مرزا غلام احمد کے کلام میں 12 صریح تناقضات
مرزا غلام احمد قادیانی کی تحریروں سے ایسے 12 تضادات کا مجموعہ جو ان کے اپنے دعووں کی نفی کرتے ہیں۔ خود مرزا کے بقول، جھوٹے کے کلام میں تناقض ہوتا ہے۔
متعلقہ موضوعات
مرزا غلام احمد کے کلام میں 12 صریح تناقضات
قادیانی معمہ: مرزا کے کلام میں تناقضات!
مصنف: مولانا ظہور احمد بگویؒ
قادیانیت کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوؤں اور تحریرات میں پائے جانے والے تضادات اہل علم کے نزدیک ایک کھلا معمہ ہیں۔ زیر نظر مضمون میں مولانا ظہور احمد بگویؒ نے مرزا قادیانی کے کلام سے ایسے بیانات کو یکجا کیا ہے جو ایک دوسرے کی صریح نفی کرتے ہیں۔ یہ تضادات نہ صرف قادیانی عقائد کی بنیاد کو متزلزل کرتے ہیں بلکہ خود مرزا کے اپنے معیار کے مطابق جھوٹے کی پہچان بھی ہیں۔
مرزا غلام احمد کے بیانات میں صریح تضادات
1. مسیح کی نبوت کے بارے میں:
- ’’مسیح کے لئے ہمارے سید و مولا نے نبوت شرط نہیں ٹھہرائی۔‘‘
(توضیح المرام ص17، خزائن ج3ص59) - ’’وہ ابن مریم جو آنے والا ہے کوئی نبی نہیں ہوگا۔‘‘
(ازالہ اوہام ص291، خزائن ج3ص249) - ’’جس آنے والے مسیح موعود کا حدیثوں سے پتہ چلتا ہے اس کا انہی حدیثوں سے پتہ دیا گیا ہے کہ وہ نبی بھی ہوگا۔‘‘
(حقیقت الوحی ص29، خزائن ج22ص31)
2. نام "محمد” اور "احمد” کے حوالے سے:
- ’’خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے اور مجھے آنحضرتﷺ کا وجود قرار دیا۔‘‘
(ایک غلطی کا ازالہ ص8، خزائن ج18ص212 مورخہ 5؍نومبر1901ء میں بحوالہ براہین احمدیہ) - ’’اس آنے والے کا نام جو احمد رکھا گیا ہے وہ بھی اس مثیل (یعنی مثیل مسیح) ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ محمد جلالی نام ہے اور احمد جمالی اور احمد اور عیسیٰ اپنے جمالی معنوں کی رو سے ایک ہی ہیں…… آخری زمانہ میں بر طبق پیش گوئی مجرد احمد جو اپنے اندر حقیقت عیسویت رکھتا ہے۔ بھیجا گیا۔‘‘ (اس جگہ اپنے آپ کو محمدﷺ کا غیر پایا)
(ازالہ اوہام ص673، خزائن ج3ص463)
3. حضرت مسیح کے صلیب پر گزرنے کا وقت:
- ’’مسیح کو صلیب پر گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ بلکہ اس سے بھی کم گزرے تھے۔‘‘
(ایام الصلح ص114، خزائن ج14ص35) - ’’صرف دو گھنٹے۔‘‘
(مسیح ہندوستان میں ص22، خزائن ج15ص22) - ’’صرف چند منٹ گزرے تھے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص380، خزائن ج3ص296)
4. حضرت مسیح کے چڑیوں کے معجزے پر:
- ’’حضرت مسیح کی چڑیاں باوجود یکہ معجزہ کے طور پر ان کا پرواز کرنا قرآن کریم سے ثابت ہے۔‘‘
(آئینہ کمالات اسلام ص68، خزائن ج5ص68) - ’’ان پرندوں کا پرواز کرنا قرآن شریف سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا۔‘‘
(ازالہ اوہام حصہ اول ص307 حاشیہ، خزائن ج3ص256،257)
5. حضرت مسیح کے معجزات کے بارے میں:
- ’’سچ صرف اس قدر ہے کہ یسوع مسیح نے بھی بعض معجزات دکھلائے۔ جیسا کہ نبی دکھلاتے ہیں۔‘‘
(ریویوج1 ش9 ماہ ستمبر1902ء ص342) - ’’مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص6، خزائن ج11ص290)
6. مسیح موعود ہونے کے دعوے کی وضاحت:
- ’’میرا یہ دعویٰ ہے کہ میں وہ مسیح موعود ہوں جس کے بارے میں خدا تعالیٰ کی تمام پاک کتابوں میں پیشگوئیاں ہیں کہ وہ آخری زمانہ میں ظاہر ہوگا۔‘‘
(تحفہ گولڑویہ ص118، خزائن ج17ص295) - ’’اس عاجز نے جو مثیل مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے جس کو کم فہم مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں۔‘‘
(ازالہ اوہام ص190)
7. حضرت عیسیٰ کو امتی قرار دینے پر:
- ’’مسیح ابن مریم اس امت کے شمار میں ہی آگئے ہیں۔‘‘
(ازالہ اوہام ص623، خزائن ج3ص436) - ’’حضرت عیسیٰ کو امتی قراردینا کفر ہے۔‘‘
(ضمیمہ براہین حصہ5 ص192، خزائن ج21ص364)
8. ویدوں کے بارے میں تضاد:
- ’’وید گمراہی سے بھرا ہوا ہے۔‘‘
(البشریٰ ج1ص50) - ’’ہم وید کو بھی خدا کی طرف سے مانتے ہیں۔‘‘
(پیغام صلح ص23، خزائن ج23ص453)
9. بنی اسرائیل میں نبیوں کی نبوت کا ماخذ:
- ’’حضرت موسیٰ کے اتباع سے ان کی امت میں ہزاروں نبی ہوئے۔‘‘
(الحکم24نومبر1902) - ’’بنی اسرائیل میں اگرچہ بہت نبی آئے مگر ان کی نبوت موسیٰ کی پیروی کا نتیجہ نہ تھا۔ ‘‘
(حقیقت الوحی ص97حاشیہ، خزائن ج22ص100)
10. خدا کے قانون قدرت کے بارے میں:
- ’’خدا تعالیٰ کا قانون قدرت ہرگز نہیں بدل سکتا۔ ‘‘
(کرامات الصادقین ص8، خزائن ج7ص50) - ’’خدا اپنے خاص بندوں کے لئے قانون بھی بدل دیتا ہے۔‘‘
(چشمہ معرفت ص96، خزائن ج23ص104)
11. موت و حیات اور ضرر و نفع کا مالک بنانے پر:
- ’’خدا تعالیٰ اپنے اذن وارادہ سے کسی شخص کو موت وحیات اور ضرر ونفع کا مالک نہیں بناتا۔‘‘
(ازالہ اوہام ص315حاشیہ، خزائن ج3ص260) - ’’مجھ کو فانی کرنے اور زندہ کرنے کی صفت دی گئی ہے اور یہ صفت خدا کی طرف سے مجھ کو ملی ہے۔‘‘
(خطبہ الہامیہ ص55،56، خزائن ج16ص ایضاً)
12. الہامات کی زبان کے متعلق:
- ’’بعض الہامات مجھے ان زبانوں میں بھی ہوتے ہیں جن سے مجھے کچھ واقفیت نہیں۔ جیسے انگریزی، سنسکرت یا عبرانی وغیرہ۔‘‘
(نزول مسیح ص57، خزائن ج18ص435) - ’’یہ بالکل غیر معقول بات ہے اور بیہودہ امر ہے کہ انسان کی اصل زبان تو کوئی اور ہو اور الہام اس کو کسی اور زبان میں جو جس کو وہ سمجھ بھی نہیں سکتا۔ کیونکہ اس میں تکلیف مالایطاق ہے اور ایسے الہام سے فائدہ ہی کیا ہوا جو انسانی سمجھ سے بالاتر ہے۔‘‘
(چشمہ معرفت ص209، خزائن ج23ص218)
تناقضات کے حوالے سے مرزا کے اپنے اقوال: حتمی فیصلہ
خود مرزا غلام احمد قادیانی نے تناقضات کی موجودگی کو جھوٹے شخص کی پہچان قرار دیا ہے، جیسا کہ ان کے اپنے کلام سے ظاہر ہوتا ہے:
1. ’’ظاہر ہے کہ ایک دل سے دو متناقض باتیں نکل نہیں سکتیں۔ کیونکہ ایسے طریق سے یا انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق۔‘‘
(ست بچن ص31، خزائن ج10ص143)
2. ’’اس شخص کی حالت ایک مخبط الحواس انسان کی ہے کہ ایک کھلا کھلا تناقض اپنی کلام میں رکھتا ہے۔‘‘
(حقیقت الوحی ص184، خزائن ج22ص191)
3. ’’کوئی دانش مند اور قائم الحواس آدمی ایسے دو متضاد اعتقاد ہرگز نہیں رکھ سکتا۔‘‘
(ازالہ اوہام ص239، خزائن ج3ص220)
4. ’’جھوٹے کے کلام میں تناقض ضرور ہوتا ہے۔‘‘
(ضمیمہ براہین حصہ پنجم ص111، خزائن ج21ص275)
