قادیانیت کیا ہے؟ | عقیدہ ختم نبوت اور فتنہ قادیانیت کا تعارف
قادیانیت کیا ہے؟ عقیدہ ختم نبوت کی حقیقت، فتنہ قادیانیت کا پس منظر، کفریہ عقائد، اور مسلمانوں کی ذمہ داری جانئے۔ مکمل تفصیل یہاں۔
متعلقہ موضوعات
اہم نکات
قادیانیت کیا ہے؟ | عقیدہ ختم نبوت اور فتنہ قادیانیت کا تعارف
عقیدہ ختم نبوت کی حقیقت اور اہمیت
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو نبی ماننا دراصل اسلام کے بنیادی عقیدے، عقیدہ ختم نبوت، پر حملہ ہے۔ نبوت اور رسالت کا روشن سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہو کر حضور خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ہمیشہ کے لیے مکمل ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی شخص کو نبوت یا رسالت کا منصب نہیں دیا جائے گا، اور یہ قانون قیامت تک برقرار رہے گا۔
قرآن و سنت کی روشنی میں اس عظیم حقیقت کو "عقیدہ ختم نبوت” کہا جاتا ہے۔ یہ عقیدہ دینِ اسلام کی بنیاد اور ایمان کی روح ہے، جبکہ امتِ مسلمہ کی وحدت اور بقا کا راز بھی اسی عقیدے میں پوشیدہ ہے۔
قرآن کریم کی آیات اور احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اس عقیدہ کی حقانیت کی گواہی دیتے ہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا سب سے پہلا اجماع بھی اسی مسئلہ ختم نبوت پر ہوا۔
مسیلمہ کذاب اور پہلا فتنے کا خاتمہ
جب مسیلمہ کذاب نے نبوت کا دعویٰ کیا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی پوری جماعت نے متفقہ طور پر اس گستاخ کو کافر، مرتد اور واجب القتل قرار دیا اور اس کی جماعت سمیت جہنم رسید کر دیا۔
ہر دور میں جھوٹے مدعیان نبوت کے فتنے آئے لیکن مسلمانوں نے ان کا مقابلہ کر کے ایمان کو محفوظ رکھا۔
فتنہ قادیانیت کی پیدائش اور پس منظر
برصغیر پر قبضہ کرنے کے باوجود انگریز مسلمانوں کے جذبہ جہاد سے خائف تھا۔ اس نے اسلامی تاریخ سے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ مسلمانوں کی عزت جہاد سے اور ذلت عدم جہاد سے ہے۔
انگریز نے جہاد کو ختم کرنے اور امت کو تقسیم کرنے کے لیے ایک انگریزی نبی بنانے کا منصوبہ بنایا۔ اس مقصد کے لیے اس نے سیالکوٹ کچہری کے ایک منشی مرزا غلام احمد قادیانی کا انتخاب کیا، جس کا خاندان انگریزی حکومت کا وفادار تھا۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے انگریز کے ایجنٹ کا کردار ادا کرتے ہوئے فتنہ قادیانیت کی بنیاد رکھی۔
قادیانی یہودیوں کے آلہ کار، امریکہ کے تربیت یافتہ، اسرائیل اور بھارت کے ایجنٹ ہیں۔ ان کا وجود ملتِ اسلامیہ کے لیے ناسور اور ایمان کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ قادیانیت حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بغاوت اور ختمِ نبوت پر ڈاکہ زنی کا دوسرا نام ہے۔
قادیانیوں اور دیگر غیر مسلموں میں فرق
ہمارے بہت سے بھائیوں اور بہنوں کے ذہن میں یہ سوال ہے کہ قادیانیوں اور دیگر غیر مسلموں میں کیا فرق ہے؟
ایسا کیوں ہے کہ دوسرے غیر مسلموں سے بقدرِ ضرورت میل ملاپ یا کاروبار کی اجازت ہے، لیکن قادیانیوں کے ساتھ ایسی اجازت نہیں؟
قادیانی زندیق کیوں ہیں؟
قادیانی زندیق ہیں۔ مرتد وہ ہوتا ہے جو اسلام کو ترک کر کے دوسرا مذہب اختیار کر لے، جبکہ زندیق وہ ہے جو اپنے کفریہ عقائد کو اسلام کا نام دے۔ قادیانی بھی اپنے کفریہ عقائد کو اسلام کے عقائد کہتے ہیں، اسی وجہ سے اسلام کے باغی ہیں اور ان سے کسی قسم کی رعایت یا میل جول اسلامی تعلیمات میں ممنوع ہے۔
دوسرے کافر اپنے کفر کا اعتراف کرتے ہیں اور اپنے آپ کو غیر مسلم مانتے ہیں، جبکہ قادیانی اپنے کفریہ عقائد پر اسلام کا لیبل لگا کر مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔
مثال سے وضاحت
شریعت میں شراب حرام ہے۔ اگر کوئی شخص شراب بیچتا ہے تو وہ مجرم ہے۔ لیکن اگر وہ شراب پر "زمزم” کا لیبل لگا کر بیچے تو یہ بڑا جرم ہے۔ یہی فرق قادیانیوں اور دوسرے غیر مسلموں میں ہے۔ کہ قادیانی قادیانیت پر اسلام کا لیبل لگا کر اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں۔زندیق بھی یہی کام کرتے ہیں اسی وجہ سے قادیانی زندیق ہیں۔
کفر کی اقسام اور قادیانیوں کا درجہ
اب علمی انداز میں سمجھیں۔ کفر کی تین نمایاں اقسام ہیں:
(1) مطلق کافر
وہ جو ظاہر و باطن سے خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا منکر ہو۔ اس میں یہودی، عیسائی، ہندو وغیرہ شامل ہیں۔
(2) منافق
وہ جو زبان سے کلمہ پڑھتا ہے مگر دل میں کفر چھپاتا ہے۔
(3) زندیق
وہ جو کافر ہو لیکن اپنے کفر کو اسلام کے نام سے پیش کرے۔ قرآن و حدیث کے دلائل کو توڑ مروڑ کر اسلام کا لبادہ اوڑھے۔ قادیانی اسی قسم میں شامل ہیں۔
مرتد اور زندیق کے احکام
چاروں فقہاء کے مطابق جو شخص اسلام سے پھر جائے (مرتد)، اس کو تین دن تک توبہ کی مہلت دی جائے، ورنہ سزائے موت ہے۔آج کل کے دور میں ریاست پر ان فقہی مسائل پر عمل کرانا لازم ہے۔
زند یق کا حکم
زند یق جو اپنے کفر کو اسلام ثابت کرنے پر تلا ہوا ہو، اس کا معاملہ مرتد سے بھی زیادہ سنگین ہے۔ ائمہ کے اقوال کے مطابق زندیق کی گرفتاری کے بعد توبہ قبول نہیں کی جاتی۔ اگر گرفتاری سے پہلے توبہ کرے تو قبول ہوگی۔
مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے پیروکاروں کے کفریہ عقائد
مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی اولاد کے کافر ہونے میں کوئی شک نہیں۔ جو ان کے کفر میں شک کرے وہ بھی مسلمان نہیں۔
قادیانی کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں اور جماعت احمدیہ کے نام سے کام کرتے ہیں۔ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین ماننے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن تحریف شدہ معنی کے ساتھ۔۔ قادیانیوں کی حقیقت واضح کرنے کے لیے صرف تین ان کے عقیدے آپ کے سامنے رکھتے ہیں۔
عقیدہ:1… قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ: کلمہ طیبہ: ’’لاالہ الا ﷲ محمدرسول ﷲ۰‘‘ میں :’’محمدرسول ﷲ‘‘ سے مراد مرزا غلام احمد قادیانی بھی ہے۔
چنانچہ مرزا بشیر احمد ایم ے لکھتے ہیں کہ: ’’مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) خود محمدرسول ﷲ ہے جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔ اس لئے ہم (مرزائیوں) کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں۔ ہاں! اگر محمدرسول ﷲکی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی۔‘‘(کلمتہ الفصل ص158 مندرجہ ریویو آف ریلیجنز بابت ماہ مارچ اپریل1915ء)
عقیدہ:2… قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ: ’’مرزا غلام احمد قادیانی کا آسمانی تخت تمام نبیوں سے اونچا ہے۔‘‘ (حقیقت الوحی ص89)
عقیدہ:3… قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ: ’’آنحضرتﷺ کے زمانہ کا اسلام پہلی رات کے چاند کی طرح (یعنی بے نور) تھا اور مرزا غلام احمد کے زمانہ کا اسلام چودہویں رات کے چاند کی طرح تاباں ودرخشاں ہے۔‘‘ (خطبہ الہامیہ ص186)
یہ قادیانیوں کا سب سے بڑا زندقہ ہے کہ وہ کلمہ طیبہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بجائے مرزا کا تصور رکھتے ہیں۔
مسلمانوں کی ذمہ داری اور قادیانیوں سے بائیکاٹ
مر تد اور زندیق کے بارے میں اسلامی قانون بیان کیا جا چکا ہے، لیکن اس کا نفاذ حکومت کا کام ہے۔
ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم قادیانیوں سے مکمل بائیکاٹ کریں، انہیں اپنی مجالس اور محافل میں برداشت نہ کریں اور مسلمانوں کو ان کے فتنہ سے آگاہ کریں۔
