مرزائی مبلغ کو بعد از مرگ عذاب الٰہی: سچا واقعہ!
متعلقہ موضوعات
مرزائی مبلغ کو بعد از مرگ عذاب الٰہی: سچا واقعہ!
مصنف: مولانا محمد عمر فاروق
اللہ تعالیٰ کی نشانیاں اور ان کا مقصد
ﷲتعالیٰ نے ہردور میں، اور خصوصاً اس پر فتن دور میں، اہل ایمان کی تصدیق، اہل باطل کی تکذیب، مؤمنین کے ایمان کی تحفیظ وتائید اور اہل باطل وکفار کی تردید کے لئے ان گنت اور لاتعداد نشانیاں دکھائیں ہیں۔ ان نشانیوں کو دیکھ کر حق کے متلاشی ہدایت پاتے ہیں، جبکہ اہل شقاوت کو ضلالت وگمراہی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
تاریخی شواہد اور ایمانی استقامت
تاریخ اس پر شاہد ہے کہ شق القمر اور لیلۃ المعراج جیسے واقعات سے مؤمنین کے دلوں میں ایمان راسخ ہوا، لیکن اہل کفار کے مکروفریب میں کوئی کمی نہ آئی۔ قارئین کرام، میں آپ کو ایک سچا واقعہ سنانا چاہتا ہوں۔ اس کو پڑھنے سے امید ہے کہ مؤمنین کے دلوں میں عقیدہ ختم نبوت مزید مضبوط ومستحکم ہوجائے گا اور حق کے متلاشی کو باطل عقیدہ سے توبہ کی توفیق حاصل ہوجائے گی۔
ضلع خوشاب کا عبرت ناک واقعہ: حاجی منڈا کا انجام
یہ واقعہ ہمارے علاقہ روڈہ ضلع خوشاب کا ہے کہ وہاں پر ایک مرزائی، جو "حاجی منڈا” کے نام سے مشہور تھا، اس کا اصل نام عبداﷲ تھا۔ وہ مرزائیت کی نشرواشاعت میں ہر وقت مصروف رہتا تھا۔ چوری چھپے حج کرنے گیا تو وہاں بھی بکواسات کرتا رہا۔ اسی حالت میں اس نے اپنی زندگی کے ایام پورے کئے اور مرگیا۔
مرزائیوں نے اس ملعون کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے کی کوشش کی تو اہل علاقہ نے ایمانی غیرت اور حضور خاتم النبیینﷺ سے محبت کا ثبوت دیتے ہوئے اس کوشش کو ناکام بنادیا۔ مرزائیوں نے مجبوراً مسلمانوں کے قبرستان سے فاصلے پر اس کی علیحدہ قبر بنائی۔
اس کو وہاں دفن کرنے کے لئے ظہر اور عصر کے درمیان لے گئے تو اﷲرب العزت نے اپنی صفت جباری و قہاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بغیر بادل وبارش کے بجلی گرائی جو سیدھی اس مرزائی کی نعش پر گری اور اس کو راکھ بناکر رکھ دیا۔ قریب کھڑے جو مرزائی تھے وہ بھی عذاب الٰہی سے محفوظ نہ رہ سکے اور ہمیشہ کے لئے واصل جہنم ہوگئے۔
واقعہ کے اثرات اور عبرت پذیری
جو باقی بچے، وہ وحشت وغضب الٰہی کی تاب نہ لاتے ہوئے علاقہ چھوڑ کر بھاگ گئے۔ اس واقعہ سے کچھ حق کے متلاشی مرزائیت سے توبہ تائب ہوکر مسلمان ہوگئے۔
لیکن اہل شقاوت کے دلوں پر مہر لگ چکی تھی۔ انہوں نے عبرت حاصل نہ کی اور ضلالت وگمراہی میں پڑے رہے۔ جو عبرت حاصل نہیں کرتے وہ خود عبرت کا نشان بن جاتے ہیں۔ چند دن بعد اس مردود کی راکھ اکھٹی کی گئی اور اس کو دفن کر کے اس کی قبربنادی گئی۔ آج بھی اس واقعہ کے عینی شاہد موجود ہیں جو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں۔
ایمان کی حفاظت کی دعا
اﷲرب العزت ہم سب کے ایمان کی حفاظت فرمائے۔ عبرت آموز واقعہ سے سبق حاصل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے اور نشان عبرت بننے سے بچائے۔ آمین ثم آمین!
