح حضور نبی اکرم ﷺ کا جسم اطہر کے ساتھ لیلۃ المعراج میں جانا اور پھر وہاں سے آنا ثابت ہے، اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام کا بجسدہ العنصری آسمان پر اٹھایا جانا اور پھر قیامت کے قریب ان کا نازل ہونا بھی بلاشبہ حق ہے اور ثابت ہے۔

جس طرح حضرت آدم علیہ السلام کا آسمان سے زمین کی طرف تشریف لانا ممکن العمل ہے، اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بھی آسمان سے زمین کی طرف نزول بالکل عین ممکن ہے اور حق و ثابت ہے۔

ان واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی جسم عنصری کا آسمان پر اٹھایا جانا نہ قانون فطرت کے خلاف ہے اور نہ ہی سنت اللہ سے متصادم ہے۔ بلکہ ایسی حالت میں سنت اللہ یہی ہے کہ وہ اپنے خاص الخاص بندوں کو آسمان پر اٹھا لیا جائے تاکہ اللہ کی قدرت کاملہ کا کرشمہ ظاہر ہو اور لوگوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ حق تعالیٰ جل شانہ کی اپنے خاص الخاص بندوں کے ساتھ یہی سنت ہے۔

غرض یہ کہ جسم عنصری کا آسمان پر اٹھایا جانا قطعاً محال نہیں، بلکہ ممکن العمل اور واقع ہے۔ اسی طرح آسمانوں پر کسی جسم عنصری کا بغیر کھائے پیے زندگی بسر کرنا محال نہیں۔

کیونکہ اصحاب کہف کا تین سو سال تک بغیر کھائے پیے زندہ رہنا قرآن کریم میں مذکور ہے اور اسی طرح حضرت یونس علیہ السلام کا شکم ماہی میں بغیر کھائے پیے زندہ رہنا قرآن کریم میں صراحتاً مذکور ہے۔



بحر مردار کے مخطوطات کیا ہیں؟

یہ 1947ء میں دریافت ہونے والے قدیمی مخطوطات ہیں جن میں ابتدائی مسیحیت کے حقائق موجود ہیں اور جن کا 72% حصہ ابھی تک مخفی رکھا گیا ہے۔

کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا جسمانی رفع ممکن ہے؟

جی ہاں، یہ بالکل ممکن ہے جیسا کہ حضرت آدم علیہ السلام کا آسمان سے زمین پر آنا اور نبی کریم ﷺ کا معراج کا سفر ثابت ہے۔

نزول مسیح کب ہوگا؟

قیامت سے قبل حضرت عیسیٰ علیہ السلام دمشق کے مینارہ شرقیہ کے قریب نازل ہوں گے جیسا کہ احادیث میں ذکر ہے۔

    عقیدہ ختمِ نبوت ﷺ — مستند علم، واضح رہنمائی

    اپنے سوال پوچھیں Urdu | English | Arabic میں