ایک ہفتہ شیخ الہندؒ کے دیس میں | مولانا اللہ وسایا کا تاریخی سفرنامہ ہند
یہ مواد کیا بیان کرتا ہے؟
ایک ہفتہ حضرت شیخ الہندؒ کے دیس میں
کتاب کا تعارف
۱۱؍ دسمبر سے ۱۸؍ دسمبر ۲۰۱۳ء تک مولانا اللہ وسایا صاحب کا ایک ہفتہ کا سفرِ ہند ہوا،
جس کی روداد ماہنامہ لولاک میں شائع ہوئی۔
ابتدا میں اس سفرنامہ کا عنوان ’’انڈیا میں ایک ہفتہ کا سفر‘‘ تھا،
بعد ازاں حضرت مولانا عبداللطیف طاہر (ایڈیٹر ہفت روزہ ختمِ نبوت کراچی)
نے اس کا نام تجویز کیا: ’’ایک ہفتہ حضرت شیخ الہندؒ کے دیس میں‘‘۔
اسی عنوان سے جمعیت علماء اسلام گلگت کے رہنما مولانا عطا اللہ شہاب کا سفرنامہ بھی موجود ہے۔
اس کتاب میں نہ صرف سفر کی روداد بیان کی گئی ہے بلکہ
ان تمام اولیاء و مشائخ کے مختصر حالات بھی شامل ہیں
جن کے مزارات پر مصنف نے حاضری دی۔
کتاب کے اہم نکات
- واہگہ بارڈر سے روانگی اور اٹاری چیک پوسٹ پر وفد کا اعزاز
- لدھیانہ میں ختمِ نبوت کے نعروں سے گونجتا ماحول
- سرہند شریف میں حضرت امام ربانی مجدد الف ثانیؒ کے مزار پر حاضری
- دارالعلوم دیوبند اور مظاہرالعلوم سہارنپور میں شعبہ ختمِ نبوت کا جائزہ
- اکابرِ دیوبند کے مزارات پر حاضری:
- حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ
- حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ
- حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ
- حضرت مولانا انور شاہ کشمیریؒ
- حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ
- حضرت شیخ الاسلام حسین احمد مدنیؒ
- حضرت شاہ ولی اللہؒ اور ان کے خانوادے کے بزرگ محدثین کے مزارات پر حاضری
- حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ، مرزا مظہر جان جاناںؒ،
اور مولانا ابوالکلام آزادؒ کے مختصر حالات - امنِ عالم کانفرنس دیوبند میں شرکت اور علمائے کرام سے ملاقاتیں
کتاب کی دینی و تاریخی اہمیت
یہ سفرنامہ اکابرِ دیوبند کی علمی و روحانی خدمات،
تحریکِ ختمِ نبوت کے تسلسل،
اور برصغیر کے دینی مراکز کی تاریخی جھلک پیش کرتا ہے۔
مولانا اللہ وسایا صاحب نے نہایت دلنشین انداز میں
ایک ہفتہ کے اس روحانی و علمی سفر کو قلمبند کیا ہے۔
متعلقہ مواد
