ختم نبوت پر احادیث – مستند دلائلتفصیل دیکھیں

تو صاحب منزل ہے کہ بھٹکا ہوا راہی: قادیانیوں کے لیے دعوت فکر

یہ مضمون قادیانی حضرات کے لیے ایک دعوت فکر ہے۔ اسلام کی حقیقت اور قادیانیت میں بنیادی فرق کو واضح کرتے ہوئے، یہ مضمون قادیانیوں سے غیر جانبدارانہ تحقیق کی دعوت دیتا ہے اور سچائی کی تلاش میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

متعلقہ موضوعات

تو صاحب منزل ہے کہ بھٹکا ہوا راہی: قادیانیوں کے لیے دعوت فکر

تحریر: ارشد سراج الدین
تخصص: اسلامی دعوت و فکر، مذہبی تحقیقات


یہ مضمون قادیانی حضرات کے لیے ایک دعوت فکر ہے۔ اسلام کی حقیقت اور قادیانیت میں بنیادی فرق کو واضح کرتے ہوئے، یہ مضمون قادیانیوں سے غیر جانبدارانہ تحقیق کی دعوت دیتا ہے اور سچائی کی تلاش میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔


بچے اندھیروں سے ڈریں تو کوئی تعجب کی بات نہیں، لیکن بالغ لوگ روشنی سے ڈرنے لگیں تو یہ حیرت کی بات ہوگی۔

قادیانی دوستو! آپ کا تعلق ایک ایسی جماعت سے ہے جو حقیقی دین اسلام پر قائم ہونے کا دعویٰ کرتی ہے۔ آپ یقیناً اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں۔ کلمہ پڑھتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں اور اپنی جماعت کی ترقی کے لیے اپنی محدود آمدنی کے باوجود مالی طور پر ساری زندگی قربانی دیتے رہتے ہیں۔

آپ ذوق و شوق سے اپنے مربی حضرات کی باتیں سنتے ہیں۔ آپ دینی عقیدے کے جذبے سے اپنے خلیفہ صاحب کی ہر بات مانتے ہیں کیونکہ یہ بات آپ کے دل میں جاگزیں کر دی گئی ہے کہ آپ کے خلیفہ خدا کا انتخاب ہیں۔ جب آپ اپنے اردگرد پر نظر ڈالتے ہیں تو عام مسلمانوں کی تباہ حالی اور زوال میں آپ کو اپنی جماعت کا منظم ماحول اور بھی دلکش دکھائی دیتا ہے۔

دہشت گردی اور فرقہ واریت کے واقعات کا سہارا لے کر آپ کو بتایا جاتا ہے کہ حقیقی اسلام صرف جماعت قادیانیہ کے پاس ہے جو پوری دنیا میں پھیل رہی ہے اور بہت جلد یہ دنیا مسیح موعود اور مہدی زماں کو پہچان لے گی اور حقیقی اسلام یعنی احمدیت کو قبول کر لے گی۔

آپ کو یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ "جاہل ملا” محض اپنی تنگ نظری اور ذاتی مفادات کی وجہ سے عوام الناس میں احمدیت کا غلط تعارف کراتا ہے۔ وہ میرزا قادیانی کی کتابوں کے غلط اور سیاق و سباق سے کاٹ کر حوالے دیتا ہے اور یوں عوام کو گمراہ کرتا ہے۔

یہ "مولوی” معاشرے میں نفرت پھیلاتے ہیں جبکہ جماعت قادیانیہ "Love for all and hatred for none” جیسے اصول کا پرچار کرتی ہے۔ آپ کو یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ جماعت قادیانیہ پر جو دنیا میں مشکلات آتی ہیں اور قادیانی افراد کا جو سماجی بائیکاٹ کیا جاتا ہے، وہ جماعت کی سچائی کی دلیل ہے کیونکہ ہر دور میں اہل حق کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

یہ سب کچھ آپ کو اطمینان کے لیے کافی دکھائی دیتا ہے اور آپ اپنے آپ کو ایک سچی جماعت کا فرد سمجھتے ہیں اور کسی تحقیق و تفتیش کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔

لیکن کیا آپ واقعی مطمئن ہیں؟

کیا جماعت قادیانیہ کا نظام جو انسانوں کو معاشرتی اور نفسیاتی طور پر کنٹرول کرنے کے لیے جدید ترین نسخوں اور ترکیبوں پر مبنی ہے، آپ کے ذہن میں چند سوالات کو جنم نہیں دیتا؟

  • کیا پوری امت مسلمہ کا جماعت قادیانیہ کے متعلق موقف اور اتنا بڑا اجماع (Consensus) محض تنگ نظری اور تعصب ہے؟
  • کیا آپ نے ملت اسلامیہ کا موقف جاننے کی دیانت دارانہ کوشش کی ہے؟
  • کیا آپ اس لیے قادیانی ہیں کہ آپ کے دادا یا پردادا نے میرزا قادیانی کی بیعت کر لی تھی اور بس؟
  • کیا آپ اپنے دل کے اضطراب اور شک کو زبان پر لانے سے اس لیے خوف زدہ ہیں کہ آپ کو جماعت سے خارج کر دیا جائے گا؟
  • کیا ایمان جیسی اعلیٰ و ارفع قلبی کیفیت کی بنیاد خوف اور نفرت پر رکھی جا سکتی ہے؟

قادیانی دوستو! اگر آپ اپنے خالق و مالک پر یقین رکھتے ہیں اور اس بات کو سچ مانتے ہیں کہ آپ بہت جلد اسے ملنے والے ہیں تو آپ سچائی کی دیوانہ وار تلاش اور سچ اور جھوٹ میں فرق کے لیے گہری تحقیق اور چھان پھٹک سے دستبردار نہیں ہو سکتے۔

آپ اطمینان کا ایک مصنوعی خول چڑھا کر یہ نہیں کہہ سکتے کہ جماعت قادیانیہ سے باہر تمام علماء محض مفاد پرست اور جھوٹے ہیں اور ہم ان کی کوئی بات نہیں سنیں گے اور جماعت قادیانیہ کی قیادت کی اندھی تقلید میں اپنی قیمتی زندگی گزار دیں گے۔

یاد رکھیے! سچائی انفرادی کیریئر اور سماجی رشتوں سے زیادہ اہم ہے۔

آپ کا یہ کہنا کہ "بس جی! ہم میں اور غیر قادیانی مسلمانوں میں کوئی خاص فرق نہیں۔ ہم بھی کلمہ پڑھتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں” آپ کی معصومیت بھی ہو سکتی ہے۔

لیکن جن لوگوں نے یہ معصومیت آپ کو سکھائی ہے، وہ نہیں چاہتے کہ آپ خود تحقیق کرنا شروع کر دیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ آپ سچائی کی تلاش کے سفر پر نکلیں۔ وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ آپ مذہبی عقیدت کے نشے میں چور رہیں تاکہ کبھی اصلی اور جعلی میں امتیاز کرنے کی صلاحیت پیدا نہ کر سکیں۔

انٹرنیٹ پر جو لوگ سنجیدگی اور دیانت داری سے قادیانیت کا تجزیہ کرتے ہیں، آپ کو اس طرح کی ویب سائٹس سے دور رہنے کا کہا جاتا ہے۔ جو لوگ قادیانیت چھوڑ کر اسلام قبول کرتے ہیں، ان کے خلاف پروپیگنڈہ کر کے انہیں آپ کی نظروں میں گرانے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ قادیانی عقائد اور جماعت کے نظام پر ان کی ریسرچ آپ کے علم میں نہ آ سکے۔

قارئین کرام! دنیا کی اس منڈی میں ہر جگہ اصلی چیز کے مقابلے میں جعلی اور دو نمبر چیز موجود ہے۔ جعلی چیز اپنے رنگ و روغن اور پیکنگ سے اصل کے عین مطابق دکھائی دیتی ہے۔ بلکہ بعض اوقات تو اپنی چمک دمک میں اصل سے بھی بڑھ جاتی ہے۔

اگر ہم نمک اور ہلدی خریدتے وقت تو پوری چھان بین کریں کہ خالص اشیاء کہاں سے دستیاب ہوتی ہیں اور اپنے عقائد و افکار کے معاملے میں اپنے ذہن کو بند کر لیں اور اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال لیں اور سچ اور جھوٹ میں فرق جاننے کے لیے نیک نیتی اور خلوص کے ساتھ منظم جدوجہد نہ کریں تو یقیناً یہ منافقت کا راستہ ہوگا۔

اگر ہم سچائی اور حقیقت کو اپنی زندگی کی اساس بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے قلب و ذہن کی تمام توانائیوں کو سچ جاننے کے لیے وقف کر دینا چاہیے اور اس سلسلے میں ہر طرح کے ایثار و قربانی کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

قادیانی خواتین و حضرات! آپ کو چاہیے کہ میرزا غلام احمد قادیانی کی "تمام” کتابیں آپ خود پڑھیں، صرف سلیکٹڈ سٹڈی نہیں۔ ان میں موجود تضادات (Contradictions) کو نوٹ کریں۔ اس عہد کی تاریخ کا مطالعہ کریں اور ان علماء و مفکرین کا مطالعہ کریں جنہوں نے میرزا قادیانی کی تصانیف اور قادیانیت کا گہرائی اور بصیرت کے ساتھ مطالعہ کیا ہے۔

جیسے: پروفیسر الیاس برنی رحمۃ اللہ علیہ، مولانا ابوالحسن ندوی رحمۃ اللہ علیہ، ڈاکٹر علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ، مولانا منظور نعمانی رحمۃ اللہ علیہ، ڈاکٹر غلام برق جیلانی رحمۃ اللہ علیہ، پروفیسر یوسف سلیم چشتی رحمۃ اللہ علیہ، مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ۔

انٹرنیٹ پر قادیانیت کے رد میں آفیشل ویب سائٹ www.Khatmenubwwat.net کو ضرور دیکھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اس پر موجود کتابوں، مضامین اور مباحث کا بھی غور سے مطالعہ کریں۔

آپ کو سچائی تک پہنچنے کے لیے بنیادی مسئلے پر تحقیق کرنا ہوگی اور بنیادی بات ہے میرزا غلام احمد قادیانی کی زندگی، ان کی شخصیت اور ان کے دعاوی (Claims)۔ آپ کو غیر جانبداری سے ان کی شخصیت اور ان کے بتدریج (Gradual) کیے جانے والے دعووں کا مطالعہ کرنا ہوگا۔

جس ماحول میں آپ پلے بڑھے ہیں، اس نے میرزا قادیانی کی ایک خاص تصویر آپ کے ذہن میں بنا دی ہے۔ لیکن ایک ہے میرزا قادیانی کا وہ امیج (Image) جو معاشرتی عمل (Socialization) کے نتیجے میں آپ کے ذہن میں ہے اور ایک ہیں وہ حقیقی میرزا قادیانی جو انیسویں صدی کے قادیان میں پیدا ہوئے اور 1908ء میں لاہور میں فوت ہوئے۔

آپ کے ذہنی تصور کے میرزا قادیانی اور حقیقی میرزا قادیانی میں فرق ہو سکتا ہے۔ آپ کو حقیقی میرزا قادیانی تک پہنچنے کے لیے ان تمام کتابوں (صرف چند پمفلٹس نہیں) کا بغور اور خدا خوفی کے ساتھ مطالعہ کرنا ہوگا اور جماعت قادیانیہ کے نظام پر غور کرنا ہوگا جس پر میرزا قادیانی کے خاندان کا راج ہے۔

آپ کو ان قادیانی خواتین و حضرات کے بارے میں جاننا چاہیے جنہوں نے پوری تحقیق کے بعد آخر کار قادیانیت سے توبہ کر لی اور نبی کریم ﷺ کے لائے ہوئے دین قیم کو اختیار کیا۔ مثلاً: ملک محمد جعفر خان، سیف الحق (جرمنی)، رفیق احمد باجوہ، محترمہ بشریٰ باجوہ، شیخ راحیل احمد، اکبر چوہدری، شاہد کمال احمد، زیڈ اے سلہری وغیرہ!

یقیناً تحقیق اور سچائی کی جستجو کا یہ راستہ آپ کے لیے مشکلات لا سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کے سوالات کا مذاق اڑایا جائے یا پھر آپ پر شک کیا جائے۔ آپ کو دھمکیاں دی جائیں اور پھر آپ کو جماعت سے ہی خارج کر دیا جائے۔

لیکن یاد رکھیے! سچائی اور ہدایت اتنی کم مایہ چیز نہیں کہ تھوڑے سے سماجی دباؤ میں آ کر اس سے دستبردار ہو جائے۔ علم اور تحقیق کی روشنی سے ڈرنا بزدلوں کا شیوہ ہے۔

بظاہر قادیانی اور غیر قادیانی ایک ہی کلمہ پڑھتے ہیں لیکن درحقیقت ان کے عقائد میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ ایک اگر دن ہے تو دوسرا رات ہے۔ ان دونوں گروہوں میں سے صرف ایک ہی سچائی پر ہے اور دوسرا لازماً گمراہی پر ہے۔

قادیانی خواتین و حضرات! آپ ان اختلافات کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ آپ کو اخلاص کے ساتھ تحقیق کرنا ہوگی۔ آپ اپنے آپ کو صرف MTA کے پروگراموں، اپنے جلسوں اور کتابچوں کے مطالعے تک ہی محدود نہیں کر سکتے۔

آپ کو بتایا جاتا ہے کہ قادیانیت کے خلاف طوفان محض چند فرقہ پرست مولویوں نے اٹھا رکھا ہے۔ آپ کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ اگرچہ علماء پر تنگ نظری کا الزام لگایا جاتا رہا ہے تاہم تاریخ گواہ ہے کہ صوفیاء اور درویش اس الزام سے ہمیشہ بری رہے ہیں۔

اولیاء اللہ اور صوفیائے کرام نے ہمیشہ اخلاق، رواداری اور محبت سے لوگوں کے دل جیتے۔ سچائی کے ایک متلاشی کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ قادیانیت کے متعلق صوفیائے کرام نے کیا ردعمل ظاہر کیا اور وہ اس جماعت کے عقائد اور طرز عمل کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

ہم دیکھتے ہیں کہ صوفیائے کرام کے تمام سلاسل اور خانقاہوں کا قادیانیت کے متعلق بڑا واضح موقف رہا ہے۔ وہ اپنے تمام اخلاق اور رواداری کے باوجود قادیانیت کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں۔

بلکہ قادیانی مذہب پر علمی تنقید کا آغاز گولڑہ شریف کے ایک چشتی بزرگ پیر مہر علی شاہ گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ نے ہی کیا تھا۔ اسی طرح وہ مفکرین اور محققین جو نہ صرف اسلام پر گہری نظر رکھتے تھے بلکہ فلسفہ، تاریخ اور انسانی علوم (Humanities) کے بھی ماہر تھے جیسے علامہ ڈاکٹر محمد اقبال، پروفیسر غلام جیلانی برق اور پروفیسر یوسف سلیم چشتی۔

اور ان کے علاوہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے ججز اور وکلاء اور پھر ملائیشیا اور انڈونیشیا سے لے کر مراکش اور جنوبی افریقہ تک پوری امت مسلمہ کے ججز اور راہنما، کیا یہ سب لوگ متعصب اور تنگ نظر ہیں اور مل کر کوئی سازش کر رہے ہیں؟

آپ انیسویں صدی کے پنجاب کے ایک گاؤں قادیان میں نہیں بلکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس عہد میں موجود ہیں جہاں ہر چار گھنٹے میں علم دوگنا ہو جاتا ہے۔ آپ کو دوسرے لوگوں کی بات بھی سننا ہوگی۔

امت مسلمہ کے اہل علم، اہل دانش، اہل درد حضرات! اگر یہ سب قادیانیت کو گمراہی سمجھتے ہیں تو آپ کو محض چند لوگوں کی باتوں سے مطمئن نہیں ہو جانا چاہیے۔ ایسا اطمینان خود کو دھوکا اور فریب دینے کے مترادف ہوگا۔

بھول بھلیوں میں ڈالنے والے راستوں سے بچیے اور اسلام کی مرکزی شاہراہ پر واپس آ جائیے۔ وہ شاہراہ جس پر نبی آخر الزمان ﷺ اور آپ ﷺ کے اصحاب رضوان اللہ علیہم اور امت کے صالحین نے چل کر دکھایا۔

وقت آ گیا ہے کہ آپ اپنے ذہن کے دریچے کھولیں اور کھلی ہوا میں سانس لیں۔ سچا دین وہی ہے جو نبی کریم ﷺ لے کر آئے اور اس دین کی تکمیل کا اعلان خالق کائنات نے کر دیا۔ اب کسی شخص کے الہام اس دین میں کوئی اضافہ نہیں کر سکتے۔

دین کی ان سیدھی تعلیمات کے مقابلے میں ہر منطقی الجھاؤ محض مغالطہ ہے۔ ہمیں یہ بات نہیں بھولنا چاہیے کہ جہاں مجددین اور مصلحین آتے رہے ہیں، وہیں کاذب اور جھوٹے دکانداروں کا سلسلہ بھی چلتا رہا ہے اور یہ جھوٹے لوگ اپنے پیروکاروں کی اچھی خاصی جماعت بھی بناتے رہے ہیں۔

مستند اور سچے دین کی پیروی ہی میں نجات ہے۔ نبی کریم ﷺ اللہ کے سچے اور آخری پیغمبر ہیں۔ ہم براہ راست ان کے امتی ہیں۔ جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ **رسول اللہ ﷺ کی

    عقیدہ ختمِ نبوت ﷺ — مستند علم، واضح رہنمائی

    اپنے سوال پوچھیں Urdu | English | Arabic میں