ختم نبوت پر احادیث – مستند دلائلتفصیل دیکھیں

مرزا قادیانی کے کفریہ عقائد - عقیدہ ختم نبوت اور علمائے اسلام کے فتاویٰ!

مرزا غلام احمد قادیانی کے 23 کفریہ عقائد کی تفصیلی وضاحت۔ عقیدہ ختم نبوت کیا ہے؟ نبوت کا خاتمہ کیوں ہے؟ علمائے اسلام کے متفقہ فتاویٰ اور امت مسلمہ کا متفقہ فیصلہ۔ تمام مکاتب فکر کا اتفاق۔ 

متعلقہ موضوعات

مرزا قادیانی کے کفریہ عقائد - عقیدہ ختم نبوت اور علمائے اسلام کے فتاویٰ!

تحریر: مولاناﷲ وسایا | تخصص: فقہ و شریعت

یہ مضمون عقیدہ ختم نبوت کی اسلامی تشریح اور نبوت کا خاتمہ کی اہمیت کو تفصیل سے بیان کرتا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے تمام کفریہ عقائد (23 عقائد) کو ان کے اپنے حوالہ جات کے ساتھ موضوع بنایا گیا ہے۔ علمائے اسلام، تمام مکاتب فکر (دیوبندی، اہل حدیث، بریلوی وغیرہ) اور امت مسلمہ کے متفقہ فتاویٰ اور شرعی فیصلے درج ہیں۔


اللہ رب العزت نے نبوت کی ابتداء حضرت سیدنا آدم علیہ السلام سے فرما کر اس کی انتہاء خاتم الانبیاء آنحضرت محمد رسول اللہﷺ کی ذات اقدس پر فرمائی۔ چودہ سو سال سے مسلم امہ کا متفقہ عقیدہ چلا آرہا ہے کہ جو حضرت محمد رسول اللہﷺ کے بعد نبوت کا مدعی ہو وہ اور اس کے پیروکار دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔

مرزا غلام احمد قادیانی جھوٹی نبوت کا مدعی تھا۔ چنانچہ مرزا قادیانی اور اس کے ماننے والوں کے متعلق بھی امت مسلمہ نے کفر کا فتویٰ جاری کیا کہ وہ اپنے ان کفریہ عقائد کی بنیاد پر امت محمدیہ کا حصہ نہیں ہیں۔


عقیدہ 1: قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ کلمہ طیبہ ”لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ” میں ”محمد رسول اللہ” سے مراد مرزا غلام احمد قادیانی بھی ہے۔ چنانچہ مرزا بشیر احمد لکھتے ہیں کہ ”مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) خود محمد رسول اللہ ہے جو اشاعت اسلام کے لیے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔ اس لیے ہم (مرزائیوں) کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں۔” (کلمتہ الفصل ص158)

عقیدہ 2: ”چودہویں صدی سے تمام انسانیت کا رسول مرزا غلام احمد ہے۔” (تذکرہ ص360)

عقیدہ 3: ”رحمتہ للعالمین مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔” (تذکرہ ص83)

عقیدہ 4: ”آسمان و زمین اور تمام کائنات کو صرف غلام احمد کی خاطر پیدا کیا گیا۔” (حقیقت الوحی ص99)

عقیدہ 5: ”مرزا غلام احمد قادیانی کا آسمانی تخت تمام نبیوں سے اونچا ہے۔” (حقیقت الوحی ص89)

عقیدہ 6: ”حضرت محمد رسول اللہﷺ کا زمانہ روحانی ترقیات کی طرف پہلا قدم تھا اور مرزا غلام احمد کے زمانہ میں روحانیت کی پوری تجلی ہوئی۔” (خطبہ الہامیہ ص177)

عقیدہ 7: ”حضرت محمد رسول اللہﷺ کو چھوٹی فتح مبین نصیب ہوئی تھی اور بڑی فتح مبین مرزا غلام احمد کو ہوئی۔” (خطبہ الہامیہ ص193)

عقیدہ 8: ”حضرت محمد رسول اللہﷺ کے زمانہ کا اسلام پہلی رات کے چاند کی طرح (یعنی بے نور) تھا اور مرزا غلام احمد کے زمانہ کا اسلام چودہویں رات کے چاند کی طرح تاباں و درخشاں ہے۔” (خطبہ الہامیہ ص184)

عقیدہ 9: ”حضرت محمد رسول اللہﷺ کے معجزات تین ہزار تھے اور مرزا غلام احمد کے معجزے تین لاکھ سے بھی زیادہ ہیں۔” (حقیقت الوحی ص67)

عقیدہ 10: قادیانیوں کے شاعرانہ اظہار میں: ”محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں، اور آگے سے بڑھ کر اپنی شاں میں۔” (اخبار بدر قادیاں 1906)

عقیدہ 11: ”اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد رسول اللہﷺ تک ہر ایک نبی سے مرزا غلام احمد قادیانی پر ایمان لانے کا عہد لیا تھا۔” (اخبار الفضل 1915)

عقیدہ 12: ”اگر حضرت موسیٰ و عیسیٰ علیہما السلام مرزا غلام احمد کے زمانے میں ہوتے تو ان کو مرزا قادیانی کی پیروی کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا۔” (اخبار الفضل 1916)

عقیدہ 13: ”مرزا غلام احمد ”کن فیکون” کا مالک ہے۔” (تذکرہ ص525)

عقیدہ 14: ”مرزا غلام احمد خدا سے ہے اور خدا مرزا سے۔” (تذکرہ ص436)

عقیدہ 15: ”اس زمانہ میں صرف آنحضرتﷺ کی پیروی مدار نجات نہیں، بلکہ مرزا غلام احمد کی پیروی سے نجات ہوگی۔” (اربعین ص7)

عقیدہ 16: ”جو لوگ مرزا غلام احمد کو نہیں مانتے وہ شقی ازلی ہیں جو دوزخ بھرنے کے لیے پیدا کیے گئے۔” (براہین احمدیہ حصہ پنجم)

عقیدہ 17: ”جو شخص مرزا غلام احمد کی پیروی نہ کرے وہ خدا و رسول کا نافرمان اور جہنمی ہے۔” (اشتہار معیارالاخیار 1900)

عقیدہ 18: ”جو شخص موسیٰ کو مانتا ہے لیکن عیسیٰ کو نہیں، یا عیسیٰ کو مانتا ہے لیکن محمد کو نہیں، یا محمد کو مانتا ہے لیکن مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو نہیں، وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر ہے۔” (کلمتہ الفصل ص110)

عقیدہ 19: ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات مسمریزم کا کرشمہ تھے۔” (ازالہ اوہام ص305)

عقیدہ 20: ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قرآنی معجزات مکروہ اور قابل نفرت ہیں۔” چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے کہ: ”اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدا تعالیٰ کے فضل و توفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان عجوبہ نمائیوں میں حضرت مسیح ابن مریم سے کم نہ رہتا۔” (ازالہ اوہام حاشیہ ص258)

عقیدہ 21: ”حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی تین نانیاں اور دادیاں زناکار اور کسبی عورتیں تھیں۔” (ضمیمہ انجام آتھم ص7، حاشیہ خزائن ج11 ص291)

عقیدہ 22: ”مرزا غلام احمد قادیانی حضرت سیدنا مسیح ابن مریم سے شان میں افضل ہے۔” چنانچہ مرزا قادیانی لکھتا ہے:

”ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو، اس سے بہتر غلام احمد ہے”

(دافع البلاء ص20، خزائن ج18 ص240)

عقیدہ 23: ”جو شخص حضرت موسیٰ کو مانتا ہے لیکن عیسیٰ کو نہیں، یا عیسیٰ کو مانتا ہے لیکن محمد کو نہیں، یا محمد کو مانتا ہے لیکن مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو نہیں، وہ نہ صرف کافر بلکہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اگر حضرت موسیٰ و عیسیٰ علیہما السلام مرزا غلام احمد کے زمانے میں ہوتے تو ان کو مرزا قادیانی کی پیروی کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا۔” (کلمتہ الفصل ص110 اور اخبار الفضل 1916)


ان کفریہ عقائد کے باعث امت مسلمہ نے متفقہ طور پر قادیانی گروہ کو مسلمانوں سے علیحدہ قرار دیا۔

فتویٰ 1: رجب 1336 ھ میں ایک استفتاء برصغیر کے تمام مکاتب فکر کے علماء سے کیا گیا تھا جو فتویٰ ”تکفیر قادیان” کے نام سے شائع ہوا۔ اس میں دیوبند، سہارنپور، تھانہ بھون، رائے پور، دہلی، کلکتہ، بنارس، لکھنؤ، آگرہ، مراد آباد، لاہور، امرتسر، لدھیانہ، پشاور، راولپنڈی، ملتان اور دیگر مکاتب فکر کے علماء نے باتفاق مرزائیوں کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔ (فتویٰ تکفیر قادیان، کتب خانہ اعزازیہ دیوبند)

فتویٰ 2: 1925 میں دفتر اہل حدیث امرتسر کی طرف سے ”فسخ نکاح مرزائیاں” کے نام سے فتویٰ شائع ہوچکا ہے اور اس میں برصغیر کے تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام کے دستخط موجود ہیں۔

فتویٰ 3: مقدمہ بہاول پور میں جو فتاویٰ پیش ہوئے ان میں برصغیر کے علاوہ بلاد عربیہ کے فتاویٰ بھی شامل تھے۔ (فتاویٰ مندرجہ ”حجت شرعیہ” شائع کردہ مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور و ملتان)

فتویٰ 4: ایک فتویٰ ”موسسۃ مکۃ للطباعتہ والاعلام” کی طرف سے سعودی عرب میں شائع ہوا ہے جس میں حرمین شریفین، بلاد حجاز اور شام کے مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام کا فیصلہ درج ہے۔ اس میں کہا گیا ہے:

”لاشک ان اذنابہ من القادیانیۃ والا ھوریۃ کلھا کافرون۔”

سوال 1: کیا مرزا غلام احمد قادیانی نے واقعی نبوت کا دعویٰ کیا تھا؟

جی ہاں، مرزا غلام احمد قادیانی نے واضح طور پر نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ اس نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ وہ مسیح موعود اور مہدی ہیں، اور اس نے رسالت و نبوت کا دعویٰ بھی کیا۔ یہ دعویٰ آنحضرتﷺ کے بعد نبوت کے ختم ہونے کے خلاف ہے۔

سوال 2: عقیدہ ختم نبوت کیا ہے؟

عقیدہ ختم نبوت یہ ہے کہ حضرت محمد رسول اللہﷺ آخری اور خاتم النبیین ہیں۔ ان کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں آئے گا، نہ ہی کوئی نبوت و رسالت کا دعویٰ کر سکتا ہے۔ یہ قرآن کریم اور احادیث سے ثابت ہے۔

سوال 3: کیا قادیانیوں کو مسلمان سمجھا جاتا ہے؟

نہیں۔ علمائے اسلام کا متفقہ فیصلہ ہے کہ قادیانی امت محمدیہ کا حصہ نہیں ہیں۔ انہوں نے عقیدہ ختم نبوت کا انکار کیا ہے، اس لیے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ بہت سی اسلامی ریاستوں میں قادیانیت کو غیر اسلامی مذہب قرار دیا گیا ہے۔

سوال 4: کیا مختلف مکاتب فکر کے علماء قادیانیوں کے بارے میں متفق ہیں؟

جی ہاں، یہ ایک نادر معاملہ ہے کہ دیوبندی، اہل حدیث، بریلوی اور دیگر تمام مسلم مکاتب فکر کے علماء قادیانیوں کے کفر پر متفق ہیں۔ بہت سے ممالک میں بھی قادیانیت کو عدالتی صفحہ پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا جا چکا ہے۔

    عقیدہ ختمِ نبوت ﷺ — مستند علم، واضح رہنمائی

    اپنے سوال پوچھیں Urdu | English | Arabic میں