پاکستان کے خلاف قادیانی سازشیں اور تاریخی حقائق
پاکستان کے قیام اور اس کے آئینی و نظریاتی تشخص کے حوالے سے قادیانی جماعت کے موقف پر مختلف ادوار میں بحث ہوتی رہی ہے۔ 1974ء میں قومی اسمبلی کے فیصلے، 1984ء کے قانونی اقدامات اور اس کے بعد قادیانی جماعت کی جانب سے عالمی سطح پر انسانی حقوق کے حوالے سے پیش کیے جانے والے مؤقف نے اس موضوع کو مزید اہم بنا دیا۔
اس مضمون میں انہی معاملات کے حوالے سے قادیانی جماعت کے طرزِ عمل، پاکستان کے آئینی نظام اور عدالتی نظام کے بارے میں مصنف کے پیش کردہ مؤقف کا جائزہ لیا گیا ہے۔
متعلقہ موضوعات
پاکستان کے خلاف قادیانی سازشیں اور تاریخی حقائق
ستمبر 1974ء میں قادیانیوں کے خلاف قومی اسمبلی کا فیصلہ
1974ء میں پاکستان کی قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا۔ اس فیصلے سے قبل قادیانی جماعت کے اس وقت کے سربراہ مرزا ناصر احمد کو اپنا موقف پیش کرنے کا پورا پورا موقع دیا گیا۔ کئی دن تک قادیانی جماعت نے تفصیل سے زبانی اور تحریری طور پر اپنا موقف پیش کیا۔ اس کے بعد قومی اسمبلی کے ممبران نے فیصلہ کیا۔
قادیانیوں کے خلاف 1984ء کا آرڈیننس
1984ء میں جنرل ضیاء الحق مرحوم نے اس فیصلے کی روشنی میں اس کے تقاضے پورے کرتے ہوئے نیا آرڈیننس جاری کردیا، جس میں قادیانیوں کو اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنے، اپنی عبادت کے لیے مسلمانوں کی طرح اذان دینے، اپنی عبادت گاہ کو مسجد کہنے، مرزا غلام احمد قادیانی کے ساتھیوں کو صحابی کہنے، مرزا غلام احمد قادیانی کے جانشینوں کو امیر المومنین کہنے اور مرزا قادیانی کی ازواج کو ام المومنین کہنے سے روک دیا گیا۔
آئین کے خلاف قادیانیوں کا ردعمل
1974ء سے مسلسل اور 1984ء سے خصوصی طور پر قادیانی جماعت نے باضابطہ طور پر دنیا میں دہائی کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے، جس میں دنیا کو یہ باور کروانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ پاکستان میں قادیانیوں پر ظلم ہورہا ہے، انسانی حقوق کے حوالے سے سخت قسم کی خلاف ورزیاں ہورہی ہیں، قادیانیوں کا جینا حرام کردیا گیا ہے اور کسی قسم کا انصاف قادیانیوں کو میسر نہیں۔
اس پروپیگنڈے سے قادیانی مسلسل فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ یورپ نے اس پروپیگنڈے کی وجہ سے قادیانیوں کے لیے اپنا دامن پھیلا رکھا ہے اور قادیانی جوق در جوق یورپ میں داخل ہورہے ہیں۔ مضمون میں ان کے بارے میں جعلی کاغذات تیار کرکے اپنے آپ کو مظلوم ظاہر کرنے اور پھر پناہ حاصل کرنے کے الزامات بھی بیان کیے گئے ہیں۔
نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ یورپ کا قادیانیوں پر اعتماد اٹھ گیا ہے اور اب ان کے کیس مسترد کیے جارہے ہیں۔ اس سے پاکستان بدنام ہورہا ہے۔ قادیانی تو ترستے ہیں کہ ان پر ظلم ہو اور وہ اس کا ثبوت دنیا کو دکھا سکیں، مگر ظلم کی عدم دستیابی پر مختلف طریقوں سے مظلومیت کا تاثر پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ قادیانی جو دنیا میں اپنے مظلوم ہونے کا ڈھنڈورہ پیٹتے ہیں، خود کتنے منصف مزاج، نرم دل، صلح جو اور انسانی حقوق کا تحفظ یا خیال کرنے والے ہیں۔ یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر اتنا کچھ لکھا جاسکتا ہے کہ لکھاری لکھتے لکھتے تھک جائے اور قاری پڑھتے پڑھتے ’’رج‘‘ جائے۔ سمجھ نہیں آتی کہ قادیانیوں کے کس کس ظلم کی تصویر پیش کروں۔ عدل جماعت کے عنوان پر ایک تفصیلی مضمون بعد میں آئے گا، اس وقت انسانی حقوق کے حوالے سے چند گزارشات پیش کرنا مقصود ہے۔
پاکستانی عدالتیں اور قادیانی جماعت کا نظام
قادیانیوں کا سب سے بڑا اعتراض اور دنیا میں پاکستان کو ظالم ثابت کرنے کے حوالے سے سب سے بڑی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ پاکستان میں قادیانیوں کے ساتھ انصاف نہیں ہوتا۔ کوئی قادیانی چوری کے جرم میں سزا پائے یا بدعنوانی کی وجہ سے گرفت میں آئے تو قادیانی جماعت میں لوگ اس سے ہمدردی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ قادیانی جو ہوئے، سزا تو ہونی ہی تھی۔ یہ سزا صرف قادیانی ہونے کی وجہ سے ملی ہے۔
قیام پاکستان سے لے کر آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی قادیانی کے خلاف عدالت میں کیس گیا ہو اور جج نے قادیانی کو بتائے بغیر، اسے صفائی کا موقع دیے بغیر براہ راست سزا سنادی ہو اور پھر وہ چیلنج بھی نہ ہوسکے۔ آج تک ایک کیس بھی ایسا نہیں گزرا۔ اس حوالے سے قادیانی ایک مثال بھی پیش نہیں کرسکتے۔
ہوتا یوں ہے کہ کسی نے کسی قادیانی کے خلاف عدالت میں کیس کردیا تو عدالت قادیانی کو بذریعہ نوٹس کیس کے بارے میں مطلع کرے گی اور اسے مقررہ تاریخ پر طلب کرے گی۔ وہ قادیانی عدالت میں پیش ہوگا، اسے کیس اور الزامات کی پوری تفصیل بتائی جائے گی بلکہ کیس کی نقل دی جائے گی۔ اسے وکیل کرنے کا موقع دیا جائے گا اور اپنی صفائی میں جواب داخل کرنے کے لیے مناسب وقت دیا جائے گا۔ وہ قادیانی وکیل کی مدد سے جواب تیار کرے گا اور مقررہ تاریخ کو جمع کروا دے گا۔
کچھ دنوں یا ہفتوں بعد دونوں فریقوں کے وکیل آمنے سامنے اس کیس سے متعلق بحث کریں گے۔ پھر جج دونوں فریقوں کو باری باری گواہ لانے اور دیگر ثبوت مہیا کرنے کا موقع دے گا۔ قادیانی کو پورا اختیار ملے گا کہ وہ نہ صرف اپنی صفائی بیان کرے بلکہ اپنے مخالف اور اس کے گواہوں پر خوب جرح کرے۔
اس طرح یہ کیس چلتے چلتے چھ ماہ، ایک سال یا پانچ سال تک کا عرصہ لے گا۔ خوب بحث و تکرار کے بعد اگر فیصلہ قادیانی کے خلاف ہوجاتا ہے تو اسے اس فیصلے کے خلاف سیشن کورٹ میں اپیل کرنے کا اختیار ہوگا۔ وہاں دوبارہ کیس چلے گا، دوبارہ صفائی کا موقع ملے گا اور وکلاء بحث کریں گے۔ اس کے بعد بھی اگر فیصلہ قادیانی کے خلاف ہو تو وہ ہائی کورٹ میں چیلنج کرسکتا ہے۔ ہائی کورٹ کے بعد سپریم کورٹ جانے کا حق بھی موجود ہوگا اور اس کے بعد نظرثانی کی درخواست کے ذریعے دوبارہ انصاف کے لیے دستک دی جاسکتی ہے۔
اگر لوئر کورٹ سے سپریم کورٹ تک کیس چلنے میں چار یا چھ سال لگ جائیں اور قادیانی کو خوب صفائی کا موقع ملے تو اس فیصلے کو انصاف پر مبنی سمجھا جانا چاہیے۔ اس طرح کی صفائی کا موقع قادیانیوں کو ملتا رہا ہے اور ملتا ہے، مگر اس کے باوجود قادیانی یہ شکوہ کرتے ہیں کہ ہم پر ظلم ہورہا ہے اور انصاف نہیں ملتا۔
قادیانیوں کا انصاف
اب ذرا قادیانیوں کا انصاف ملاحظہ کیجیے۔ قادیانی جماعت میں عدالت نام کی کوئی چیز نہیں، البتہ دارالقضاء کے نام سے ایک ادارہ قائم ہے جس کے اختیارات امراء کو پریشان نہیں کرتے۔
قادیانیوں میں یہ عام بات ہے کہ امیر جماعت نے کسی کے خلاف لکھ دیا تو قادیانی جماعت نے اس پر ایکشن لیتے ہوئے متعلقہ قادیانی کو سزا دے دینی ہے۔ نہ کوئی انکوائری ہوگی اور نہ ہی قادیانی کو جرم بتاکر صفائی کا موقع دیا جائے گا۔
بغیر جرم بتائے، بغیر انکوائری کے اور بغیر صفائی کا موقع دیے سزا دینا اور پھر وہ سزا کسی طرح بھی چیلنج نہ کرسکے تو یہ کہاں کا انصاف ہے؟ کیا یہ انسانی حقوق کی پامالی نہیں ہے؟ دوسروں سے انصاف کی بھیک مانگنے والے خود کتنا ظالمانہ نظام رکھتے ہیں؟
’’اوروں کو نصیحت اور خود میں فضیحت‘‘ — قول و فعل میں اس قدر فرق رکھنے والوں کے لیے یہ محاورہ بھی بہت نرم معلوم ہوتا ہے۔
قادیانی جماعت کے امام کا عدل
قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر احمد اپنے ایک ایسے عہدیدار کے بارے میں فیصلہ دیتے ہیں جس کے بارے میں قادیانی جماعت کے ادارے نظارت امور عامہ، نظارت مال، نظارت اصلاح و ارشاد اور نظارت علیا کی طرف سے NOC جاری ہونے کے بعد خود اسے مقرر کیا گیا تھا۔
پورے ضلع میں کل تین عہدیداروں کی تقرری درج بالا اداروں کی سفارش اور کلیئرنس کے بعد کی گئی تھی۔ ان میں سے ایک عہدیدار کے بارے میں فیصلہ سناتے ہوئے کہا گیا:
’’جہاں تک میری معلومات ہیں آپ خرابی پیدا کرنے والے گروہ کے سربراہ ہیں۔ خواہ آپ مانیں یا نہ مانیں مگر بتاتے سبھی ہی ہیں۔‘‘
مرزا طاہر احمد کے دستخطوں سے جاری ہونے والا اصل خط موجود ہونے کا ذکر بھی مضمون میں کیا گیا ہے۔
قادیانی جماعت کے نظام کے مطابق جس قادیانی کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنا ہو، اس کے خلاف لوکل جماعت کی مجلس عاملہ قرارداد پاس کرے گی یا سزا کی سفارش کرے گی۔ پھر لوکل امیر جماعت اس سفارش کو امیر ضلع، ناظر امور عامہ اور ناظر اعلیٰ تک پہنچائے گا، پھر ناظر اعلیٰ امام جماعت سے سزا کی سفارش کرے گا۔
مگر درج بالا کیس میں مرزا طاہر احمد تمام حدود و قیود کو عبور کرتے ہوئے فیصلہ فرمارہے ہیں۔ نہ اس بارے میں کوئی انکوائری ہوتی ہے، نہ الزام علیہ کو جرم یا الزام کا پتہ ہے، نہ خرابی کی تفصیل بتائی گئی ہے اور نہ ہی اسے صفائی کا موقع دیا گیا۔
غور فرمائیے کہ فرماتے ہیں:
’’جہاں تک میری معلومات ہیں…‘‘
جبکہ مذکورہ کیس میں متعلقہ اداروں، امیر ضلع، مقامی صدر جماعت یا مجلس عاملہ میں سے کسی نے کچھ کہا نہ لکھا۔
پھر فرماتے ہیں:
’’خواہ آپ مانیں یا نہ مانیں۔‘‘
گویا فیصلہ سنادیا گیا۔ نہ صفائی کا موقع، نہ چیلنج کرنے کا راستہ اور نہ یہ بتایا گیا کہ کس جرم میں سزا دی جارہی ہے۔ پھر کہتے ہیں:
’’مگر بتاتے سبھی یہی ہیں۔‘‘
گویا سنی سنائی بات پر ایسا فیصلہ دیا جارہا ہے جو نہ صرف چیلنج نہیں ہوسکتا بلکہ بغیر انکوائری، بغیر جرم بتائے اور بغیر صفائی کا موقع دیے صادر کیا گیا ہے۔
یہ ہے قادیانی جماعت یا قادیانی جماعت کے امام کے عدل کی ہلکی سی جھلک۔ یہ جماعت کیسے دوسروں کو انسانی حقوق کا درس دے سکتی ہے؟ کیا یہاں انسانی حقوق پامال نہیں ہوئے کہ الزام علیہ کو پتا ہی نہیں کہ اس نے کیا جرم کیا ہے، نہ اس سے کوئی جواب طلب کیا گیا، نہ کوئی انکوائری ہوئی، نہ مجلس عاملہ نے مداخلت کی، نہ امیر جماعت نے اور نہ نظارتیں اثر انداز ہوئیں۔
یہ کیسا انصاف ہے؟ اور وہ بھی امام جماعت کی طرف سے جسے قادیانی ’’خلیفہ وقت‘‘ کہتے ہیں بلکہ ’’خدا کا خلیفہ‘‘ کہتے ہیں۔
نتیجہ
قادیانی بتائیں کہ قیام پاکستان سے آج تک کسی جج یا عدالت نے بھی کبھی قادیانیوں کے خلاف ایسا فیصلہ دیا ہے؟ یقینا نہیں۔
تو پھر اپنے گھر کو سنبھالو، دوسروں کو عدل اور انسانی حقوق کا سبق نہ دو۔ انسانی حقوق کے حوالے سے شور اور واویلا بند کرو۔
