تحفظ ختم نبوت: صحابہ کرام کی عظیم قربانیاں اور ہماری ذمہ داری
یہ مضمون میدان یمامہ میں 1200 صحابہؓ کی شہادت اور مسیلمہ کذاب کے مقابلے کو یاد دلاتا ہے، ہماری ذمہ داری، قادیانیت سے بچنا، بائیکاٹ اور عقیدہ ختمِ نبوت کا دفاع۔
متعلقہ موضوعات
تحفظ ختم نبوت: صحابہ کرام کی عظیم قربانیاں اور ہماری ذمہ داری
تحریر: محمد عثمان حیدری
سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں میدان یمامہ میں ایک ایسا واقعہ رونما ہوا جس نے تاریخ اسلام میں ایک سنہری باب رقم کیا۔ بارہ سو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ کسی کا سر تن سے جدا تھا، کسی کا سینہ چیرا ہوا تھا، کسی کا پیٹ چاک تھا، کسی کی آنکھیں نکلی ہوئی تھیں، کسی کی ٹانگ نہیں تھی۔ یہ بارہ سو صحابہ کرام اپنے خون میں نہا کر یمامہ کے میدان میں اس شان سے چمک رہے تھے کہ آسمان کے ستارے انہیں دیکھ کر رشک کر رہے تھے۔
یہ وہ لوگ تھے جنہیں اللہ کے نبی جناب محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آغوش نبوت میں لے کر خود پروان چڑھایا۔ جو مکتب نبوت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فارغ التحصیل تھے۔ جن کے سینوں میں ایمان اور قرآن خود رسول خاتم صلی اللہ علیہ وسلم نے اتارا تھا۔ جن کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں جس کی اقتداء کروگے ہدایت پائو گے۔” جنہیں اس دنیا میں ہی رب العزت نے جنت کے سرٹیفکیٹ جاری کر دیے تھے۔
یہ شہداء جو شہادت کی سرخ قبا پہنے استراحت فرما رہے تھے ان میں سے سات سو حافظ قرآن تھے اور ستر بدری صحابہ کرام تھے جو غزوہ بدر میں اپنی جانیں ہتھیلیوں پر لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پرچم تلے میدان بدر میں اترے تھے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوی نبوت سے لے کر وصال نبوی تک کے عرصے میں جو غزوات ہوئے، جتنی جنگیں لڑی گئیں، جتنے تبلیغی وفود دھوکے سے شہید کیے گئے اور کفار کے مظالم سے جو صحابہ کرام شہید ہوتے رہے ان کی کل تعداد 259 ہے۔ یعنی پورے دور نبوی میں جو کل صحابہ کرام شہید ہوئے ان کی تعداد 259 تھی اور جو صرف مسئلہ ختم نبوت کے لیے صحابہ کرام شہید ہوئے ان کی تعداد 1200 ہے جن میں سے 700 حفاظ قرآن تھے۔
جھوٹے مدعی نبوت مسیلمہ کذاب کے پاس چالیس ہزار کا لشکر تھا اور مال و دولت کے بھی ڈھیر تھے۔ ادھر مسلمان وصال نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے غم میں نڈھال تھے اور مدینہ منورہ ہر طرف سے خطرے میں تھا۔ لیکن سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے تخت ختم نبوت پر ڈاکہ زنی کو برداشت نہ کیا۔
یار غار نے خطرناک حالات کی بالکل پروا نہ کی اور مسیلمہ کذاب کی سرکوبی کے لیے ایک لشکر حضرت شرجیل رضی اللہ عنہ کی قیادت میں روانہ کیا لیکن اس لشکر کو بھی شکست ہوئی۔ دوسرا لشکر حضرت عکرمہ بن ابی جہل رضی اللہ عنہ کی قیادت میں روانہ کیا لیکن اس لشکر کو بھی شکست ہوئی۔ پھر بھی صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ہمت نہ ہاری۔
حضرت شرجیل اور حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہما کو ہدایت جاری کی کہ مدینہ لوٹ کر مت آنا، تمہارے آنے سے بددلی پھیلے گی۔ تم دونوں وہاں ہی انتظار کرو، میں تمہاری طرف سیف اللہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے لشکر کو روانہ کر رہا ہوں۔
سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ یمامہ پہنچے۔ دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے اور دونوں طرف سے گھمسان کی جنگ ہوئی۔ انسانی جسم گاجر مولی کی طرح کٹ کٹ کر زمین پر گرنے لگے۔ مسلمان بڑی جان ثاری سے لڑے لیکن مسیلمی لشکر سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑا تھا۔ آخر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ میدان جنگ میں کھڑے مسیلمہ کذاب کو دیکھ کر عقاب کی طرح اس کی طرف لپکے اور ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایک ہی دفعہ زبردست حملہ کیا جس سے اس کے قدم اکھڑ گئے۔
مسلمان تیزی سے انہیں قتل کرنے لگے۔ اللہ تعالی نے مسلمانوں کو فتح عطا کی اور مسیلمہ کذاب خود بھی جہنم واصل ہو گیا اور اس کی جھوٹی نبوت بھی مجاہدین ختم نبوت کے ہاتھوں میدان یمامہ میں ہمیشہ کے لیے دفن ہو گئی۔ لیکن اس جنگ میں مسلمانوں کا بھی ایسا نقصان ہوا جو اس سے قبل اسلامی تاریخ میں کبھی نہ ہوا تھا۔ بارہ سو صحابہ کرام نے خود کو خاک و خون میں تڑپا دیا لیکن جھوٹی نبوت کے وجود کو برداشت نہ کیا۔
آج کے مسلمانوں اور صحابہ کرام میں تضاد کیوں؟
مسلمانو! صحابہ کرام کے عہد کا جھوٹا مدعی نبوت مسیلمہ کذاب تھا اور ہمارے عہد کا جھوٹا مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ جتنے خطرناک مسیلمہ کذاب کے پیروکار تھے، اس سے کہیں زیادہ خطرناک مرزا قادیانی کے پیروکار ہیں۔
آج جب میں کسی مسلمان کو قادیانی کے ساتھ ہاتھ ملاتے ہوئے دیکھتا ہوں تو مجھے صحابہ کرام کے کٹے ہوئے ہاتھ یاد آ جاتے ہیں۔ جب میں کسی مسلمان کو قادیانی سے بغلگیر ہوتے اور قادیانی کے گلے میں بازو حمائل کیے ہوئے دیکھتا ہوں تو مجھے صحابہ کرام کے کٹے ہوئے بازو تڑپانے لگتے ہیں۔
صحابہ کرام بھی کلمہ طیبہ پڑھتے تھے، یہ مسلمان بھی کلمہ طیبہ پڑھتے ہیں۔ صحابہ کرام بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی تھے، یہ مسلمان بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہونے کا اقرار کرتے ہیں۔ لیکن صحابہ کرام کی ختم نبوت کے ڈاکوؤں سے جنگ تھی، ان کی ختم نبوت کے ڈاکوؤں سے دوستی ہے۔ صحابہ کرام کا عقیدہ ختم نبوت پر سب کچھ قربان لیکن ان کا ختم نبوت کے باغیوں سے کاروبار۔ دونوں میں اتنا خوفناک تضاد کیوں؟
کہیں ایسا تو نہیں کہ آج کے مسلمان نے کلمہ طیبہ حلق سے پڑھا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہونے کا اعلان صرف نوک زبان تک ہے کیونکہ ان کا کردار ان کے دعوے کی نفی کر رہا ہے۔ مسلمانو! جس جسم کی رگوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہوتی ہے وہ جسم قادیانیوں سے ہاتھ نہیں ملایا کرتا، وہ جسم قادیانیوں سے بغلگیر نہیں ہوتا، وہ جسم کسی قادیانی تقریب میں شامل نہیں ہوتا۔
مولانا سید محمد انور شاہ کاشمیری کے دو اہم اقوال
محدث العصر حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کے دو ملفوظات ہیں جن پر غور کرنا چاہیے۔ مرض الموت میں حضرت مولانا سید انور شاہ کشمیری نے اپنی چارپائی اٹھوائی اور دارالعلوم دیوبند کی مسجد کے محراب کے پاس رکھوا کر آخری وصیت ارشاد فرمائی:
"اس امت کے لیے اب تک قادیانیت سے بڑھ کر کوئی فتنہ وجود میں نہیں آیا۔ مسلمانوں کے ایمان کو فتنہ ارتداد سے بچاؤ اور اپنی ساری قوتیں اس میں صرف کر ڈالو۔ یہ ایسا جہاد ہے جس کا بدلہ جنت ہے۔ میں اس بدلے کا ضامن بنتا ہوں۔”
اور دوسرا ملفوظ یہ ہے: "ہم پر یہ بات کھل گئی ہے کہ گلی کا کتا بھی ہم سے بہتر ہے اگر ہم تحفظ ختم نبوت نہ کر سکیں گے۔”
اگر شفاعت چاہیے تو ختم نبوت کا تحفظ ضروری ہے
اے مسلمان! اگر تجھے قبر میں رحمت کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی پہچان چاہیے اور حشر کی ہولناک اور خوفناک نفسا نفسی کی گھڑیوں میں شافع محشر محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کی ضرورت ہے، اگر ساقی کوثر صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں سے جام کوثر پی کر حشر میں پیاس بجھانے کی تمنا ہے تو پھر ایک ہی راہ ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں اور صحابہ کرام کے دشمنوں سے ہر قسم کے تعلقات ختم کر کے صدق دل سے آج ہی فیصلہ کریں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کی نگہبانی کا فریضہ سرانجام دینا ہے اور ختم نبوت کے تحفظ کے کام کو سنبھال کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کو پہچاننا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی وفاداری اور محبت کا ثبوت دینا ہے۔
بقول شاعر: کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
قادیانیوں سے بائیکاٹ دینی غیرت کا تقاضا
قادیانیوں سے بائیکاٹ دینی غیرت کا اولین تقاضا ہے اور نور ایمان کا بین ثبوت بھی۔ آئیے اپنے اپنے دلوں میں محبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو محسوس کرتے ہوئے، کیونکہ اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے اور موت کا فرشتہ گھات لگائے بیٹھا ہے اور اللہ تعالی کے حکم کا انتظار کر رہا ہے اور پھر موت کا پوسٹ مارٹم ہمارا سب کچھ ہمارے سامنے رکھ دے گا۔ عقیدہ ختم نبوت پر اپنا جان مال قربان کریں۔
