ختم نبوت پر احادیث – مستند دلائلتفصیل دیکھیں

حضرت مریم کا تعارف

حضرت مریم کا تعارف، ان کی ولادت، حضرت زکریا علیہ السلام کی کفالت، قرآن میں فضائل اور کرامات کی مکمل تفصیل اسلامی عقیدے کی روشنی میں پڑھیں۔

متعلقہ موضوعات

حضرت مریم کا تعارف

مریم بنت عمران علیہا السلام اللہ کی برگزیدہ اور پاک ہستی تھیں، انبیاء کے خاندان سے تھیں اورحضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے نبی کی والدہ تھیں۔ قرآن میں ایک پوری سورۃ سورۃ مریم 16 ویں پارہ میں ان کے نام سے موجود ہے۔

اسلامی عقیدہ کے مطابق حضرت مریم علیہا السلام حضرت عمران کی صاحبزادی ہیں۔ جو حضرت سیدتنا مریم علیہا السلام کے دنیا میں تشریف لانے سے پہلے ہی فوت ہوگئے تھے۔آپ کی ولادت بیت المقدس کے علاقہ میں ہوئی۔ حضرت مریم علیہا السلام پاکباز، عفیفہ اور نیک خاتون تھیں۔ جو ہر وقت اللہ تعالی کی عبادت میں مشغول رہتیں تھیں۔ان کو کبھی کسی مرد نے چھوا تک نہ تھا۔ 

حضرت سیدتنا مریم علیہا السلام کی ولادت سےپہلے ہی آپ کے والدحضرت عمران فوت ہوگئے تھے۔ حضرت مریم کی پیدائش کی پیدائش کے بعد آپ کی والدہ نے آپ کو ایک کپڑے میں لپیٹ کر بیت المقدس میں پہنچیں۔ جہاں کئی علماء وقت اللہ کی عبادت میں مصروف ہوتے تھے۔ان کے سامنے ان حضرت مریم کی کفالت کی درخواست کی۔یہ معزّز علما حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے۔ چونکہ آپ کے والد حضرت سیّدنا عمران علیہ السلام علماء بنی اسرائیل میں ممتاز تھے۔ حضرت زکریا علیہ السَّلام کے گھر میں حضرت مریم کی خالہ اور حضرت حنہ کی بہن تھیں۔ اس لیے انہوں نے مطالبہ کیا کہ میں اپنی بھانجی کی پرورش کروں گا۔ مجھے حضرت مریم سونپی جائیں۔اس معاملہ کو سلجھانے کے لیے قرعہ اندازی کی گئی۔ چنانچہ قرعہ (Draw) حضرت زکریا علیہ السَّلام ہی کے نام پر نکلا اور یوں حضرت مریم رضی اللہ عنہا حضرت زکریا علیہ السَّلام کی کفالت میں چلی گئیں۔ مزید تفصیل دیکھیں۔(تفسیر خازن، پ3، اٰل عمرٰن،تحت الآیۃ:37 ،ج1،ص245) 

قرآن میں ایک پوری سورۃ حضرت مریم علیہ السلام کے نام سے موجود ہے، جس کی آیات 16 تا36 میں آپ کا تذکرہ ہے۔ قرآن کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا کے برگزیدہ نبی تھے اور حضرت مریم علیہا السلام کے بیٹے تھے جبکہ حضرت مریم علیہ السلام کنواری تھیں۔ قرآن نے حضرت مریم علیہ السلام کی پاکیزگی کی گواہی دی ہے۔ان کا بغیر کسی جنسی تعلق کے حاملہ ہونا اللّٰہ تعالی کا ایک بہت ہی بڑا معجزہ ہے۔ قرآن مجید ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ تعالی کا ایک عزیم المرتبت فرشتہ جبرائیل علیہ السلام، اللّٰہ کے حکم سے مریم علیہ السلام کے پاس آیا اور انھیں بیٹے کی بشارت دی۔ خالقِ کائنات کے حکم سے فرشتے نے ان میں روح پھونک دی، جس سے وہ بغیر کسی جسمانی ملاپ کے حاملہ ہو گئیں، جو اللہ تعالی کی نشانیوں میں سے ایک نشانی تھی۔ جبکہ قران میں اللہ تعالی روح کو اپنا حکم بیان کرتے ہیں۔

حضرت مریم علیہا السلام کی زندگی پاکیزہ معجزات اور کرامات بھری پڑی ہے۔ جن میں سب سے بڑی کرامت  یہ ہے کہ آپ کے ہاں بغیر شادی اور بغیر باپ کے اللہ نے آپ کو بیٹا عطاء کیا۔ اور قرآن میں اس بات کو ذکر فرمایا۔دوسرا جب آپ حاملہ تھیں تو آپ ایک کمرہ میں رہائش رکھتی تھیں۔اس کمرہ نما حجرہ میں اللہ آپ کو غیب سے ایسے ایسے پھل بھیجتے تھے جن کا موسم بھی نہ ہوتا تھا۔جب آپ کے ہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ہوئی تو آپ جس درخت کے نیچے تھیں وہ ایک کھجور کا خشک تنا تھا۔اللہ نے آپ کو حکم دیا کہ اس خشک کھجور کے تنے کو حرکت دو ۔ آپ نے حرکت دی تو درخت سے تازہ کھجوریں گرنے لگیَ کے تنے سے تازہ کھجوریں حاصل کیں۔

حضرت مریم علیہ السلام کے ہاں جب بیٹے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ہوئی تو آپ پریشان ہوئیں۔ کہ لوگوں کو کیا بتاؤں گی کہ بغیر نکاح کے بچہ کیسے پیدا ہوا۔ تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو صبر اور خاموش رہنے کا حکم فرمایا۔ بعد میں جب لوگوں نے آپ پر بہتان لگائے تو آپ اللہ کے حکم مطابق خاموش رہیں۔ آپ کے خاموش رہنے پر اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ماں کی گود میں قوت گویائی عطاء کی۔ جس پر دودھ پیتے بچے نے بول کر اللہ کا کلام سنایا اور لوگوں کو بتایا کہ میری ماں پاک عورت ہے۔ میں اللہ کا نبی ہوں اور مجھے اللہ نے نبوت اور کتاب عطاء کی ہے۔

حضرت مریم بنت عمران علیہا السلام اللہ کی برگزیدہ اور پاکباز ہستی تھیں جو انبیاء کے خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ آپ کی پرورش حضرت زکریا علیہ السلام کی کفالت میں بیت المقدس میں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بغیر کسی جنسی تعلق کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسا برگزیدہ نبی عطاء فرمایا جو اللہ کا عظیم معجزہ ہے۔ قرآن مجید میں ایک پوری سورۃ آپ کے نام سے موجود ہے جو آپ کی عظمت اور پاکیزگی کی دلیل ہے۔ آپ کی زندگی مسلمان خواتین کے لیے صبر، عبادت اور اللہ پر توکل کا بہترین نمونہ ہے۔

    عقیدہ ختمِ نبوت ﷺ — مستند علم، واضح رہنمائی

    اپنے سوال پوچھیں Urdu | English | Arabic میں