محاسبہ قادیانیت جلد 7 | ردِ قادیانیت پر علمی رسائل
یہ مواد کیا بیان کرتا ہے؟
محاسبہ قادیانیت جلد ہفتم
نامِ کتاب: محاسبہ قادیانیت جلد 7
مرتب: مولانا اللہ وسایا
صفحات: 440
ناشر: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، پاکستان
کتاب کا تعارف
محاسبہ قادیانیت جلد ہفتم، اس عظیم علمی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے جو قادیانیت کے باطل عقائد کے علمی و فکری محاسبے کے لیے مرتب کیا گیا۔
یہ جلد چوبیس علمائے کرام کے چوبیس تحقیقی رسائل پر مشتمل ہے، جو سب کے سب ردِّ قادیانیت کے موضوع پر لکھے گئے۔
محاسبہ قادیانیت سے پہلے "احتسابِ قادیانیت” کے نام سے ساٹھ جلدوں پر مشتمل ایک سلسلہ شائع ہوا، مگر تمام جلدوں کو بیک وقت فراہم کرنا مشکل تھا۔ اسی علمی تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے اسے "محاسبہ قادیانیت” کے نام سے نئے انداز میں جاری کیا گیا۔
یہ جلد ان نایاب رسائل کا علمی ذخیرہ ہے جو قادیانیت کے مختلف پہلوؤں پر تحقیقی دلائل اور تاریخی شواہد فراہم کرتے ہیں۔
اہم نکات
- رسالہ "در تحقیق قبر مسیح” میں سوال و جواب کی طرز پر مسیح کی قبر کے موضوع پر علمی و تحقیقی مکالمہ شامل ہے، جو ایک کامیاب اور باوقار کوشش ہے۔
- "السیف الحقانی علیٰ کثر القادیانی” المعروف "لا نبی بعدی” عربی نظم میں تصنیف کیا گیا ایک منفرد رسالہ ہے۔
- "درہ نادریہ بر سر فرقہ مرزائیہ” علامہ حسین میر کاشمیری (مطبخ پریس امرتسر) کی تاریخی تصنیف اس جلد میں شامل ہے۔
- "آئینہ مرزائیت” میں جناب عزیزالرحمن سنجرانی نے قادیانی عقائد پر ان کی اپنی کتابوں کے حوالوں سے دو اہم سوالات تحریر کیے۔
- "مرزا غلام احمد قادیانی اور قرآن” از حافظ محمد الیاس (نور پورہ ورکاں، شیخوپورہ) بھی شامل ہے، جس میں قادیانی عقائد کی قرآنی تردید پیش کی گئی ہے۔
"اثر مباہلہ عبدالحق غزنوی بر غلام احمد قادیانی” از مولانا ابومحمود محمد اسحق رحمانی مونگیری، جو پہلے "احتساب قادیانیت” میں شائع ہوا، اب ترمیمات سمیت دوبارہ شامل کیا گیا ہے۔
متعلقہ مواد
