قادیانی دعویٰ نبوت کا رد: میرزا قادیانی کا انجام اور عقیدہ ختم نبوت
میرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کی تاریخی حقیقت اور 1908ء میں اس کا انجام۔ قرآنی آیات کی روشنی میں عقیدہ ختم نبوت کا دفاع اور قادیانی دجل کا علمی رد۔ مستند حوالہ جات کے ساتھ۔
متعلقہ موضوعات
قادیانی دعویٰ نبوت کا رد: میرزا قادیانی کا انجام اور عقیدہ ختم نبوت
تحریر: مولانا قاضی احسان احمد
خلاصہ
یہ مضمون میرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ نبوت کی تاریخی حقیقت اور قرآنی آیات کی روشنی میں اس کے انجام کو بیان کرتا ہے۔ عقیدہ ختم نبوت کے دفاع میں مستند دلائل پیش کیے گئے ہیں۔
عقیدہ ختم نبوت اور تاریخی حقیقت
ابتدائے اسلام سے لے کر آج تک امت مسلمہ قرآن و سنت، متواتر احادیث، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین، تبع تابعین، ائمہ مجتہدین، فقہاء و محدثین کی تصریحات اور اجماع امت کی روشنی میں اس عقیدہ پر گامزن ہے کہ حضرت محمد ﷺ اللہ رب العزت کے آخری نبی ہیں۔
آپ ﷺ کے بعد جس کسی شخص نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا، خواہ وہ مسیلمہ کذاب کی طرح کلمہ گو ہو، یا وہ عقیدہ ختم نبوت کا کھلم کھلا منکر ہو، یا مسیلمہ کذاب کی طرح یہ کہتا ہو کہ آپ ﷺ کے بعد چھوٹے چھوٹے نبی آسکتے ہیں، یا سجاح بنت حارث کی طرح یہ کہتا ہو کہ مردوں کی نبوت ختم ہوچکی ہے اب عورتیں نبی بن سکتی ہیں، یا میرزا غلام احمد قادیانی کی طرح اس بات کا مدعی ہو کہ غیر تشریعی، ظلی، بروزی اور امتی نبی آسکتا ہے، تو وہ دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا جائے گا۔
میرزا قادیانی کے دعاوی نبوت
آیئے اس اصول کی روشنی میں میرزا غلام احمد قادیانی کے دعاوی نبوت ملاحظہ فرمائیں:
پہلا دعویٰ: "سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔” (دافع البلاء ص11، خزائن ج18 ص231)
دوسرا دعویٰ: "ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔” (ملفوظات ج10ص127)
تیسرا دعویٰ: "میں رسول اور نبی ہوں، یعنی باعتبار ظلیت کاملہ کے میں وہ آئینہ ہوں جس میں محمدی شکل اور محمدی نبوت کا کامل انعکاس ہے۔” (نزول مسیح ص3، خزائن ج18 ص381)
قارئین کرام! میرزا قادیانی نے اپنی کتاب (حقیقت الوحی ص73، خزائن ج22 ص761) کے حاشیہ پر یوں لکھا ہے:
چوتھا دعویٰ: "خدا تعالیٰ نے مجھے تمام انبیاء علیہم السلام کا مظہر ٹھہرایا ہے اور تمام نبیوں کے نام میری طرف منسوب کئے ہیں… اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کا میں مظہر اتم ہوں، یعنی ظلی طور پر محمد اور احمد ہوں۔”
وہ بھولے بھالے مسلمان اور قادیانیت سے ناواقف قادیانی، جنہیں مرزائی پارٹی میرزا غلام احمد قادیانی کے ان کفریہ عقائد پر مبنی حوالہ جات سے دور رکھے ہوئے ہے، غور فرمائیں کہ میرزا قادیانی اپنی تحریرات کے آئینہ میں دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اس کی پیروی کرکے اپنے آپ کو جہنم کے گڑھے میں نہ گرائیں، بلکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن تھام لیں اور کامیابی کی راہ پر چلیں۔ اللہ تعالیٰ توفیق کامل نصیب فرمائے۔ آمین!
قادیانی دجل اور اس کا شافی حل
قارئین کرام! میرزا قادیانی کے دعاوی نبوت آپ نے ملاحظہ فرمائے۔ اب ایک قادیانی دجل ملاحظہ ہو جسے عام طور پر قادیانی نہایت سادگی کے ساتھ پیش کرکے معصوم مسلمانوں کو دھوکا اور شک میں مبتلا کرنے کی مذموم کوشش کرتے ہیں۔
قادیانی میرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ نبوت اور میرزا قادیانی کو سچا ثابت کرنے کے لئے قرآن کریم کی ایک آیت کو بطور استشہاد کے پیش کرکے دجل کرتے ہیں۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے:
"ولو تقول علینا بعض الاقاویل، لاخذنا منہ بالیمین ثم لقطعنا منہ الوتین” (الحاقہ:44)
ترجمہ: "اگر محمد ﷺ ہماری طرف سے کچھ باتیں گھڑ کر منسوب کرے تو ہم ان کو دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے، پھر ہم اس کی شہ رگ کاٹ دیتے۔”
مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف جھوٹی بات منسوب کرکے آدمی زندہ نہیں رہ سکتا، میرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی زندگی میں کئی الہامات پیش کئے جن کا عرصہ تقریباً 23 سال بنتا ہے، مگر میرزا قادیانی کو کچھ نہیں ہوا۔ معلوم ہوا کہ میرزا قادیانی اپنے دعاوی میں سچا تھا۔ اگر جھوٹا ہوتا تو اس پر خدائی پکڑ آتی اور اس کی بھی شہ رگ کاٹ کر ذلیل و رسوا کیا جاتا۔ یہ ہے قادیانی دجل۔
اس دجل کا جواب یہ ہے کہ میرزا قادیانی کو ایک منٹ کی بھی مہلت اور چھوٹ نہیں ملی۔ قادیانی 23 سال کی بات غلط کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ میرزا قادیانی کبھی نبوت کا دعویٰ کرتا پھر اس سے انحراف کرلیتا۔ کبھی اپنے آپ کو ظلی نبی کہتا، کبھی بروزی نبی، کبھی تشریعی اور کبھی غیر تشریعی نبی کہتا تھا۔ میرزا قادیانی اپنے دعاوی میں خود شک و شبہ میں مبتلا تھا جس کو یقین ہی نہیں تھا۔
میرزا قادیانی کی حیرت انگیز بات
چنانچہ اس کا بیٹا میرزا محمود کہتا ہے کہ: "1901ء تک حضرت صاحب کو یہی نہیں پتا چلا کہ نبی کسے کہتے ہیں۔” غور فرمائیں جو خود مدعی نبوت ہے اس کو یہی نہیں معلوم کہ نبی کسے کہتے ہیں۔
اب 1901ء میں میرزا قادیانی نے کھل کر یہ دعویٰ کیا کہ میں نبی ہوں۔ اب غور فرمائیں کہ 23 مئی 1908ء کو "اخبار عالم” کے نام سے ایک پرچہ شائع ہوتا تھا۔ اس میں خبر شائع ہوئی کہ:
"تقدس مآب میرزا صاحب نے اپنی نبوت کا انکار کردیا۔” میرزا قادیانی کی کسی سے گفتگو ہوئی تو کہا کہ: "میں تو نبی نہیں ہوں۔ ایسے میں مولوی مجھے بدنام کرتے ہیں۔ میں نے تو نبوت کا دعویٰ نہیں کیا۔”
23 مئی 1908ء کا یہ اخبار عالم کا پرچہ میرزا غلام احمد قادیانی نے دیکھا تو اس نے اخبار کے ایڈیٹر کو خط لکھا کہ: آپ نے 23 مئی کے پرچے میں یہ لکھا ہے کہ گویا میں نے اپنی نبوت سے انکار کردیا ہے۔ یہ صحیح نہیں۔ "ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں اور میں اس دعویٰ پر قائم ہوں جو اس دنیا سے گزر جائوں۔”
ایڈیٹر "اخبار عالم” نے میرزا قادیانی کا یہ خط 26 مئی 1908ء کو شائع کردیا۔ اللہ کی قدرت فیصلہ ربانی آپہنچا۔ ادھر صبح اخبار چھپ کر آیا، میرزا قادیانی کا اعلان نبوت سامنے آیا۔ ادھر قہر خداوندی میرزا قادیانی پر نازل ہوا۔ 26 مئی 1908ء ہی کے دن دس بجے وبائی ہیضہ کا شکار ہوکر جہنم واصل ہوگیا۔
قرآن کریم کا اعلان حرف بحرف میرزا قادیانی پر ہی ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے جھوٹے مدعی نبوت کو افتراء پردازی میں جہنم رسید کردیا۔
میرزا قادیانی نے کب نبوت کا دعویٰ کیا؟
میرزا قادیانی نے 1901ء میں کھل کر نبوت کا دعویٰ کیا، لیکن اس سے پہلے مختلف انداز میں اس کے اشارے کرتا رہا۔
کیا مرزا قادیانی 23 سال زندہ رہا؟
نہیں، یہ قادیانیوں کا غلط دعویٰ ہے۔ میرزا کے دعاوی میں تسلسل نہیں تھا اور آخر میں فوری سزا ملی۔
قرآنی آیت کا اصل مطلب کیا ہے؟
یہ آیت اللہ کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنے والوں کے لیے عام اصول ہے اور میرزا قادیانی پر یہ بالکل پوری ہوئی۔
