عاشقان ختم نبوت: تحریک ختم نبوت کے مجاہدین کی داستان جرأت
یہ مضمون عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور 1953ء کی تحریک ختم نبوت کے مجاہدین کی قربانیوں کو بیان کرتا ہے۔ عاشقان رسول ﷺ کی ایمان افروز داستانیں اور ان کی جان نثاری کے واقعات شامل ہیں جنہوں نے ناموس رسالت کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔
متعلقہ موضوعات
عاشقان ختم نبوت: تحریک ختم نبوت کے مجاہدین کی داستان جرأت
تحریر: قاری جنید احمد فردوسی
تخصص: اسلامی تاریخ، تحریک ختم نبوت
خلاصہ
یہ مضمون عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور 1953ء کی تحریک ختم نبوت کے مجاہدین کی قربانیوں کو بیان کرتا ہے۔ عاشقان رسول ﷺ کی ایمان افروز داستانیں اور ان کی جان نثاری کے واقعات شامل ہیں جنہوں نے ناموس رسالت کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔
الحمد للہ! ہم مسلمان ہیں۔ ختم نبوت پر ہمارا کامل ایمان ہے۔ عقیدہ ختم نبوت ہر مسلمان کی پہچان ہے۔ حضور اکرم ﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں۔ اس عقیدے پر امت مسلمہ کے تمام افراد متفق ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد جو بھی دعویٰ نبوت کرے، وہ کذاب، دجال اور مفتری ہے۔
اس عقیدے پر ایک سو آیات قرآنی اور دو سو سے زائد احادیث مبارکہ دلالت کرتی ہیں۔ حضور ﷺ پر نازل ہونے والی کتاب خاتم الکتب السماوی، حضور ﷺ کا دین خاتم الادیان، حضور ﷺ کی شریعت خاتم الشرائع، حضور ﷺ خاتم الانبیاء اور حضور ﷺ کی نبوت آخری نبوت ہے۔
آنحضرت خاتم النبیین ﷺ کی آمد مبارکہ کے بعد نبوت و رسالت کا دروازہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا۔ خود محسن انسانیت ﷺ نے فرمایا:
"(قصر نبوت کی) آخری اینٹ میں ہوں اور میرے آنے کے بعد قصر نبوت اپنی تکمیل کو پہنچ گیا اور میں آخری نبی ہوں۔” (صحیح بخاری، باب خاتم النبیین، ج1 ص 501)
تاریخی پس منظر: قادیانیت کا فتنہ
عہد رسالت سے لے کر آج تک سینکڑوں بد نصیبوں نے نبوت کے دعوے کیے۔ لیکن تاریخ اسلام شاہد ہے کہ جب بھی کسی بدباطن نے تاج ختم نبوت کی طرف للچائی ہوئی نظروں سے دیکھا، تو غیور مسلمانوں نے ایسے بدبخت کو اللہ کی زمین پر گوارہ نہیں کیا۔
سرزمین ہندوستان میں جب انگریزوں کے تاریک دور میں کفر و الحاد کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا تھا اور اسلام کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے سر توڑ کوششیں کی جا رہی تھیں، اس ملحدانہ دور میں اسلام پر کاری ضرب لگانے کے لیے جعلی نبوت کی بھیانک سازش تیار کی گئی۔
اشارہ فرنگی پر ایک ضمیر فروش میرزا غلام قادیانی نے 1901ء میں نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا۔ پاکستان بننے کے بعد قادیانیوں نے پاکستان میں قادیانیت کو نئی بنیادوں پر استوار کیا اور قادیانیوں کے مشن ارتداد کو چلانے کے لیے راستہ ہموار کیا۔
ظفر اللہ قادیانی نے انہیں کلیدی عہدوں پر بٹھایا اور مجاہدین ختم نبوت کو خون کے آنسو رلایا گیا۔ آج بھی غلامان محمد ﷺ کو تکلیفیں دے دے کر ستایا جا رہا ہے لیکن قادیانیت کو بچایا جا رہا ہے۔
حالات کی ان سختیوں اور چیرہ دستیوں کے باوجود خدام ختم نبوت باغیان ختم نبوت سے ہر محاذ پر معرکہ زن ہیں اور قادیانیت کے صنم کدے ویران ہو رہے ہیں۔ محمد عربی ﷺ کے پروانوں کا یہ اعلان ہے کہ اب دجل و فریب سے مرکب قادیانیت کی قباء کو چاک کیا جائے گا۔
تحریک ختم نبوت 1953ء کے ایمان افروز واقعات
عمل کا وقت: ایک طالب علم کی جرأت
1953ء کی تحریک ختم نبوت میں ایک طالب علم ہاتھ میں کتابیں لیے کالج جا رہا تھا۔ سامنے تحریک کے شرکاء پر گولیاں چل رہی تھیں۔ کتابیں رکھ کر جلوس کی طرف بڑھا۔ کسی نے پوچھا یہ کیا؟ جواب میں کہا:
"آج تک پڑھتا رہا ہوں، آج عمل کرنے جا رہا ہوں۔”
جاتے ہی ران پر گولی لگی، گر گیا۔ پولیس والے نے آ کر اٹھایا تو شیر کی طرح گرج دار آواز میں کہا:
"گولی ران پر کیوں ماری ہے؟ عشق مصطفیٰ ﷺ تو دل میں ہے۔ یہاں دل پر گولی مارو کہ قلب و جگر کو سکون ملے۔”
اسی تحریک ختم نبوت میں لاہور کی سڑکوں پر ایک مسلمان دیوانہ وار "ختم نبوت زندہ باد” کے نعرے لگا رہا تھا۔ پولیس نے پکڑ کر تھپڑ مارا، اس پر اس نے پھر ختم نبوت زندہ باد کا نعرہ لگایا۔ پولیس نے بندوق کا بٹ مارا، اس نے پھر نعرہ لگایا۔
وہ مارتے رہے، یہ نعرہ لگاتا رہا۔ اسے اٹھا کر گاڑی میں ڈالا، یہ زخموں سے چور چور پھر بھی "ختم نبوت زندہ باد” کے نعرے لگاتا رہا۔ اسے گاڑی سے اتارا گیا تو بھی نعرہ لگاتا رہا۔
اسے فوجی عدالت میں لایا گیا۔ اس نے عدالت میں آتے ہی ختم نبوت کا نعرہ لگایا۔ فوجی نے کہا "ایک سال سزا”۔ اس نے سال کی سزا سن کر پھر ختم نبوت کا نعرہ لگایا۔ اس نے سزا دو سال کر دی۔ اس نے پھر یہ نعرہ لگایا۔
غرضیکہ فوجی سزا بڑھاتا رہا اور یہ مسلمان نعرہ ختم نبوت بلند کرتا رہا۔ فوجی عدالت جب بیس سال پر پہنچی اور دیکھا کہ بیس سال کی سزا سن کر یہ پھر بھی نعرے سے باز نہیں آ رہا تو فوجی عدالت نے کہا:
"باہر لے جا کر گولی مار دو۔”
اس نے گولی کا نام سن کر دیوانہ وار رقص شروع کر دیا اور ساتھ ہی "ختم نبوت زندہ باد” کے فلک شگاف ترانے سے ایمان پرور وجد آفریں کیفیت طاری کر دی۔ یہ حالت دیکھ کر عدالت نے کہا:
"یہ تو دیوانہ ہے، اسے رہا کر دو۔”
اس نے رہائی کا حکم سن کر پھر نعرہ لگایا: "ختم نبوت زندہ باد!”
اذان: نو شہداء کی عظیم قربانی
معلوم ہوا کہ اسی تحریک میں کرفیو لگ گیا۔ اذان کے وقت ایک مسلمان کرفیو کی خلاف ورزی کر کے آگے بڑھا۔ مسجد میں پہنچ کر اذان دی۔ ابھی "اللہ اکبر” کہہ پایا تھا کہ گولی لگی، ڈھیر ہو گیا۔
دوسرا مسلمان آگے بڑھا۔ اس نے "اشہد ان لا الہ الا اللہ” کہا تھا کہ گولی لگی، ڈھیر ہو گیا۔
تیسرا مسلمان آگے بڑھا۔ ان کی لاشوں پر کھڑا ہو کر "اشہد ان محمداً رسول اللہ” کہا کہ گولی لگی، ڈھیر ہو گیا۔
چوتھا آدمی بڑھا۔ تینوں کی لاشوں پر کھڑا ہو کر "اشہد ان محمداً رسول اللہ” کہا کہ گولی لگی، ڈھیر ہو گیا۔
پانچواں مسلمان بڑھا۔ غرض یہ کہ باری باری نو مسلمان شہید ہو گئے مگر اذان پوری کر کے چھوڑی۔
خدا رحمت کند این عاشقان پاک طینت را (اللہ ان پاک طینت عاشقوں پر رحم فرمائے)
فرض کفایہ اور فرض عین: مولانا غلام غوث ہزاروی کا عظیم کردار
زین العابدین مجاہد ملت مولانا غلام غوث ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ کا اکلوتا بیٹا تھا۔ شدید بیمار ہو گیا۔ مولانا اپنے لخت جگر کو دوائی دے رہے تھے۔ اسی اثناء میں دروازے پر دستک ہوئی۔
مولانا باہر نکلے تو دیکھا کہ ایک آدمی کھڑا ہے۔ اس نے درخواست کی:
"فلاں مقام پر ایک بدنام زمانہ اور خطرناک قادیانی مبلغ اللہ دتہ گھس آیا ہے اور لوگوں کو اپنے دام فریب میں پھنسا رہا ہے۔ فتنہ پھیلنے کا انتہائی اندیشہ ہے۔ لہذا فوراً چلیے۔”
مولانا نے کتابوں کا ایک بیگ اٹھایا اور چل پڑے۔ بیوی نے کہا:
"بچے کی حالت خراب ہے۔”
فرمایا: "ضروری کام ہے۔ میرے جانے کے بعد بچہ مر جائے تو دفن کر دینا۔”
ابھی سواری پر سوار ہوئے ہی تھے کہ گھر کی طرف سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور کہنے لگا:
"آپ کا نور نظر فوت ہو گیا ہے۔”
لیکن عاشق رسول ﷺ نے جواب دیا:
"میرے فرزند کو کفن پہنا کر دفن کر دیں۔ میں اپنے مشن پر جا رہا ہوں۔”
اور فرمایا:
"نماز جنازہ فرض کفایہ ہے اور تحفظ ناموس رسالت ﷺ فرض عین۔"
وہاں پہنچ کر قادیانی مردود کو اس علاقے سے ذلیل و خوار کر کے نکالا۔
عاشقان ختم نبوت کا پیغام
یہ واقعات عاشقان رسول ﷺ کی ایمان اور جذبہ عشق کا مظاہرہ ہیں۔ انہوں نے ناموس رسالت ﷺ کی خاطر اپنی جانیں، مال، اولاد سب کچھ قربان کر دیا۔ یہ مجاہدین ختم نبوت کی قربانیاں امت مسلمہ کے لیے مشعل راہ ہیں۔
آج بھی جب قادیانیت کا فتنہ سر اٹھانے کی کوشش کرتا ہے تو یہ عاشقان رسول ﷺ کی روحیں علماء حق اور مجاہدین ختم نبوت میں جوش ایمانی پیدا کرتی ہیں۔
عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ یہ آخری نبی ﷺ کی ناموس اور رسالت کی عظمت کا مسئلہ ہے۔ جو لوگ اس مقدس عقیدے پر حملہ کرتے ہیں، وہ دراصل اسلام کی بنیادوں پر کلہاڑی چلاتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو عقیدہ ختم نبوت پر ثابت قدم رکھے اور نبی آخر الزمان ﷺ کی سچی محبت اور اتباع کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
عمومی سوالات
تحریک ختم نبوت کب شروع ہوئی؟
1953ء میں پاکستان میں تحریک ختم نبوت شروع ہوئی جب قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا۔
عقیدہ ختم نبوت کیوں اہم ہے؟
یہ اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ آخری نبی ہیں۔ اس کے بغیر ایمان مکمل نہیں۔
کیا قادیانی مسلمان ہیں؟
نہیں، کیونکہ وہ میرزا قادیانی کو نبی مانتے ہیں جو عقیدہ ختم نبوت کے خلاف ہے۔
متعلقه مضامین:
- میرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت اور اس کا انجام
- قادیانی جماعت قادیانیوں کی نظر میں مسترد
- عقیدہ ختم نبوت کی قرآنی بنیادیں
