شہید عامر چیمہ: ناموس رسالت کی خاطر جرمنی میں عظیم قربانی
2006ء میں گستاخانہ کارٹونز پر شہید عامر چیمہ کا جرأت مندانہ احتجاج، جرمن ایڈیٹر پر حملہ اور مشکوک شہادت۔ پاکستانی عوام کا ردعمل اور عظیم جنازہ۔
متعلقہ موضوعات
اہم نکات
- عامر چیمہ شہید: ابتدائی تعارف اور تعلیمی سفر
- یورپ میں مذہبی رجحان اور تعلیمی سرگرمیاں
- گستاخانہ کارٹونز کا واقعہ اور عالم اسلام میں اضطراب
- عامر چیمہ کا انوکھا احتجاج: جرمن ایڈیٹر پر حملہ
- گرفتاری، اقبالِ جرم اور جرمن جیل میں شہادت
- حکومتی غفلت اور پاکستانی قوم کا شدید ردِ عمل
- تاریخی نمازِ جنازہ اور لاکھوں عقیدت مندوں کا ہجوم
- قومی اسمبلی میں صدائے بازگشت اور تحقیقات کا مطالبہ
شہید عامر چیمہ: ناموس رسالت کی خاطر جرمنی میں عظیم قربانی
مصنف: مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی
عامر چیمہ شہید: ابتدائی تعارف اور تعلیمی سفر
جناب عبدالرحمن عامر چیمہ شہید نے 4؍دسمبر1977ء کی صبح اپنے ننھیال حافظ آباد میں آنکھ کھولی۔ والدہ محترمہ نے نومولود کا نام عامر جبکہ والد نے عبدالرحمن تجویز کیا۔ چنانچہ دونوں ناموں کو ملا کر عامر عبدالرحمن رکھ دیا گیا۔ لیکن سہل اور مختصر نام "عامر” مشہور ہوا۔ والدہ نے بچپن ہی سے اپنے بیٹے کی نگرانی شروع کردی تاکہ وہ آوارہ گرد بچوں سے الگ تھلگ رہیں۔ چنانچہ بچپن سے ہی وہ دوسرے بچوں سے بہت مختلف اور منفرد تھے۔
تعلیمی تفصیلات:
- پرائمری: گورنمنٹ پرائمری سکول ڈھوک کشمیریاں، راولپنڈی۔
- میٹرک (1993ء): جامع ہائی سکول ڈھوک کشمیریاں، راولپنڈی۔
- ایف ایس سی (1996ء): ایف جی سرسید کالج مال روڈ، راولپنڈی۔
- بی ایس سی (ٹیکسٹائل انجینئرنگ): نیشنل کالج آف انجینئرنگ، فیصل آباد۔
کچھ عرصہ یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور میں لیکچرار رہے۔ ماسٹر ٹیکسٹائل ملز رائے ونڈ اور الکریم ٹیکسٹائل ملز کراچی میں بھی کچھ عرصہ ملازمت کی۔
یورپ میں مذہبی رجحان اور تعلیمی سرگرمیاں
نومبر 2004ء میں آپ جرمنی روانہ ہوئے اور جرمنی کے شہر مونس گلاڈباخ میں واقع ’’اوخشولے فیڈریائن یونیورسٹی‘‘ میں ’’ماسٹر آف ٹیکسٹائل اینڈ کلوزنگ مینجمنٹ ‘‘ میں داخلہ لیا۔ یہ چھ سالہ کورس چھ چھ ماہ کے چار مراحل (سمسٹرز) پر مشتمل ہوتا ہے۔ عامر شہیدؒ نے کامیابی کے ساتھ پہلے تین سمسٹرز مکمل کر لئے تھے۔ اب ان کا آخری سمسٹر چل رہا تھا اور جولائی 2006ء میں تعلیم مکمل کر کے واپس لوٹنا تھا۔
مذہبی اور تاریخی کتب کا مطالعہ ان کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ جب وہ یورپ کے توبہ شکن اور کافرانہ ماحول میں گئے تو تب بھی اپنے دامن پر کوئی دھبہ نہیں لگنے دیا اور نہ ہی اپنے کردار پر کوئی حرف آنے دیا۔
گستاخانہ کارٹونز کا واقعہ اور عالم اسلام میں اضطراب
یورپین اخبارات نے رحمت دو عالم ﷺ کی شان اقدس کے خلاف اہانت آمیز کارٹون شائع کئے۔ جس سے عالم اسلام میں اضطراب کی لہر دوڑ گئی۔ لاکھوں کی تعداد میں مسلمان سڑکوں پر آئے۔ مظاہرے ہوئے، جلسے منعقد ہوئے، جلوس نکالے گئے۔ لیکن نوجوان عامر نے انوکھے انداز میں احتجاج کا فیصلہ کیا۔
عامر چیمہ کا انوکھا احتجاج: جرمن ایڈیٹر پر حملہ
جرمنی میں گستاخانہ خاکے شائع کرنے والے اخبار Die-Welt (ڈائی ویلٹ) کے مرکزی دفتر میں داخل ہوئے۔ اور تیز قدموں سے چلتے ہوئے اخبار کے ایڈیٹر Henryk Broder کے کمرے کی طرف بڑھے۔ اپنے کپڑوں میں چھپایا ہوا ہنٹر نائف نامی خاص شکاری خنجر نکال کر اس پر پے در پے وار کر دئیے۔ جس کے نتیجہ میں وہ شدید زخمی ہوگیا۔ اتنے میں دفتر کا عملہ اور سیکورٹی اہلکار جمع ہوگئے، انہوں نے عامر شہید کو پکڑ لیا اور انہیں جرمن پولیس کے حوالے کردیا گیا۔
گرفتاری، اقبالِ جرم اور جرمن جیل میں شہادت
تین دن کے بعد جرمن پولیس نے عامر شہید کو ان کے تحریری بیان کے ساتھ عدالت میں پیش کردیا۔ جس میں عامر شہید نے کہا تھا کہ: "اقرار کرتا ہوں کہ میں نے اخبار ڈائی ویلٹ کے ایڈیٹر ہینرک بروڈر پر حملہ کیا۔ یہ شخص ہمارے نبی کریمﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کا ذمہ دار تھا۔ اگر مجھے آئندہ موقع ملا تو میں ایسے ہر شخص کو قتل کردوں گا۔”
عامر شہید کے ایسے جرأت مندانہ اقبال جرم کے بعد کسی ریمانڈ یا تحقیق و تشدد کی گنجائش نہیں تھی۔ لیکن حقوق انسانی کے ان نام نہاد ٹھیکیداروں اور ہٹلر کے جانشینوں نے ظلم وستم کی انتہا کردی۔ سینٹ کی انسانی حقوق کی فنکشن کمیٹی میں جرمنی جانے والی تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے جناب طارق کھوسہ نے انکشاف کیا کہ: "جرمنی کی جیل میں عامر چیمہ کی ہلاکت گردن کی ہڈی ٹوٹنے سے نہیں بلکہ شاہ رگ کٹنے سے ہوئی۔” جرمن حکام نے پاکستانی تحقیقاتی ٹیم کو جرمن جیل کے سیل میں عامر چیمہ کے ساتھی قیدی سے پوچھ گچھ اور واقعہ کی تحقیقات کے متعلق دستاویزات اور متعلقہ افسران سے بات چیت کرنے کی اجازت نہیں دی۔
حکومتی غفلت اور پاکستانی قوم کا شدید ردِ عمل
وزارت خارجہ کی لاعلمی کا یہ عالم تھا کہ متعلقہ وزارت کو عامر کی گرفتاری کی اطلاع قومی اسمبلی میں متحدہ مجلس عمل کے رہنما ڈاکٹر فرید احمد پراچہ ایم این اے کے 10؍اپریل 2006ء کے توجہ دلاؤ نوٹس کے بعد 13؍اپریل کو ہوئی۔ شہید کی گرفتاری پر پاکستان میں شدید رد عمل ہوا۔ لیکن روشن خیال حکمرانوں نے جرمن حکومت سے احتجاج اور اپنے ایک شہری کی رہائی کے لئے کوشش کو روشن خیالی کے خلاف سمجھا۔ تاآنکہ موصوف 4؍مئی 2006ء کو شہید کر دئیے گئے اور ان کی شہادت کی خبر کو پرنٹ میڈیا نے شاہ سرخیوں کے ساتھ شائع کیا۔
دینی جماعتوں میں سب سے پہلے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اسلام آباد کے پریس کلب میں ایک نیوز کانفرنس کے ذریعہ اس واقعہ کی شدید مذمت کی اور ان کی میت کے فقید المثال استقبال اور نماز جنازہ میں شرکت کے لئے اسلام آباد اور راولپنڈی میں شٹر ڈاؤن اور ہڑتال کی اپیل کی۔
تاریخی نمازِ جنازہ اور لاکھوں عقیدت مندوں کا ہجوم
بعد ازاں تمام دینی جماعتوں اور سیاسی پارٹیوں نے بھی شاندار استقبال کا اعلان کیا۔ لیکن روشن خیال حکمرانوں نے ان کی میت کو اسلام آباد اترنے کے بجائے لاہور اتار لیا اور آرمی ہیلی کاپٹر کے ذریعہ آبائی گاؤں ’’ساروکی چیمہ‘‘ پہنچایا گیا۔ اعلان کے مطابق ان کی نماز جنازہ 4؍بجے سہ پہر ادا کرنا تھی۔ لیکن مقررہ وقت سے تین گھنٹے پہلے ان کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی اور انہیں ہزاروں عقیدت مندوں اور سوگواروں کی موجودگی میں سپرد خاک کردیا گیا۔ نماز جنازہ آپ کے والد محترم پروفیسر نذیر احمد چیمہ نے پڑھائی۔
نماز جنازہ میں شرکت کے لئے 12؍مئی 2006ء کی چلچلاتی دھوپ میں لاکھوں انسان دور دراز سے تشریف لائے۔ ساروکی چیمہ میں سوگ کے بجائے جشن کا سماں تھا۔ ہزارہا انسانوں نے ان کی میت کا والہانہ استقبال کیا۔ استقبالی راستوں کو جھنڈیوں، تازہ پھولوں کی لڑیوں اور مختلف نعروں پر مشتمل رنگ برنگے بینروں سے سجایا گیا۔ خواتین نے مکانوں کی چھتوں سے میت پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں۔ عاشقان رسولﷺ نے عامر شہید کی میت کو ایک کلومیٹر تک ہاتھوں پر اٹھائے رکھا۔ لاکھوں اسلامیان پاکستان نے آہوں اور سسکیوں کے ساتھ نماز جنازہ میں شرکت کی۔
قومی اسمبلی میں صدائے بازگشت اور تحقیقات کا مطالبہ
عامر چیمہ شہیدؒ کی صدائے بازگشت قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں سنی گئی۔ 12؍مئی کو ان کی تدفین پر سال گزر رہا ہے کہ حکمرانوں نے جرمن حکومت سے اس کی تحقیقات پر مشتمل دستاویزات سے قوم کو آگاہ نہیں کیا۔
