علامہ اقبال اور رد مرزائیت
علامہ اقبالؒ نے مرزائیت کو کیوں رد کیا؟ اقبالؒ کی تحریرات، قادیان کے نائی کی شہادت اور نہرو کے نام خط سے واضح ثبوت۔ مرزائیت کے خلاف علامہ اقبال کا واضح موقف۔
متعلقہ موضوعات
اہم نکات
- قادیان کے معتبر نائی کی روایت
- قادیانی آنحضرت ﷺ کے گستاخ ہیں
- مرزا قادیانی کے نزدیک ملتِ اسلامیہ سڑا ہوا دودھ ہے
- قادیانی گروہ وحدتِ اسلامی کا دشمن ہے
- ظل، بروز، حلول اور مسیح موعود کی اصطلاحات غیر اسلامی ہیں
- اسلام کے بنیادی اصول کے پیش نظر قادیانیوں کو الگ ہونے کا مشورہ
- قادیانی اسلام اور ملک دونوں کے غدار ہیں
علامہ اقبال اور رد مرزائیت
انتخاب: مولانا عتیق الرحمٰن
علامہ اقبالؒ کی وفات کے بعد کچھ خود غرض لوگوں نے یہ پروپیگنڈہ شروع کر دیا کہ علامہ اقبالؒ قادیانی عقائد و نظریات کے حامی تھے۔ آج بھی کچھ لوگ اسی جھوٹ کو دہراتے نظر آتے ہیں۔
قادیانیوں اور ان کے ہم نواؤں کے اس سفید جھوٹ کا بہترین جواب خود علامہ اقبالؒ کی تحریرات سے ملتا ہے۔ اس کے علاوہ قادیان کے ایک معتبر نائی کی شہادت بھی پیش کی جاتی ہے جو علامہ اقبالؒ اور ان کے والد کے بارے میں اہم دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ علامہ اقبالؒ نہ صرف قادیانیت سے بیزار ہو گئے تھے بلکہ مسلمانوں میں قادیانیت کے خلاف جو شدید نفرت پائی جاتی ہے، وہ علامہ اقبالؒ کی غیرتِ ملی کا نتیجہ ہے۔
قادیان کے معتبر نائی کی روایت
’’بسم اللہ الرحمن الرحیم! منشی محمد اسماعیل سیالکوٹی نے مجھ سے بیان کیا … چند سال بعد جب سر اقبال کالج میں پہنچے تو ان کے خیالات میں تبدیلی آگئی اور انہوں نے اپنے باپ کو بھی سمجھا بجھا کر احمدیت سے منحرف کر دیا۔ چنانچہ شیخ نور محمد صاحب نے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی خدمت میں ایک خط لکھا جس میں تحریر کیا کہ سیالکوٹ کی جماعت چونکہ نوجوانوں کی جماعت ہے اور میں بوڑھا آدمی ہوں۔ ان کے ساتھ چل نہیں سکتا۔ لہٰذا آپ میرا نام اس جماعت سے الگ رکھیں۔
اس پر حضرت صاحب کا جواب میرحامد شاہ صاحب مرحوم کے نام گیا جس میں لکھا تھا کہ شیخ نور محمد (علامہ اقبالؒ کے والد گرامی) کو کہہ دیں کہ وہ جماعت سے ہی الگ نہیں بلکہ اسلام سے بھی الگ ہیں۔ … نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ ڈاکٹر سر محمد اقبال بعد میں سلسلہ سے نہ صرف منحرف ہو گئے تھے بلکہ اپنی زندگی کے آخری ایام میں شدید طور پر مخالف رہے اور ملک کے نو تعلیم یافتہ طبقہ میں احمدیت کے خلاف جو زہر پھیلا ہوا ہے اس کی بڑی وجہ ڈاکٹر سر محمد اقبال کا مخالفانہ پروپیگنڈہ تھا۔‘‘
(از: سیرت المہدی جلد سوم، ص 248 تا 250 — مصنفہ مرزا بشیر احمد ایم اے)
قادیانی آنحضرت ﷺ کے گستاخ ہیں
’’ذاتی طور پر میں اس تحریک سے اس وقت بیزار ہوا تھا جب ایک نئی نبوت نے بانیِ اسلام کی نبوت سے اعلیٰ تر نبوت کا دعویٰ کیا اور تمام مسلمانوں کو کافر قرار دیا۔ بعد میں یہ بیزاری بغاوت کی حد تک پہنچ گئی جب میں نے تحریک کے ایک رکن کو اپنے کانوں سے آنحضرت ﷺ کے متعلق نازیبا کلمات کہتے سنا۔
درخت جڑ سے نہیں پھل سے پہچانا جاتا ہے۔ اگر میرے موجودہ رویہ میں کوئی تناقض ہے تو یہ بھی ایک زندہ اور سوچنے والے انسان کا حق ہے کہ وہ اپنی رائے بدل سکے۔ بقول ایمرسن صرف پتھر اپنے آپ کو نہیں جھٹلا سکتے۔‘‘
(حرفِ اقبال، ص 131-132)
مرزا قادیانی کے نزدیک ملتِ اسلامیہ سڑا ہوا دودھ ہے
’’ہمیں قادیانیوں کی حکمت عملی اور دنیائے اسلام سے متعلق ان کے رویّہ کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ بانیِ تحریک (مرزا قادیانی) نے ملتِ اسلامیہ کو سڑے ہوئے دودھ سے تشبیہ دی تھی۔ ان لوگوں کو (مسلمانوں کو) ان کی ایسی حالت کے ساتھ اپنی جماعت کے ساتھ ملانا یا ان سے تعلق رکھنا ایسا ہی ہے جیسا کہ عمدہ اور تازہ دودھ میں بگڑا ہوا دودھ ڈال دیں جو سڑ گیا ہے اور اس میں کیڑے پڑے ہوئے ہیں۔
اس وجہ سے ہماری جماعت کسی طرح ان سے تعلق نہیں رکھ سکتی اور نہ ہی ہمیں ایسے تعلق کی حاجت ہے۔ … یہ تمام امور قادیانیوں کی علیحدگی پر دال ہیں۔ اس امر کو سمجھنے کے لئے کسی خاص ذہانت کی ضرورت نہیں کہ جب قادیانی مذہبی اور معاشرتی معاملات میں علیحدگی کی پالیسی اختیار کرتے ہیں تو پھر وہ سیاسی طور پر مسلمانوں میں شامل رہنے کے لئے کیوں مضطرب ہیں؟‘‘
(حرفِ اقبال، ص 137-138)
قادیانی گروہ وحدتِ اسلامی کا دشمن ہے
’’مسلمان ان تحریکوں کے معاملہ میں زیادہ حساس ہیں جو اس کی وحدت کے لئے خطرناک ہیں۔ چنانچہ ہر ایسی مذہبی جماعت جو تاریخی طور پر اسلام سے وابستہ ہو لیکن اپنی بنیاد نئی نبوت پر رکھے اور بزعم خود اپنے الہامات پر اعتقاد نہ رکھنے والے تمام مسلمانوں کو کافر سمجھے، مسلمان اسے اسلام کی وحدت کے لئے ایک خطرہ تصور کرے گا۔ کیونکہ اسلامی وحدت ختم نبوت سے ہی استوار ہوتی ہے۔‘‘
(حرفِ اقبال، ص 122)
ظل، بروز، حلول اور مسیح موعود کی اصطلاحات غیر اسلامی ہیں
’’اسلامی ایران میں موبدانہ اثر کے ماتحت ملحدانہ تحریکیں اٹھیں اور انہوں نے بروز، حلول، ظل وغیرہ اصطلاحات وضع کیں تاکہ تناسخ کے اس تصور کو چھپا سکیں۔ … حتیٰ کہ مسیح موعود کی اصطلاح بھی اسلامی نہیں بلکہ اجنبی ہے۔ یہ اصطلاح ہمیں اسلام کے دورِ اوّل کی تاریخی اور مذہبی ادب میں نہیں ملتی۔‘‘
(حرفِ اقبال، ص 123-124)
اسلام کے بنیادی اصول کے پیش نظر قادیانیوں کو الگ ہونے کا مشورہ
’’اسلام لازماً ایک دینی جماعت ہے جس کے حدود مقرر ہیں یعنی وحدت الوہیت پر ایمان، انبیائے علیہم السلام پر ایمان اور رسول کریم ﷺ کی ختم رسالت پر ایمان۔ … میری رائے میں قادیانیوں کے سامنے صرف دو راہیں ہیں: یا تو وہ بہائیوں کی تقلید کریں یا پھر ختم نبوت کی تاویلوں کو چھوڑ کر اس اصول کو اس کے پورے مفہوم کے ساتھ قبول کر لیں۔‘‘
(حرفِ اقبال، ص 136-137)
قادیانی اسلام اور ملک دونوں کے غدار ہیں
علامہ اقبالؒ کا خط پنڈت جواہر لال نہرو کے نام
لاہور، ۲۱ جون ۱۹۳۶ء
میرے محترم پنڈت جواہر لال!
… میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں نے یہ مقالہ اسلام اور ہندوستان کے ساتھ بہترین نیتوں اور نیک ترین ارادوں میں ڈوب کر لکھا۔ میں اس باب میں کوئی شک و شبہ اپنے دل میں نہیں رکھتا کہ یہ احمدی اسلام اور ہندوستان (موجودہ ہندو پاک) دونوں کے غدار ہیں۔
(کچھ پرانے خطوط، حصہ اول، ص 293 — مرتبہ جواہر لال نہرو)
