39 قادیانیوں کا قبول اسلام: ایک کامیاب مناظرے کی کہانی
متعلقہ موضوعات
39 قادیانیوں کا قبول اسلام: ایک کامیاب مناظرے کی کہانی
مصنف: جناب غلام جیلانی برق
ابتدائی کشمکش اور قادیانیوں کا چیلنج
دسویں جماعت میں عربی کے صرف پانچ طلباء تھے۔ ان میں سے ایک قادیانی تھا۔ میں ان دنوں قادیانیت کے متعلق ایک دو پمفلٹ پڑھ چکا تھا۔ اس لئے اس قادیانی لڑکے کو تنگ کیا کرتا تھا۔ ایک دن اچانک جماعت قادیانیہ راہوں کے سیکرٹری کی طرف سے مجھے ایک خط ملا۔
خط کا مضمون یہ تھا:
"جناب مولوی غلام جیلانی صاحب السلام علی من اتبع الہدیٰ! ہمیں یہ شکایات مسلسل موصول ہو رہی ہیں کہ آپ قادیانی لڑکوں کو چھیڑتے اور تنگ کرتے ہیں۔ اس لئے ہم آپ کو چیلنج دیتے ہیں کہ آپ آج سے چھ دن بعد اتوار کو نمبردار محمد اکرم کی بیٹھک کے صحن میں مناظرہ عام کے لئے آئیں۔ ہماری طرف سے مربی غلام رسول راجیکے، عبدالعزیز شملوی اور ابراہیم بقاپوری قادیانی شامل ہوںگے۔ اگر آپ نہ آئے تو ہم آپ کے خلاف سارے شہر میں اشتہار لگائیں گے۔”
یہ اشتہار پڑھ کر مجھ پر خوف طاری ہوگیا۔ میں سوچنے لگا کہ اگر میں نہ گیا تو قادیانی ڈھول بجا کر اپنی فتح کا اعلان کریں گے۔ اگر گیا اور شکست ہوگئی تو سارا شہر قادیانی ہو جائے گا۔
غیبی مدد اور مناظرے کا میدان
میں ان مسائل پر احباب سے بات چیت کر رہا تھا اور دلائل ڈھونڈ رہا تھا کہ غیب سے ایک دلیل دماغ میں آئی اور میں مناظرہ کی طرف ڈاکٹر بسمل اور دیگر احباب کے ہمراہ چل پڑا۔ سارا میدان لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ صدر مناظرہ ایک سکھ تھا۔ اس نے اعلان کیا کہ ہر مقرر کو پندرہ پندرہ منٹ ملیںگے اور آج مرزا قادیانی کی نبوت پر قرآن کی روشنی میں بحث ہوگی۔ پہلی تقریر سنی مولوی کی ہوگی۔ مناظرہ تین دن رہے گا۔ اب سنی مولوی سے التماس ہے کہ تقریر شروع کریں۔
قرآن کی روشنی میں دلیل اور قادیانیوں کی گھبراہٹ
میں نے حمد وصلوٰۃ کے بعد یہ آیت پڑھی: "ذٰلِکَ الْکِتٰبُ لَا رَیْبَ فِیْہِ ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ ۙ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ”
ترجمہ: "یہ کتاب تمام شکوک سے بالاتر ہے اور ان متقین کے لئے باعث ہدایت ہے جو غیب پہ ایمان لاتے، نماز قائم کرتے اور ہمارے دئیے ہوئے رزق سے خرچ کرتے ہیں۔ یہ لوگ اس وحی پر ایمان لاتے ہیں جو اے رسول ہم نے تم پر نازل کی ہے اور اس وحی پر بھی جو تم سے پہلے آچکی ہے اور (تمہاری وحی کے بعد) قیامت پر ایمان لاتے ہیں۔ یہ لوگ ہدایت پر ہیں اور یہ نجات پائیں گے۔”
حضرات، دیکھا آپ نے کہ ﷲ نے قرآن کے بعد آخرت پر ایمان لانے کا حکم دیا ہے۔ قرآن اور قیامت کے درمیان کسی رسالت یا وحی پر ایمان لانے کا کوئی اشارہ تک قرآن میں نہیں ملتا۔ تو پھر یہ قادیانی دوست مرزا قادیانی کو ملت پر کیوں تھوپ رہے ہیں۔
یہ کہہ کر میں بیٹھ گیا اور غلام رسول راجیکے پندرہ منٹ تک مرزا قادیانی کی نبوت زلزلوں، سیلابوں، سورج اور چاند کے گرہنوں سے ثابت کرتے رہے۔ میں اٹھا اور اتنا کہہ کر بیٹھ گیا کہ جب قرآن کے بعد صرف قیامت پر ایمان لانے کا حکم ہے تو آپ مرزا قادیانی کو ہمارے دائرہ ایمان میں کیوں گھسیٹ رہے ہیں۔
سیکرٹری قادیانی کا فیصلہ کن اعلان
قادیانی مبلغ نے پھر ادھر ادھر کی ہانکنی شروع کردی اور میرے سوال کے جواب سے دامن بچانے لگے۔ میں نے ان کی بات ٹوک کر بلند آواز سے کہا کہ بے ربط باتیں نہ کیجئے اور میرے سوال کا جواب دیجئے۔ اب ان پر گھبراہٹ طاری ہوگئی۔ ہوائیاں اڑنے لگیں اور لگے ادھر ادھر کی ہانکنے۔
اس پر قادیانیوں کا سیکرٹری اٹھ کر کہنے لگا کہ "سنی مولوی کی بات تو ہماری سمجھ میں آگئی ہے۔ لیکن قادیانی مولوی کی کوئی بات ہماری سمجھ میں نہیں آرہی۔ اب سنی مولوی کا سوال میں پیش کرتا ہوں کہ قرآن اور قیامت کے درمیان کسی وحی پر ایمان لانے کا حکم نہیں ہے تو پھر مرزا قادیانی پر کیوں ایمان لائیں؟”
جب قادیانی مبلغ نے پھر ادھر ادھر کی ہانکنی شروع کی تو سیکرٹری اٹھ کر کہنے لگا: "آپ کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ اس لئے میں اپنی جماعت کے ساتھ قادیانیت سے تائب ہوتا ہوں اور 39 قادیانی تائب ہوگئے۔” اس پر ﷲ اکبر کے نعرے بلند ہوئے۔
کامیابی اور عوامی ردعمل
چند نوجوان مجھے اپنے کندھوں پر اٹھا کر شہر کی گلیوں میں "اسلام زندہ باد اور قادیانیت مردہ باد” کے نعرے لگانے لگے۔ یہ ہنگامہ شام تک جاری رہا۔ جلوس نے بڑی مسجد میں مغرب کی نماز ادا کی اور پھر مجھے نمبردار کی بیٹھک پر چھوڑ کر منتشر ہوگیا۔
مناظروں کا تسلسل اور آئندہ تجربات
اس مناظرہ سے پہلے میں قادیانی مبلغین کے بے ربط دلائل، شور وشغب اور بے مقصد گفتگو سے گھبراتا تھا۔ لیکن اس فتح کے بعد میں دلیر ہوگیا اور جہاں بھی جاتا قادیانیوں سے مناظرے میں جٹ جاتا۔ میں جب بہ سلسلۂ ملازمت چکوال ضلع جہلم میں پوسٹ ہوا تو وہاں بھی قادیانیوں سے ایک پبلک مناظرہ کیا۔
قادیانی مناظر کا نام ﷲ دتہ جالندھری تھا۔ بہت طرار، بے ربط دلائل کرنے میں ماہر اور اپنی تردید کرنے میں یگانہ۔ یہ مناظرہ شوروغوغا اور تو تو میں میں میں ختم ہوگیا۔ انہی دنوں چکوال کے ایک قادیانی مناظر نے چودہ صفحات کا ایک طویل خط مجھے لکھا۔ میں نے اس کی تردید میں بیس صفحے لکھے۔ یہ سلسلۂ مراسلت کوئی آٹھ ماہ تک چلتا رہا۔ پھر جب دونوں کے پاس کہنے کے لئے کچھ نہ رہا تو خود بخود بند ہوگیا۔ (میری داستان حیات ص53)
