ختم نبوت پر احادیث – مستند دلائلتفصیل دیکھیں

رابطہ عالم اسلامی کی قرارداد |مرزائیت کے کفر پر اجماع امت

رابطہ عالم اسلامی کی مکہ مکرمہ کانفرنس میں قادیانیت کے خلاف منظور شدہ قرارداد، جس میں امت مسلمہ نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا۔

متعلقہ موضوعات

رابطہ عالم اسلامی کی قرارداد |مرزائیت کے کفر پر اجماع امت

مکہ مکرمہ، جو مرکزِ اسلام اور روحانی وحدت کی علامت ہے، میں ربیع الاول 1394ھ مطابق یکم اپریل 1984ء کو ایک تاریخی اجلاس منعقد ہوا۔
اس اجلاس میں عالمِ اسلام کی 144 مذہبی و دینی تنظیموں کے نمائندے شریک ہوئے، جو مراکش سے لے کر انڈونیشیا تک پھیلے ہوئے تھے۔

یہ اجتماع قادیانیت (مرزائیت) کے بارے میں امتِ مسلمہ کے تازہ ترین اجماع کا مظہر تھا۔
اس میں قادیانیت کے بارے میں جو قرارداد منظور ہوئی، وہ اسلامی عقیدے کے تحفظ اور ختمِ نبوت کے دفاع میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔

ذیل میں اس قرارداد کا ترجمہ اور اس کی تفصیل درج ہے:


1. قادیانیت کا باطل عقیدہ اور دعویٔ نبوت

قرارداد میں واضح کیا گیا کہ قادیانیت ایک باطل اور گمراہ فرقہ ہے،
جو اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلام کی جڑوں کو کمزور کرنا چاہتا ہے۔
اس کے بانی نے جھوٹا دعویٔ نبوت کیا، جس سے ختمِ نبوت کے ابدی عقیدے کی نفی ہوتی ہے۔

اسلام میں حضور نبی کریم ﷺ کے بعد کسی نبی کے آنے کا تصور کفر ہے،
اور جو شخص اس عقیدے کا انکار کرے وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔
قادیانیت کا یہ دعویٰ امتِ مسلمہ کے اجماعی عقیدے کے خلاف ہے،
اس لیے اسے اسلام سے انحراف اور بغاوت قرار دیا گیا۔


2. قرآنِ مجید میں تحریف — ایمان کے بنیادی اصولوں پر حملہ

قرارداد میں کہا گیا کہ قادیانیوں نے قرآنی آیات کے معانی بدلنے اور تحریف کی ناپاک جسارت کی۔
انہوں نے وحیِ الٰہی کے بعض حصوں کو اپنے جھوٹے عقائد سے ہم آہنگ کرنے کے لیے گھڑی ہوئی تاویلیں پیش کیں۔

یہ طرزِ عمل قرآن کے احترام کے منافی ہے،
کیونکہ قرآن مجید وہ الہامی کلام ہے جو محفوظ اور ناقابلِ تحریف ہے۔
قادیانیوں کی یہ حرکت اسلام کے بنیادی ماخذ پر حملہ اور امت کے عقیدے میں بگاڑ پیدا کرنے کی سازش ہے۔


3. جہاد کے باطل ہونے کا فتویٰ — امت کی غیرتِ ایمانی پر ضرب

قرارداد میں کہا گیا کہ قادیانیت نے جہاد کے فریضے کو باطل اور منسوخ قرار دیا،
جو دراصل اسلام کی قوت اور دفاعی روح کو ختم کرنے کی دانستہ کوشش تھی۔

جہاد اسلام میں ظلم کے خلاف مزاحمت اور امن کے قیام کا ذریعہ ہے۔
قادیانیوں نے برطانوی استعمار کے مفادات کی خاطر مسلمانوں میں غیرتِ ایمانی کو مٹانے کی مہم چلائی،
تاکہ امت کمزور ہو کر اسلام دشمن قوتوں کے سامنے جھک جائے۔
یہ فتویٰ سیاسی غلامی کو مذہبی رنگ دینے کی سازش تھی،
جس کا مقصد امت کو کمزور کرنا اور اسلام کو بے اثر بنانا تھا۔


4. استعمار کی آغوش میں پرورش اور اسلام دشمن سرگرمیاں

قرارداد میں بیان کیا گیا کہ قادیانیت کی بنیاد برطانوی سامراج نے رکھی
اور اسی نے اس فتنے کو اپنے مفادات کے لیے پروان چڑھایا۔

قادیانی اسلام دشمن طاقتوں کے ساتھ مل کر امتِ مسلمہ کے خلاف سازشوں میں شریک ہیں۔
ان کی سرگرمیوں میں شامل ہیں:

  • دنیا بھر میں مساجد کے نام پر ارتداد کے مراکز قائم کرنا،
  • مدارس، سکولوں، یتیم خانوں اور امدادی اداروں کے نام پر غیر مسلم طاقتوں سے مالی مدد لینا،
  • مختلف زبانوں میں تحریف شدہ قرآن مجید شائع کر کے عوام کو گمراہ کرنا۔

یہ تمام سرگرمیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ قادیانیت محض ایک مذہبی فتنہ نہیں بلکہ سیاسی اور فکری سازش ہے،
جس کا مقصد اسلام کو کمزور کرنا اور امتِ مسلمہ کو انتشار میں مبتلا رکھنا ہے۔


  1. اسلامی تنظیموں کی ذمہ داری:
    دنیا بھر کی تمام اسلامی تنظیموں اور اداروں پر لازم ہے کہ وہ قادیانیوں کی ہر سرگرمی، مرکز اور فنڈنگ پر نگاہ رکھیں،
    اور ان کی درپردہ سازشوں کو امت کے سامنے واضح اور دلائل سے بے نقاب کریں۔
  2. قادیانیوں کا غیر مسلم قرار دینا:
    امتِ مسلمہ متفقہ طور پر اعلان کرتی ہے کہ قادیانی کافر اور خارج از اسلام ہیں۔
    انہیں حرمین شریفین یا دیگر مقدس مقامات میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی،
    اور مسلمان ان سے سماجی، معاشی یا خاندانی تعلقات قائم نہ کریں۔
  3. اسلامی ممالک کے لیے رہنما اصول:
    تمام اسلامی حکومتوں پر لازم ہے کہ وہ قادیانیوں کی اسلام دشمن سرگرمیوں پر مکمل پابندی لگائیں،
    ان کے وسائل و ادارے ضبط کریں اور کسی قادیانی کو ذمہ دارانہ عہدہ نہ دیا جائے۔
  4. تحریف شدہ قرآن سے عوام کو آگاہ کرنا:
    مسلمانوں کو قادیانیوں کے تحریف شدہ تراجم قرآن سے خبردار کیا جائے،
    ان نسخوں کی ترویج پر فوری بندش لگائی جائے،
    اور عوام میں قرآنِ کریم کے اصل اور مستند نسخوں کی تعلیم عام کی جائے۔

پاکستان کی پارلیمنٹ نے 7 ستمبر 1974ء کو متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ آف پاکستان نے 3 جولائی 1993ء کو قادیانیوں کی اپیل مسترد کرتے ہوئے
پارلیمنٹ اور وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کی توثیق کی —
یوں ریاستی سطح پر بھی قادیانیت کے کفر پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی گئی۔


قرارداد کے اختتام پر یہ پیغام دیا گیا کہ قادیانی کسی بھی سطح پر مسلمانوں کے نمائندہ نہیں ہو سکتے۔
جو قوتیں یا ادارے انہیں مسلمانوں کا نمائندہ قرار دیتے ہیں، وہ امتِ مسلمہ کے جذبات کو مجروح کرتے ہیں۔

قادیانیت کا مسئلہ مسیحیت یا یہودیت کی طرح مذہبی اختلاف کا نہیں بلکہ عقیدے کی بنیاد پر فتنہ ہے۔
کیونکہ قادیانی ایک ایسے شخص کو نبی مانتے ہیں جو جھوٹا مدعیِ نبوت تھا۔

مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ حق و باطل میں امتیاز قائم رکھیں
اور کسی عالمی پلیٹ فارم پر قادیانیوں کو مسلمانوں کا نمائندہ تسلیم نہ کریں۔

اللہ تعالیٰ امتِ مسلمہ کو بصیرت عطا فرمائے،
اسلام اور عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ کے لیے استقامت بخشے۔
آمین۔


    عقیدہ ختمِ نبوت ﷺ — مستند علم، واضح رہنمائی

    اپنے سوال پوچھیں Urdu | English | Arabic میں