ختم نبوت پر احادیث – مستند دلائلتفصیل دیکھیں

مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندیؒ کی دینی و علمی خدمات: معہد الفقیر سے عالمگیر شہرت تک

"اس مضمون میں حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندیؒ کی دینی خدمات، معہد الفقیر کے قیام، عقیدہ ختمِ نبوت کے لیے ان کی جدوجہد اور ان کی عظیم علمی و تصوف پر مبنی زندگی پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ ان کی وفات سے پیدا ہونے والا خلا ہمیشہ محسوس کیا جائے گا۔”

متعلقہ موضوعات

مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندیؒ کی دینی و علمی خدمات: معہد الفقیر سے عالمگیر شہرت تک


تحریر: مولانا اللہ وسایا

پیر طریقت مولانا حافظ ذوالفقار احمد نقشبندی ۲۲جمادی الثانی۱۴۴۷ھ مطابق ۱۴؍دسمبر ۲۰۲۵ء بروز اتوار صبح کو انتقال فرمائے آخرت ہو گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!

آپ جھنگ کے کھرل خاندان میں یکم اپریل۱۹۵۳ء کو پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم جھنگ میں حاصل کی پرائمری پاس کرنے کے بعد اپنے بڑے بھائی حاجی احمد علی کھرل کے ساتھ تبلیغی جماعت میں چلّہ لگایا۔ قرآن مجید قاری غلام رسول سے حفظ کیا۔ گورنمنٹ کالج جھنگ وغیرہ پڑھتے رہے۔ انجینئرنگ کی تعلیم لمز یونیورسٹی سے حاصل کی۔ اس دوران حضرت تھانویؒ کے حلقہ کے بزرگ حضرت سید زوار حسینؒ سے بیعت ہوئے۔ عصری تعلیم میں ماسٹر ڈگری کے بعد جھنگ کے استاد العلماء مولانا ولی اللہ سے درس نظامی کی جستہ جستہ کتب پڑھ کر دورہ حدیث شریف کیا۔ سید زوار حسین کے انتقال کے بعد پیر طریقت حضرت حافظ غلام حبیبؒ چکوال والوں سے بیعت اور خلافت کے مراحل مکمل کیے۔ حضرت پیر غلام حبیب صاحب چناب نگر ختم نبوت کانفرنس پر تشریف لاتے۔ آپ ان کے خادم و خلیفہ ہونے کے ناتے ساتھ ہوتے ۔

۱۹۸۵ء کے لگ بھگ کی بات ہے۔ تب سے راقم کو آپ سے شناسائی کا اعزاز حاصل ہوا۔ آپ نے ۱۹۸۴ء میں وسیع و عریض قطعہ ارضی ٹوبہ روڈ جھنگ میں خرید کر ’’معہد الفقیر‘‘ قائم کیا۔ اس سے قبل پاکستان اور بیرون ممالک امریکہ وغیرہ میں ملازمت کرتے رہے۔
مدرسہ و مسجد خوبصورت ڈیزائن کیے۔ اپنا ذاتی مکان، نشر و اشاعت کے لیے پریس ، طباعت واشاعت کتب کے ساتھ فولڈنگ، جلد بندی وغیرہ کا مکمل سسٹم قائم کیا۔ ’’مکتبۃ الفقیر‘‘ کے نام پر ایک نامور نشر و اشاعت کا ادارہ قائم کیا۔ ڈیڑھ صد کے قریب آپ کی تصنیفات ہوں گی۔ پچاس سے زائد جلدوں پر مشتمل تو آپ کے خطبات ہیں۔

خانقاہی سلسلہ قائم کیا تو بر صغیر سے افریقہ، امریکہ تک پھیلا دیا۔ بلا مبالغہ اس دور میں اس خطہ کے امام نقشبند حضرت مجدد الف ثانی کے سلسلہ نقشبند کے پھیلاؤ میں آپ کا کام لائق تبریک و تحسین ہے۔ معہد الفقیر کو شروع کیا تو آج وہ ’’جامعۃ الفقیر‘‘ ہے۔ اندرون وبیرون ملک کے کتنے علماء تکمیل علوم کے ساتھ تخصص و افتاء، دعوت و ارشاد اور شریعت و طریقت کی تکمیل کر کے اسلام کی ترویج و اشاعت کے لیے مصروف عمل ہیں۔ وہ ایک ایسا لامتناہی سلسلہ ہے جو عظیم و وقیع کے ساتھ قابل رشک ہے۔ معہد الفقیر کی جامع مسجد، درسگاہیں، دارالاقامہ کی پانچ پانچ منزلہ عمارتوں کا کوہ قا مت سلسلہ جس کے نظاروں سے ہر شخص ’’انگشت بدندان‘‘ رہ جاتا ہے۔ آپ کا خانقاہی نظام اور پھر کثیر تعداد میں خلفاء کی جماعت کے کام پر طائرانہ نظر ڈالی جائے تو اللہ تعالی کے نام کی بلند ی کی برکت نے ان کے کام کو بھی وسعتوں کی انتہا سے سرفراز کر دیا۔
مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی ایسے مقدر کے دھنی تھے جس میدان میں قدم رکھا وہ میدان آپ کے نام ہو گیا۔ آپ نے اس میدان کی بلند و بالا چوٹیوں پر اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑ دئیے۔ آپ کے مرشد ثانی حضرت پیر غلام حبیب صاحبؒ کے وصال کے بعد ان کے جانشین مولانا عبدالرحمنؒنقشبندی ختم نبوت کانفرنس پر تشریف لاتے رہے۔ مولانا پیر عبدالرحیم نقشبندیؒ بھی قدوم سمیت لزوم سے نوازتے رہے۔

حضرت پیر ذوالفقار احمد نقشبندی کو روٹین کے مطابق دعوت نامہ ڈاک سے بھیج دیتے، ان جیسا مصروف راہنما ان کی مصروفیت کے باعث عذر قبول کر لیا جاتا۔ ان کی ایک کتاب کی عبارت پر کوئٹہ کے ایک عالم دین نے اشکال کیا، معاملہ افہام سے ابہام کی طرف بڑھنے لگا تو مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگوں نے فقیر راقم کی تشکیل کی، کہ معہد الفقیر جا کر آپ حضرت حافظ ذوالفقار نقشبندی سے ملیں۔ ان کو ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کی دعوت دیں۔ ان کا تفصیلی بیان ہو جائے، اسے ماہنامہ لولاک اور خود ان کے رسالہ میں شائع کرا دیا جائے تو یہ بحث بجائے طوالت کے سرے سے دم توڑ جائے گی۔ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوگی۔ یہ مجلس کا اتنا بروقت صحیح فیصلہ تھا جو ہزار فیصد نتائج کا حامل رہا۔
فون پر رابطہ ہوا حاجی حافظ محمد صدیق صاحب مکتبۃ الفقیر کے نگران اور جامعۃ الفقیر کے شیخ الحدیث پیر طریقت حضرت مولانا حبیب اللہ نقشبندی کی معرفت وقت طے ہوا۔ فقیر آپ کے مکان پر حاضر ہوا۔ پریس، جامعۃ الفقیر، مسجد اور مہمان خانہ کا شیخ الحدیث نے وزٹ کرایا۔ حضرت پیر صاحب سے فقیر نے عرض کیا کہ ملاقات تخلیہ میں ہوگی۔ آپ نے جامع مسجد کے محراب سے ملحق کمرہ میں ملاقات سے نوازا۔
تفصیلی ملاقات ہوئی۔ کوئٹہ اور لاہور کے امور فقیر نے آپ سے عرض کیے۔ پھر مجلس کی تجویز کہ آپ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر میں تشریف آوری سے سرفراز فرمائیں۔
کانفرنس کی اہمیت ان معاملات کی نزاکت اور ان کے بہترین حل کی تجویز پر ایسے مسرور ہوئے کہ گویا یہ ان کے دل کی بات تھی۔ ڈائری دیکھی تو یہ وقت سلسلہ کے اجتماع کے لیے کہیں (غالبا حاصل پور) دے رکھا تھا، لیکن وہ تاریخ نوٹ کر لی اپنے اجتماع کو پس وپیش کیا۔ ختم نبوت کانفرنس پر تشریف لائے، خطاب کیا، اجتماع اور کام کو دیکھا تو گلاب کی طرح کھل اٹھے۔ اس کے بعد شاید کوئی کانفرنس ہو جس میں آپ تشریف نہ لائے ہوں۔ آپ کا بیان عشاء کے بعد رات گئے تک ہوتا، کبھی جمعہ کے بعد آخری بیان ہوتا، آپ تشریف نہ لا سکتے تو آپ کے جانشین صاحبزادہ مولانا حبیب اللہ احمد یا مولانا سیف اللہ احمد تشریف لاتے۔ وقت پر تشریف لاتے تو بیان ہو جاتا ورنہ شرکت نمائندگی تو ضرور شمار کی جاتی۔

آپ کراچی کے اپنے خانقاہی دورہ کے دوران دفتر ختم نبوت تشریف آوری سے سرفراز فرماتے۔ کانفرنسوں میں شرکت ہو جاتی۔ فقیر راقم آپ سے لاہور آپ کی رہائش گاہ پر بھی دعاؤں اور مشاورت کے لیے حاضر ہوتا۔ لاہور مینار پاکستان میں پہلے ایک بار ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کیا۔ پھر ختم نبوت گولڈن جوبلی پر بھی ذرہ نوازی فرمائی۔ آپ ایسے وقت تشریف لائے کہ کانفرنس کے داعی و مہمان خصوصی مولانا فضل الرحمن صاحب کے آخری خطاب کا وقت تھا۔ عصر سے پہلے اجتماع شروع ہوا، رات کا ایک بج رہا تھا۔ پبلک کے کثرت اژدھام کی وجہ سے بعض کرم فرماؤں کا خیال تھا کہ اسے جوبن پر ہی لپیٹ دیا جائے تو زیادہ مؤثر ہوگا۔ اس دوران ایک صاحب ’’تو مان نہ مان، میں تیرا مہمان‘‘ کے مصداق، کی ضد اور گدا گری نے وقت ضائع کیا۔
بہت سارے مقررین ابھی رہ رہے تھے کہ دوستوں کا دباؤ بڑھا کہ اب قائد محترم کا بیان کرایا جائے۔ امیر محترم حضرت خاکوانی صاحب، حضرت حافظ ذوالفقار احمد نقشبندی اور لیگ کے رہنما کیپٹن صفدر ان تینوں حضرات کے بیانات نہ ہو پائے۔ حضرت الامیر مدظلہم سے عرض کیا کہ صدارتی کلمات اور دعائے خیر کرا دیں۔ لیکن حضرت نقشبندی کا بیان رہ گیا۔ آپ اتنے عظیم انسان تھے کہ جانے سے پہلے اپنے خادم و خلیفہ مولانا محمد معاویہ عمران کو فقیر کے پاس بھیجا کہ اب مجھے اجازت؟ فقیر کا فرض بنتا تھا کہ ان کے پاس جا کر قدموں کو چھوتا، لیکن انہیں دنوں ایک تازہ آپریشن کے بعد اس وقت طویل نشست کے باعث اتنا نڈھال تھا کہ جانا دو بھر ہو گیا۔ آپ تشریف لے گئے اس کے بعد کتنی بار رابطہ و زیارت ہوئی وہ تعلق محبت بھری ان کی سرپرستی اب وصال کے بعد دیکھتے ہیں تو لگتا ہے کہ سائبان محبت سروں سے اٹھ گیا۔

آپ کا جنازہ کیا تھاجھنگ کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ ہو گیا۔ کیوں نہ ہو کہ وہ اس وقت جھنگ کی شناخت اور دنیائے تصوف کی ایک ممتاز پہچان تھے۔ آپ کے دو صاحبزادگان مولانا حبیب اللہ احمد، مولانا سیف اللہ احمد اور شیخ الحدیث مولانا حبیب اللہ نقشبندی سمیت سینکڑوں آپ کے خلفاء بجا طور پر تعزیت کے مستحق ہیں۔ مولانا حبیب اللہ احمد کو آپ نے جانشینی سے سرفراز فرمایا تھا۔ حضرت مولانا خواجہ عبدالماجد صدیقی مدظلہم نے اس کا اعلان فرمایا اور انہوں نے آپ کا جنازہ پڑھایا۔ پھر ان کو رحمت حق کے سپرد کر دیا گیا۔ وہ کیا گئے کہ تاریخ تصوف کا ایک سنہری باب اپنے انجام کو پہنچ گیا۔
خلیفہ اول و امام نقشبند حضرت صدیق اکبر ؒکے یوم وفات کے دن لاہور میں انتقال ہوا۔ زہے نصیب و حسن اتفاق! جنازہ و تدفین اگلے دن شام کو ہوئی۔ رہے نام اللہ کا!

    عقیدہ ختمِ نبوت ﷺ — مستند علم، واضح رہنمائی

    اپنے سوال پوچھیں Urdu | English | Arabic میں