قادیانیوں کے دوہرے معیار — مغرب میں قانون کے تابع، پاکستان میں باغی
قادیانی جماعت مغربی ممالک میں قانون کی اطاعت کرتی ہے مگر پاکستان میں آئین و قانون کی کھلی خلاف ورزی کرتی ہے۔ یہ مضمون ان کے دوہرے معیار اور مفاد پرستی کا تفصیلی جائزہ پیش کرتا ہے۔
متعلقہ موضوعات
قادیانیوں کے دوہرے معیار — مغرب میں قانون کے تابع، پاکستان میں باغی
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو نہ صرف مذہبی عبادات بلکہ معاشرت، سیاست اور اطاعتِ قانون جیسے امور میں بھی راہنمائی کرتا ہے مگر قادیانی جماعت نے مذہب کو محض ایک عالمی سامراجی کلٹ اور فارن فنڈڈ این جی او میں ڈھال کر اسے مفادات کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔ اس تحریر میں ہم قادیانی جماعت کے ان دوہرے معیارات کا جائزہ لیتے ہیں جو وہ مختلف ممالک میں اختیار کرتی ہے۔
قادیانی جماعت کے دوہرے معیار
قادیانی جماعت مختلف ممالک میں اپنے رویے اور اصول بدل دیتی ہے۔ جہاں قانون مضبوط اور طاقتور ہو، وہاں وہ قانون کی مکمل اطاعت کرتی ہے، مگر جہاں ریاست کمزور یا ان کے مفادات متاثر ہوں تو قانون کی کھلی خلاف ورزی کرتی ہے۔
- ہندوستان میں رویہ: بھارت میں گائے ذبح کرنا ایک انتہائی حساس مذہبی اور سیاسی مسئلہ ہے۔ قادیانی جماعت وہاں کے قانون اور ہندو جذبات کا احترام کرتے ہوئے گائے کا ذبیحہ نہیں کرتی۔ یعنی جب اکثریت طاقتور ہو تو وہ قانون کی مکمل اطاعت کرتے ہیں اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے لچک دکھاتے ہیں۔
- قادیان (انڈیا): قادیان میں “تعلیم الاسلام” مدرسہ کو سکھ نیشنل کالج میں زبردستی تبدیل کر دیا گیا۔ قادیانی جماعت نے اس وقت سکھوں سے برادری قائم رکھی اور کوئی شدید احتجاج نہیں کیا، کیونکہ وہاں بھی وہ طاقت کے سامنے جھک جاتے ہیں۔
- یورپ اور مغربی دنیا:
- سوئٹزرلینڈ: مسجدوں پر مینار کی پابندی لگنے پر قادیانی جماعت نے خاموشی سے اطاعت کر لی اور کوئی بڑا احتجاج نہیں کیا۔
- فرانس اور کیوبک: حجاب پر سرکاری پابندی ہونے کے باوجود وہ قانون کی خلاف ورزی نہیں کرتے بلکہ اسے قبول کر لیتے ہیں۔
- انگلینڈ: ڈاکٹر عبدالسلام جیسی بڑی شخصیات بھی وہاں کی دوسری شادی کو قانونی طور پر رجسٹر نہیں کرواتیں، کیونکہ یہ براہ راست مغربی قانون کے خلاف ہے۔
یہ تمام مثالیں واضح طور پر بتاتی ہیں کہ جب قانون مضبوط ہو تو قادیانی جماعت اس کا احترام کرتی ہے، مگر پاکستان جیسے ممالک میں جہاں وہ اپنے مفادات دیکھتی ہے تو آئین اور قانون کی کھلی خلاف ورزی کرتی ہے۔
پاکستان میں دانستہ قانون شکنی
پاکستان کا آئین منتخب پارلیمنٹ کے متفقہ فیصلے کے ذریعے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیتا ہے (آئینی ترمیم 1974ء) اور 1984ء کے قانونِ امتناعِ قادیانیت (تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298 بی اور سی) کے تحت قادیانی، خود کو مسلمان نہیں کہہ سکتے۔ اپنے مذہب کو اسلام کے طور پر پیش نہیں کر سکتے۔شعائرِ اسلام استعمال نہیں کر سکتے۔اذان، نماز، کلمہ، اسلامی نام، اسلامی اصطلاحات پر پابندی ہے۔
لیکن قادیانی جماعت پورے ملک میں ان تمام قوانین کی خلاف ورزی کو نہ صرف جاری رکھے ہوئے ہے بلکہ بیرونِ ملک سے اسے ’’مذہبی آزادی‘‘ کا نام دے کر سیاسی مسئلہ بناتی ہے۔
اصل چالاکی اور مفاد پرستی
(1) مغربی خلیفہ کی پشت پناہی:مرزا مسرور قادیانی لندن میں بیٹھ کر پاکستانی قادیانیوں کو قانون شکنی پر اکساتا ہے جبکہ خود مغربی قانون کے مکمل تابع ہے۔ ’’اسلام کی اصل روح آزادی ہے، اس لئے ہمیں پاکستان کے ان قوانین کو نہیں ماننا چاہئے جو ہمیں مسلمان کہنے سے روکتے ہیں۔‘‘
(قادیانی خلیفہ مرزا مسرور کا بیان Review of Religions)
(2) مالی و سیاسی مفاد:پاکستان میں ہزاروں قادیانی جائیدادیں، ادارے، قبرستان اور چندہ سسٹم ان کے لئے معاشی بنیاد ہے۔اگر وہ قانون کی اطاعت کریں تو ان کا پورا نیٹ ورک ختم ہو جائے گا۔
(3) مظلومیت کا عالمی بیانیہ:مغرب میں(Persecuted Community) کا بیانیہ بنا کر انسانی حقوق کی تنظیموں سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔
شرعی و عقلی تجزیہ
اسلام میں اطاعتِ اولوالامر واجب ہے:
1. قرآن مجید کی آیت:
اصل آیت:
“یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ” (النساء: 59)
“اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو، رسول کی اطاعت کرو اور تم میں سے جو اولوالامر (حاکم و حکمران) ہیں، ان کی بھی اطاعت کرو۔”
یہ آیت صاف بتاتی ہے کہ مسلمانوں پر اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت کے ساتھ ساتھ اپنے حکمرانوں اور آئین و قانون کی اطاعت بھی فرض ہے — جب تک وہ کسی گناہ کا حکم نہ دے۔ پاکستان کا آئین 1974ء میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے چکا ہے، اس لیے اس کی خلاف ورزی کرنا شرعاً جائز نہیں۔
حدیث مبارکہ:
“عَلَی الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ فِیْمَا اَحَبَّ وَکَرِہَ مَا لَمْ یُؤْمَرْ بِمَعْصِیَةٍ” (صحیح بخاری)
“مسلمان شخص پر لازم ہے کہ وہ حکمران کی بات سنے اور اطاعت کرے — چاہے وہ بات اسے پسند ہو یا ناپسند ہو — سوائے اس کے کہ اسے کسی معصیت (گناہ) کا حکم دیا جائے۔”
نبی کریم ﷺ نے واضح فرمایا کہ حکمران (حکومت/قانون) کی اطاعت کرنا فرض ہے، چاہے وہ فیصلہ دل کو نہ بھائے۔ قادیانی جماعت پاکستان کے آئین کی خلاف ورزی کر رہی ہے، جو شرعاً ناجائز ہے۔
نتیجہ
قادیانی جماعت کا روّیہ نفاق اور مفاد پرستی پر مبنی ہے۔
جہاں طاقتور قانون ہو، وہاں اطاعت، اور جہاں کمزور ریاست ہو، وہاں بغاوت۔
ریاست پاکستان کو ان کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنی چاہئے۔عوام، طلبہ اور دینی طبقات میں تحفظ ختم نبوت کا شعور بیدار کیا جائے تاکہ قادیانیت کی حقیقت سب پر عیاں ہو۔
