قادیانی فتنہ سامراجی پس منظر اور حقائق - مولانا قاسمی
مولانا انصار اللہ قاسمی قادیانی فتنہ کے سامراجی پس منظر اور پاکستان میں ان کے سیاسی عزائم کا علمی تجزیہ پیش کرتے ہیں۔
متعلقہ موضوعات
قادیانی فتنہ سامراجی پس منظر اور حقائق - مولانا قاسمی
ایک قادیانی نواز کے جواب میں: منفی سوچ یا سامراجی ذہنیت
مصنف: مولانا انصار اللہ قاسمی
خلاصہ
یہ تحریر قادیانی فتنہ کے سامراجی پس منظر اور پاکستان میں ان کے خطرناک عزائم پر روشنی ڈالتی ہے۔ مصنف نے ایک قادیانی نواز مضمون کے دعووں کا علمی و معروضی انداز میں جواب دیا ہے، اور یہ واضح کیا ہے کہ قادیانیت کس طرح برطانوی سامراج کے مقاصد کی تکمیل کے لیے وجود میں آئی۔
پس منظر
مورخہ 25 اپریل 2013ء کو روزنامہ صدائے وطن جدید میں مبین ڈار کا ایک مضمون شائع ہوا جس میں پاکستان میں قادیانیوں کے خلاف اقدامات کو ’’ملّائیت‘‘ اور ’’منفی سوچ‘‘ کہا گیا۔ مولانا انصار اللہ قاسمی نے اس دعوے کے جواب میں حقائق اور تاریخ کی روشنی میں دلائل دیے۔
قادیانی تحریک اور سامراجی عزائم
قادیانی گروہ خود اپنے بانی کے الفاظ میں “انگریزوں کا خود کاشتہ پودا” تھا۔ قیامِ پاکستان کے بعد انہوں نے ریاستی اداروں میں اثرورسوخ قائم کرنے کی کوشش کی۔ سر ظفر اللہ خان کو پہلا وزیر خارجہ بنایا گیا اور دیگر کلیدی مناصب پر بھی قادیانی افراد فائز ہوئے۔
یہ فرقہ بلوچستان میں “ریاست کے اندر ریاست” بنانے کا خواب دیکھ رہا تھا۔ مرزا بشیر الدین محمود کا بیان اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ وہ بلوچستان کو اپنا صوبہ بنانے کا منصوبہ رکھتے تھے۔
علماء اور عوام کا ردعمل
پاکستان کے علماء اور عوام نے تقریباً ایک صدی تک بردباری اور رواداری کا مظاہرہ کیا، مگر جب یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ قادیانی عناصر ریاستی عہدوں کو سامراجی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں تو حکومت نے مناسب اقدامات کیے۔ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے بقول:
“یہ لوگ چاہتے تھے کہ ہم انہیں پاکستان میں وہ درجہ دیں جو یہودیوں کو امریکہ میں حاصل ہے۔”
قادیانی قیادت کے بیانات اور طرزِ عمل
سر ظفر اللہ خان نے قائداعظم کے جنازے میں شرکت سے انکار کیا اور اپنی مذہبی شناخت کو ملکی حیثیت پر ترجیح دی۔ ڈاکٹر عبدالسلام نے نوبل انعام کو قادیانی مذہب کی صداقت کا نشان قرار دیا اور آئینی ترمیم کے بعد پاکستان آنے سے انکار کیا۔
یہ رویے اس بات کا ثبوت ہیں کہ قادیانی قیادت کے لیے سامراجی عزائم اور مذہبی تعصب وطن دوستی پر غالب رہے۔
نتیجہ
مولانا قاسمی کے مطابق اگر پاکستان نے بروقت سخت فیصلے نہ کیے ہوتے تو ملک سامراجی کالونی میں بدل جاتا۔ قادیانی ریاست کے قیام سے ہندوستان بھی خطرے میں پڑ سکتا تھا۔ شاعر مشرق علامہ اقبال نے بھی قادیانیوں کے بارے میں فرمایا:
“میں اپنے نزدیک اس امر میں کچھ شبہ نہیں پاتا کہ احمدی ملک و ملت دونوں کے غدار ہیں۔”
Related Articles
- قادیانیت کا تاریخی پس منظر
- علامہ اقبال کے افکار اور قادیانی فتنہ
- پاکستان میں قادیانی تحریک کی سیاست
سوالات (FAQ)
س: قادیانی تحریک کو سامراجی کیوں کہا جاتا ہے؟
ج: ان کے بانی نے خود اسے انگریزوں کا پودا کہا اور انہوں نے برطانوی مفادات کے لیے کام کیا۔
س: کیا پاکستان میں قادیانیوں کے خلاف اقدامات مذہبی تعصب تھے؟
ج: نہیں، یہ اقدامات ریاستی سلامتی اور نظریاتی تحفظ کے لیے کیے گئے۔
س: سر ظفر اللہ خان کے جنازے میں شرکت نہ کرنے کی کیا وجہ تھی؟
ج: انہوں نے اپنی مذہبی شناخت کو پاکستانی وزیر خارجہ کی حیثیت پر ترجیح دی۔
س: ڈاکٹر عبدالسلام کا نوبل انعام پر کیا مؤقف تھا؟
ج: انہوں نے اسے اپنے مذہبی گرو کے دعوے کی تصدیق قرار دیا، وطن کے بجائے مذہب کو ترجیح دی۔
