ختم نبوت پر احادیث – مستند دلائلتفصیل دیکھیں

ظفر اللہ قادیانی: ملت کا غدار اور اسرائیل کا ایجنٹ

متعلقہ موضوعات

ظفر اللہ قادیانی: ملت کا غدار اور اسرائیل کا ایجنٹ

ملت کا غدار ظفر اللہ قادیانی قوم کا رہنماء؟

مصنف: مولانا محمد یعقوب بدین

ملت کے غداروں میں سے ایک شخص جس کا نام ظفر اللہ قادیانی تھا۔ یہ مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت کا پرچار کرنے والا نہایت جنونی مبلغ تھا۔ اس نے قادیانیت کی اشاعت میں پوری زندگی گزار دی۔ اسلام کی اصل شناخت کو مٹا کر دنیا بھر میں قادیانیت کو پھیلانا اس کا مقصد حیات تھا۔

ظفر اللہ قادیانی 1893ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوا۔ انگریزی تعلیم حاصل کر کے ملکی سیاست میں شامل ہوگیا اور قادیانیت کے لئے کام کرنے لگا۔ اس وقت تک فتنہ قادیانیت سے زیادہ تر لوگ ناواقف تھے۔ اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، انگریزوں کی سرپرستی کے ساتھ، یہ ملکی سیاست میں اونچے مقام پر آگیا۔ 1931ء میں مسلم لیگ میں شامل ہوکر اس کا کرتا دھرتا بن گیا۔

اس نے اسلامی ممالک کے خلاف سازشوں میں انگریزوں اور مغربی طاقتوں کا بھرپور ساتھ دیا اور ان کا نہایت کارآمد ایجنٹ ثابت ہوا۔ اس کے اثرورسوخ کا یہ عالم تھا کہ برصغیر کے بڑے بڑے سیاسی رہنماؤں سے زیادہ اس کی سفارش مؤثر ثابت ہوتی تھی۔ اس کی خدمات کے اعتراف میں انگریز حکومت نے اسے "سر” کا خطاب دیا تھا۔

ظفر اللہ قادیانی نے 1942ء میں فلسطین کا دورہ کیا۔ جہاں برطانیہ کی سازش سے یہودیوں کو بسا کر اسرائیل کے قیام کی کوششیں جاری تھیں۔ یہ وہ موقع تھا کہ قادیانیوں اور یہودیوں میں باقاعدہ رابطے پیدا ہوئے اور دونوں نے ایک دوسرے کے مقاصد میں ساتھ دینے کی پالیسی بنائی۔ آج بھی اسرائیلی فوج میں ایک حصہ صرف قادیانیوں پر مشتمل ہے۔

1946ء میں جب اسرائیل کے قیام کی کوششیں کامیابی کے قریب پہنچ گئیں تو ظفر اللہ قادیانی نے امریکہ پہنچ کر برطانوی، امریکی اور صہیونی لیڈروں سے خفیہ مذاکرات کئے۔ قادیانیت کے پرچار کے لئے ان سے باقاعدہ تعاون کا معاہدہ طے کیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ برطانیہ، امریکہ اور مغربی ممالک میں قادیانیوں کے تبلیغی مراکز قائم ہوگئے اور وہاں کے مسلمانوں میں زور و شور سے قادیانیت کی تبلیغ ہونے لگی۔

ادھر فلسطین کا مسئلہ بھی قادیانیوں کی حمایت کے ساتھ یہودیوں کے حق میں چلاگیا اور اسرائیل کا قیام طے ہوگیا۔ ادھر تحریک پاکستان اپنے آخری مراحل میں تھی۔ ظفر اللہ قادیانی کو انگریزوں نے مسلمانوں کے سیاسی رہنماء کے طور پر پہلے ہی مشہور کردیا تھا۔ چنانچہ ایک سازش کے تحت اسے قیام پاکستان کے ساتھ ہی پاکستان کا وزیر خارجہ بنوا دیا گیا۔

ظفر اللہ قادیانی نے اس اہم منصب پر فائز ہوکر نہ صرف پاکستان کی جڑیں کاٹیں بلکہ 1948ء میں اسرائیل کے قیام کے لئے بھی زبردست کام کیا۔ اس نے حکومت پاکستان کی پالیسی کے برخلاف فلسطینیوں کی جدوجہد آزادی کو ناکام بنانے کے لئے ناپاک سرگرمیاں جاری رکھیں۔

11؍ستمبر1948ء کو بانی پاکستان کا انتقال ہوا تو ظفر اللہ قادیانی نے موقع پر ہوتے ہوئے بھی ان کے جنازے میں شرکت نہ کی۔ کیونکہ محمد علی جناحؒ مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت کو نہیں مانتے تھے۔ ظفر اللہ قادیانی جنازے کے موقع پر غیر مسلم سفیروں کے ساتھ کھڑا رہا۔ مسلم لیگ کے کئی بڑے بڑے عہدیداران مثلاً سردار عبدالرب نشتر وغیرہ کو اس کی خباثت کا اندازہ ہوگیا تھا، مگر وہ اس کی سازشوں کی روک تھام نہ کر سکے۔

اس بدبخت نے کراچی کے آرام باغ میں قادیانیوں کا بہت بڑا جلسہ منعقد کیا اور اس میں اسلام کے خلاف کھل کر بیہودگی کی اور یہاں تک کہ "اسلام ایک مردہ مذہب ہے اور (قادیانیت) احمدیت زندہ مذہب ہے۔” ظفر اللہ قادیانی کے یہ غلیظ جملے سن کر کراچی کے مسلمان جلسہ گاہ پر پل پڑے اور سارا جلسہ درہم برہم کر دیا۔ شہر کے حالات کشیدہ ہوگئے۔ پورے ملک میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔

عوامی جذبات کا ردعمل 1953ء کی تحریک ختم نبوت کی صورت میں نکلا۔ اس میں ظفر اللہ قادیانی جیسے ظالم حکومتی عہدیداروں کی سرپرستی میں دس ہزار مسلمانوں کو شہید کیا گیا۔ مگر تحریک نہ دب سکی۔

آخر کار ظفر اللہ قادیانی دو سال بعد وزارت خارجہ کا عہدہ چھوڑنے پر مجبور ہوگیا۔ اب وہ اپنے کافر آقاؤں کی گود میں جا بیٹھا اور 1973ء تک عالمی عدالت انصاف (در حقیقت مسلمانوں کے لئے عالمی بے انصافی کی کچہری) کا رکن بن گیا۔ 1985ء میں وہ مر کر ربوہ چناب نگر میں دفن ہوا۔ جہاں اس کی قبر جہنم کے گڑھے کے طور پر نظارہ عبرت بنی ہوئی ہے۔

    عقیدہ ختمِ نبوت ﷺ — مستند علم، واضح رہنمائی

    اپنے سوال پوچھیں Urdu | English | Arabic میں