مرزا قادیانی اور بشیرالدین محمود کے عقائد میں اختلاف
پادری کے ایل ناصر کے مضمون میں قادیانیت کے بانی اور ان کے خلیفہ کے بنیادی عقائد میں اختلافات کا تفصیلی جائزہ۔
متعلقہ موضوعات
مرزا قادیانی اور بشیرالدین محمود کے عقائد میں اختلاف
مضمون نگار: پادری کے۔ایل ناصر
موضوع کا مختصر پیش نظر
مرزا غلام احمد قادیانی – قادیانیت کے بانی – اور ان کے اولاد میں سے خلیفہ بشیرالدین محمود – قادیانی جماعت کے دوسرے خلیفہ – کے عقائد میں کئی بنیادی اور واضح اختلافات موجود ہیں۔ ان اختلافات کو ان کے اپنے تحریرات اور بیانات سے آسانی سے ثابت کیا جا سکتا ہے۔ درج ذیل چند اہم مثالیں ان اختلافات کو ظاہر کرتی ہیں:
۱۔ نبوت اور شریعت کے اصول پر اختلاف
مرزا غلام احمد قادیانی کا عقیدہ:
’’انبیاء اس لئے آتے ہیں کہ ایک دین سے دوسرے دین میں داخل کریں… اور بعض احکام کو منسوخ کریں اور بعض نئے احکام لائیں۔‘‘ (آئینہ کمالات اسلام ص۳۳۹، خزائن ج۵ ص ایضاً)
خلیفہ بشیرالدین محمود کا عقیدہ:
’’نادان مسلمانوں کا خیال تھا کہ نبی کے لئے یہ شرط ہے کہ وہ کوئی نئی شریعت لائے یا پہلے احکام میں سے کچھ منسوخ کرے۔‘‘ (حقیقت النبوۃ مصنفہ خلیفہ بشیرالدین محمود ص۳۳)
۲۔ مسیح موعود کی حیثیت پر اختلاف
مرزا غلام احمد قادیانی کا عقیدہ:
’’اگر یہ اعتراض پیش کیا جائے کہ مسیح کا مثیل بھی نبی چاہئے۔ کیونکہ مسیح نبی تھا تو اس کا اوّل جواب تو یہ ہے کہ آنے والے مسیح کے لئے ہمارے سید ومولیٰ نے نبوت کی شرط نہیں ٹھہرائی تھی۔ بلکہ صاف طور پر یہی لکھا ہے کہ وہ ایک مسلمان ہوگا۔‘‘
خلیفہ بشیرالدین محمود کا عقیدہ:
’’دوسری دلیل حضرت مسیح موعود کے نبی ہونے پر یہ ہے کہ آپ کو آنحضرتؐ نے نبی کے نام سے یاد فرمایا ہے اور نواس بن سمعان کی حدیث میں نبیﷲ کے لئے آپ کو پکارا گیا ہے۔ پس آنحضرتؐ شاہد ہیں اس امر کے کہ حضرت مسیح موعود نبی ہیں۔‘‘ (حقیقت النبوۃ ص۱۸۹، حصہ اوّل)
۳۔ مسیح اور نبی کریمؐ کے تعلق پر اختلاف
مرزا غلام احمد قادیانی کا عقیدہ:
’’اور پھر قرآن کہتا ہے کہ مسیح کو جو کچھ بزرگی ملی وہ بوجہ تابعداری آنحضرتؐ کے ملی۔ کیونکہ مسیح آنجناب پر ایمان لایا اور بوجہ اس ایمان کے مسیح نے نجات پائی۔ پس قرآن کی رو سے مسیح کے منجی پاک نبی آنحضرتؐ ہیں۔‘‘ (مکتوبات احمدیہ ج۳ ص۱۲)
خلیفہ بشیرالدین محمود کا عقیدہ:
’’اسی طرح نبوت کے لحاظ سے حضرت مسیح ناصری اور حضرت مسیح موعود دونوں نبی ہیں۔ فیضان پانے کے لحاظ سے حضرت مسیح ناصری نے براہ راست فیضان پایا ہے اور حضرت مسیح محمدی نے آنحضرتؐ کے اتباع سے سب کچھ حاصل کیا ہے۔‘‘ (حقیقت الونبوۃ ص۱۳۷، حصہ اوّل)
۴۔ نبی کریمؐ کے نام کے بارے میں اختلاف
مرزا غلام احمد قادیانی کا عقیدہ:
’’بات یہ ہے کہ ہمارے نبی آنحضرتؐ تمام انبیاء کے نام اپنے اندر جمع رکھتے ہیں۔‘‘ (آئینہ کمالات اسلام ص۳۴۳، خزائن ج۵ ص ایضاً)
خلیفہ بشیرالدین محمود کا عقیدہ:
’’آنحضرتؐ کو گزشتہ انبیاء کے نام نہیں دئیے گئے تھے۔‘‘
(اخبار الفضل مورخہ ۱۶؍جون ۱۹۱۷ء ص۵)
۵۔ خداوند کی ذات کے بارے میں اختلاف
مرزا غلام احمد قادیانی کا عقیدہ:
’’خدا جاگتا اور سوتا ہے۔‘‘
(ملخص الہام عربی، کتاب البشریٰ حصہ دوم ص۷۹، اخبار بدر قادیان مورخہ ۶؍فروری ۱۹۰۳ء ص۲۳، اخبار الحکم ج۷ نمبر۵ ص۱۶)
خلیفہ بشیرالدین محمود کا عقیدہ:
’’وہ ﷲتعالیٰ ہی کی ذات ہے۔ اسے اونگھ اور نیند نہیں آتی۔‘‘
(اخبار الفضل مورخہ ۱۸؍مارچ ۱۹۱۴ء ص۱۵)
۶۔ خدا کے وعدے کے بارے میں اختلاف
مرزا غلام احمد قادیانی کا عقیدہ:
’’اور انہیں یہ نشان دکھلائے گا کہ احمد بیگ کی بڑی لڑکی ایک جگہ بیاہی جائے گی اور خدا اس کو پھر تیری طرف لائے گا۔ یعنی آخر وہ تیرے نکاح میں آئے گی اور خدا سب روکیں درمیان سے اٹھاوے گا۔ خدا کی باتیں کسی سے نہیں ٹلتیں۔‘‘ (تبلیغ رسالت ج۳ ص۱۱۳، مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۴۱)
’’خدا نے فرمایا کہ میں اس عورت کو اس کے نکاح کے بعد واپس لاؤں گا اور تجھے دوں گا اور میری تقدیر کبھی نہیں بدلے گی اور میرے آگے کوئی بات انہونی نہیں اور میں سب روکوں کو اٹھادوں گا جو اس کے نفاذ سے مانع ہوں۔‘‘ (تبلیغ رسالت ص۱۱۵، مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۴۳)
خلیفہ بشیرالدین محمود کا عقیدہ:
’’ﷲتعالیٰ کا کوئی وعدہ نہیں تھا کہ وہ لڑکی (یعنی مرزااحمد بیگ کی لڑکی محمدی بیگم) آپ کے نکاح میں آئے گی۔ پھر یہ نہیں بتایا گیا کہ کوئی روک ڈالے گا تو وہ دور کیا جائے گا۔ بلکہ یہ پیشین گوئی ایک وعید کے طور پر تھی۔‘‘ (الفضل مورخہ ۱۲؍اگست ۱۹۲۴ء ص۵)
