قادیانیوں کے پھیلائے دو مغالطوں کا جائزہ
قادیانیوں کے پھیلائے ہوئے دو اہم مغالطوں کا تفصیلی جائزہ۔ مرزا غلام احمد امتی نبی تھا؟ اور پاکستان میں قادیانیوں کے حقوق غصب ہو رہے ہیں؟ مولانا زاہد الراشدی کا مدلل جواب۔
متعلقہ موضوعات
قادیانیوں کے پھیلائے دو مغالطوں کا جائزہ
مولانا زاہد الراشدی
گزشتہ دنوں الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں علماء و طلباء کی ایک نشست سے خطاب کا موقع ملا جس کا خلاصہ نذرِ قارئین ہے۔ اس نشست میں قادیانیوں کی طرف سے پھیلائے جانے والے بعض مغالطوں پر گفتگو ہوئی اور یہ واضح کیا گیا کہ یہ مغالطے دراصل کس طرح لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں۔
بعد الحمد والصلوۃ! قادیانی ہر دور میں مغالطوں سے کام لیتے آئے ہیں اور مغالطہ دینا ان کا خاص فن ہے۔ جناب نبی کریم ﷺ نے اپنی امت میں جھوٹے مدعیان نبوت کے بارے میں پیش گوئی فرمائی تھی کہ میری امت میں تیس اور ایک روایت کے مطابق ستر ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو نبوت کا دعویٰ کریں گے۔ ساتھ ہی حضور نبی کریم ﷺ نے ان کی دو صفات بیان فرمائیں کہ وہ دجّالون اور کذّابون ہوں گے، یعنی وہ دجل و فریب اور جھوٹ کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کریں گے۔ اسی لئے میں عرض کیا کرتا ہوں کہ جھوٹی نبوت کا کاروبار دراصل دو چیزوں پر چلتا ہے: ایک دجل اور دوسرا جھوٹ۔
پہلا مغالطہ: مرزا قادیانی کا امتی نبی ہونے کا دعویٰ
قادیانی حضرات عام طور پر یہ مغالطہ دیتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا جو دعویٰ کیا تھا وہ مستقل نبی ہونے کا نہیں تھا بلکہ جناب نبی کریم ﷺ کی پیروی میں ایک امتی اور تابع نبی ہونے کا دعویٰ تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے رسول اللہ ﷺ کے مقابلے میں نبوت کا دعویٰ نہیں کیا بلکہ حضور ﷺ کی تابعداری میں نبوت کی بات کی ہے، اس لئے اس میں کوئی بڑی قباحت نہیں ہے۔ اس طرح کی باتیں عام لوگوں کو مغالطے میں ڈال دیتی ہیں۔
اس مغالطے کی حقیقت: مسیلمہ کذاب کی مثال
اس مغالطے کا جواب یہ ہے کہ اسی قسم کا دعویٰ جناب نبی کریم ﷺ کے زمانے میں مسیلمہ کذاب نے بھی کیا تھا۔ مسیلمہ نے بھی اپنے آپ کو حضور ﷺ کے مقابلے میں مستقل نبی قرار نہیں دیا تھا بلکہ اپنے آپ کو تابع اور شریک نبی کے طور پر پیش کیا تھا۔
روایات میں آتا ہے کہ جب مسیلمہ لوگوں سے اپنی نبوت کا اقرار کرواتا تھا تو پہلے جناب نبی کریم ﷺ کی رسالت کا اقرار کرواتا تھا اور اس کے بعد اپنی رسالت کا ذکر کرتا تھا۔ اس کے کلمہ میں بھی پہلے محمد رسول اللہ اور اس کے بعد مسیلمہ رسول اللہ (نعوذ باللہ) کہا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ اس نے جناب نبی کریم ﷺ کو ایک خط بھی لکھا جس کا آغاز ان الفاظ سے تھا: من مسیلمہ رسول اللہ الی محمد رسول اللہ۔ اس خط میں اس نے لکھا تھا کہ مجھے آپ کے ساتھ اس کام میں شریک کیا گیا ہے۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ مسیلمہ بھی اپنے آپ کو تابع اور شریک نبی کے طور پر پیش کر رہا تھا، لیکن جناب نبی کریم ﷺ نے اس دعوے کو قطعی طور پر رد فرمایا۔
حضرت حبیب بن زیدؓ کی عظیم شہادت
ختم نبوت کے ابتدائی شہداء میں حضرت حبیب بن زید انصاریؓ کا نام نمایاں ہے۔ جب انہیں مسیلمہ کے سامنے پیش کیا گیا تو اس نے پہلے پوچھا کہ کیا تم گواہی دیتے ہو کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں؟ حضرت حبیب بن زیدؓ نے فرمایا کہ ہاں میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اس کے بعد مسیلمہ نے پوچھا کہ کیا تم مجھے بھی اللہ کا رسول مانتے ہو؟ اس پر حضرت حبیب بن زیدؓ نے جواب دیا کہ میرے کان اس بات کو سننے کے لئے تیار ہی نہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی اور کی رسالت کی بات بھی ہو۔ اس جواب پر مسیلمہ نے انہیں شہید کر دیا۔
یہ واقعہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی بھی شکل میں نبوت کا دعویٰ قابل قبول نہیں ہے۔
ختم نبوت کے معاملے میں رسول اللہ ﷺ کی حساسیت
ختم نبوت کا مسئلہ اس قدر حساس ہے کہ خود جناب نبی کریم ﷺ نے اس معاملے میں معمولی سا شبہ بھی باقی نہیں رہنے دیا۔ غزوہ تبوک کے موقع پر جب حضور ﷺ نے حضرت علیؓ کو مدینہ میں چھوڑا تو انہیں تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ تمہارا میرے ساتھ وہی تعلق ہے جو موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کا تھا۔ لیکن فوراً ساتھ ہی یہ وضاحت فرما دی: الا انہ لا نبی بعدی یعنی میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ حضور ﷺ نے ختم نبوت کے معاملے میں کسی قسم کے ابہام کو برداشت نہیں فرمایا۔
قادیانیوں کا دوسرا مغالطہ: پاکستان میں حقوق کا مسئلہ
قادیانیوں کا دوسرا بڑا مغالطہ یہ ہے کہ پاکستان میں ان کے مذہبی اور شہری حقوق پامال ہو رہے ہیں۔ وہ دنیا کے مختلف اداروں کے سامنے یہ پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ انہیں انسانی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ اس پروپیگنڈے کی وجہ سے بہت سے لوگ حقیقت سے ناواقف رہتے ہیں۔
اس مغالطے کا جواب: اصل مسئلہ حقوق نہیں بلکہ اسٹیٹس ہے
اس مغالطے کا جواب یہ ہے کہ سب سے پہلے قادیانیوں سے یہ سوال کیا جانا چاہئے کہ کیا وہ پاکستان کے دستور کو تسلیم کرتے ہیں۔ پاکستان کے دستور کے مطابق قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا ہے اور دیگر اقلیتوں کی طرح انہیں بھی شہری حقوق حاصل ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ دستور کے مطابق ان کے لئے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں نمائندگی بھی رکھی گئی تھی، لیکن قادیانی جماعت نے خود الیکشن کا بائیکاٹ کر رکھا ہے اور ووٹر لسٹوں میں اپنا نام درج کروانے سے بھی انکار کیا ہوا ہے۔ اس لئے اصل مسئلہ حقوق کا نہیں بلکہ اسٹیٹس کا ہے۔ قادیانی غیر مسلم اقلیت کا اسٹیٹس قبول نہیں کرتے اور اکثریت والے حقوق چاہتے ہیں، جو کسی صورت ممکن نہیں۔
خلاصۂ کلام
قادیانیوں کے دو بڑے مغالطے ہیں۔ پہلا مذہبی مغالطہ یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو امتی نبی قرار دیا جائے، جبکہ تاریخ سے واضح ہے کہ اسی قسم کا دعویٰ مسیلمہ کذاب نے بھی کیا تھا اور رسول اللہ ﷺ نے اسے قطعی طور پر رد فرمایا تھا۔ دوسرا مغالطہ حقوق کے حوالے سے ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ دستور کے مطابق جو حقوق ہیں وہ دینے سے انکار نہیں کیا گیا بلکہ قادیانی خود انہیں قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
