سابق قادیانی عبدالکریم قریشی کا انٹرویو | مرزا خاندان کی چندہ خوری بے نقاب
سابق قادیانی عبدالکریم انور قریشی کا چشم کشا انٹرویو، جس میں مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے خاندان کی چندہ خوری، جھوٹے عقائد اور باطل نظریات بے نقاب ہوئے۔
متعلقہ موضوعات
اہم نکات
- عبدالکریم انور قریشی کا تعارف
- حالاتِ زندگی
- قادیانی خاندان کا پس منظر
- قادیانیت کا مطالعہ اور بیداری
- مرزا غلام احمد قادیانی کے جھوٹے عقائد
- قادیانیت کے جھوٹ کی تاریخی دلیل
- مرزا خاندان کی چندہ خوری اور عیش و عشرت
- مرزا ناصر اور مرزا طاہر کے ادوار
- قادیانی قیادت کے جھوٹے دعوے
- اسلام کی روشنی میں سکون و ایمان
- دعوتِ اتحاد و اخوت
- نتیجہ
سابق قادیانی عبدالکریم قریشی کا انٹرویو | مرزا خاندان کی چندہ خوری بے نقاب
مرزا غلام احمد قادیانی کا خاندان چندے پر پل رہا ہے!
نومسلم قادیانی جناب عبدالکریم انور قریشی سے انٹرویو
صحافی: احمد خان
عبدالکریم انور قریشی کا تعارف
عبدالکریم انور قریشی پیدائشی قادیانی ہیں، اس وقت جرمنی میں مقیم ہیں اور گزشتہ اکیس برس سے اہم قادیانی شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ آپ مرزا طاہر کے قریبی دوستوں میں سے ہیں۔ آپ کے نانا محمد یامین ’’تاجرانِ کتب قادیان‘‘ کے مالک تھے۔
گزشتہ ہفتے آپ نے قادیانیت سے توبہ کرتے ہوئے اسلام قبول کیا اور ثابت کر دیا کہ اسلام ہی سچا اور کامل دین ہے۔ 60 سالہ عبدالکریم انور نے قادیانیت کے باطل عقائد کا پردہ ایسے وقت میں چاک کیا جب ہزاروں قادیانی ذہنی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
حالاتِ زندگی
تکبیر: قریشی صاحب! سب سے پہلے اپنے حالاتِ زندگی بتائیں۔
عبدالکریم انور: میرا نام عبدالکریم قریشی ہے، والد کا نام قریشی عبدالوحید ہے۔ میری پیدائش گورداسپور میں 29 جولائی 1945ء کو ایک قادیانی گھرانے میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم بھی قادیان میں حاصل کی جہاں قادیانی بہت بڑی تعداد میں آباد تھے، اس لیے قادیانیت سے رغبت پیدا ہوئی۔
قادیانی خاندان کا پس منظر
تکبیر: آپ کا گھرانہ قادیانیت کی اشاعت میں نمایاں رہا ہے؟
عبدالکریم انور: جی ہاں۔ میرے نانا سلطان احمد قریشی نے سب سے پہلے قادیانیت قبول کی۔ ان کے بعد پورے خاندان نے سماجی بائیکاٹ کے باوجود اسی راہ پر چلنا شروع کیا۔ ہمارے نانا محمد یامین ’’تاجرانِ کتب قادیان‘‘ کے نام سے مشہور تھے۔ وہ قادیانیت کے لٹریچر کی اشاعت، طباعت اور تقسیم کے بڑے ذمہ دار تھے۔ اس طرح ہمارا گھر قادیانیت کی تبلیغ میں ایک مرکزی حیثیت رکھتا تھا۔
قادیانیت کا مطالعہ اور بیداری
تکبیر: آپ نے قادیانیت کو کیسا پایا؟
عبدالکریم انور: میں نے عمر کا بڑا حصہ قادیانی ماحول میں گزارا، ان کی کتابیں پڑھیں، محافل میں شریک ہوا۔ مگر وقت کے ساتھ احساس ہوا کہ یہ سارا نظام اسلام کے خلاف ہے۔ قادیانیت کا ظاہری چہرہ خوبصورت دکھایا جاتا ہے مگر باطن میں اسلام دشمنی ہے۔ آہستہ آہستہ اللہ تعالیٰ نے میری آنکھیں کھول دیں اور میں نے سمجھ لیا کہ یہ راستہ باطل ہے۔
مرزا غلام احمد قادیانی کے جھوٹے عقائد
تکبیر: آپ نے مرزا غلام احمد کے دعووں کا مطالعہ کیا، کیا نتیجہ نکالا؟
عبدالکریم انور: میں نے مرزا غلام احمد کے تمام تحریری اور بیاناتی مواد کا مطالعہ کیا۔ ابتدا میں دھوکے میں تھا مگر بعد میں اللہ نے ہدایت دی۔ میں نے قادیانی قیادت سے براہ راست سوالات کیے مگر کوئی مطمئن جواب نہ ملا۔ حقیقت کھل گئی کہ مرزا غلام احمد کے تمام دعوے جھوٹے ہیں۔ ان کی تحریریں خود ان کے جھوٹ کی دلیل ہیں۔ جو کوئی تعصب کے بغیر ان کا مطالعہ کرے، وہ خود جان لے گا کہ قادیانیت کفر اور زندقہ ہے۔
قادیانیت کے جھوٹ کی تاریخی دلیل
تکبیر: آپ نے فرمایا کہ ان کی اپنی تحریریں ان کے جھوٹ کے ثبوت ہیں، کوئی مثال دیں؟
عبدالکریم انور: جی ہاں۔ مرزا غلام احمد نے ’’مجموعہ اشتہارات جلد 3 صفحہ 578‘‘ میں دعا کی کہ اگر وہ جھوٹا ہے تو مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کی زندگی میں ہلاک ہو جائے۔
تاریخ گواہ ہے کہ مرزا غلام احمد واقعی ہیضہ سے مبتلا ہو کر مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کی زندگی میں ہی مر گیا، جبکہ مولانا 41 سال بعد 1948ء میں فوت ہوئے۔
اسی طرح ڈاکٹر عبدالحکیم خان کے ساتھ کی گئی پیش گوئی بھی جھوٹی ثابت ہوئی۔ مرزا نے کہا تھا کہ ڈاکٹر ہلاک ہوگا، مگر خود مرزا غلام احمد 1908ء میں مر گیا اور ڈاکٹر عبدالحکیم 1919ء میں فوت ہوئے۔ یہ واضح ثبوت ہے کہ قادیانیت جھوٹ پر مبنی ہے۔
مرزا خاندان کی چندہ خوری اور عیش و عشرت
تکبیر: کہا جاتا ہے کہ قادیانی جماعت پر مرزا خاندان کی اجارہ داری ہے؟
عبدالکریم انور: بالکل درست۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے مذہب کو چندہ بٹورنے کا ذریعہ بنایا۔ آج بھی مرزا خاندان دنیا بھر کے قادیانیوں کے چندوں پر عیاشیاں کر رہا ہے۔ مرزا محمود، جو 52 سال تک خلیفہ رہا، قادیانیوں کی تذلیل کرتا رہا۔ اس کے کردار کے واقعات قادیانی کتب میں موجود ہیں۔ مرنے کے بعد اس کی نعش سیدھی نہ ہو سکی اور ٹیڑھی حالت میں دفن کی گئی — یہ اس کے انجام کی عبرتناک علامت ہے۔
مرزا ناصر اور مرزا طاہر کے ادوار
عبدالکریم انور: مرزا ناصر کے دور میں قادیانیوں کو آئینی طور پر کافر قرار دیا گیا۔ اس کی موت بھی عبرتناک ہوئی۔ مرزا طاہر لندن فرار ہوا اور وہاں سے قادیانیت کا جھوٹا نظام چلانے لگا۔ میں خود مرزا طاہر کا قریب رہا ہوں۔ اس کی محفلوں میں شرکت کی، مگر جب سوالات کیے تو اس کی لاعلمی نے میرے ایمان کو مزید مضبوط کر دیا۔ ایک مرتبہ میں نے ہالینڈ کے جلسے میں اس سے حجراسود کے بارے میں سوال کیا تو اس نے کہا: “میں سعودی عرب نہیں گیا، اس لیے نہیں جانتا۔” یہی اس کے جھوٹے دعوؤں کی اصل حقیقت تھی۔
قادیانی قیادت کے جھوٹے دعوے
تکبیر: قادیانی کہتے ہیں کہ ان کے ماننے والے بڑھ رہے ہیں، کیا یہ درست ہے؟
عبدالکریم انور: یہ سراسر جھوٹ ہے۔ مرزا طاہر نے دعویٰ کیا کہ 20 کروڑ افراد قادیانی بن چکے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ سب فرضی اعداد و شمار ہیں۔ جب میں نے سوال کیا کہ وہ 20 کروڑ کہاں ہیں؟ تو میرے خلاف مہم چلائی گئی۔ بالآخر میں نے خود قادیانیت سے توبہ کرلی۔
اسلام کی روشنی میں سکون و ایمان
تکبیر: اسلام قبول کرنے کے بعد آپ کی کیفیت کیسی ہے؟
عبدالکریم انور: الحمدللہ، اب دل مطمئن ہے۔ میں اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہوں۔ اسلام ہی سچائی ہے، قادیانیت محض ایک فریب ہے۔ یہ ایک سازش ہے جو مسلمانوں کو تقسیم کرنے کے لیے گھڑی گئی۔
دعوتِ اتحاد و اخوت
عبدالکریم انور: میں امتِ مسلمہ سے اتحاد، اخوت اور ختمِ نبوت کے تحفظ کی اپیل کرتا ہوں۔ ہمیں دین سیکھنا، جدید علوم حاصل کرنا، اور محبت کے ساتھ اسلام کی دعوت کو عام کرنا ہے۔ ختم نبوت کا پیغام ہر دل تک پہنچانا امت کا فریضہ ہے۔
نتیجہ
عبدالکریم انور قریشی کی گفتگو سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ قادیانیت کا نظام محض چندہ خوری، مال بٹورنے اور اسلام دشمنی پر قائم ہے۔ اسلام ہی وہ دینِ حق ہے جس میں روحانی سکون، عقلی منطق، اور ایمانی روشنی یکجا ہے۔ قادیانیت کا انجام باطل ہے اور حق کی فتح ہمیشہ اسلام کی ہے۔
