ختم نبوت پر احادیث – مستند دلائلتفصیل دیکھیں

نبوت کی اقسام اور قادیانی دعویٔ نبوت کا مغالطہ

متعلقہ موضوعات

نبوت کی اقسام اور قادیانی دعویٔ نبوت کا مغالطہ

(دعویٰ اور دلیل کے عدمِ تطابق کی حقیقت)

ایک عام اور مسلمہ قاعدہ ہے کہ دعویٰ اور دلیل میں مکمل مطابقت ضروری ہوتی ہے۔ اگر پیش کی جانے والی دلیل دعویٰ کے مطابق نہ ہو تو وہ دلیل نہیں بلکہ محض ہفوات شمار ہوتی ہے۔ یہی اصول عقائد کے باب میں بالخصوص دعویٔ نبوت جیسے نازک اور بنیادی مسئلہ میں پوری شدت کے ساتھ لاگو ہوتا ہے۔

قادیانی جس قسم کی نبوت کے جاری ہونے کے قائل ہیں، وہ نبوت کی ایک خاص قسم ہے جسے وہ ظلی اور بروزی نبوت کا نام دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جاری ہوئی ہے اور یہ نبوت رسول کی اطاعت، محبت اور فنائیت کے نتیجے میں حاصل ہوتی ہے، گویا یہ نبوت کسبی ہے، وہبی نہیں۔


ہمارے لیے اصولی طور پر یہ ضروری ہے کہ قادیانیوں سے ان کے خاص دعویٰ کے مطابق خاص دلیل طلب کی جائے۔ لیکن ان کا عمومی طریقہ یہ ہے کہ دعویٰ تو وہ ایک خاص نوع کی نبوت کا کرتے ہیں، جبکہ دلیل کے وقت عام آیات اور عمومی دلائل پیش کر دیتے ہیں جن میں ان کے مخصوص دعویٰ کا کوئی ذکر ہی موجود نہیں ہوتا۔

یہی وہ بنیادی مغالطہ ہے جس کے ذریعے قادیانی عوام کو دھوکہ دیتے ہیں۔ دعویٰ خاص، اور دلیل عام — اور یہی طرزِ استدلال بذاتِ خود اس دعویٰ کے باطل ہونے کے لیے کافی ہے۔


قادیانی لٹریچر خود اس بات پر شاہد ہے کہ وہ نبوت کی تین اقسام مانتے ہیں۔ مرزا بشیر الدین کے مطابق ایک نبوت وہ ہے جو شریعت والی ہو، دوسری وہ جو شریعت نہیں لاتی مگر بلاواسطہ نبوت پاتی ہے، اور تیسری وہ جو نہ شریعت لاتی ہے اور نہ براہِ راست نبوت پاتی ہے بلکہ پہلے نبی کی اتباع سے نبی بنتی ہے۔
(قول فیصل، مرزا بشیر الدین، ص ۱۴)

اسی طرح مرزا بشیر احمد لکھتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حقیقی اور مستقل نبوت کا دروازہ بند ہو گیا اور اب صرف ظلی نبوت باقی ہے۔
(مسئلہ کفر و اسلام کی حقیقت، ص ۳۱)

مباحثہ راولپنڈی میں بھی یہی مؤقف دہرایا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے دو قسم کے نبی آتے تھے اور آپؐ کے بعد اتباع سے نبوت حاصل ہونے والی قسم باقی ہے۔


ان حوالہ جات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ قادیانی دعویٰ کے تین بنیادی اجزاء ہیں:

اول: یہ نبوت ظلی اور بروزی ہے
دوم: یہ نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جاری ہوئی
سوم: یہ نبوت کسبی ہے، وہبی نہیں

اصولی طور پر اب یہ دیکھا جانا چاہیے کہ جو دلیل قادیانی پیش کرتے ہیں، کیا اس میں یہ تینوں شرائط پائی جاتی ہیں یا نہیں؟ کیا اس میں ظلی بروزی کی صراحت ہے؟ کیا اس میں اتباع سے نبوت حاصل ہونے کا ذکر ہے؟ اور کیا اس میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ یہ نبوت وہبی نہیں بلکہ کسبی ہے؟

اگر یہ تینوں باتیں دلیل میں موجود نہ ہوں تو وہ دلیل قابلِ قبول نہیں۔ ہمارا واضح دعویٰ ہے کہ قیامت تک تمام مرزائی مل کر بھی اپنے اس من گھڑت دعویٰ کے مطابق کوئی دلیل پیش نہیں کر سکتے۔
ھاتوا برھانکم ان کنتم صادقین۔


قادیانی ظلی اور بروزی جیسی اصطلاحات استعمال کر کے مسلمانوں کو مغالطہ دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مرزا غلام احمد کا دعویٰ صرف نبی ہونے تک محدود نہیں بلکہ وہ درپردہ اپنے آپ کو عین محمد صلی اللہ علیہ وسلم قرار دیتا ہے، بلکہ بعض مقامات پر رتبہ و درجہ میں بڑھا ہوا ظاہر کرتا ہے۔

ظل اور بروز کا نام محض اس لیے لیا جاتا ہے تاکہ اس جھوٹے دعویٰ کو اسلامی اصطلاحات کا لبادہ پہنا کر قابلِ قبول بنانے کی کوشش کی جا سکے۔


مرزا غلام احمد خود لکھتا ہے کہ جیسے آئینہ میں دیکھنے والا اور اس کا عکس دو نہیں ہوتے بلکہ ایک ہی ہوتے ہیں، اسی طرح بروزی نبی اور اصل نبی میں فرق صرف نام کا ہوتا ہے۔
(کشتی نوح، خزائن ج ۱۹، ص ۱۶)

یہ بات واضح کر دیتی ہے کہ ظلی بروزی کی تمام بحث محض لفظی چالاکی ہے۔ اگر حقیقت میں دونوں ایک ہیں تو پھر ظل اور اصل کی یہ ساری تفریق محض دھوکہ ہے، جس کا مقصد عوام کو الجھانا اور اصل حقیقت کو چھپانا ہے۔


مرزا غلام احمد ایک جگہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم میں صفاتِ الٰہیہ کے انعکاس کی بات کرتا ہے
(سرمہ چشم آریہ)،
اور دوسری جگہ حضرت عمرؓ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ظل قرار دیتا ہے،
اور پھر کہتا ہے کہ خلیفہ درحقیقت رسول کا ظل ہوتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ اگر یہی فلسفہ مان لیا جائے تو کیا کوئی قادیانی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کہنے کی جرأت کرے گا؟ یا حضرت عمرؓ اور دیگر خلفاء کو نبی اور رسول مانے گا؟ ہرگز نہیں۔ یہاں پہنچ کر خود قادیانی مرزا کے اس فلسفہ کو ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔


ان تمام تفصیلات سے یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ ظلی اور بروزی نبوت کا نظریہ محض ایک فکری فریب ہے، جس کا مقصد مرزا غلام احمد کی جھوٹی نبوت کو قابلِ قبول بنانا ہے۔

نہ اس نظریہ کی کوئی مضبوط عقلی بنیاد ہے،
نہ کوئی صریح شرعی دلیل،
اور نہ ہی یہ ختمِ نبوت کے قطعی اور متواتر عقیدہ سے ہم آہنگ ہے۔لہٰذا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ ظلی بروزی نبوت محض ایک ڈھکوسلہ بازی ہے اور اس سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں۔

    عقیدہ ختمِ نبوت ﷺ — مستند علم، واضح رہنمائی

    اپنے سوال پوچھیں Urdu | English | Arabic میں