ختم نبوت پر احادیث – مستند دلائلتفصیل دیکھیں

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی نشانیاں (احادیث کی روشنی میں)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی نشانیاں، احادیث اور علامات کی تفصیل۔ جانیں نزول کہاں ہوگا، امام مہدی، دجال، اور حکمت و اسباب

متعلقہ موضوعات

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی نشانیاں (احادیث کی روشنی میں)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے سچے پیغمبروں میں سے ہیں۔ آپ کی پیدائش بغیر باپ کے ہوئی، آپ کی والدہ کا نام حضرت مریم علیھا السلام ہے۔ آپ کی پیدائش کا واقعہ اللہ تعالیٰ نے سورہ مریم میں ذکر کیا ہے۔ آپ کا قرب قیامت نزول اسلام کے بنیادی عقائد میں شامل ہے۔ قرآن و حدیث میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ قربِ قیامت حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دنیا میں آئیں گے۔ یہ نزول ایک ایسا عظیم واقعہ ہوگا جو قیامت کی بڑی نشانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ تمام اہلِ ایمان کا اس پر اجماعی عقیدہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ تشریف لائیں گے تاکہ دجال کے فتنے کا خاتمہ کریں، عدل قائم کریں، اور دنیا کو ظلم سے نجات دلائیں۔

اس مضمون میں ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی علامات، اہم احادیث، ان کی نبوت کی مدت، نزول کی جگہ، اور اس نزول کی حکمت کو تفصیل سے بیان کریں گے۔

قرآن مجید میں متعدد آیات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ آسمان پر اٹھائے جانے اور دوبارہ نزول کی خبر دیتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ سورہ نساء (آیت 157-158) میں فرماتا ہے:
"بل رفعہ اللہ إلیہ”
یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کو اپنی طرف بلند کر لیا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ دنیا میں قتل نہیں کیے گئے بلکہ زندہ آسمان پر اٹھا لیے گئے، اور قیامت سے پہلے ان کا دوبارہ نزول ہوگا۔

اسی طرح متعدد احادیث میں حضرت عیسیٰ کے نزول کا ذکر ملتا ہے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایات میں صاف بیان کیا گیا ہے کہ ابن مریم نازل ہوں گے اور عدل و انصاف قائم کریں گے۔ یہ عقیدہ محض قیاس پر مبنی نہیں بلکہ قرآن و سنت سے ثابت شدہ اور امت مسلمہ کا اجماعی عقیدہ ہے۔


نزولِ مسیح سے پہلے اور بعد میں کچھ بڑی علامات ظاہر ہوں گی جنہیں احادیث میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ یہ علامات درج ذیل ہیں:


1. امام مہدی کا ظہور

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول سے قبل امام مہدی کا ظہور ہوگا۔ احادیث میں واضح ذکر ملتا ہے کہ امام مہدی مسلمانوں کے خلیفہ ہوں گے اور دنیا میں ظلم کے خاتمے کے لیے قیام کریں گے۔ جب حضرت عیسیٰ نازل ہوں گے تو امام مہدی نماز کی امامت کر رہے ہوں گے۔ حضرت عیسیٰ ان سے امامت کے لیے کہیں گے، لیکن امام مہدی انکار کریں گے اور عرض کریں گے کہ یہ امامت امتِ محمدیہ کے حق میں ہے۔ یہ منظر اس بات کی علامت ہے کہ حضرت عیسیٰ نئی شریعت نہیں لائیں گے بلکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت پر ہی عمل کریں گے۔


2. دجال کا خروج

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول سے پہلے دجال کا خروج ہوگا۔ دجال دنیا میں سب سے بڑا فتنہ لے کر آئے گا۔ وہ خود کو رب کہلوائے گا، عجیب و غریب کرشمے دکھائے گا، زمین پر قحط اور فتنہ برپا کرے گا۔ صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ حضرت عیسیٰ دجال کو لدّ کے مقام پر قتل کریں گے۔ یہ واقعہ دنیا میں عدل اور امن کے قیام کی بنیاد بنے گا۔


3. دمشق کے مشرقی سفید مینار پر نزول

صحیح احادیث کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول دمشق کے مشرقی حصے میں واقع سفید مینار پر ہوگا۔ اس وقت فجر کی نماز کا وقت ہوگا اور مسلمان امام مہدی کی اقتداء میں صف بستہ کھڑے ہوں گے۔ یہ منظر اس وقت کی دنیا کے لیے ایک بڑی خبر ہوگی اور پوری دنیا اس کے بارے میں جان لے گی۔


4. حضرت عیسیٰ کی شکل و صورت کا بیان

احادیث میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شکل و صورت بیان کی گئی ہے:

  • درمیانہ قد
  • گندمی رنگت کے ساتھ سرخی مائل رنگ
  • بال درمیانے، ہلکے کرل دار اور ایسے جیسے ابھی غسل کر کے آئے ہوں
  • دو فرشتے آپ کو اپنے پروں پر سہارا دیے ہوئے ہوں گے

یہ تفصیل صحیح بخاری اور مسلم کی احادیث میں بیان ہوئی ہے تاکہ مسلمان حضرت عیسیٰ کو پہچان سکیں۔


5. نزول کے وقت ہاتھوں کی حالت

احادیث میں ذکر ہے کہ نزول کے وقت حضرت عیسیٰ کے ہاتھوں سے پانی کے قطرے ٹپک رہے ہوں گے، گویا ابھی غسل کیا ہو۔ یہ نزول ایک غیر معمولی منظر ہوگا جو اللہ تعالیٰ کی قدرت کا اظہار ہے۔


جیسا کہ اوپر بیان ہوا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول دمشق کے مشرقی سفید مینار پر ہوگا۔ بعض علماء کے نزدیک یہ مینار موجودہ دمشق میں واقع ہے، لیکن اصل حقیقت احادیث کے مطابق یہی ہے کہ یہ نزول شام کے علاقے میں ہوگا، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی۔


  • صحیح بخاری: "قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، قریب ہے کہ ابن مریم تم میں نازل ہوں…”
  • صحیح مسلم: "عیسیٰ ابن مریم نازل ہوں گے، صلیب کو توڑیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، اور جزیہ ختم کر دیں گے۔”

ان احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ نزولِ مسیح یقینی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں۔


حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی طرف نبی بنا کر بھیجا تھا۔ نزول کے بعد بھی وہ نبی رہیں گے لیکن نئی شریعت نہیں لائیں گے۔ احادیث کے مطابق نزول کے بعد حضرت عیسیٰ چالیس سال تک دنیا میں قیام کریں گے، دجال کو قتل کریں گے، اور عدل قائم کریں گے۔ اس دوران وہ شادی کریں گے، بچے ہوں گے اور آخر میں مدینہ منورہ میں وفات پائیں گے۔


  • حضرت عیسیٰ صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے تاکہ نصرانی عقائد باطل ثابت ہوں۔
  • جزیہ ختم کر دیا جائے گا کیونکہ اس وقت دنیا میں صرف اسلام غالب ہوگا۔
  • دنیا میں امن قائم ہو گا، حتیٰ کہ شیر اور بکری ایک ساتھ چر سکیں گے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی سب سے بڑی حکمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر یہ واضح فرمادے کہ دینِ اسلام ہی آخری دین ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت قیامت تک باقی رہے گی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام باوجود اس کے کہ نبی ہیں، نزول کے بعد کوئی نئی شریعت نہیں لائیں گے، بلکہ وہ خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت پر عمل کریں گے۔ اس سے دنیا پر یہ حقیقت پوری طرح آشکار ہوگی کہ ختمِ نبوت کا عقیدہ برحق ہے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی آخری نبی ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول دنیا میں موجود فتنوں کے خاتمے، ظلم و بربریت کے سدباب اور عدل و انصاف کے قیام کے لیے ہوگا۔ ان کے نزول کے وقت دنیا میں دجال جیسے عظیم فتنوں نے انسانیت کو تباہ کر رکھا ہوگا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان فتنوں کا قلع قمع کریں گے اور امن و سکون کا دور قائم ہوگا۔ یہ نزول امت مسلمہ کے لیے بھی ایک بڑی خوشخبری ہوگا کہ اللہ کا وعدہ سچ ہے اور اہل ایمان کو کامیابی حاصل ہوگی۔

مزید برآں، نزولِ مسیح ہمیں اس سبق کی یاد دہانی کراتا ہے کہ اللہ کی قدرت کامل ہے، اور قیامت کے قریب ہونے کی نشانیاں واضح طور پر ظاہر ہوں گی۔ یہ ہمیں اس بات پر بھی آمادہ کرتا ہے کہ ہم فتنوں کے دور میں اپنے ایمان کی حفاظت کریں، سنت نبوی سے وابستہ رہیں، اور اپنے اعمال کو درست کریں تاکہ اللہ کی رضا حاصل ہو سکے۔


حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا عقیدہ اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ہے، جس کی تصدیق قرآن و حدیث دونوں سے ہوتی ہے۔ اس پر ایمان لانا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ یہ عقیدہ نہ صرف ایمان کی پختگی کا ذریعہ ہے بلکہ ہمیں یہ یاد بھی دلاتا ہے کہ یہ دنیا عارضی ہے اور قیامت ضرور برپا ہوگی۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم ایمان پر مضبوط رہیں، گناہوں سے بچیں، اور آخرت کی تیاری میں کوشاں رہیں۔ نزولِ مسیح کا مقصد یہی ہے کہ حق غالب آئے، باطل مٹ جائے، اور عدل و انصاف کا قیام ہو۔

    عقیدہ ختمِ نبوت ﷺ — مستند علم، واضح رہنمائی

    اپنے سوال پوچھیں Urdu | English | Arabic میں