نبی کی پہچان - وحی الہی اور عقیدہ ختم نبوت کی قرآنی تشریح!
نبی کی پہچان کیا ہے؟ وحی الہی اور نبوت کی تفصیلی تشریح۔ قرآن مجید میں ختم نبوت کے دلائل۔ میثاق انبیاء اور حضرت محمد رسول اللہﷺ کی شان مصدقیت۔ قرآنی آیات کی روشنی میں مکمل وضاحت۔
متعلقہ موضوعات
نبی کی پہچان - وحی الہی اور عقیدہ ختم نبوت کی قرآنی تشریح!
نبی کی پہچان!
تحریر: صاحبزادہ طارق محمود | تخصص: اسلامی علوم و تفسیر
خلاصہ
یہ مضمون نبی کی پہچان اور عقیدہ ختم نبوت کی قرآنی تشریح فراہم کرتا ہے۔ وحی الہی کیا ہے، نبی اور غیر نبی میں کیا فرق ہے، اور قرآن مجید میں ختم نبوت کے دلائل کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ میثاق انبیاء اور حضرت محمد رسول اللہﷺ کی شان مصدقیت کو قرآنی آیات کی روشنی میں واضح کیا گیا ہے۔
”نزل علیک الکتاب بالحق مصدقا لما بین یدیہ وانزل التوراۃ والانجیل” (سورۃ آل عمران:3)
ترجمہ: ”اس نے آپﷺ پر کتاب نازل فرمائی جو حق و صداقت پر مشتمل ہے۔ وہ کتاب ان کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے نازل ہو چکی ہیں اور اس نے تورات اور انجیل کو اس کتاب سے پہلے لوگوں کی ہدایت کے واسطے نازل کیا تھا۔”
نبی اور غیر نبی کا فرق
نبی اور غیر نبی میں کیا فرق ہے؟ اور یہ کہ نبی کی پہچان کیا ہے؟ نبی اور غیر نبی میں فرق فقط وحی الہی ہے۔ اللہ تعالیٰ منصب رسالت پر فائز اپنے برگزیدہ بندے سے جو کلام کرتا ہے شریعت کی زبان میں اسے وحی کہا جاتا ہے۔ اس وحی الہی کا نام نبوت ہے۔
وحی اللہ تعالیٰ کا ایسا انعام ہے جو پیغمبر کو تمام انسانوں پر ممتاز اور منفرد بنا دیتا ہے۔ یہ شرف اور فضیلت صرف نبی کو حاصل ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے ہم کلام ہوتے ہیں، جبکہ عام انسان اس نعمت سے محروم ہے۔ یہ اعزاز صرف انبیاء کے لیے مخصوص ہے کہ مالک کائنات ان سے مخاطب ہو کر کلام کرتا ہے۔
کسی مقبول بندے سے اللہ تعالیٰ کے کلام کرنے کی تین صورتیں ہیں:
”وما کان لبشر ان یکلمہ اللہ الا وحیا او من ورآی حجاب او یرسل رسولا” (سورۃ شوریٰ:51)
ترجمہ: ”اور کسی بشر کے لیے یہ ممکن نہیں کہ خدا اس سے کلام کرے، الا یہ کہ الہام کے ذریعے سے یا پردے کے پیچھے یا کسی رسول کو بھیج دے۔”
وحی کی تین صورتیں
پہلی صورت: اللہ تعالیٰ اپنے پاک بندے (پیغمبر) کے دل پر اپنا کلام نازل کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ کلام صورت معنی کے ہوتا ہے جنہیں وہ الفاظ کا جامہ پہنا کر اپنی زبان سے ادا کرتا ہے اور اسے لوگوں تک پہنچاتا ہے۔ اس صورت میں زبان نبی کی ہوتی ہے اور کلام اللہ تعالیٰ کا ہوتا ہے۔
دوسری صورت: اللہ تعالیٰ اپنے برگزیدہ بندے سے براہ راست ہم کلام ہوتا ہے۔ اسے قرآن میں ”او من ورآی حجاب” کا نام دیا گیا ہے۔ یعنی کلام کرنے والی ذات اقدس پردہ حجاب میں ہوتی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کا یہ محبوب بندہ اس کے شرف ہم کلامی سے اس طرح لطف اندوز ہوتا ہے جیسے کوہ طور پر اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دکھائی دیے بغیر براہ راست ہم کلام ہوا کرتے تھے۔
تیسری صورت: اللہ تعالیٰ فرشتے کو اپنا کلام دے کر اس کی طرف بھیجتا ہے جو اس کے دل پر اللہ تعالیٰ کا کلام نازل کرتا ہے۔
”نزل بہ الروح الامین علیٰ قلبک لتکون من المنذرین” (سورۃ شعراء:194،193)
ترجمہ: ”اسے لے کر روح الامین نے تمہارے دل پر اتارا، تاکہ تم ڈرنے والوں میں سے ہو جاؤ۔”
امانت دار فرشتہ
دیکھیے یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ پروردگار عالم نے وحی لانے والے فرشتے کو امین قرار دیا ہے، تاکہ یہ شبہ دور ہو جائے کہ وہ فرشتہ وحی لانے میں خیانت کرتا ہے اور وحی وہیں پہنچاتا ہے جہاں کا اسے حکم دیا جائے۔
وحی کی پہلی دو صورتوں میں اللہ تعالیٰ بشر سے ہم کلام ہوتا ہے، لہذا اس کلام میں خیانت کا احتمال نہیں ہو سکتا۔ وحی کی تیسری قسم براہ راست نہ تھی بلکہ فرشتے کی معرفت تھی۔ اس لیے جہاں شک و شبہ کے پیدا ہونے کا امکان تھا، وہاں اللہ تعالیٰ نے اس شبہ کو دور کر دیا کہ فرشتہ امین ہے۔
اللہ تعالیٰ نے حضور سرور کائناتﷺ پر بھیجے جانے والے کلام کی تائید بھی فرمائی اور اس کی حفاظت کا وعدہ بھی کیا:
”انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون” (سورۃ حجر:9)
ترجمہ: ”ہم نے یہ کلام نازل کیا اور اب ہم خود اس کی حفاظت کریں گے۔”
نبی کی پہچان کیا ہے؟
اللہ تعالیٰ کے کلام کرنے کی تین صورتیں ہیں۔ ہر صورت میں اللہ کا کلام مطلق وحی کہلاتا ہے۔ یہی نبوت ہے۔ پس ثابت ہوا کہ نبی اور غیر نبی کا امتیاز وحی الہی ہے۔ اس فرق کو قرآن مجید میں یوں بیان کیا گیا ہے:
”قل انما انا بشر مثلکم یوحیٰ الی” (سورۃ حم سجدہ:6)
ترجمہ: ”کہہ دیجیے میں تمہارے جیسا آدمی ہوں۔ فرق صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے۔”
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نبی کا مقام واضح کیا ہے۔ نظر بظاہر نبی کی معاشرتی و سماجی زندگی نفس بشریت کے مطابق ہوتی ہے، لیکن نبی اللہ تعالیٰ کا ایسا پاک بندہ اور اعلیٰ انسان ہوتا ہے جس سے مالک کائنات ہم کلام ہوتے ہیں۔
وحی کے ملنے سے نبوت عطا ہوتی ہے۔ نبوت اور وحی کی تصدیق کے لیے اللہ تعالیٰ انبیاء کو معجزات عطا کرتے ہیں، تاکہ وہ لوگوں کو اپنی نبوت و رسالت کے لیے قائل کر سکیں۔ نبی کا وہ فعل جو انسانوں کی عقل کو عاجز کر دے معجزہ کہلاتا ہے۔ دنیا میں جتنے انبیائے کرام علیہم السلام مبعوث ہوئے وہ صاحب وحی اور صاحب معجزہ تھے۔ یہی نبی کی پہچان ہے۔
قرآن اور ختم نبوت
قرآن مجید رشد و ہدایت کی ایسی دستاویز ہے جس میں تمام مسائل کا حل موجود ہے۔ اس الہامی سند میں ختم نبوت کا عقیدہ بھی بڑے واضح انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ قرآن مجید نور ہدایت ہے جو شک و شبہ سے بالاتر ہے۔
علمائے کرام کا کہنا ہے کہ اگر قرآن مجید سارا نازل نہ ہوتا تو پہلے پارے کا پہلا رکوع ہی انسانوں کی ہدایت اور راہنمائی کے لیے کافی تھا۔ حسن اتفاق کہ پہلے پارے کے آغاز میں ہی ختم نبوت کے فلسفے کا ایک نمایاں پہلو بھی بیان کیا گیا ہے:
”والذین یومنون بما انزل الیک وما انزل من قبلک” (سورۃ بقرہ:4)
ترجمہ: ”ایمان لائے ہر اس شے پر جو آپﷺ پر نازل کی گئی اور ہر اس شے پر جو آپﷺ سے قبل نازل کی گئی۔”
دو طرح کی وحی
یہاں اہل ایمان کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ ایمان والے وہ ہیں جو ایمان لاتے ہیں اس وحی پر جو حضور اکرمﷺ پر نازل ہوئی اور آپﷺ سے پہلے نبیوں پر نازل ہوئی۔ معلوم ہوا کہ وحی دو طرح کی ہے:
- ایک وہ وحی جو سرکار دو عالمﷺ پر اتری
- دوسری وہ وحی جو آقائے نامدارﷺ سے پہلے انبیائے کرام علیہم السلام پر اتری
وحی ایمان ہے اور اس کا انکار کفر ہے۔ جن دو طرح کی وحیوں کا ذکر قرآن مجید میں آتا ہے بحیثیت مسلمان ہمارا ان کو ماننا اور ان پر ایمان لانا فرض ہے۔
اگر جناب رسالت مآبﷺ کے بعد کسی وحی کا نزول ممکن ہوتا یا حضور اقدسﷺ کے بعد کوئی چیز لائق ایمان ہوتی تو ظاہر ہے کہ اس کا ماننا ایمان ہوتا اور انکار کفر ہوتا۔ لیکن ایمان لانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے صرف دو طرح کی وحیوں کو شرط ٹھہرایا ہے۔ کسی تیسری وحی کا ذکر قرآن مجید میں نہیں ملتا۔
قرآن کی ترتیب میں حکمت
دین کے طالب علم کی حیثیت سے یہاں ایک سوال ذہن میں آتا ہے کہ ہمیشہ قاعدہ کلیہ یہ رہا ہے کہ پہلی چیز کا ذکر پہلے اور بعد کی چیز کا ذکر بعد میں کیا جاتا ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ آیات قرآنی میں پہلے نازل شدہ وحی کا ذکر پہلے ہوتا اور تاجدار ختم نبوتﷺ پر اترنے والی وحی کا ذکر بعد میں ہوتا۔
لیکن قرآن مجید میں ترتیب بدل گئی۔ خدا تعالیٰ نے اپنے محبوبﷺ پر نازل ہونے والی وحی کا ذکر پہلے کیا، حالانکہ آپﷺ پر وحی سب سے آخر میں اتری۔ سرکار دو عالمﷺ کی ذات اقدس اور وحی کا ذکر پہلے اور سابقہ انبیائے کرام علیہم السلام اور ان کی وحی کا ذکر بعد میں کیے جانے میں ختم نبوت کے فلسفے کا ایک نمایاں پہلو موجود ہے۔
اللہ تعالیٰ امام الانبیاءﷺ کی وحی کا ذکر پہلے کر کے آپﷺ کی شان، عظمت، فضیلت اور رتبہ کو اجاگر کر رہے ہیں۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ فخر کائناتﷺ ایسے خاتم الرسل ہیں کہ آپﷺ کی وحی بعد میں نازل ہوئی اور آپﷺ بے شک سب کے بعد تشریف لائے، لیکن مقام و مرتبہ کا تقاضا یہ ہے کہ جن پر نبوت و رسالت کی انتہا ہو گئی جن کے بعد وحی کا دروازہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا، اس محبوب دو عالمﷺ کا ذکر پہلے کیا جائے۔
دو طرح کی کتابیں
جس طرح قرآن مجید دو طرح کی وحیوں کا ذکر کرتا ہے اسی طرح قرآن مجید نے دو طرح کی کتابوں کے بارے میں بتایا ہے:
”یا ایھا الذین آمنوا آمنوا باللہ ورسولہ والکتاب الذی نزل علیٰ رسولہ والکتاب الذی انزل من قبل” (سورۃ النساء:136)
ترجمہ: ”اے ایمان والو! تم اللہ پر اور اس کے رسولﷺ پر اور اس کتاب پر جو اللہ نے اپنے رسولﷺ پر نازل کی ہے اور ان کتابوں پر جو پہلے نازل فرمائی تھیں ایمان لاؤ۔”
پس معلوم ہوا کہ کتابیں دو طرح کی نازل ہوئیں:
- ایک وہ کتاب جو آقائے نامدارﷺ پر نازل ہوئی
- دوسری وہ کتابیں جو آپﷺ سے پہلے نازل ہوئیں
انہی دو قسم کی کتابوں پر ایمان لانا ضروری ہے۔ اگر سرکار دو عالمﷺ کے بعد کسی اور کتاب کے آنے کا امکان ہوتا تو اللہ تعالیٰ نے جہاں حضور اکرمﷺ کی کتاب اور آپﷺ سے پہلے انبیائے کرام علیہم السلام کی کتابوں کا ذکر کیا ہے وہاں بعد میں آنے والی کتاب کا ذکر بھی کر دیتے۔
قرآن کتاب مصدق
قرآن مجید سے قبل جتنی آسمانی کتابیں اور وحی نازل ہوئی ان پر ایمان لانا ضروری ہے۔ قرآن مجید سے قبل انسانوں کی ہدایت کے لیے جتنی کتابیں نازل ہوئیں وہ اپنی حقیقی شکل سے محروم ہو گئیں۔ کیونکہ وقت کے ساتھ ساتھ ان میں ردوبدل اور ترمیم و اضافہ کیا جاتا رہا۔
اب حق تعالیٰ کی بھیجی ہوئی وحی اور کتابوں کی تصدیق کی ضرورت محسوس ہوئی۔ چنانچہ قرآن مجید نازل ہوا تو اس نے سابقہ کتب آسمانی کی صداقت و حقانیت پر مہر تصدیق ثبت کر دی:
”نزل علیک الکتاب بالحق مصدقا لما بین یدیہ وانزل التوراۃ والانجیل” (سورۃ آل عمران:3)
ترجمہ: ”اس نے آپﷺ پر کتاب نازل فرمائی جو حق و صداقت پر مشتمل ہے۔ وہ کتاب ان کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے نازل ہو چکی ہیں اور اس نے تورات اور انجیل کو اس کتاب سے پہلے لوگوں کی ہدایت کے واسطے نازل کیا تھا۔”
معلوم ہوا کہ قرآن مجید خود وحی ہے اور سابقہ وحیوں کی تصدیق کرتا ہے۔ خود کتاب ہے اور پہلی ان تمام کتابوں کی تصدیق کرتا ہے جو انسانوں کی فلاح و نجات اور رشد و ہدایت کے لیے نازل ہوئی تھیں۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کے فرمان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قرآن مجید کو شان مصدق (تصدیق کرنے والا) عطا فرمائی گئی۔ قرآن مجید خدا تعالیٰ کی وہ کتاب ہے جو سب سے آخر میں نازل ہوئی اور اسے اس شان و شوکت سے نازل کیا گیا کہ اس کی تائید سے سب کتابوں کا برحق ہونا ثابت ہوا۔
قرآن کی شان مصدقیت
تمام آسمانی کتابوں میں سے یہ اعزاز صرف قرآن مجید کو ہی حاصل ہے کہ اسے صرف کتاب ہی نہیں بلکہ کتاب مصدق بنا کر نازل کیا گیا۔ اس لیے اب ضروری ہو گیا کہ ہر وحی اور ہر کتاب کی اصلیت و حقیقت کو جاننے کے لیے قرآن مجید کی طرف رجوع کیا جائے۔
نتیجہ یہ نکلا کہ:
- وحی وہی پاس ہو گی جس کی تصدیق قرآن مجید کرے گا
- کتاب وہی لائق ایمان ہو گی جس کی تصدیق قرآن مجید کرے گا
- تعلیم وہی تسلیم کی جائے گی جس کی تصدیق قرآن مجید کرے گا
- ہدایت وہی قابل ایمان ہو گی جس کی تصدیق قرآن مجید کرے گا
قرآن مجید نے اپنی شان مصدقیت کے اعتبار سے صرف دو طرح کی وحیوں، کتابوں، تعلیمات اور ہدایات کی تصدیق کی ہے۔ اگر کوئی تیسری چیز لائق ایمان ہوتی تو قرآن اپنی حیثیت کے مطابق ضرور بولتا۔
لہذا قرآن مجید خود اپنی وحی اور سابقہ انبیاء کی وحیوں پر مہر تصدیق ثبت کرتا ہے، لیکن کسی آنے والی وحی کی نہ تصدیق کرتا ہے اور نہ تائید کرتا ہے اور نہ ہی اس کا ذکر کرتا ہے۔
حضور اکرمﷺ نبی مصدق
ہمارا عقیدہ اور ایمان ہے کہ حضورﷺ تمام نبیوں میں افضل و اعلیٰ ہیں اور اللہ تعالیٰ کے آخری رسول ہیں۔ آپﷺ پر نازل ہونے والی کتاب بھی آخری کتاب ہے۔
جس طرح اللہ رب العزت نے رحمت دو عالمﷺ کو منفرد رتبہ و مقام عطا فرمایا اسی طرح آپﷺ کو کتاب بھی منفرد عطا فرمائی۔ تمام کتب سماوی میں جو مقام قرآن مجید کا ہے تمام انبیائے کرام علیہم السلام میں وہی مقام رحمت دو عالمﷺ کا ہے۔
- قرآن مجید مصدق بنا تو تمام پہلی کتابوں کی تصدیق ہو گئی اور وہ لائق ایمان ٹھہریں
- فخر دو عالمﷺ مصدق انبیائے کرام علیہم السلام بنے تو تمام پہلے نبیوں کی تصدیق ہو گئی
خلاصہ یہ کہ قرآن مجید بھی مصدق، صاحب قرآن بھی مصدق۔
میثاق انبیائے کرام علیہم السلام دلیل ختم نبوت
”واذ اخذ اللہ میثاق النبین لما آتیناکم من کتاب وحکمۃ ثم جاء کم رسول مصدق لما معکم لتومنن بہ ولتنصرنہ” (سورۃ آل عمران:81)
ترجمہ: ”وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب اللہ تعالیٰ نے نبیوں سے عہد لیا تھا کہ میں تم کو دنیا میں کتاب و حکمت دوں اور پھر تمہارے پاس کوئی ایسا رسول آئے جو اس کتاب کی جو پہلے سے تمہارے پاس موجود ہو تصدیق کرنے والا ہو اس پر ایمان لاؤ اور اس کی مدد کرو۔”
عالم ارواح میں اللہ تعالیٰ نے تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی روحوں کو جمع کیا اور ان سے عہد لیا کہ دنیا میں تمہیں نبوت، کتاب اور حکمت دوں گا۔ تم سب کے بعد میرا ایک رسولﷺ آئے گا جو کچھ دنیا میں تمہیں دیا جائے گا وہ اس کی تصدیق کرنے والا ہو گا۔ تمہیں اس پر ایمان لانا ہو گا اور ان کی مدد (خدمت) کرنا ہو گی۔
