ختم نبوت پر احادیث – مستند دلائلتفصیل دیکھیں

قادیانی اور دوسرے کافروں میں فرق | ختم نبوت اور قادیانی فریب

قادیانی اور دوسرے کافروں میں کیا فرق ہے؟ جانئے قادیانی فریب، ختم نبوت کی حقیقت، اور مسلمانوں کی ذمہ داریاں۔ تفصیلی وضاحت کے ساتھ پڑھیں۔

متعلقہ موضوعات

قادیانی اور دوسرے کافروں میں فرق | ختم نبوت اور قادیانی فریب

قادیانیت اسلام کے بنیادی عقیدے ختمِ نبوت پر براہِ راست حملہ آور ہے، اسی لیے اس فتنہ کو سمجھنا اور اس کے فریب سے بچنا امتِ مسلمہ کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔
اسلام کا سب سے اہم عقیدہ یہ ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی یا رسول نہیں آئے گا۔
قادیانی اس بنیادی ایمان کا انکار کرتے ہیں اور مرزا غلام احمد قادیانی کو حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبی مانتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ اسلام سے خارج ہیں۔

مختلف مذاہب کے ماننے والوں کی پہچان آسان ہوتی ہے۔ ہندو، عیسائی، یہودی اپنے مذہب اور عقائد کا کھلم کھلا اظہار کرتے ہیں۔ اپنی عبادت گاہ کو مسجد نہیں کہتے،اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہتے، اسلامی شعائر استعمال نہیں کرتے۔ لیکن قادیانیوں کا طریقہ مختلف ہے۔ یہ لوگ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کے درمیان رہتے ہیں، اسلامی شعائر استعمال کرتے ہیں، یہاں تک کہ اپنی عبادت گاہ کو مسجد کا نام دیتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ان کا فتنہ زیادہ خطرناک ہے کیونکہ ایک عام مسلمان کے لیے انہیں پہچاننا آسان نہیں ہوتا۔

اسی لیے یہ سوال نہایت اہم ہے: قادیانی اور دوسرے کافروں میں کیا فرق ہے؟
یہ فرق جاننا ہر مسلمان پر واجب ہے تاکہ وہ ایمان کی حفاظت کر سکے اور اس فریب سے محفوظ رہ سکے جو قادیانی اپنے باطل عقائد کے ذریعے پھیلا رہے ہیں۔

قادیانیت ایک ایسا فتنہ ہے جو امت مسلمہ کے عقیدہ ختم نبوت پر اپنی ابتداؑ سے ہی حملہ آور ہوا۔ عقیدہ ختم نبوت وہ ایمان کا بنیادی ستون ہے جس پر ایمان لانا ضروریات دین میں سے ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: انا العاقب الذی لیس بعدہ نبی حدیث مبارکہ کا ترجمہ یہ ہے کہ میرا نام عاقب ہے اورعاقب اسے کہتے ہیں جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔

قادیانی گروہ اس عقیدے کا منکر ہونے کے ساتھ ساتھ اسلام کے نام پر ایک نیا مذہب لے کر آیا۔ یہ لوگ خود کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں، قرآن کا نام لیتے ہیں، اور اسلامی شعائر کا لبادہ اوڑھتے ہیں۔ یہی دھوکہ اور فریب انہیں دوسرے کافروں سے ممتاز کرتا ہے۔

دنیا میں مذاہب کی پہچان آسان ہوتی ہے۔ اگر کوئی عیسائی ہے تو وہ عیسائی کہلاتا ہے، اگر ہندو ہے تو ہندو کہلاتا ہے، بدھ مذہب والا بدھ مت کا نام لیتا ہے۔ ان کے مذاہب، کتابیں اور عبادت گاہیں بھی جدا ہوتی ہیں۔
لیکن قادیانی اسلام کا نام لے کر مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ وہ اپنے مذہب کو بھی اسلام کہتے ہیں، اپنی کتاب(تذکرہ) جسے قادیانی وحی مقدس کا نام دیتے ہیں کو قرآن جیسا مقام دیتے ہیں، اور اپنی عبادت گاہوں کو مسجد کہتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ایک عام مسلمان بظاہر پہچان نہیں پاتا کہ یہ لوگ اسلام کے دشمن ہیں۔ یہ فریب ان کے خطرناک عزائم کو ظاہر کرتا ہے۔

دیگر مذاہب والے کبھی اپنے مذہب کو اسلام نہیں کہتے،بلکہ عیسائی ایک سچے نبی کو مانتے ہیں، یہودی ایک سچے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مانتے ہیں۔ لیکن قادیانی ایسا نہیں کرتے۔ وہ ایک جھوٹے شخص کو نبی، مہدی، مسیح مانتے ہیں۔ وہ مسلمانوں کی شناخت، لباس، اور عبادات کی نقل کرتے ہیں تاکہ عام مسلمان ان کے فریب میں آ جائیں۔
یہ لوگ ختم نبوت کے منکر ہیں اور اس بنیاد پر اسلام سے خارج ہیں۔ یہ واضح فرق انہیں دوسرے کافروں سے الگ کرتا ہے۔

قادیانیوں کا سب سے بڑا ہتھیار ان کی منافقت ہے۔ یہ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہ لوگ اسلامی نام رکھتے ہیں، داڑھی رکھتے ہیں، اور اپنے آپ کو مسلمانوں کا ہمدرد ظاہر کرتے ہیں۔ اس طرح یہ امت مسلمہ کے اندر فتنہ پیدا کرتے ہیں۔
یہ دھوکہ عام کافروں کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ہے کیونکہ وہ کھلم کھلا اسلام دشمن ہوتے ہیں، لیکن قادیانی اپنے آپ کو اسلام کا محافظ ظاہر کر کے اس پر ڈاکہ ڈالتے ہیں۔

آج دنیا بھر میں قادیانی اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مختلف ملکوں میں ان کے لیے قوانین موجود ہیں، لیکن ان پر عمل درآمد کمزور ہے۔
یہ خاموش رہ کر،اپنی شناخت چھپا کر اپنا فتنہ پھیلا رہے ہیں۔ ان کی دعوتی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے صرف قانون کافی نہیں، بلکہ ہر مسلمان کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
اگر مسلمان خاموش رہا تو یہ فتنہ مزید طاقت پکڑتا جائے گا۔

فرض کریں کوئی ڈاکو پولیس کی وردی پہن کر گھر میں داخل ہو جائے تو گھر والے کیسے پہچانیں گے؟ یہی حال قادیانیوں کا ہے۔
یہ لوگ اسلام کی وردی پہن کر آتے ہیں، تاکہ مسلمانوں کا ایمان لوٹ سکیں۔
یہ دھوکہ زیادہ خطرناک اس لیے ہے کہ عام کافر باہر سے حملہ کرتا ہے، لیکن یہ اندر سے ایمان پر حملہ کرتے ہیں۔

ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت کرے۔ یہ ایمان کی بنیاد ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا تقاضا ہے۔
آج کے دور میں ہمیں اپنی غیرت، وقت، علم اور وسائل اس مقصد کے لیے استعمال کرنا ہوں گے۔
قادیانی فتنہ صرف قانون سے ختم نہیں ہوگا، بلکہ عوامی شعور اور اجتماعی جدوجہد سے ختم ہوگا۔

اس ساری تحریر سے معلوم ہوا کہ قادیانی اور دوسرے کافروں کے درمیان بہت گہرا فرق ہے، قادیانی دوسرے کافروں سے زیادہ خطرناک ہیں۔ ان کے عزائم اور عقائد بھی خطرناک ہیں، اس کے لیے عملی اقدامات کے ساتھ ان کو دین اسلام کی طرف دعوت دینا بھی ضروری ہے۔جس لیے ہر مسلمان کو ہوشیار رہنا اور اس کے خلاف بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔

    عقیدہ ختمِ نبوت ﷺ — مستند علم، واضح رہنمائی

    اپنے سوال پوچھیں Urdu | English | Arabic میں