صحابہ کرامؓ کا ختم نبوت پر پہلا اجماع اور مسیلمہ کذاب
ختم نبوت پر صحابہ کرامؓ کا پہلا اجماع، مسیلمہ کذاب کا دعویٔ نبوت، اس کے خلاف جہاد، اور اکابر علماء کی مستند تصریحات۔
متعلقہ موضوعات
اہم نکات
- مسیلمہ کذاب اور اس کی جماعت کا شرعی حکم
- مسیلمہ کا نبوتِ محمدیؐ اور قرآن کا منکر نہ ہونا
- تاریخِ طبری کی واضح شہادت
- عبادات کے باوجود کفر کا سبب
- حضرت صدیق اکبرؓ کا فیصلہ کن اقدام
- کسی صحابی کا اختلاف ثابت نہیں
- حضرت عمرؓ کے اختلاف کی وضاحت
- مسیلمہ کے خلاف جہاد پر مکمل اجماع
- ختم نبوت: امت کا پہلا اجماع
- اکابر علماء کی تصریحات
صحابہ کرامؓ کا ختم نبوت پر پہلا اجماع اور مسیلمہ کذاب
(اسلامی تاریخ کا متواتر اور فیصلہ کن واقعہ)
اسلامی تاریخ میں یہ بات درجۂ تواتر کو پہنچ چکی ہے کہ مسیلمہ کذاب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں دعویٰ نبوت کیا اور ایک بڑی جماعت اس کی پیروکار بن گئی۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سب سے پہلی مہمِ جہاد جو حضرت صدیق اکبرؓ نے اپنی خلافت میں روانہ کی، وہ اسی جماعت کی سرکوبی کے لیے تھی۔
مسیلمہ کذاب اور اس کی جماعت کا شرعی حکم
جمہور صحابہ کرامؓ نے مسیلمہ کو محض دعوائے نبوت کی وجہ سے،
اور اس کی جماعت کو اس کی تصدیق کی بنا پر کافر قرار دیا۔
باجماعِ صحابہؓ و تابعینؒ ان کے ساتھ وہی معاملہ کیا گیا جو کفار کے ساتھ کیا جاتا ہے۔
یہی اسلام میں سب سے پہلا اجماع تھا۔
مسیلمہ کا نبوتِ محمدیؐ اور قرآن کا منکر نہ ہونا
حالانکہ مسیلمہ کذاب بھی مرزا قادیانی کی طرح
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور قرآن کا منکر نہ تھا،
بلکہ بعینہٖ اسی طرح:
- آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر ایمان رکھتا تھا
- اور ساتھ ہی اپنی نبوت کا مدعی تھا
یہاں تک کہ اس کی اذان میں بھی برابر
"اشہد ان محمدًا رسولُ اللہ” پکارا جاتا تھا
اور وہ خود بھی بوقتِ اذان اس کی شہادت دیتا تھا۔
تاریخِ طبری کی واضح شہادت
تاریخ طبری (جلد ۳، صفحہ ۲۴۴) میں ہے:
’’کان یؤذن للنبی صلی اللہ علیہ وسلم وشہد فی الاذان ان محمدا رسول اللہ…‘‘
یعنی مسیلمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اذان میں یہ گواہی دیتا تھا کہ محمد اللہ کے رسول ہیں،
اس کا مؤذن عبداللہ بن نواحہ اور اقامت کہنے والا حجیر بن عمیر تھا،
اور مسیلمہ خود بھی اس کی تصدیق کرتا تھا۔
عبادات کے باوجود کفر کا سبب
الغرض:
- نبوت پر ایمان
- قرآن پر ایمان
- نماز، روزہ سب کچھ موجود تھا
مگر ختمِ نبوت کے بدیہی مسئلہ کے انکار
اور دعویٰ نبوت کی بنا پر
باجماعِ صحابہ کرامؓ کافر سمجھا گیا۔
حضرت صدیق اکبرؓ کا فیصلہ کن اقدام
حضرت صدیق اکبرؓ نے:
- مہاجرین
- انصار
- تابعینؒ
پر مشتمل ایک عظیم الشان لشکر
حضرت خالد بن ولیدؓ کی امارت میں
یمامہ کی طرف مسیلمہ کے خلاف جہاد کے لیے روانہ کیا۔
کسی صحابی کا اختلاف ثابت نہیں
تمام صحابہ کرامؓ میں سے:
- کسی ایک نے بھی اس اقدام کا انکار نہیں کیا
- کسی نے یہ نہیں کہا کہ:
- یہ اہلِ قبلہ ہیں
- کلمہ گو ہیں
- نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ ادا کرتے ہیں
- یہ اہلِ قبلہ ہیں
لہٰذا انہیں کافر کیسے کہا جا سکتا ہے؟
حضرت عمرؓ کے اختلاف کی وضاحت
حضرت فاروق اعظمؓ کا جو ابتدائی اختلاف روایات میں منقول ہے،
وہ مسیلمہ کذاب کے معاملہ میں نہیں
بلکہ مانعینِ زکوٰۃ کے خلاف جہاد کے مسئلہ میں تھا۔
چند لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد زکوٰۃ دینے سے انکار کیا تھا۔
حضرت صدیق اکبرؓ نے ان سے جہاد کا ارادہ فرمایا تو
حضرت عمرؓ نے وقتی نزاکت اور مسلمانوں کی قلت کا عذر پیش کیا،
لیکن تھوڑے سے مکالمہ کے بعد
حضرت صدیق اکبرؓ کی رائے سے کامل اتفاق کر لیا۔
مسیلمہ کے خلاف جہاد پر مکمل اجماع
اسی طرح:
- حضرت اسامہؓ کے لشکر کی روانگی پر اختلاف ہوا
- مگر مسیلمہ کذاب کے خلاف جہاد پر
کسی ایک صحابیؓ نے بھی اختلاف نہیں کیا
یہی اس بات کی واضح دلیل ہے کہ
سب سے پہلا اجماع اسی مسئلہ پر منعقد ہوا۔
ختم نبوت: امت کا پہلا اجماع
امت کو اجماع ختمِ نبوت کے صدقے ملا
اور امت نے بھی سب سے پہلا اجماع
اسی مسئلہ پر کیا۔
اسی مقام پر:
- بارہ سو صحابہ کرامؓ شہید ہوئے
- جن میں سات سو حافظ و قاری قرآن تھے
یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ
ختمِ نبوت صحابہ کرامؓ کے نزدیک
کس قدر اہم اور فیصلہ کن مسئلہ تھا۔
اکابر علماء کی تصریحات
حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ
مسک الختام فی ختم نبوۃ سید الانام (ص ۱۰) میں فرماتے ہیں:
’’امتِ محمدیہ میں سب سے پہلا اجماع اس مسئلہ پر ہوا کہ مدعیٔ نبوت قتل کیا جائے‘‘
(احتساب قادیانیت، ج۲، ص۱۰)
علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ
فرماتے ہیں:’’اس امت میں سب سے پہلا اجماع مسیلمہ کذاب کے قتل پر ہوا،
اور اس کا سبب صرف اس کا دعویٰ نبوت تھا‘‘
(خاتم النبیین، مترجم ص ۱۹۷)
