محاسبہ قادیانیت جلد ششم | علمی و تحقیقی ذخیرہ
یہ مواد کیا بیان کرتا ہے؟
محاسبہ قادیانیت جلد ششم
کتاب کا تعارف
محاسبہ قادیانیت جلد ششم چالیس جلدوں پر مشتمل اس علمی سلسلے کا تسلسل ہے۔ یہ جلد پانچ ممتاز علمائے کرام کی آٹھ نایاب کتب و رسائل پر مشتمل ہے، جنہیں پہلی بار شائع ہونے کے بعد عرصہ دراز تک دوبارہ منظر عام پر نہیں لایا گیا تھا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے ان اہم رسائل کو محفوظ کرنے کے لیے "احتسابِ قادیانیت” کے عنوان سے اشاعتِ نو کا سلسلہ شروع کیا، اور بعد ازاں اسی تسلسل کو نئے علمی مواد کے ساتھ "محاسبہ قادیانیت” کے نام سے جاری رکھا گیا۔ یہ جلد اسی قیمتی علمی سلسلے کی چھٹی کڑی ہے، جس میں تاریخی واقعات، فکری مباحث، اور قادیانیت کے باطل نظریات کے رد پر مبنی تحقیقی مضامین شامل ہیں۔
اہم نکات
- علامہ اقبالؒ کے خطبات، تقاریر اور بیانات کا ایک انتخاب "حرفِ اقبال” کے عنوان سے اس جلد میں شامل کیا گیا ہے، جس میں اسلام اور قادیانیت سے متعلق ان کے افکار درج ہیں۔
- "حرفِ اقبال” کے تیسرے حصے (ص 218–226) میں شامل وہ بیانات بھی پیش کیے گئے ہیں جن میں علامہ اقبالؒ نے کشمیر میں قادیانی جماعت کی منافقت کو بے نقاب کیا۔
- 2 رمضان المبارک 1405ھ کو مسجد منزل گاہ، سکھر میں ہونے والے بم دھماکے پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹنڈو آدم کی جانب سے شائع کردہ پمفلٹ "قادیانیوں کی درندگی” بھی شامل ہے۔
- کینیڈا کے لاہوری مرزائیوں کے 1992ء کے اشتہار کا تحقیقی جواب "پرانے شکاری نیا جال” کے عنوان سے اس کتاب میں شامل ہے، جو سید عبدالحفیظ شاہ اور ڈاکٹر سید راشد علی شاہ نے تحریر کیا۔
- سانحہ چک سکندر (ضلع گجرات) پر مبنی تاریخی پمفلٹ شامل ہے، جس میں 1989ء کے فسادات، قادیانیوں کے حملے اور مسلمانوں کے دفاعی ردعمل کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں، نیز قادیانی عقائد کا علمی تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔
- چوہدری محمد سرفراز خانؒ (وفات 1987ء) کی تحقیقی کاوش "مصداقِ بشارت احمد مع کامل تفسیر سورۃ الصف” بھی شامل ہے، جس میں انہوں نے مرزائی عقائد کا علمی رد پیش کیا اور قرآنی بشارات کی درست تعبیر واضح کی۔
متعلقہ مواد
