ایک مظلوم بیٹی کی دردناک داستان - قادیانی دھوکہ دہی کی حقیقت!
ثوبیہ کی حقیقی کہانی جو قادیانی دھوکہ دہی کا شکار ہوئی۔ شادی کے بعد جسمانی تشدد اور قادیانیت قبول کرنے کا دباؤ۔ ایمان کی خاطر ہر ظلم برداشت کیا لیکن مرتد نہیں ہوئی۔ مسلمان لڑکیوں کے لیے انتباہ۔
متعلقہ موضوعات
ایک مظلوم بیٹی کی دردناک داستان - قادیانی دھوکہ دہی کی حقیقت!
تحریر: محمد متین خالد | تخصص: سماجی امور
خلاصہ
یہ ثوبیہ نامی ایک مسلمان لڑکی کی حقیقی اور دردناک کہانی ہے جو قادیانی دھوکہ دہی کا شکار ہوئی۔ ثوبیہ کی شادی ایک قادیانی لڑکے عمران احمد سے ہوئی، لیکن شادی کے وقت اس خاندان نے اپنا اصل مذہب چھپایا۔ شادی کے بعد جب ثوبیہ کو پتہ چلا کہ اس کا شوہر قادیانی ہے تو اس پر جسمانی تشدد، بلیک میلنگ اور قادیانیت قبول کرنے کا دبائو ڈالا گیا۔ ثوبیہ نے اپنے ایمان کی حفاظت کی خاطر ہر ظلم برداشت کیا لیکن قادیانیت قبول نہیں کی اور آخرکار عدالت سے خلع حاصل کیا۔ یہ مضمون اس بات کی مثال ہے کہ کس طرح قادیانی جماعت مسلمان لڑکیوں کو دھوکہ دے کر شادی کرتی ہے اور پھر انہیں مرتد بنانے کی کوشش کرتی ہے۔
قادیانیوں کی دھوکہ دہی کا طریقہ کار
یہ صرف ثوبیہ کی ہی کہانی نہیں بلکہ آپ کو اس معاشرے میں ثوبیہ جیسی بے شمار مظلوم لڑکیاں اس سے ملتی جلتی المناک کہانیاں سناتی نظر آئیں گی۔ یہ بے چاریاں آئے دن قادیانیوں کے ہم رنگ زمین دام میں پھنس کر ان کے اذیت ناک مظالم کا نشانہ بن رہی ہیں۔
دھوکہ دہی ایک ایسا قبیح جرم ہے جو دنیا کے تمام مذاہب میں ممنوع اور قابل نفریں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دھوکہ باز کو ہر مہذب معاشرے میں ناپسندیدہ نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ موجودہ دور میں فتنہ قادیانیت دھوکہ دہی کا دوسرا نام ہے۔
قادیانیوں کا مقصد حیات ہی اسلام کے نام پر بھولے بھالے لوگوں کو دھوکہ دے کر ان کے ایمان کی شمع کو گل کرنا اور انہیں مرتد کر کے اپنے حلقے میں شامل کرنا ہے۔ اس مذموم مقصد کو حاصل کرنے کے لیے قادیانی کئی ذرائع اختیار کرتے ہیں، جن میں سرفہرست مسلمان لڑکیوں سے شادی کرنے کے بعد انہیں بلیک میل کر کے قادیانی بنانا ہے۔
بعض بدقسمت لڑکیاں قادیانیوں کے اس سنہری جال میں پھنس کر ارتداد اختیار کر لیتی ہیں، جبکہ بعض خوش نصیب لڑکیاں ہر قسم کے لالچ اور تحریص و ترغیب کو ٹھکرا کر اپنے متاع ایمان کو بچا لیتی ہیں، یہ جانتے ہوئے بھی کہ ان کے اس اقدام سے انہیں مستقبل میں بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ثوبیہ ایسی ہی خوش نصیب مگر مظلوم مسلمان لڑکیوں میں سے ایک ہے۔ آئیے ثوبیہ کی کہانی خود ثوبیہ کی زبانی سنتے ہیں:
ثوبیہ کا تعارف اس کی اپنی زبانی
میرا نام ثوبیہ عمر ہے۔ اس وقت میری عمر 27 سال ہے۔ میں اس وقت اپنے والدین کے ہمراہ گلشن راوی لاہور (پاکستان) میں مقیم ہوں۔ میں نے 2001ء میں مقامی کالج سے بی اے کیا۔ یہاں میری چند لڑکیوں سے دوستی ہو گئی۔ ان میں سے ایک لڑکی حمیرہ کے ساتھ چند ہی دنوں میں میری بے تکلفی ہو گئی اور آہستہ آہستہ یہ بے تکلفی گہری دوستی میں بدل گئی۔
اس نے ہمارے گھر آنا جانا شروع کر دیا۔ ٹیلی فون بھی باقاعدگی سے ہونے لگے۔ عید اور دیگر تہواروں پر تحائف کا تبادلہ ہوتا اور اکٹھے کھانا کھایا جاتا۔ چند سالوں بعد حمیرہ نے اچانک اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کو اپنی بھابھی بنانا چاہتے ہیں۔
میں نے جواباً اسے کہا کہ میں اپنے والدین کی مرضی اور خواہش کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کر سکتی۔ اس سلسلے میں آپ میرے والدین سے رابطہ کریں۔ چند دنوں بعد حمیرہ کے والدین ہمارے گھر آ گئے اور اپنے بیٹے عمران احمد کے لیے میرے والدین سے میرا رشتہ مانگا۔
میرے والدین نہایت شریف النفس اور سادہ مزاج ہیں۔ بالخصوص دنیاداری کے معاملات سے تو وہ قطعی نابلد ہیں۔ میرے والدین نے اس خاندان کے گزشتہ ایک سال کے معاملات اور رویوں کے پیش نظر ان پر اندھا دھند اعتماد کرتے ہوئے چھان بین اور مشورہ کیے بغیر ہاں کر دی۔ اس طرح 22 فروری 2003ء کو میری شادی عمران احمد سے ہو گئی۔ قیمتی جہیز کے علاوہ شادی اس دھوم دھام سے ہوئی کہ خود سسرال والوں کے رشتہ دار حیران رہ گئے۔
شادی کے بعد حقیقت کا انکشاف
شادی کے چند ماہ بعد جب میں امید سے تھی تو عمران مجھے اپنے رشتہ داروں سے ملوانے کے لیے چناب نگر (سابقہ ربوہ) لے گئے۔ جہاں سسرالی خواتین نے مجھ سے کئی ایک جارحانہ سوالات کیے۔ چونکہ میرا کوئی مطالعہ نہ تھا، اس لیے میں ان کے تلبیسی سوالات کے جوابات نہ دے سکی اور خاموش رہی۔
اسے میری لاعلمی سمجھیے یا نالائقی، میں پھر بھی ان کی چال نہ سمجھ سکی کہ یہ لوگ مجھے کس دلدل میں پھینکنا چاہتے ہیں۔ اسی طرح میرے سسرال والے اکثر مجھے "Trump Card” کہتے اور قہقہے لگاتے۔ میں نے کبھی غور نہ کیا کہ اس کے کیا معنی ہیں اور وہ مجھے کیوں ایسا کہتے ہیں۔
2004ء میں میرے ہاں بیٹی پیدا ہوئی۔ سوائے عمران کے ان کے گھر کا کوئی فرد اس بچی کو دیکھنے کے لیے نہیں آیا۔ ڈیڑھ ماہ بعد میں اپنے سسرال آ گئی۔ عمران کے گھر میں جہاں میری ساس اور دیور بھی رہتے تھے، ہر جمعہ کو باقاعدگی سے قادیانی ٹی وی چینل MTA بڑے اہتمام سے دیکھا جاتا۔ قادیانی جماعت کا خلیفہ مرزا مسرور تقریریں کرتا اور اپنے پیروکاروں کو مختلف ہدایات دیتا۔ اس وقت تک مجھے قادیانیوں کے عقائد و عزائم کے بارے میں کچھ علم نہ تھا۔
بہرحال میں ان کے ساتھ شامل نہ ہوتی، بلکہ اپنے کمرے میں علیحدہ نماز پڑھتی اور قرآن مجید کی تلاوت کرتی۔ میری اس حرکت کا میری ساس نے بے حد برا منایا۔ اس کا رویہ مجھ سے بے حد ظالمانہ اور وحشیانہ ہو گیا۔
ساس کا ظالمانہ رویہ
بات بات پر ٹوکنا، کھانوں میں بلاوجہ نقص نکالنا، عمران کے سامنے میری جھوٹی شکایات لگانا، میرے ماں باپ کو بُرا بھلا کہنا، عجیب و غریب گھٹیا طعنے دینا اور کسی چیز کو ہاتھ نہ لگانے دینا، اس کا روز مرہ کا معمول بن گیا۔
ایک دفعہ میری بیٹی دودھ کے لیے بلک رہی تھی۔ میں فریج سے دودھ نکالنے گئی تو ساس نے میرا ہاتھ روک لیا اور کہا کہ دودھ کے لیے اپنے باپ سے پیسے لاؤ۔ میں نے عمران کو فون کرنے کی کوشش کی تو اس نے میرے ہاتھ سے فون چھین لیا اور کہا کہ باہر جا کر پی سی او سے فون کرو۔
رات دیر گئے عمران گھر واپس آیا تو میری ساس نے ڈرامہ کرتے ہوئے رو رو کر میرے خلاف فرضی اور من گھڑت جھوٹی شکایات کا انبار لگا دیا جس پر عمران طیش میں آ گیا اور میری بات سنے بغیر مجھے بُرا بھلا کرنا شروع کر دیا۔
اگلے دن صبح عمران اپنے کام پر چلا گیا۔ میں کچن میں سب گھر والوں کے لیے ناشتہ بنا رہی تھی۔ اچانک میری ساس دبے قدموں کچن میں داخل ہوئی اور پیچھے سے میرے کپڑوں کو آگ لگا دی۔ جس سے میں گھبرا گئی اور بڑی مشکل سے آگ بجھائی۔ میری گھبراہٹ اور پریشانی پر سب گھر والے شیطانی قہقہے لگانے لگے۔
اس پر میں نے فوری طور پر عمران کو کام سے واپس بلایا اور سارا معاملہ اس کے سامنے رکھا۔ میری ساس نے جھوٹی قسمیں کھا کر کہا کہ ایسا کسی نے نہیں کیا، بلکہ یہ محض غلط فہمی کا نتیجہ ہے۔ اس دن کے بعد میں اس گھر میں خوف زدہ رہنے لگی۔ مجھے رات کو بھی نیند نہ آتی۔ محسوس ہوتا جیسے میری ساس مجھے سوتے میں قتل کر دے گی۔ اس خوف اور دباؤ کی وجہ سے میں بے خوابی کا شکار رہنے لگی۔
دس لاکھ روپے کا مطالبہ اور تشدد
عمران کا کاروبار تسلی بخش نہ تھا۔ وہ اپنے کاروبار کے سلسلے میں پریشان رہتا۔ ایک دن میں نے اس کے رویے میں بے حد تبدیلی دیکھی۔ وہ گھنٹوں میرے پاس بیٹھا رہا۔ شام کو سیر کے لیے پارک میں لے گیا اور رات کا کھانا ایک ہوٹل میں کھلایا۔ دوسرے دن وہ میرے لیے ایک قیمتی سوٹ لے کر آیا۔
میں اس کے رویے پر بے حد حیران ہوئی۔ میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ وہ مجھ سے بے حد پیار کرتا ہے اور جو بھی غلط فہمیاں تھیں وہ سب دور ہو گئی ہیں۔ میں اس کی ان باتوں پر بے حد خوش ہوئی اور مجھے یوں محسوس ہوا جیسے مجھے نئی زندگی مل گئی ہے۔
چند روز بعد عمران نے مجھے کہا کہ وہ کاروبار کے سلسلے میں بے حد پریشان ہے، لہذا میں اس کی مدد کروں۔ میں نے اس سے پوچھا کہ میں کیا مدد کر سکتی ہوں۔ اس نے فوراً کہا کہ تم اپنے باپ سے فوری طور پر 10 لاکھ روپے لے کر آؤ، تاکہ میں کاروبار کر سکوں۔
میں نے اسے کہا کہ میرے والد مجھے اتنی زیادہ رقم نہ دے سکیں گے، کیونکہ ایک تو ان کے پاس اتنی رقم نہیں اور دوسرے ابھی میری دو بہنیں اور ہیں جن کی شادی ہونا باقی ہے۔ لہذا اتنی رقم لانا میرے لیے ناممکن ہے۔
میری بات سن کر عمران غصے سے پاگل ہو گیا اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں امید سے ہوں گھر میں پڑے پلاسٹک کے سخت پائپ کے ساتھ زدوکوب کرنے لگا۔ میں کمزور اور نازک اندام لڑکی ہوں۔ اس وحشیانہ پٹائی سے میں بے ہوش ہو گئی۔
اتفاق سے رات کو میرے والد کا فون آیا تو انہوں نے میری کراہتی آواز سے اندازہ لگایا کہ کچھ گڑ بڑ ہے۔ وہ فوری طور پر آئے اور میرے سسرال والوں کو کچھ کہے بغیر مجھے اپنے ساتھ لے گئے۔ گھر میں آ کر میں نے انہیں سارا ماجرا سنایا اور تنہائی میں اپنی والدہ کو اپنے جسم پر زخموں کے تازہ نشانات دکھائے۔
میرے پورے جسم پر نیل پڑ چکے تھے اور جسم کا ہر حصہ شدید درد کر رہا تھا۔ ہمارے قریبی رشتہ داروں کو اس واقعے کا علم ہوا تو انہوں نے ہمیں ہسپتال سے تشدد کا سرٹیفیکٹ لا کر تھانے جا کر مقدمہ درج کروانے کا مشورہ دیا۔ مگر میرے والد صاحب نے اس مشورے پر عمل نہ کیا اور معاملہ خدا پر چھوڑ دیا۔
دوبارہ سسرال اور قادیانیت کا دباؤ
دو ماہ تک عمران اور اس کے گھر والوں نے مجھ سے مکمل قطع تعلق کیے رکھا۔ ایک دن صبح کے وقت انہوں نے مجھے فون کیا اور اپنے رویے پر شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے معذرت کی اور کہا کہ آئندہ ایسا واقعہ کبھی نہ ہو گا۔ تم فوراً گھر واپس آ جاؤ۔
شام کو عمران موٹر سائیکل پر مجھے لینے گھر آ گیا۔ میرے والد کی وسیع الظرفی اور کشادہ دلی دیکھیے کہ انہوں نے میرا مستقبل بچانے کے لیے عمران سے کوئی شکایت کی اور نہ شکوہ، بلکہ اسے بڑا پرتکلف کھانا کھلایا اور کہا کہ یہ تمہاری امانت ہے۔ تم اسے لے جا سکتے ہو۔
میں دوبارہ اپنے سسرال آ گئی۔ چند ہفتے عمران کا رویہ میرے ساتھ ہمدردانہ رہا۔ پھر رفتہ رفتہ ان کے رویے میں حسب معمول تبدیلی آ گئی اور ایک دن غصے سے کہنے لگے کہ اگر تم اپنے والد سے 10 لاکھ روپے نہ لائی تو میں تمہیں طلاق دے دوں گا۔
میں یہ سن کر لرز گئی۔ میرا دل ڈوب ڈوب گیا۔ آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ کچھ دیر بعد ہوش آئی تو دیر تک نہ سمجھ پائی کہ کیا کروں۔ طلاق کی دھمکی کے الفاظ کانوں میں مسلسل گونج رہے تھے۔
اسی دوران عمران نے ہمارے گھر پر قبضہ کرنے کے لیے ایک چال چلی کہ اپنا نیا شناختی کارڈ بنوایا اور ہمارے علم میں لائے بغیر اپنا مستقل پتہ میرے والدین کے گھر کا دے دیا۔ میرے والد صاحب کو عمران کی یہ حرکت بہت بری لگی، لیکن وہ مصلحت کے تحت خاموش رہے۔
ایمان اور کفر کا فیصلہ
چند دنوں بعد عمران نے مجھے کہا کہ میرا تعلق قادیانی جماعت سے ہے اور اگر تمہیں میرے ساتھ رہنا ہے تو تمہیں قادیانیت اختیار کرنا پڑے گی۔ یہ سن کر ایک دفعہ پھر میرے جسم پر لرزہ طاری ہو گیا۔ یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے میرے سر پر ہتھوڑا مار دیا ہو۔
میں نے بڑی مشکل سے اپنے حواس پر قابو پایا اور فیصلہ کیا کہ اب میں عمران کے ساتھ کبھی نہ رہوں گی۔ اس نے مجھے دھوکہ دے کر میرے ساتھ شادی کی۔ قادیانی مذہب جھوٹا اور اسلام کے خلاف ایک بھیانک سازش ہے۔
میں نے عمران سے کہا کہ تم نے میرے ساتھ دھوکہ کیا اور اب میری مجبوریوں سے ناجائز فائدہ اٹھا کر میرے ایمان پر ڈاکہ ڈالنا چاہتے ہو۔ میں کسی قیمت پر اپنے ایمان کا سودا نہیں کروں گی۔
میری اس جرات پر عمران نے مجھے گندی گالیاں دینا شروع کر دیں اور تھپڑوں اور گھونسوں سے مجھ پر تشدد شروع کر دیا۔ میں روتی اور چلاتی رہی، مگر وہاں موجود کوئی شخص میری مدد کو نہ آیا۔ اس نے مار مار کر مجھے ادھ موا کر دیا۔
کچھ دیر بعد مجھے ہوش آیا تو میں نے اپنے والد کو فون کیا اور کہا کہ مجھے فوری طور پر یہاں سے لے جائیں، ورنہ یہ لوگ مجھے قتل کر دیں گے۔ میرے والد فوراً آ گئے اور مجھے اپنے ساتھ لے گئے۔
اب حالات اس رخ پر تھے کہ کسی مصالحت کی گنجائش نہ تھی۔ یہ ایمان و کفر کا معاملہ تھا۔ میں نے اپنے گھر والوں کو ساری روداد سنائی اور کہا کہ ایک مشرقی لڑکی ہونے کے ناطے میں اپنے خاوند کی ہر جائز و ناجائز بات اور زیادتی برداشت کر سکتی ہوں، مگر اپنے قیمتی ایمان کا سودا نہیں کر سکتی۔ اب میں عمران کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔ لہذا میں اس سے خلع لینا چاہتی ہوں۔
عدالت سے خلع اور موجودہ صورتحال
میرے والدین ختم نبوت کے حوالے سے بڑے حساس ہیں۔ انہوں نے نہ صرف میرے اس فیصلے کی تائید کی، بلکہ ہر مشکل میں میرا بھرپور ساتھ دینے کا عزم کیا۔ میں نے 8 ستمبر 2004ء عدالت میں خلع کے لیے درخواست دائر کر دی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں تسلیم کیا کہ عمران احمد نے مجھے ذہنی، روحانی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا۔ یوں عدالت نے 23 نومبر 2004ء کو خلع کی ڈگری میرے حق میں جاری کر کے مجھے عمران کے چنگل سے آزاد کر دیا۔
آج کل میں اپنے والدین کے گھر ایک مطلقہ کی حیثیت سے رہ رہی ہوں۔ عدالت سے خلع کا فیصلہ ہو جانے کے باوجود عمران آئے روز گھر فون کرکے جان سے ماردینے، بچیاں اغوا کرلینے، چہرے پر تیزاب پھینک دینے اور گھر کو آگ لگادینے کی دھمکیاں دیتاہے۔ فون کی گھنٹی بجتی ہے تو سب گھر والے سہم جاتے ہیں۔ ہم گھر سے باہر سودا سلف لاتے ہوئے گھبراتے ہیں۔ میں گھر میں مقید ہوکر رہ گئی ہوں۔ اغوا کے خوف سے گھر سے باہر قدم نکالنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ خوف اور پریشانی کی وجہ سے ہماری زندگی اجیرن ہوکر رہ گئی ہے۔ میرے والد صاحب اعصابی طور پر بے حد کمزور ہوگئے ہیں۔ ہمارا کوئی پرسان حال نہیں۔ میرا مستقبل تباہ ہوگیا ہے۔ میں نفسیاتی مریضہ بنتی جارہی ہوں۔ اگر خودکشی حرام نہ ہوتی تو شائد میں یہ قدم اٹھاچکی ہوتی۔ خدارا ہماری مدد کیجئے۔ ’’ورنہ میں روز قیامت پیارے آقا ومولا حضور خاتم النبیینﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوکر ہر صاحب اختیار مسلمان کی شکایت کروں گی کہ انہوں نے مجھے ایک قادیانی کے ظلم وستم سے بچانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔‘‘
قادیانیوں کا ظلم اور نتائج
قارئین محترم! یہ تھی ثوبیہ کی اذیت ناک اور دردبھری کہانی۔ جس کا ایک ایک لفظ حکمرانوں کی روشن خیالی اور مسلمانوں کے بے حسی پر ہتھوڑے برساکر ان کی غیرت وحمیت کو جگارہا ہے۔ ٹھہرئیے! ایک لمحہ کے لئے سوچئے… اور غور کیجئے کہ… اگر ثوبیہ میری یا آپ کی بیٹی ہوتی تو ردعمل کیا ہوتا؟۔ ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے کیا ثوبیہ ہماری اخلاقی مدد کی بھی مستحق نہیں ہے؟۔ ثوبیہ عمر خدا نخواستہ اگر عیسائی، ہندو یا قادیانی ہوتی اور اس پر اتنا ظلم وتشدد اور زیادتی ہوتی تو ہماری فارن فنڈڈ این جی اوز آسمان سرپر اٹھالیتیں۔ لیکن ان کے نزدیک ثوبیہ کا جرم محض یہ ہے کہ وہ ایک مسلمان ہے۔
کاش! آج کے دور میں محمد بن قاسم یا غازی علم الدین شہید زندہ ہوتے تو ایک مسلمان بچی کو یہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے سوا ارب مسلمانوں میں سے کوئی ہے جو ثوبیہ کو خودکشی کا مرتکب ہونے سے روک سکے۔ اس کے آنسو پونچھ سکے۔ اس کے زخموں پر مرہم رکھ سکے۔
