اسرائیل کی کشمیر میں دلچسپی - قادیانیوں کا کردار اور سازش!
اسرائیل کی کشمیر میں بڑھتی دلچسپی کی وجوہات۔ قادیانیوں اور یہودیوں کا گٹھ جوڑ۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف سازش۔ شمعون پیریز کے ساتھ تاریخی ملاقات اور حامد میر کی رپورٹ۔
متعلقہ موضوعات
اسرائیل کی کشمیر میں دلچسپی - قادیانیوں کا کردار اور سازش!
تحریر: جناب حامد میر | تخصص: صحافت اور بین الاقوامی امور
خلاصہ
یہ مضمون اسرائیل کی کشمیر میں بڑھتی ہوئی دلچسپی اور قادیانیوں کے کردار کو بیان کرتا ہے۔ 1994ء میں اسرائیلی وزیر خارجہ شمعون پیریز کے ساتھ ملاقات کے واقعے سے شروع ہوتے ہوئے، یہ مضمون یہودیوں اور قادیانیوں کے گٹھ جوڑ، کشمیر میں اسرائیلی منصوبوں، اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف سازشوں کی تفصیل فراہم کرتا ہے۔
ڈیووس میں تاریخی ملاقات
سوئٹزرلینڈ کے پہاڑی شہر ڈیووس میں ہر سال ورلڈ اکنامک فورم کا سالانہ اجلاس منعقد ہوتا ہے جس میں دنیا کے بڑے بڑے لیڈروں اور دانشوروں کو خطاب کی دعوت دی جاتی ہے۔ جنوری 1994ء میں اس وقت کی وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کو ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس سے خطاب کی دعوت دی گئی۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کے وفد میں یہ خاکسار بھی بطور اخبار نویس شامل تھا۔
اس اجلاس میں معروف امریکی دانشور سیموئل ہنگٹن نے تہذیبوں کے تصادم کا تصور پیش کرتے ہوئے مغرب کو اسلام کے خطرے سے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہندو تہذیب اور مغربی تہذیب آپس میں فطری اتحادی ہیں، جبکہ اسلامی تہذیب کا اتحاد چینی تہذیب کے ساتھ ہوسکتا ہے۔
ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس میں سیموئل ہنگٹن کی تقریر کے بعد اسرائیلی وزیر خارجہ شمعون پیریز نے خطاب کیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کا خطاب آخری سیشن میں تھا۔ لہذا میں چائے پینے کے لیے کانفرنس ہال سے باہر نکلا تو شمعون پیریز بھی باہر نکلتے دکھائی دیے۔ میری صحافیانہ رگ پھڑکی اور میں بھی ان کے پیچھے ہو لیا۔
ہال کے باہر شدید برف باری ہو رہی تھی اور پھسلن کے باعث گاڑیوں کا حرکت کرنا مشکل تھا۔ شمعون پیریز کو بتایا گیا کہ ہال سے تقریباً ڈیڑھ کلو میٹر کے فاصلے پر ایسی مشینیں موجود ہیں جو برف صاف کر رہی ہیں اور گاڑیاں چل سکتی ہیں۔ میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب شمعون پیریز اپنے دو محافظوں کے ہمراہ پیدل ہی روانہ ہو گئے۔
ایک سوئس صحافی نے بھاگ کر ان کے ساتھ ہاتھ ملایا اور تعارف کروا کر ملاقات کا وقت مانگا۔ اسرائیلی وزیر خارجہ نے اسے کہا کہ آؤ میرے ساتھ، پندرہ بیس منٹ پیدل چلو اور گفتگو کر لو۔ لیکن سوئس صحافی کو واپس کانفرنس ہال میں جانا تھا، اس نے معذرت کر لی۔
میں فوراً چھلانگ مار کر شمعون پیریز کے سامنے آ گیا اور بغیر تعارف کروائے اعلان کیا کہ میں ان کے ساتھ برف باری میں پیدل چلنے کو تیار ہوں۔ انہوں نے کوئی جواب دینے سے پہلے میرے گریبان میں لٹکے ہوئے کانفرنس کارڈ پر نظر ڈالی اور مسکراتے ہوئے پوچھا: ”کیا تم پاکستانی ہو؟”
میں نے اثبات میں جواب دیا اور زور دے کر کہا کہ میں صحافی ہوں اور میرا تعلق روزنامہ جنگ سے ہے۔ شمعون پیریز نے جواب دیا کہ ہاں! ہاں! یہ اردو کا اخبار ہے اور لندن سے بھی شائع ہوتا ہے۔ اس جواب نے مجھے حیران سے زیادہ پریشان کر دیا۔
اسرائیلی وزیر خارجہ نے اشارے سے مجھے اپنے ساتھ چلنے کی دعوت دی۔ میں نے اپنے چھوٹے سے بیگ میں سے ٹیپ ریکارڈ نکالنا چاہا تو ایک محافظ نے آگے بڑھ کر میرا ہاتھ تھام لیا اور انگریزی میں کہا کہ کیمرہ مت نکالو۔ میں نے بتایا کہ یہ ٹیپ ریکارڈ ہے۔ شمعون پیریز بولے کہ ٹھیک ہے تم نکال سکتے ہو، لیکن ابھی نہیں۔ ہوٹل پہنچ کر کافی پیئں گے پھر تم انٹرویو کر لینا۔
اب ہم پیدل چلتے ہوئے گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے مجھ سے میری قومیت پوچھی۔ میں نے بتایا کہ پاکستانی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ نسلی قومیت بتاؤ۔ میں نے بتایا کہ کشمیری ہوں۔ شمعون پیریز نے کہا کہ ”میر” کشمیری ہوتے ہیں اور ان کا تعلق بنی اسرائیل کے ان گمشدہ قبائل سے ہے جو ہزاروں سال پہلے فلسطین سے دربدر ہوئے۔
میں نے انہیں بتایا کہ اس سلسلے میں ایک یہودی مصنف فیبر قیصر نے انگریزی میں کتاب بھی لکھی ہے جس کا نام "Jesus died in Kashmir” ہے اور کتاب میں میر، بٹ، ڈار، گنائی، منٹو، شال، گابا، کچلو اور بہت سی دیگر کشمیری ذاتوں کا تعلق نہ صرف بنی اسرائیل سے جوڑا گیا ہے بلکہ یہودیوں کی پرانی کتابوں کے حوالے بھی دیے گئے ہیں۔
لیکن محققین کی اکثریت ان دعووں کو درست تسلیم نہیں کرتی، کیونکہ فیبر قیصر کی کتاب میں قادیانیوں کے عقائد کو سچا ثابت کرنے کی کوشش کی گئی جو کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کشمیر میں موت ہوئی، ان کا مقبرہ بھی وہیں ہے اور قادیانیوں کا جھوٹا پیغمبر مرزا غلام احمد قادیانی اصلی مسیح موعود تھا (نعوذ باللہ)۔
شمعون پیریز نے پوچھا کہ پھر تم کون ہو؟ یہ ایک مشکل سوال تھا۔ اس وقت تک مجھے صرف اتنا پتہ تھا کہ میرے بزرگوں کا تعلق مقبوضہ کشمیر سے ہے اور وہ مہاجر بن کر سیالکوٹ آئے تھے اور ہجرت کے دوران میرے نانا غلام احمد جراح کا آدھے سے زیادہ خاندان جموں کے نواح میں قتل ہو گیا اور میری والدہ اپنی دو بہنوں کو لاشوں سے بھری ہوئی بس میں چھپا کر بڑی مشکل سے سیالکوٹ پہنچیں۔
میرے دادا میر عبدالعزیز بتایا کرتے تھے کہ ہمارا تعلق میر شاہ ہمدانؒ سے بنتا ہے اور ہمارے بہت سے رشتہ دار بڈگام اور انتناگ میں رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ مجھے زیادہ پتہ نہیں تھا۔ بہرحال باتیں کرتے کرتے ہم ہوٹل پہنچے۔ وہاں میں نے شمعون پیریز کا دس منٹ انٹرویو ریکارڈ کیا اور شام کو واپس جینوا آ گیا۔ اس ملاقات کے بعد میں نے قادیانیوں کی کشمیر میں دلچسپی کی وجوہات پر معلومات حاصل کرنا شروع کیں۔
علامہ اقبال اور قادیانیوں کی حقیقت
شاعر مشرق علامہ اقبالؒ وہ پہلے جہاندیدہ شخص تھے جنہوں نے 1931ء میں قادیانیوں کی حقیقت جان لی۔ قادیانیوں نے ہندوستانی مسلمانوں کی قائم کردہ کشمیر کمیٹی پر قبضہ کر رکھا تھا۔ مرزا بشیر الدین محمود قادیانی کو اپنے کانوں سے توہین رسالت کرتے ہوئے سنا تو انہوں نے قادیانیوں کو کافر قرار دیتے ہوئے کشمیر کمیٹی سے نکلوا دیا۔
قادیانی اس زمانے سے کشمیر کو ایک قادیانی ریاست (مرزائی اسٹیٹ) بنانے کے منصوبے پر عمل پیرا تھے۔ یہی وجہ ہے کہ قادیانیوں کو اسرائیل میں اپنا دفتر قائم کرنے کی اجازت ہے اور لندن میں قائم احمدیہ ٹیلی ویژن کو دنیا بھر میں قادیانیت پھیلانے کے لیے یہودی اداروں سے امداد ملتی ہے۔
قادیانیوں اور یہودیوں کا گٹھ جوڑ
قادیانیوں اور یہودیوں میں محبت کی دو اہم وجوہات ہیں۔ پہلی یہ کہ دونوں ختم نبوت کے منکر ہیں اور دوسری یہ کہ دونوں جہاد کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ قادیانیوں کے جھوٹے نبی مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی کتاب میں یہ نظم شامل کی ہے:
اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال
دین کے لیے حرام ہے اب جنگ اور قتال
اب آ گیا مسیح جو دین کا امام ہے
دین کی تمام جنگوں کا اب اختتام ہے
اب آسمان سے نور خدا کا نزول ہے
اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے
دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد
منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد
مذکورہ بالا اشعار پر غور کیجیے۔ آج کے تمام روشن خیال اور لبرل مخالفین جہاد اور مرزا غلام احمد قادیانی کے خیالات میں زیادہ فرق نہیں اور یہی ہے وہ نکتہ جو قادیانیوں اور یہودیوں کے گٹھ جوڑ کا باعث بنا اور آخر قادیانیوں کی کوششوں سے یروشلم اور نئی دہلی میں بھی نئے روابط اور نئی دوستی تشکیل پائی۔
آج قادیانی جماعت کو اسرائیلی اور ہندوستانی خفیہ اداروں کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔
کشمیر میں اسرائیلی منصوبے
قادیانی جماعت نے کچھ عرصہ قبل منصور اعجاز نامی امریکی بزنس مین کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں اپنا نیٹ ورک بنانے کا آغاز کیا۔ منصور اعجاز کے والدین قادیانی تھے اور منصور اعجاز اسرائیلی ادارے موساد کا زرخرید ایجنٹ ہے۔
چار سال قبل منصور اعجاز نے بھارتی فوج کی حفاظت میں سرینگر کا دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد کشمیر میں امن کا قیام تھا، لیکن حقیقت میں اس دورے کے بعد کشمیر میں اسرائیل اور بھارت نے بہت سے خفیہ اور اعلانیہ مشترکہ منصوبے شروع کیے۔
پچھلے دنوں واشنگٹن میں میری ملاقات کچھ ایسے اعتدال پسند یہودی دانشوروں سے ہوئی جو اسرائیل کی کشمیر میں بڑھتی ہوئی دلچسپی سے پریشان ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان مسئلہ فلسطین کی وجہ سے ہر یہودی کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں اور اسرائیل نے کشمیر میں بھی مداخلت بڑھا دی تو اس نفرت میں مزید اضافہ ہو گیا۔
پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف سازش
غور کیا جائے تو کشمیر میں اسرائیل کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کی صرف ایک وجہ نظر آتی ہے۔ وہ یہ کہ جموں اور سرینگر کے ائیرپورٹ پاکستان کے بہت قریب ہیں۔ اسرائیل ان ہوائی اڈوں کو پاکستان پر حملے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔
پاکستان کے سابق وزیر خارجہ گوہر ایوب نے خود مجھے بتایا کہ مئی 1998ء میں پاکستان کے ایٹمی دھماکوں سے دو دن قبل ہمیں سعودی عرب نے اطلاع دی کہ اسرائیلی فضائیہ سرینگر ائیرپورٹ سے کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز پر حملہ کرنے والی ہے۔
گوہر ایوب کے بقول ہم نے راتوں رات بھارتی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کیا اور وارننگ دی کہ اگر ہماری تنصیبات پر حملہ ہوا تو جواب میں دہلی، کلکتہ، بمبئی اور بنگلور کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا جائے گا۔ بھارتی ہائی کمشنر نے فوری طور پر نئی دہلی کو اس وارننگ کی اطلاع دی اور یوں پاکستان کی ایٹمی تنصیبات پر حملے کا اسرائیلی منصوبہ ناکام بنایا گیا۔
افسوس کہ عالم عرب پاکستان اور کشمیر کے خلاف اسرائیلی اور بھارتی عزائم سے پوری طرح خبردار نہیں ہے۔
22 دسمبر 2004ء کے اخبارات میں فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے حوالے سے یہ خبر شائع ہوئی کہ مقبوضہ کشمیر میں اسرائیلی ساختہ جاسوس طیارے تعینات کر دیے گئے ہیں جو مجاہدین کی نقل و حرکت پر نظر رکھتے ہیں۔
اسرائیل کی ان مجاہدین سے نہیں بلکہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام سے لڑائی ہے۔ اسرائیل کا اصل نشانہ یہ مجاہدین نہیں بلکہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام ہے۔ مجاہدین کے بعد ایٹمی پروگرام کی باری ہو گی۔
یہ بات اگر ارباب اختیار کو سمجھ آ جائے تو انہیں کشمیری مجاہدین دہشت گرد نہیں بلکہ پاکستان کے محافظ نظر آئیں گے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ صرف ہندوستانی رائے عامہ کو نہیں بلکہ مغربی اور مشرق وسطیٰ کی رائے عامہ کو بھی کشمیر میں اسرائیلی عزائم سے خبردار کرے۔
کیونکہ اسرائیل کی کوئی بھی غلطی صرف اس خطے کو نہیں بلکہ پوری دنیا کو ایک ایٹمی تصادم کی طرف دھکیل سکتی ہے۔
سوال 1: اسرائیل کی کشمیر میں دلچسپی کی کیا وجہ ہے؟
اسرائیل کی کشمیر میں دلچسپی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جموں اور سرینگر کے ہوائی اڈے پاکستان کے بہت قریب ہیں۔ اسرائیل ان ہوائی اڈوں کو پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر حملے کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ 1998ء میں بھی اسرائیل نے سرینگر سے کہوٹہ پر حملے کی کوشش کی تھی۔
سوال 2: قادیانیوں اور یہودیوں میں تعلق کیوں ہے؟
قادیانیوں اور یہودیوں میں دو بنیادی مماثلتیں ہیں: پہلی یہ کہ دونوں ختم نبوت کے منکر ہیں، دوسری یہ کہ دونوں جہاد کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ اسی لیے قادیانیوں کو اسرائیل میں دفتر قائم کرنے کی اجازت ہے اور یہودی ادارے احمدیہ ٹیلی ویژن کو امداد دیتے ہیں۔
سوال 3: کیا علامہ اقبال نے قادیانیوں کے خلاف کوئی اقدام کیا؟
جی ہاں، علامہ اقبالؒ نے 1931ء میں قادیانیوں کی حقیقت جان لی اور انہیں کافر قرار دیتے ہوئے کشمیر کمیٹی سے نکلوا دیا۔ قادیانی اس وقت کشمیر کو ایک قادیانی ریاست بنانے کے منصوبے پر عمل پیرا تھے۔
سوال 4: کیا اسرائیل نے واقعی پاکستان پر حملے کی کوشش کی تھی؟
جی ہاں، سابق وزیر خارجہ گوہر ایوب کے مطابق مئی 1998ء میں اسرائیل نے سرینگر ائیرپورٹ سے کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز پر حملے کا منصوبہ بنایا تھا۔ سعودی عرب نے پاکستان کو آگاہ کیا اور پاکستان کی سخت وارننگ کے بعد یہ منصوبہ ناکام ہو گیا۔
