اکھنڈ بھارت اور قادیانی جماعت کا تعلق اور حقیقت

اس مضمون میں قادیانی جماعت کے اکھنڈ بھارت سے متعلق موقف اور قیامِ پاکستان کے وقت اس کے ردِعمل کا جائزہ لیا گیا ہے۔
مضمون کے مطابق اکھنڈ بھارت کا تصور قادیانی جماعت کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کہ اس کا مرکزی مذہبی مرکز قادیان بھارت میں واقع ہے، جس سے ان کی وابستگی برقرار رہتی ہے۔
مضمون میں تاریخی بیانات کی روشنی میں یہ مؤقف پیش کیا گیا ہے کہ قادیانی جماعت نے قیامِ پاکستان کو خوش دلی سے قبول نہیں کیا اور اکھنڈ بھارت کی خواہش کو برقرار رکھا

متعلقہ موضوعات

اکھنڈ بھارت اور قادیانی جماعت کا تعلق اور حقیقت

قادیانی جماعت نے قیام پاکستان کی بھرپور مخالفت کی۔ جب پاکستان ایک زندہ حقیقت بن کر دنیا کے نقشے پر ابھرا تو قادیانی جماعت کے سربراہ نے کہا:

’’میں قبل ازیں بتا چکا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت ہندوستان کو اکٹھا رکھنا چاہتی ہے لیکن قوموں کی منافرت کی وجہ سے عارضی طور پر الگ بھی کرنا پڑے…… یہ اور بات ہے کہ ہم ہندوستان کی تقسیم پر رضا مند ہوئے تو خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری سے، اور پھر یہ کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح پھر متحد ہوجائیں۔‘‘
(الفضل، 17 مئی 1947ء)

قیام پاکستان کے بعد قادیانی جماعت کا موقف

یہ بات محلِ نظر رہے کہ بعض مسلمانوں نے بھی قیام پاکستان کی مخالفت کی، لیکن یہ ان کی سیاسی رائے تھی۔ انہوں نے قیام پاکستان کے بعد نہ صرف پاکستان کی حقیقت کو تسلیم کرلیا بلکہ پاکستان کے استحکام، سلامتی اور دفاع کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں بھی صرف کردیں۔

مضمون کے مطابق قادیانی جماعت نے ابھی تک پاکستان کو قبول نہیں کیا بلکہ قادیانی گروہ نے 1947ء کی قومی اسمبلی کی اس آئینی ترمیم کو تسلیم نہیں کیا جس میں انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تھا۔

مضمون میں اکھنڈ بھارت کے تصور کو قادیانی جماعت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے اس کی ایک وجہ قادیان کا بھارت میں واقع ہونا بیان کی گئی ہے۔ قادیانی جماعت کا آبائی مرکز قادیان ہے، جسے وہ مکہ و مدینہ سے افضل سمجھتے ہیں، اور ان کے روحانی مرکز کا حصول اکھنڈ بھارت کے بغیر ممکن نہیں۔

قادیانی جماعت کے دوسرے سربراہ مرزا بشیر الدین کی قبر، جو چناب نگر (سابقہ ربوہ) کے قبرستان میں واقع ہے، اس کے متعلق مضمون میں بیان کیا گیا ہے کہ وہاں ایک کتبہ لگا رہا ہے جس میں درج تھا کہ حالات سازگار ہونے پر ان کی میت کو یہاں سے نکال کر قادیان، بھارت منتقل کردیا جائے۔

مضمون کے مطابق گروہ قادیان کے لوگ اپنے مردے امانتاً دفن کرتے ہیں۔ مصنف اسی حوالے سے یہ مؤقف پیش کرتے ہیں کہ پاک وطن کی مٹی انہیں پسند نہیں، کیونکہ وہ اکھنڈ بھارت کے اسی دعوے کے قائل ہیں جس کا اظہار بھارت کے وزیر داخلہ ایل کے ایڈوانی کررہے تھے۔

پینٹاگون نے امریکی کانگریس کو دنیا کا نقشہ پیش کیا، جس میں پاکستان نہیں دکھایا گیا تھا۔ امریکی تھینک ٹینک کی طرف سے پاکستان کے وجود کے خاتمے سے متعلق یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ 2005ء سے اس خطے میں تبدیلیوں کا جو عمل شروع ہوگا، وہ 2020ء تک مکمل ہوجائے گا۔ اس پر پاکستان میں شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا تھا۔

امریکی تھینک ٹینک کی اس سوچ کو پاکستان دشمنی تصور کرکے سوچنے کی بجائے خاموشی اختیار کرلی گئی۔ افغانستان میں امریکہ کی کامیابی کے بعد پورے خطے میں مختلف نوع کی تبدیلیاں لانے کے لیے جو منصوبہ بندی، حکمت عملی اور پالیسیاں وضع کرنے سے متعلق سرگرمیاں دیکھنے میں آرہی ہیں، اندرونِ خانہ تیار ہونے والی سازشوں سے سلگنے والا دھیما دھیما دھواں دیکھ کر امریکی منصوبہ سازوں کے دعووں سے متعلق شکوک و شبہات یقین کی صورت اختیار کرتے محسوس ہونے لگے ہیں۔

افسوس اس امر کا ہے کہ اپنے وجود سے متعلق ہم ایسی خوش فہمی میں مبتلا رہتے ہیں کہ اس حوالے سے سوچنا بھی گوارا نہیں کرتے۔

اس تمہید کے بعد بھارتی وزیر داخلہ ایل کے ایڈوانی کا تازہ بیان لمحۂ فکریہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ موصوف کا کہنا ہے:

’’جنوبی ایشیاء میں اس وقت تک پائیدار امن کی ضمانت نہیں دی جاسکتی جب تک پاکستان مکمل (کشمیر سمیت) اور بنگلہ دیش اکھنڈ بھارت کا حصہ قرار نہیں پاتے۔ انہوں نے کہا بھارت جنوبی ایشیا میں اکھنڈ بھارت کے قیام کی جدوجہد کرتا رہے گا۔ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے، پاکستان سے مذاکرات کی بنیاد کشمیر کے اس حصہ (آزاد کشمیر) کی واپسی ہے جس پر پاکستان نے قبضہ کر رکھا ہے۔‘‘

پورے خطے میں مخصوص متوقع تبدیلیوں کے پیش نظر بھارتی وزیر داخلہ کا یہ بیان غیر معمولی اہمیت اور توجہ کا حامل ہے۔ موقف کی یہ تبدیلی علاقے میں مستقبل کے جغرافیائی خاکوں کے ردوبدل کی غمازی کرتی محسوس ہوتی ہے۔

کچھ مدت پہلے بھارتی وزیر اعظم واجپائی نے پاکستان سے کشمیر سمیت دیگر معاملات پر مذاکرات کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا تھا۔ اب صورتِ حال یہ ہے کہ بھارتی وزیر داخلہ دینے کی بجائے لینے کا مطالبہ کرکے الجھاؤ اور بگاڑ میں اضافہ کررہے ہیں۔

پاکستان اور بنگلہ دیش دو آزاد اور خود مختار ریاستیں ہیں۔ بنگلہ دیش کبھی ہمارا مشرقی بازو تھا۔ ہم خود اسے آزاد و خود مختار ملک تسلیم کرچکے ہیں، لیکن بھارتی وزیر داخلہ کے بیان سے محسوس ہوتا ہے جیسے انہوں نے دونوں حقیقتوں کو تسلیم نہیں کیا۔ بھارتی وزیر داخلہ بنگلہ دیش یا پاکستان کو کشمیر سمیت اکھنڈ بھارت کا حصہ قرار دینے کے دعوے دار ہیں۔

ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ بھارتی وزیر داخلہ کا یہ چونکا دینے والا بیان ان کے دورۂ امریکہ کے بعد ان حالات میں دیا گیا، جب امریکی وزیر خارجہ کولن پاؤل کے دورۂ بھارت کے بعد امریکہ کے ہنری کسنجر اپنی پوری ٹیم کے ساتھ بھارت میں موجود تھے۔ ان کے بھارت میں ڈیرے لگانا کسی قیامت سے کم نہیں۔ گزشتہ پچاس برس میں امریکہ و مغرب کے حکمرانوں اور اہم شخصیات کی جنوبی ایشیا، بالخصوص پاک و ہند میں وسیع پیمانے پر آمد و رفت ایک ریکارڈ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس قدر برق رفتار سفارت کاری مستقبل کی غارت گری کی چغلی کھارہی ہے۔

بھارتی وزیر داخلہ کا امریکہ کے دورے کے بعد اکھنڈ بھارت کا اعلان معنی خیز ہے۔ ایک اسلامی اور نظریاتی ریاست ہونے کے ناطے امریکہ کی حقیقی ہمدردیاں پاکستان کے بمقابل بھارت کے ساتھ ہیں۔ اپنے مخصوص مفادات کے حصول اور مطلب براری کی حد تک امریکہ گلے سے اوپر اوپر پاکستان سے دوستی کا دعوے دار ہے۔

چین کو اپنے حصار میں لینے کے لیے بھارت امریکہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ پاکستان کو دبانے اور جھکانے کے لیے امریکہ جس ڈپلومیٹک پالیسی کے تحت بھارت سے کام لے رہا ہے، اس فنی مہارت کا جواب نہیں۔ لاجسٹک سپورٹ ہم نے دی۔ مشرف حکومت نے دامے، درمے، قدمے، سخنے امریکہ کی مدد کی، لیکن فائدہ بھارت نے اٹھایا۔

اکھنڈ بھارت کا بھارتی تصور

بھارت نے پاکستان کو ابھی تک دل سے قبول نہیں کیا۔ ایک مدت سے اس کی خواہش تھی کہ اکھنڈ بھارت بنے، لیکن یہ اکھاڑ بچھاڑ کے عمل کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ افغانستان کو تہہ و بالا اور پاکستان کو مغلوب کرنے والے منہ زور گھوڑے کی مانند امریکی عزائم اور مخصوص مقاصد کو پیش نظر رکھ کر بھارتی وزیر داخلہ کا حالیہ بیان خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں۔

بھارت تو اکھنڈ بھارت کا خواہاں ہے ہی……

پاکستان کے اندر بعض ایسی جماعتیں اور افراد موجود ہیں جو پاکستان کے حصے بخرے ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کی ہمدردیاں مادر وطن کی بجائے بھارت سے ہیں۔ خاک وطن کی بجائے بھارت کی سرزمین انہیں محبوب ہے۔

ان میں ایک جماعت ایسی بھی ہے جس کے بارے میں مصنف کے مطابق اکھنڈ بھارت کا تصور ایک الہامی عقیدہ ہے۔ قادیانی جماعت اس عقیدے کی نہ صرف داعی ہے بلکہ اکھنڈ بھارت کے لیے وہ گزشتہ نصف صدی سے عملاً کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

روزنامہ الفضل قادیان 5 اپریل 1947ء میں درج ہے:

’’بہر حال ہم چاہتے ہیں کہ اکھنڈ ہندوستان بنے اور ساری قومیں باہم شیر وشکر ہوکر رہیں۔‘‘

یہ اقتباس مضمون کے بنیادی مؤقف میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ مصنف اسی کی بنیاد پر قادیانی جماعت کے اکھنڈ بھارت سے متعلق موقف کو زیرِ بحث لاتے ہیں۔

اکھنڈ بھارت کا تصور صرف بھارت کے سیاسی بیانات تک محدود نہیں رہتا بلکہ مصنف کے مطابق قادیانی جماعت کے بعض بیانات اور تحریری حوالوں میں بھی اس تصور کی تائید ملتی ہے۔ قیام پاکستان کے وقت کے بیانات اور بعد کے موقف کو سامنے رکھتے ہوئے مضمون میں قادیانی جماعت کے پاکستان، بھارت اور اکھنڈ بھارت سے متعلق نظریات کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

    عقیدہ ختمِ نبوت ﷺ — مستند علم، واضح رہنمائی

    اپنے سوال پوچھیں Urdu | English | Arabic میں