مقدمہ مرزائیہ بہاولپور | تاریخی عدالتی فیصلہ
یہ مواد کیا بیان کرتا ہے؟
مقدمہ مرزائیہ بہاولپور (جلد اوّل)
مصنف و تعارف
"مقدمہ مرزائیہ بہاولپور” تین جلدوں پر مشتمل کتاب ہے،
جس میں حق و باطل کے تاریخی مقدمے مرزائیہ بہاولپور (1926ء تا 1935ء) کے حالات اور فیصلہ درج ہیں۔
اس مقدمہ میں جناب جج محمد اکبر خان صاحب (B.A، LL.B، ڈسٹرکٹ جج بہاولپور) نے
مرزائیت کو ارتداد قرار دے کر مسلمہ کا نکاح مرزائی سے فسخ فرمایا۔
یہ مقدمہ تقریباً دس سال تک جاری رہا،
جس کے تمام مراحل کو ابتداء سے انتہاء تک تین جلدوں میں تفصیل سے پیش کیا گیا۔
جلد اوّل کے اہم نکات
یہ جلد ابتدائی مراحل کی کارروائی اور ان علماء کے بیانات پر مشتمل ہے
جو عدالت میں جمع کرائے گئے۔
اہم نکات درج ذیل ہیں:
- پیش لفظ: حضرت مولانا محمد مالک صاحب کاندھلوی
- مقدمہ: حضرت مولانا خان محمد صاحب مدظلہ العالی
- مدعیہ عائشہ مرحومہ کا خاندان
- مقدمہ اور اس کے اسباب
- عرضی دعویٰ: مسماۃ غلام عائشہ بنت مولوی الٰہی بخش — مؤرخہ 24؍ جولائی 1926ء
- مختصر بیاناتِ فریقین وتنقیحات (عدالت کی وضع کردہ): مؤرخہ 4؍ نومبر 1926ء
- بیان عبدالرزاق (قادیانی) مدعا علیہ: مؤرخہ 5؍ دسمبر 1926ء
- درمیانی حکم عدالت: مؤرخہ 20؍ جنوری 1927ء
- درخواست عبدالرزاق مدعا علیہ: مؤرخہ 19؍ فروری 1927ء
- حکم چیف کورٹ بہاولپور: مؤرخہ 7؍ مئی 1927ء
- احمدی عقائد
- بیان مولوی غلام محمد شیخ الجامعہ العباسیہ بہاولپور: 18؍ جنوری 1928ء، 24؍ رجب 1346ھ
- فیصلہ جناب ڈسٹرکٹ جج صاحب بہاولپور: مؤرخہ 21؍ نومبر 1928ء
- بیان حضرت علامہ مفتی محمد شفیع دیوبندی (گواہ مدعی)
متعلقہ مواد
