ختم نبوت پر احادیث – مستند دلائلتفصیل دیکھیں

مجلس تحفظ ختم نبوت کا اعزاز اور مبلغین کی جدوجہد

مجلس تحفظ ختم نبوت کی خدمات، مبلغین ختم نبوت کی جدوجہد اور ختم نبوت کے تحفظ کے لیے علماء و اکابر کی مسلسل محنت کا تفصیلی بیان۔

متعلقہ موضوعات

مجلس تحفظ ختم نبوت کا اعزاز اور مبلغین کی جدوجہد

مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ کراچی

۳۴ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر میں راقم الحروف کو عشاء کے بعد کی نشست میں حاضرینِ مجلس کے سامنے چند باتیں کرنے کا موقع ملا۔ ان باتوں کو تحریر کر کے میرے رفیق مولوی محمد قاسم سلّمہ نے مجھے دکھایا، جنہیں شاملِ اشاعت کیا جا رہا ہے۔

الحمد للّٰہ و سلامٌ علیٰ عبادہ الذین اصطفیٰ!


حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی ایک جماعت اس کام پر لگائی ہے کہ وہ دنیا میں چل پھر کر ایسی جگہوں کو تلاش کرتے ہیں جہاں اللہ تعالیٰ کے دین کی بات ہورہی ہو اور جہاں قرآن کریم کی تلاوت ہورہی ہو۔ جب فرشتوں کی کوئی جماعت ایسی مجلس کو پالیتی ہے تو وہ دوسرے فرشتوں کو بلاتی ہے اور سب فرشتے اس مجلس میں آجاتے ہیں۔

آج یہاں جس طرح آپ اور میں اس مجلس میں موجود ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ کے فرشتے بھی یہاں موجود ہیں بلکہ ہم سے زیادہ موجود ہیں۔ پھر یہ فرشتے واپس جا کر اللہ تعالیٰ کے حضور اس مجلس کی خبر دیتے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتے ہیں، لیکن وہ فرشتوں سے دریافت فرماتے ہیں کہ تم کہاں سے آئے ہو؟ فرشتے عرض کرتے ہیں کہ ہم زمین میں تیرے بندوں کے پاس سے آئے ہیں جو تیری تسبیح، تیری حمد اور تیری کبریائی بیان کر رہے تھے۔

یہ ایک طویل حدیث ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
فرشتو! گواہ رہو میں نے ان سب کی بخشش کر دی ہے۔


حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے زمین میں چکر لگاتے رہتے ہیں اور اللہ کے ذکر کی مجلسیں تلاش کرتے ہیں۔ جب وہ ایسی مجلس پاتے ہیں جس میں اللہ کا ذکر ہوتا ہے تو اس میں بیٹھ جاتے ہیں اور اپنے پروں سے اس طرح اس مجلس کو ڈھانپ لیتے ہیں کہ زمین اور آسمان کے درمیان کی وسعت بھر جاتی ہے۔

جب مجلس ختم ہو جاتی ہے تو وہ آسمان کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتے ہیں کہ تم کہاں سے آئے ہو؟ وہ عرض کرتے ہیں کہ ہم تیرے ان بندوں کے پاس سے آئے ہیں جو تیری پاکیزگی بیان کر رہے تھے، تیری بڑائی بیان کر رہے تھے، تیری حمد و ثنا کر رہے تھے اور تجھ ہی سے مانگ رہے تھے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: وہ مجھ سے کیا مانگ رہے تھے؟
فرشتے عرض کرتے ہیں: وہ آپ سے جنت مانگ رہے تھے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: کیا انہوں نے میری جنت دیکھی ہے؟
فرشتے عرض کرتے ہیں: نہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اگر وہ جنت دیکھ لیتے تو کس قدر شوق اور الحاح سے مانگتے!

اسی طرح وہ جہنم سے پناہ مانگنے اور گناہوں کی بخشش طلب کرنے کا ذکر کرتے ہیں۔ آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے ان سب کے گناہ بخش دیے، ان کی دعائیں قبول کرلیں اور جس چیز سے انہوں نے پناہ مانگی انہیں پناہ دے دی۔

پھر فرشتے عرض کرتے ہیں کہ ان میں ایک ایسا شخص بھی تھا جو وہاں سے گزرتے ہوئے ان کے ساتھ بیٹھ گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے اس کو بھی بخش دیا، یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کی مجلس میں بیٹھنے والا بھی محروم نہیں رہتا۔
(صحیح مسلم)


یہ حدیث سنانے کا مقصد یہ ہے کہ آپ یہاں آئے اور اس مجلس میں بیٹھے ہیں تو آپ کو کیا مل رہا ہے؟ اس حدیث کی روشنی میں اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں سے آپ کو بخشش کا پروانہ مل رہا ہے۔

آپ کا گھر سے نکل کر یہاں آنا، یہاں بیٹھنا اور یہاں سے واپس جانا، ہر قدم اللہ تعالیٰ کے ہاں لکھا جاتا ہے اور اس پر آخرت میں اجر عطا کیا جائے گا۔


علامہ ضیاء اللہ شاہ بخاری موجود ہیں۔ انہوں نے ستمبر 2022ء میں ختم نبوت کانفرنس کراچی میں بیان کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا یہ بڑا اعزاز ہے کہ وہ تسلسل کے ساتھ ختم نبوت کے مسئلہ کو لے کر چل رہی ہے۔

وقتی طور پر کوئی کام کر لینا اور پھر خاموش ہو جانا اصل کام نہیں ہوتا۔ اصل کام یہ ہے کہ انسان ہمیشہ اس فکر میں لگا رہے اور مسلسل اس کی جدوجہد جاری رکھے۔

آج اس جماعت کے جتنے حضرات یہاں موجود ہیں یہ سب مبلغین ہیں۔ یہ لوگ قریہ قریہ، نگر نگر اور دور دراز بستیوں اور دیہاتوں تک جاتے ہیں اور ختم نبوت کا پیغام پہنچاتے ہیں۔


ایک مرتبہ ہمارے میرپور خاص کے مبلغ حضرت مولانا مختار احمد صاحب نے دعوت دی۔ ہم کراچی سے روانہ ہوئے، اندرون سندھ کے شہر جھڈو پہنچے، وہاں گاڑی چھوڑ کر موٹر سائیکل پر آگے گئے۔ پھر جھاڑیاں آگئیں جہاں اسکوٹر بھی نہیں جا سکتا تھا۔

میرے ساتھ حضرت مولانا مفتی رفیق احمد بالاکوٹی صاحب بھی تھے۔ وہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ۱۸ قادیانی کلمہ طیبہ پڑھ کر مسلمان ہوئے اور آج تک ختم نبوت کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور کام کر رہے ہیں۔

یہ تو صرف ایک مثال ہے۔ ہمارے مبلغین کتنی محنت کرتے ہیں۔ ایک ایک مبلغ دو دو تین تین اضلاع میں جاتا ہے، کہیں درس دیتا ہے، کہیں ملاقات کرتا ہے اور کہیں قادیانی فتنے کی روک تھام کی کوشش کرتا ہے۔


ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس دور میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایسے اکابر کے ساتھ جوڑا ہے جنہیں ہر وقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے تحفظ کی فکر لگی رہتی ہے۔

ہمارے حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب مدظلہ علوم دینیہ سے فراغت کے بعد سے اسی کام میں لگے ہوئے ہیں۔ آج عمر زیادہ ہو چکی ہے لیکن اب بھی ختم نبوت کے تحفظ کا جذبہ ان کے اندر زندہ ہے۔ وہ خود بھی فکر مند رہتے ہیں اور مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کو بھی اس مسئلہ کی طرف متوجہ کرتے رہتے ہیں۔

ہمیں چاہیے کہ ان اکابر کی عزت کریں، اس جماعت کے ساتھ جڑیں اور ان سے سبق حاصل کریں۔


اگر کسی شہر میں ختم نبوت کے تحفظ کے لیے تین آدمی بھی اخلاص کے ساتھ کھڑے ہو جائیں تو اس شہر میں کوئی قادیانی فتنہ سر نہیں اٹھا سکتا۔

اگر کہیں قادیانی سازش کامیاب ہوتی ہے تو اس کی وجہ مسلمانوں کی غفلت اور سستی ہوتی ہے۔ ہمیں اپنے اندر بیداری پیدا کرنی چاہیے۔

ہمارے اکابر فرماتے ہیں کہ ختم نبوت کا تحفظ دراصل حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے تحفظ کا کام ہے۔ باقی تمام دینی کام حضورؐ کی صفات سے متعلق ہیں، لیکن اگر ذات محفوظ رہے گی تو صفات بھی محفوظ رہیں گی۔


مشکوٰۃ شریف میں ایک حدیث ہے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ اس امت کے آخری زمانے میں ایسے لوگ ہوں گے جنہیں پہلے لوگوں کے برابر اجر ملے گا۔ وہ نیکی کا حکم دیں گے، برائی سے روکیں گے اور فتنہ پرور لوگوں کے مقابلہ میں کھڑے ہوں گے۔

میں سمجھتا ہوں کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اس حدیث کا مصداق ہے جو تقریباً ایک صدی سے فتنہ قادیانیت کے خلاف جدوجہد کر رہی ہے۔

جو بھی شخص اس کام میں کسی بھی طرح حصہ ڈالے گا، اللہ تعالیٰ اس کو عظیم اجر عطا فرمائے گا۔


اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس عظیم کام کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں مرتے دم تک اس خدمت کے ساتھ وابستہ رکھے۔

وَصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہٖ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ

    عقیدہ ختمِ نبوت ﷺ — مستند علم، واضح رہنمائی

    اپنے سوال پوچھیں Urdu | English | Arabic میں