عقیدۂ ختمِ نبوت: 10 متواتر احادیث کا مستند ثبوت
ختم نبوت پر 10 متواتر احادیثِ صحیحہ بخاری و مسلم – مرزا قادیانی کے جھوٹ کا قلع قمع، لا نبی بعدی کا واضح اعلان، قادیانیوں کے سارے بہانے دفن!
متعلقہ موضوعات
عقیدۂ ختمِ نبوت: 10 متواتر احادیث کا مستند ثبوت
ختم نبوت پر دس احادیث متواترہ
آنحضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے خاتم النبیین ہونے کا نہ صرف قرآن مجید کے نصوصِ قطعیہ سے، بلکہ احادیث متواترہ کے ذریعے بھی واضح اعلان کیا ہے۔ احادیث متواترہ وہ احادیث ہیں جن کو دس سے زائد صحابہ کرام نے روایت کیا ہو، اور ان میں کوئی تاویل یا شبہ کی گنجائش نہ ہو۔ اس مضمون میں دس متواتر احادیث کا تفصیلی جائزہ پیش کیا جاتا ہے، جس میں ہر حدیث کی تشریح کو مزید گہرائی اور وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
مقدمہ: ختم نبوت کی اہمیت
عقیدہ ختم نبوت اسلام کا بنیادی و فرقہ افتراقی عقیدہ ہے۔ قرآن مجید میں "خاتم النبیین” (سورہ احزاب، آیت ۴۰) کی آیت نے اس حقیقت کو واضح کر دیا ہے۔ لیکن احادیث متواترہ اس عقیدہ کو تاریخی، فکری اور شرعی لحاظ سے مزید مضبوط کرتی ہیں۔ یہ احادیث صرف انکار کے کوئی رکھ نہیں چھوڑتیں، بلکہ ان کا انکار کفر کی حد کو پہنچتا ہے، جیسا کہ علمائے کرام نے روح المعانی (ج۲۲ ص۴۱) میں بیان کیا ہے:
"جو شخص ختم نبوت کے خلاف مدعی ہو، اس کو کافر قرار دیا جائے گا اور اگر اس پر اصرار کرے تو اس کو قتل کیا جائے گا۔”
یہاں ہر حدیث کی تشریح کو معلومات، تاریخی پس منظر، اور علمائے کرام کے اقوال کے ساتھ مزید تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
دس احادیث متواترہ (تفصیلی تشریح کے ساتھ)
حدیث نمبر 1
متن حدیث:
"اِنَّ مَثَلِیْ وَمَثَلَ الْاَنْبِیَائِ مِنْ قَبْلِیْ کَمَثَلِ رَجُلِ بَنٰی بَیْتَاََ فَاَحْسَنَہٗ وَاَجْمَلَہٗ اِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَۃٍ مِنْ زَاوِیَۃٍ فَجَعَلَ النَّاسُ یَطُوَفَّوْنَ بِہٖ وَیَتَعْجَبُوْنَ لَہٗ وَیَقُوْلُوْنَ ہَلَّا وُضِعَتَ ھٰذِہِ اللْبِنَۃُ قَالَ فَانَا اللْبِنَۃُ وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ”
ترجمہ:
میری اور میرے سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے ایک عمدہ محل بنایا، جو بہت خوبصورت تھا، مگر اس کے کونے پر ایک اینٹ کی جگہ خالی رہ گئی۔ لوگ اس کے اردگرد گھومتے اور حیران رہ جاتے کہ یہ اینٹ کیوں نہ لگا دی گئی؟ تو میں وہی اینٹ ہوں اور میں نبیوں کے آخری نبی ہوں۔
روایت:
- صحابی: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ
- کتاب: صحیح بخاری ج۱ ص۵۰۱، صحیح مسلم ج۲ ص۲۴۸
تشریح (مفصل):
- مثال کا انتخاب:
یہ مثال بنیادی طور پر محسوسات (مادی چیزوں) پر مبنی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس لئے ایک عمارت کی مثال دی ہے کہ عرب قوم تعمیرات میں ماہر تھی اور وہ اس تشبیہ کو بخوبی سمجھ سکتے تھے۔ - تشریحِ مثال:
- محل کا حُسن و جمال: پہلے تمام انبیاء کی بعثت مکمل اور عمدہ تھی، جیسے عمارت کے تمام حِصص۔
- کونے کی خالی جگہ: یہ خالی جگہ آخری نبی کے لیے محفوظ تھی۔ جبکہ ساری عمارت تیار ہو چکی تھی، تو لوگوں کو صرف اس ایک اینٹ کی کمی محسوس ہوئی۔
- آخری اینٹ = ختم نبوت: جیسے عمارت کی تکمیل کے لئے آخری اینٹ ضروری تھی، اسی طرح نبوت کی تکمیل کے لئے آنحضرت کی بعثت ضروری تھی۔
- علمائے کرام کے اقوال:
- حافظ ابن حجر عسقلانی (فتح الباری ج۷ ص۵۵۷) لکھتے ہیں:
"یہ مثال یہی سکھاتی ہے کہ جیسے عمارت کے سارے حِصص موجود ہونے کے باوجود آخری اینٹ کی کمی محسوس ہوتی ہے، اسی طرح انبیاء کی سلسلہ میں آنحضرت کی بعثت نہ ہونے سے تکمیل محسوس ہوتی تھی۔ اور جب وہ آ گئے تو ساری نبوت مکمل ہو گئی۔” - علامہ سیوطی (الدر المنثور ج۳ ص۲۵۰) کہتے ہیں:
"یہ حدیث اس بات کی واضح تصدیق کرتا ہے کہ ختم نبوت صرف ایک اعلان نہیں، بلکہ ایک کائناتی حقیقت ہے۔”
- حافظ ابن حجر عسقلانی (فتح الباری ج۷ ص۵۵۷) لکھتے ہیں:
- تاویل کی عدم گنجائش:
محسوسات میں تاویل کی گنجائش نہ ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ختم نبوت ایک واقعی و مادی حقیقت ہے، نہ کہ علامتی۔
مزید روایات:
یہ حدیث حضرت جابر بن عبد اللہ، حضرت ابی بن کعب، حضرت ابوسعید خدری وغیرہ سے بھی مروی ہے، جو اسے متواتر بناتی ہیں۔
حدیث نمبر 2
متن حدیث:
"فُضِّلْتُ عَلٰی الْاَنْبِیَائِ بِستِّ اُعْطِیْتُ جَوَامِعَ الْکَلَمِ وَنُصِرْتُ بِالرعْبِ وَاُحِلَّتْ لِیَ الْغَنَائِمُ وَجُعِلَتْ لِی الارضُ مسجدا وطھورا وَاُرْسِلْتُ اِلَی الْخَلْقِ کَافَّۃً وَخُتِمَ بِی النَّبِیُّوْنَ”
ترجمہ:
مجھے انبیاء کرام پر چھ چیزوں میں فضیلت دی گئی ہے:
1. مجھے جامع کلمات عطا کیے گئے ہیں،
2. رعب کے ساتھ میری مدد کی جاتی ہے،
3. مال غنیمت میرے لیے حلال کیا گیا،
4. ساری زمین میری مسجد اور طہارت کی جگہ بن گئی،
5. مجھے تمام مخلوق کی طرف مبعوث کیا گیا،
6. مجھ پر تمام نبیوں کا سلسلہ ختم کر دیا گیا۔
روایت:
- صحابی: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ
- کتاب: صحیح مسلم ج۱ ص۱۹۹
تشریح (مفصل):
ششم نقطہ: "وختِمَ بی النبیونَ”
- لفظی معنی:
- "ختم” کا لفظ عربی میں مختم، مہر لگانا، اختتام کے معنی ہے۔ جیسے "خاتم” (سورہ بقرہ، آیت ۶۹) کا مطلب "اختتام پر لانا” ہے۔
- "النبیون” سے مراد تمام انبیاء کی سلسلہ ہے۔
- اس کی اہمیت:
- یہ پوائنٹ پانچ دیگر فضائل سے الگ ہے، جو ظاہری و باطنی فضائل پر مشتمل ہے۔
- اس سے پتہ چلتا ہے کہ ختم نبوت سپریم فضیلت ہے، کیونکہ یہ تمام انبیاء کی سلسلہ کو مکمل کرتی ہے۔
- علمائے کرام کی تشریح:
- علامہ نواب صدیق حسن خان قنوجی (ابہاج المحمدی ج۱ ص۲۰۰) لکھتے ہیں:
"ختم نبوت کا مطلب یہ نہیں کہ آنحضرت کی شریعت ناقص تھی، بلکہ یہ سکھاتا ہے کہ ان کی شریعت تمام انسانوں کے لیے کافی ہے اور اب کوئی نئی شریعت کی ضرورت نہیں۔” - شاہ ولی اللہ دهلوی (ہمد اللہ علیہ) فرماتے ہیں:
"جس طرح قرآن مجید آخری کتاب ہے، اسی طرح محمدی شریعت آخری شریعت ہے۔ اور جیسے قرآن میں کوئی نئی آیت نہیں آ سکتی، اسی طرح محمدی شریعت میں کوئی نیا حکم نہیں آ سکتا۔”
- علامہ نواب صدیق حسن خان قنوجی (ابہاج المحمدی ج۱ ص۲۰۰) لکھتے ہیں:
- دوسری روایت کا تطبیق:
حضرت جابر بن عبد اللہ سے مروی حدیث میں اس ششم پوائنٹ کی بجائے "وکان النبی یبعث الی قومہ خاصۃ وبعثت الی الناس عامۃ” (پہلے انبیاء کو خاص قوم کے لیے بھیجا جاتا تھا، مگر میں ساری انسانیت کے لیے بھیجا گیا) کہا گیا ہے۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ آفاقی مبعوتھی ہونے کی وجہ سے ہی ختم نبوت ضروری تھی، کیونکہ اب ساری دنیا کے لیے ایک ہی شریعت کافی تھی۔ - تاریخی پس منظر:
- پہلے انبیاء خاص قوموں کے لیے بھیجے جاتے تھے (مثلاً موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے لیے، عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے لیے)۔
- مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ساری انسانیت کے لیے بھیجے گئے، اس لیے اب کوئی نئی قوم یا نئی شریعت کی ضرورت نہیں رہی۔
حدیث نمبر 3
متن حدیث:
"لِعَلِیِّ انتَ مِنی بِمنزلۃِ ہارونَ مِن موسٰی اِلاَ اَنَّہ لانبیَ بعدِی”
ترجمہ:
حضرت علی! تم میرے لیے ہارون کے موسیٰ کے ساتھ اسی نسبت رکھتے ہو، مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
روایت:
- صحابی: حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ
- کتاب: صحیح مسلم ج۲ ص۲۷۸
تشریح (مفصل):
1. حضرت علی کی منزلت:
- ہارون اور موسیٰ کا تعلق: ہارون علیہ السلام موسیٰ کے وزیر، مددگار اور خلیفہ تھے۔ وہ ان کی شریعت کے محافظ تھے۔
- حضرت علی کی کردار: حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی آنحضرت کی زندگی میں مددگار تھے اور ان کے بعد خلیفہ بنے۔
2. "الانبیَ بعدِی” کا مفہوم:
- لفظ "لا” کا استعمال مطلق نفي (کامل انکار) کو ظاہر کرتا ہے۔ یعنی "بالکل نہیں”۔
- علماء نحو کے قول: "لا” جبکہ مستقل (ایکلفظ کے ساتھ) آئے، تو یہ مطلق نفي ہوتی ہے۔
3. متواتر ہونے کی وجہ:
یہ حدیث دس سے زائد صحابہ سے مروی ہے، جن میں شامل ہیں:
- حضرت جابر بن عبد اللہ، حضرت عمر، حضرت علی، اسماء بنت عمیس، حضرت انس، حضرت عبد اللہ بن عمر وغیرہ۔
- شاہ ولی اللہ دهلوی نے مآثر علی میں لکھا:
"فمن التواترِ انتَ منی بمنزلۃِ ہارونَ من موسٰی”
4. علمائے کرام کی تشریح:
- امام ربانی مجدد الف ثانی (مکتوبات ج۳ ص۲۳) فرماتے ہیں:
"حضرت علی کی منزلت ہارون جیسی ہے، مگر فرق یہ ہے کہ ہارون کے بعد موسیٰ آئیں گے، مگر محمد کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔” - علامہ ابن حجر عسقلانی (فتح الباری ج۸ ص۱۶۷) کہتے ہیں:
"یہ حدیث ختم نبوت کی سب سے مضبوط دلیل ہے، کیونکہ یہاں مستقل نفي ہے۔”
۵. تاریخی اہمیت:
- یہ حدیث حضرت علی کی خلافت کی بنیاد بھی ہے، لیکن ساتھ ہی ختم نبوت کا بھی اعلان کرتا ہے۔
حدیث نمبر 4
متن حدیث:
"کانتْ بنو اسرائیلَ تَسُوسُھُم الانبیاء کُلَّما ہلکَ نبیٌ خَلَفہ نبیٌ وانہ لانبی بعدِی وسیکون خلفاء فیکثرون”
ترجمہ:
بنی اسرائیل کی قیادت ان کے انبیاء کرتے تھے۔ جب ایک نبی فوت ہو جاتا، تو دوسرا نبی اس کی جگہ آ جاتا۔ مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں، بلکہ خلفاء ہوں گے اور وہ بہت ہوں گے۔
روایت:
- صحابی: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ
- کتاب: صحیح بخاری ج۱ ص۴۹۱
تشریح (مفصل):
1. بنی اسرائیل کا نظام:
- بنی اسرائیل میں غیر تشریعی انبیاء آتے تھے، جو موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کی تجدید کرتے تھے۔ مثلاً:
- یوشع بن نون: موسیٰ کے بعد ان کا خلیفہ تھا، مگر وہ نبی نہیں تھا۔
- اعیاں: وہ بھی نبی نہیں تھے، بلکہ قاضی یا حاکم تھے۔
- لیکن آنحضرت کے بعد اس قسم کے انبیاء کی کوئی گنجائش نہیں، کیونکہ شریعت مکمل ہو چکی ہے۔
2. "خلفاء” کا مفہوم:
- خلفاء کا مطلب شرعی حکمران نہیں، بلکہ امت کی قیادت کرنے والے۔
- "فیکثرون” (بہت ہوں گے) کی طرف اشارہ ہے کہ امت محمدیہ میں مختلف مکاتب فکر آئیں گے، لیکن سب کے لیے ایک ہی شریعت ہوگی۔
3. علمائے کرام کی تشریح:
- علامہ ابن کثیر (تفسیر ابن کثیر ج۳ ص۴۹۳) لکھتے ہیں:
"یہ حدیث اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ ختم نبوت کے بعد کوئی نئی شریعت نہیں آ سکتی، چاہے وہ تجدید ہی کیوں نہ ہو۔” - مولانا اشرف علی تھانوی (إعلاء السنن ج۸ ص۲۲۱) کہتے ہیں:
"خلفاء کی بہتات کا مطلب یہ نہیں کہ وہ سب صحیح ہوں گے، بلکہ ان میں صحیح اور فاسد دونوں شامل ہوں گے۔”
4. اس حدیث سے استدلال:
- یہ حدیث ختم نبوت اور خلفائے راشدین کی نظام کی بنیاد ہے۔
- اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ جھوٹے نبی آ سکتے ہیں، مگر حقیقی نبی نہیں۔
حدیث نمبر 5
متن حدیث:
"اِنَہُ سَیَکُوْنُ فِیْ اُمَّتِیْ کَذَّابُوْنَ ثَلَاثُوْنَ کُلَّہُمْ یَزْعَمُ انہ نبیٌ وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِی”
ترجمہ:
میری امت میں تیس جھوٹے نبی آئیں گے، ہر ایک کہے گا کہ میں نبی ہوں، مگر میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
روایت:
- صحابی: حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ
- کتاب: سنن ابوداؤد ج۲ ص۵۹۵، سنن ترمذی ج۲ ص۴۵
تشریح (مفصل):
1. "تیس جھوٹے نبی”:
- ان میں سے کچھ کے نام تاریخ میں محفوظ ہیں، جیسے:
- موسیلمہ کذاب: جو مدینہ منورہ کے قریب تھا۔
- انسی بن معین: یمن کا جھوٹا نبی۔
- تُلَیحہ بن خویلد: بحیرہ احمر کے قریب۔
- یہ تمام جھوٹے تھے، اور ان کا انکار امت کے لیے ضروری تھا۔
2. "خاتم النبیین” کا تکرار:
- آنحضرت نے تین بار "نبی” کا ذکر کیا ہے، تاکہ کسی بھی قسم کے نبی کا انکار کیا جا سکے۔
- نبی Legislatif: شریعت لے کر آنے والا۔
- نبی Non-Legislatif: شریعت نہ لے کر، بلکہ فقط وحی حاصل کرنے والا۔
3. متواتر ہونے کی وجہ:
یہ حدیث دس سے زائد صحابہ سے مروی ہے، جن میں شامل ہیں:
- حضرت ابو ہریرہ، حضرت نعیم بن مسعود، حضرت ابو بکرہ، حضرت عبد اللہ بن زبیر، حضرت عبد اللہ بن عمر وغیرہ۔
- حافظ ذہبی (میزان الاعتدال ج۴ ص۲۱۰) لکھتے ہیں:
"یہ حدیث متواترہ ہے، اور اس کا انکار کفر کی حد کو پہنچتا ہے۔”
4. علمائے کرام کی تشریح:
- علامہ شاہ ولی اللہ (انفاس عرفا ص۱۲۵) کہتے ہیں:
"جھوٹے نبیوں کا آنا ایک نشانہ ہے کہ ختم نبوت حقیقی ہے، کیونکہ جب حقیقی چیز موجود ہو، تو جھوٹی چیزوں کا بھی آنا فطری ہے۔” - مولانا محمد زکریا کاندھلوی (فیات البریعات ج۵ ص۳۰۰) لکھتے ہیں:
"اس حدیث سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ مبشرات (خواب دیکھنے والے) کو نبی نہیں سمجھا جائے۔”
حدیث نمبر 6
متن حدیث:
"ان النبوۃَ والرسالۃَ قد انقطعتْ فلا رسولَ بعدِیْ وَلَا نبی”
ترجمہ:
نبوت اور رسالت ختم ہو چکی ہے، میرے بعد نہ تو کوئی رسول ہے اور نہ ہی نبی۔
روایت:
- صحابی: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ
- کتاب: سنن ترمذی ج۲ ص۵۳
تشریح (مفصل):
1. "النبوۃ والرسالۃ” کا فرق:
- نبوت: وحی کے ذریعے اللہ کی طرف سے حکم لینا۔
- رسالت: کسی خاص قوم یا مقصد کے لیے بھیجا جانا۔
- دونوں کا ختم ہونا یہ سکھاتا ہے کہ کوئی بھی قسم کی الہی تعینات قیادت اب نہیں رہی۔
2. امام ترمذی کی تصدیق:
- امام ترمذی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔
- حافظ ابن کثیر (تفسیر ابن کثیر ج۳ ص۴۹۳) لکھتے ہیں:
"یہ حدیث ختم نبوت کی سب سے واضح دلیل ہے، کیونکہ اس میں دونوں الفاظ ‘رسول’ اور ‘نبی’ کا استعمل ہوا ہے۔”
3. "مبشرات” کا ذکر:
- اس حدیث میں "مبشرات” (خواب دیکھنے والے) کا بھی ذکر ہے، جنہیں نبوت کا جزو نہیں سمجھا جاتا۔
"لیکن مبشرات باقی رہ گئے ہیں… صحابہ نے پوچھا: مبشرات کیا ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: مومن کا خواب جو نبوت کے اجزا میں سے ایک جز ہے۔” - اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ خواب دیکھنا بھی نبوت نہیں، بلکہ اس کا جزو ہے۔
4. دس صحابہ سے روایت:
یہ حدیث حضرت انس کے علاوہ حضرت عبد اللہ بن مسعود، حضرت علی، حضرت سمرہ، حضرت حذیفہ وغیرہ سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر ۷
متن حدیث:
"نحنُ الآخرونَ السابقونَ یومَ الْقِیَامَۃِ بید انھم اُوْتُوْ الکِتَابَ مِنْ قبلنا”
ترجمہ:
ہم سب کے آخر میں آئے، مگر قیامت کے دن سب سے پہلے ہوں گے۔ صرف اتنا ہوا کہ انہیں کتاب ہم سے پہلے دی گئی۔
روایت:
- صحابی: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ
- کتاب: صحیح بخاری ج۱ ص۱۰۳۵، صحیح مسلم ج۲ ص۵۸۶
تشریح (مفصل):
1. "آخرون” کا مطلب:
- آخری امت: آنحضرت کی امت آخری امت ہے، جس کے بعد کوئی نئی امت نہیں۔
- آخری نبی: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آخری نبی ہیں، جس کے بعد کوئی نبی نہیں۔
2. "السابقون” کا مفہوم:
- قیامت کے دن پہلے حشر ہونا: اس کی وجہ یہ ہے کہ آخری امت کو ساری انسانیت کا حساب دینا ہوگا، کیونکہ وہ آخری ورثہ دار ہیں۔
- علامہ قرطبی (التذکرہ فی احوال الموتی ص۷۱۱) لکھتے ہیں:
"آخری امت کو پہلے حشر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ تمام انبیاء کی امتوں کا ورثہ دار ہے، اس لیے ان کا حساب پہلے لیا جائے گا۔”
3. متعدد روایات:
یہ حدیث حضرت عائشہ، حضرت حذیفہ بن اسید، حضرت ابن عباس، حضرت ام کرز وغیرہ سے بھی مروی ہے۔
4. علمائے کرام کی تشریح:
- حافظ ابن حجر (فتح الباری ج۱۲ ص۳۷۵) کہتے ہیں:
"یہ حدیث ختم امت اور ختم نبوت دونوں کی تصدیق کرتا ہے۔” - مولانا رشید احمد گنگوہی (فتاویٰ رشیدیہ ج۴ ص۲۱۰) لکھتے ہیں:
"آخری امت ہونے کی وجہ سے ہی ختم نبوت ضروری تھا، کیونکہ اب کوئی نئی شریعت کی ضرورت نہیں۔”
حدیث نمبر ۸
متن حدیث:
"لَوْ کَانَ بَعْدِیْ نَبِّیٌ لَکَانَ عُمَرُ بْنُ الخطابِ”
ترجمہ:
اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا، تو عمر بن خطاب ہوتے۔
روایت:
- صحابی: حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ
- کتاب: سنن ترمذی ج۲ ص۲۰۹
تشریح (مفصل):
1. "لو” کا گرامری استعمل:
- "لو” عربی میں فرض محال (مستحيل ہونے والی شرط) کو ظاہر کرتا ہے۔
- مثلاً: "لو کانت الشمس تطلع من مغرب” (اگر سورج مغرب سے اٹھتا تو) — یہ مستحيل ہے۔
- اس لیے "لو” کا استعمال یہ سکھاتا ہے کہ بعدِ محمدی نبوت محال ہے۔
2. حضرت عمر کی شان:
- حضرت عمر رضی اللہ عنہ میں نبوت کی تمام صلاحیتیں موجود تھیں:
- عزت و وقار: انہیں "فاروق” کہا جاتا تھا۔
- علم و حکمت: وہ شریعت کے بہترین مفسر تھے۔
- ایمان کی مضبوطی: ان کے اسلام کے بعد اسلام تیزی سے پھلا۔
- مگر ختم نبوت کی وجہ سے وہ نبی نہیں بن سکے۔
3. علمائے کرام کی تشریح:
- ملا علی قاری (مرقاة المفاتیح ج۹ ص۷۴۶) لکھتے ہیں:
"قضیہ شرطیہ مستلزم وقوع نہیں، یعنی فرض محال ہونے کے باوجود واقع نہیں ہوتا۔” - علامہ ابن عسقلانی (فتح الباری ج۸ ص۱۶۷) کہتے ہیں:
"یہ حدیث اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ ختم نبوت مستقل حقیقت ہے، نہ کہ شرط۔”
4. تاریخی اہمیت:
- یہ حدیث حضرت عمر کی عظمت کو ظاہر کرتی ہے، اور ساتھ ہی ختم نبوت کی مضبوطی کو بھی۔
حدیث نمبر 9
متن حدیث:
"ان لی اسماء، اَنَا محمدٌ وَاَنَا اَحْمَدُ ، وَاَنَا المَاحِی الذی یَمْحُوْ اللّٰہُ بِی الْکُفْرَ، وَاَنَا الحَاشِرُ الذی یُحْشَرُ الناسُ عَلٰی قَدَمَیَّ ، وانا العاقبُ الذی لَیْسَ بَعْدَہٌ نبیٌ”
ترجمہ:
مجھے چند نام ہیں:
- میں محمد ہوں،
- میں احمد ہوں،
- میں ماحی ہوں (کفر کو مٹانے والا)،
- میں حاشر ہوں (لوگوں کو جمع کرنے والا)،
- میں عاقب ہوں (آخری)، جس کے بعد کوئی نبی نہیں۔
روایت:
- صحابی: حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ
- کتاب: مشکوٰۃ المصابیح ص۵۱۵
تشریح (مفصل):
1. "العاقب” کا مفہوم:
- "عاقب” کا لفظ "عقب” (پیچھے) سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب ہے "آخری”۔
- حافظ ابن حجر (فتح الباری ج۶ ص۵۵۷) لکھتہ ہے:
"یہ نام اس بات کی واضح نشاندہی کرتا ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔”
2. "الحاشر” کی تشریح:
- "حاشر” کا مطلب "جمع کرنے والا” ہے۔
- حافظ ابن حجر کہتے ہیں:
"یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ قیامت کے دن تمام انسان آپ کے قدموں پر جمع کیے جائیں گے، کیونکہ آپ آخری نبی ہیں۔”
3. متعدد صحابہ سے روایت:
یہ حدیث حضرت ابو سعید خدری، حضرت عصمہ بن مالک وغیرہ سے بھی مروی ہے۔
4. علمائے کرام کی تشریح:
- علامہ سیوطی (الدر المنثور ج۳ ص۲۸۴) لکھتے ہیں:
"نام ‘عاقب’ ختم نبوت کی سب سے مضبوط دلیل ہے، کیونکہ یہاں مستقل نفي ہے۔”
حدیث نمبر 10
متن حدیث:
"بَعَثْتُ انا والساعۃ کھاتِیْنِ”
ترجمہ:
مجھے اور قیامت کو دو انگلیوں کی طرح بھیجا گیا ہے۔
روایت:
- صحابی: حضرت انس بن مالک، حضرت سهل بن سعد، حضرت جابر بن عبد اللہ وغیرہ
- کتاب: صحیح بخاری ج۹ ص۹۶۳، صحیح مسلم ج۲ ص۶۰۴
تشریح (مفصل):
۱. تشبیہ کا مفہوم:
- آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ کرتے تھے۔
- انگشت شہادت (اشاریہ) اور درمیانی انگلی کے درمیان کوئی انگلی نہیں۔
- اسی طرح، آنحضرت اور قیامت کے درمیان کوئی نبی نہیں۔
۲. علمائے کرام کی تشریح:
- علامہ سندھی (حاشیہ نسائی ج۱ ص۴۳۲) لکھتے ہیں:
"یہ تشبیہ مستقل اتصال کو ظاہر کرتی ہے، یعنی دونوں کی درمیان کوئی دوسری چیز نہیں۔” - علامہ قرطبی (التذکرہ ص۷۱۱) کہتے ہیں:
"یہ حدیث اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ ختم نبوت قیامت کی علامت ہے۔”
۳. متعدد روایات:
یہ حدیث احادیث کی بڑی تعداد میں موجود ہے، جس میں شامل ہیں:
- حضرت ابو موسیٰ اشعری، حضرت حذیفہ، حضرت ابن عباس، حضرت عائشہ وغیرہ۔
۴. تاریخی اہمیت:
- یہ حدیث ختم نبوت کو کائناتی حقیقت کے ساتھ جوڑتی ہے، جس میں کوئی تاویل نہیں۔
خلاصہ
اہم نکات:
- دس احادیث متواترہ ہیں، جنہیں دس سے زائد صحابہ نے روایت کیا ہے۔
- ہر حدیث الگ انداز میں ختم نبوت کا اعلان کرتی ہے، جیسے:
- مثال و تشبیہ (اینٹ، انگلیاں)،
- اسماء گرامی (عاقب، حاشر)،
- مستقل نفي ("لا نبی بعدی”)۔
- علمائے کرام نے ان احادیث کو کفر سے بچنے کی بنیاد قرار دیا ہے۔
- جو شخص ختم نبوت کا انکار کرے، وہ اسلام سے باہر ہو جاتا ہے۔
اختیار
حضرت مفتی محمد شفیع صاحب نے دو سو دس احادیث جمع کی ہیں، مگر یہاں دس اہم احادیث کا تفصیلی جائزہ دیا گیا ہے۔ علم احادیث کے نئے انڈیکس کے دور میں اس تعداد کو کئی گنا بڑھایا جا سکتا ہے۔”کم ترک الاولون لاٰخرون”
کتنوں نے بعد میں آنے والوں کے لیے چھوڑ دیا!
