قادیانیت کا مکروہ چہرہ: عقائد اور حقیقت
بنت واجد کے مضمون میں قادیانیت کے بنیادی عقائد، اس کی ابتدا اور مسلمانوں کے بنیادی عقائد پر حملہ کا تفصیلی جائزہ۔
متعلقہ موضوعات
قادیانیت کا مکروہ چہرہ: عقائد اور حقیقت
مضمون نگار: بنت واجد
ختم نبوت: اسلام کا بنیادی اور اہم عقیدہ
اﷲ پاک نے سلسلۂ نبوت حضرت آدم علیہ السلام سے شروع فرماکر اس کی تکمیل خاتم النّبیین حضرت محمدؐ پر فرمائی۔ قرآن پاک کی ایک سو آیات اور نبی رحمتؐ کی ۲۱۰؍احادیث ختم نبوت کی دلیل ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: ’’انا خاتم النّبیین لا نبی بعدی‘‘
آپؐ کی زندگی میں جو جنگیں لڑی گئیں ان میں کل ۲۵۹ صحابہ کرامؓ شہید ہوئے۔ جب کہ جنگ یمامہ میں نبوت کے جھوٹے دعویدار مسیلمہ کذاب کے مقابلہ میں ختم نبوت کے تحفظ کے لئے جو پہلی جنگ لڑی گئی اس میں ۱۲۰۰صحابہ کرامؓ شہید ہوئے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام کے دفاع کے لئے عہد نبوت میں صحابہ کرامؓ کو اتنی قربانیاں نہیں دینی پڑیں جتنی دفاع ختم نبوت کے لئے دینی پڑیں۔
قادیانیت کی ابتدا: انگریز کی پشت پناہی میں
انگریز کی سرپرستی میں جب مرزاغلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا تو اس کے جھوٹے دعوے کی بناء پر امت کے ہر طبقے اور ہر مسلک کے افراد نے اس کو دھتکارا اور آج تک اس فتنے کی تردید کے لئے کوششیں جاری ہیں اور آئندہ بھی رہیں گی۔
انگریز نے مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کے لئے دین اسلام کی اساس عقیدۂ ختم نبوت پر کاری وار کرنے کے لئے مرزاغلام احمد قادیانی سے نبی ہونے کا جھوٹا دعویٰ کروایا۔ جس کے نتیجے میں امت یک لخت تقسیم ہوکر رہ گئی۔ مسلمانوں کی صلاحیتیں جو دین اسلام کی اشاعت وتبلیغ پر صرف ہورہی تھیں ان کا رخ انگریز نے پھیر کر رکھ دیا۔
مرزاغلام احمد قادیانی نے مسلمانوں کے بنیادی عقائد پر حملہ کیا۔ مسلمانوں کے عقائد کی توہین اور مرزاقادیانی کی خباثت کا اندازہ اس کے کفریہ عقائد سے بخوبی ہوسکتا ہے۔ قارئین کرام! آپ خود پڑھ کر یہ فیصلہ کریں کہ ان عقائد کے ہوتے ہوئے قادیانی اور اس کے پیروکار مسلمان کہلوانے کے حقدار ہیں یا نہیں؟ یقینا نہیں ہیں۔
عقیدۂ توحید اور قادیانی: تضاد اور توہین
’’ان الشرک لظلم عظیم‘‘ {بے شک شرک ظلم عظیم ہے۔} مرزاقادیانی کی مغلظات سے وحدہ لاشریک لہ ذات بھی نہ بچ سکی۔ قادیانی کی خرافات ملاحظہ ہوں۔ ’’نقل کفر، کفر نہ باشد‘‘
۱… ’’کیا کوئی عقلمند اس بات کو قبول کر سکتا ہے کہ اس زمانہ میں خدا سنتا تو ہے مگر بولتا نہیں؟ کیا زبان پر کوئی مرض لاحق ہے۔‘‘ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۴۴، خزائن ج۲۱ ص۳۱۲)
۲… ’’وہ خدا جس کے قبضہ میں ذرہ ذرہ ہے، اس سے انسان کہاں بھاگ سکتا ہے۔ وہ فرماتا ہے کہ میں چوروں کی طرح پوشیدہ آؤں گا۔‘‘ (تجلیات الٰہیہ ص۲، خزائن ج۲۰ ص۳۹۶)
۳… ’’میں نے ایک کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں۔‘‘
(کتاب البریہ ص۷۸، خزائن ج۱۳ ص۱۰۳)
۴… ’’ہم ایک لڑکے کی تجھے بشارت دیتے ہیں جس کے ساتھ حق کا ظہور ہوگا۔ گویا آسمان سے خدا اترے گا۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۹۵، خزائن ج۲۲ ص۹۸،۹۹
حرمین شریفین اور قادیانی: احترام کے بجائے توہین
خانہ کعبہ جو کروڑوں مسلمانوں کے دلوں کا قرار اور گنبد خضراء، مسجد نبوی جو مرجع خلائق ہے، مرزا کا باطن، نبی کریمؐ کی ذات بے مثال اور آپؐ سے وابستہ بے نظیر شہروں مکہ ومدینہ کے بارے میں ہر وقت حسد کی آگ میں سلگتا تھا، جھوٹی نبوت کے بعد مرزاقادیانی نے اپنے مرکز قادیان کو مکہ ومدینہ سے برتر ثابت کرنے میں مختلف دعوے کئے، مرزاقادیانی کے ارتداد اور کفر کی وجہ سے اسے ان مقامات مقدسہ کی زیارت نصیب نہ ہوئی۔
مرزاقادیانی کی زندگی میں معروف سیرت نگار قاضی سلمان منصور پوریؒ نے فرمایا تھا: ’’حضرت مسیح علیہ السلام حج کریں گے، عمرہ کریں گے، مدینہ طیبہ میں حاضری دیں گے اور نزول کے ۴۵سال بعد فوت ہوں گے اور روضہ طیبہ میں دفن ہوں گے۔ مرزاقادیانی خود کو مسیح کہتا ہے لیکن میں نہایت جزم کے ساتھ بآواز بلند کہتا ہوں کہ حج بیت اﷲ مرزاقادیانی کے نصیب میں نہیں، میری اس پیش گوئی کو سب اصحاب یاد رکھیں۔‘‘ (تائید اسلام ص۱۱۶)
اس اعلان کے بعد مرزاقادیانی ۱۵سال زندہ رہا۔ لیکن اسے حرمین کی حاضری نصیب نہ ہوسکی۔ بے ادب بے نصیب کے حرمین سے متعلقہ عقائد ملاحظہ ہوں:
۱… ’’اس روز کشفی طور پر میں نے دیکھا کہ میرے بھائی صاحب مرحوم مرزاغلام قادر میرے قریب بیٹھ کر بآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے ہیں اور پڑھتے پڑھتے انہوں نے ان فقرات کو پڑھا: ’’انا انزلنا قریباً من القادیان‘‘ تو میں نے سن کر بہت تعجب کیا کہ کیا قادیان کانام بھی قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے، تب انہوں نے کہا کہ یہ دیکھو لکھا ہوا ہے۔ تب میں نے نظر ڈال کر جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ فی الحقیقت قرآن شریف کے دائیں صفحہ پر شاید قریب نصف کے موقع پر یہ ہی الہامی عبارت لکھی ہوئی موجود ہے۔ تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ ہاں واقعی قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے اور میں نے کہا کہ تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج کیاگیا ہے، مکہ، مدینہ اور قادیان۔‘‘
(ازالہ اوہام حصہ اوّل حاشیہ ص۷۶،۷۷، خزائن ج۳ ص۱۴۰)
۲… زمین قادیان اب محترم ہے
ہجوم خلق سے ارض حرم ہے
(درثمین اردو ص۵۲، از مرزاقادیانی)
۳… ’’حضرت مسیح موعود مرزا نے اس کے متعلق بڑا زور دیا ہے کہ جو باربار قادیان نہیں آتے مجھے ان کے ایمان کا خطرہ ہے۔ پس جو قادیان سے تعلق نہیں رکھے گا وہ کاٹا جائے گا۔ تم ڈرو کہ تم میں سے کوئی نہ کاٹا جائے۔ پھر یہ تازہ دودھ کب تک رہے گا۔ آخر ماؤں کا دودھ بھی سوکھ جایا کرتا ہے، کیا مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں سے یہ دودھ سوکھ گیا کہ نہیں۔‘‘ (بشیرالدین محمود کی کتاب حقیقت الرؤیا ص۴۶)
انبیاء کرام علیہم السلام اور قادیانی تحریرات
انبیاء کرام علیہم السلام ﷲتعالیٰ کے وہ معصوم اور برگزیدہ بندے ہیں جن کا انتخاب خود اﷲپاک نے کیا۔ ان کی براہ راست تعلیم وتربیت کی۔ نبی پاکؐ کا ادب واحترام جتنا ضروری ہے، اتنا ہی ہر نبی وپیغمبر کا احترام لازم ہے۔
جو شخص انبیاء کرام علیہم السلام کی ذات گرامی میں فرق کرے گا وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ تمام انبیاء کرام اور ان کی شریعتوں اور کتابوں کو ماننا ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے۔ لیکن شریعت محمدیہ اور قرآن پاک کے بعد ان سے قبل آنے والی شریعتوں کی پیروی اور کتب سماویہ کے احکام منسوخ کر کے صرف دین کامل اور شریعت کامل کے پیغمبر حضرت محمد مصطفیؐ کے احکام وتعلیمات پر عمل کا حکم دیا گیا۔
لیکن اس سب کے باوجود مسلمانوں کے لئے تمام انبیاء کرام حضرت آدم علیہ السلام تا حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہر ایک کا ادب واحترام حد درجے ضروری ہے۔ اب آپ قادیانی عقائد ملاحظہ فرمائیں:
’’اسلام میں کسی نبی کی تحقیر کفر ہے اور سب پر ایمان لانا فرض ہے، کسی نبی کی اشارہ سے بھی تحقیر سخت معصیت اور موجب نزول غضب الٰہی ہے۔‘‘ (چشمہ معرفت ص۳۹۰، خزائن ج۲۳ ص۳۹۰)
۱… ’’پس اب کیا یہ پرلے درجے کی بے غیرتی نہیں کہ جہاں ہم ’’لانفرق بین احد من رسولہ‘‘ میں داؤد اور سلیمان، زکریا اور یحییٰ علیہم السلام کو شامل کرتے ہیں وہاں مسیح موعود جیسے عظیم الشان نبی کو چھوڑ دیا جاوے۔‘‘ (کلمتہ الفصل ص۱۱۷، رسالہ ریویو بابت ماہ مارچ ۱۹۱۵ء)
۲… ’’خداتعالیٰ نے مجھے تمام انبیاء کرام کا مظہر ٹھہرایا ہے اور تمام نبیوں کے نام میری طرف منسوب کئے ہیں۔ میں آدم ہوں، میں شیث ہوں، میں نوح ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں اسحاق ہوں، میں اسماعیل ہوں، میں یعقوب ہوں، میں یوسف ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں داؤد ہوں، میں عیسیٰ ہوں اور آنحضرتؐ کے نام کا میں اتم ہوں۔ یعنی ظلی طور پر محمد اور احمد ہوں۔‘‘ (حقیقت الوحی حاشیہ ص۷۳، خزائن ج۲۲ ص۷۶)
۳… ’’میں خود اس بات کا قائل ہوں کہ دنیا میں کوئی نبی ایسا نہیں آیا جس نے اجتہاد میں غلطی نہیں کی۔‘‘
(تتمہ حقیقت الوحی ص۱۳۵، خزائن ج۲۲ ص۵۷۳)
اہل بیت اطہارؓ اور قادیانی: احترام کے بجائے توہین
سرور کائناتؐ نے اپنے اہل بیتؓ کے بارے میں فرمایا: ’’اے اﷲ! میں ان سے محبت رکھتا ہوں تو بھی ان سے محبت فرما جو ان سے محبت کریں ان سے بھی محبت فرما۔‘‘
آپؐ نے ازواج مطہرات کو امت کی مائیں قرار دیا۔ حضرت علیؓ کے بارے میں فرمایا: ’’میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔‘‘ حضرت فاطمہؓ کو جگر کا ٹکڑا اور حضرت حسنؓ و حضرت حسینؓ کے بارے میں فرمایا: ’’یہ جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔‘‘
ان پاکیزہ نفوس کے بارے میں مرزاغلام احمد قادیانی کی دریدہ دہنی ملاحظہ کریں:
۱… ’’پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑو، اب نئی خلافت لو۔ ایک زندہ علی (مرزا) تم میں موجود ہے، اس کو چھوڑتے ہو اور ایک مردہ علی (حضرت علیؓ) کو تلاش کرتے ہو۔‘‘ (ملفوظات ج۲ ص۱۴۲، از مرزاغلام احمد قادیانی)
۲… ’’اور میں خدا کا کشتہ ہوں اور تمہارا حسن دشمنوں کا کشتہ ہے۔ پس فرق کھلا کھلا اور ظاہر ہے۔‘‘
(اعجاز احمدی ضمیمہ نزول المسیح ص۸۱، خزائن ج۱۹ ص۱۹۳)
۳… کربلائے است سیر ہر آنم
صد حسین است در گریبانم
ترجمہ… میری سیر ہر وقت کربلا میں ہے۔ سو (۱۰۰) حسین ہر وقت میری جیب میں ہیں۔
(نزول المسیح ص۹۹، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)
خلاصہ
قارئین کرام! اس شخص کی حقیقت اور اس کے عقائد سے واقف ہوکر کوئی شخص اس کو نبی ماننا تو کجا ایک سلیم الفطرت انسان ماننے پر بھی تیار نہیں ہوسکتا۔ اس کے پیروکار عبرت وبصیرت کے ساتھ ان عقائد کا مطالعہ کریں جن سے مرزاقادیانی کی کتب بھری پڑی ہیں اور فوری طور پر تائب ہوکر مسلمان ہونے کا شرف حاصل کریں۔
