مباہلے کی حقیقت قرآن و حدیث کی روشنی میں
مباہلہ کیا ہے؟ سورۃ آل عمران آیت 61 کی تفصیل، نجران کے نصاریٰ کے ساتھ واقعہ اور مرزا غلام احمد قادیانی کے مباہلے کا شرمناک انجام۔ حقیقت جان کر مرزائیت سے توبہ کریں۔
متعلقہ موضوعات
مباہلے کی حقیقت قرآن و حدیث کی روشنی میں
سوال: مباہلے کی حقیقت کیا ہے؟ اس بارے میں کلامِ مجید کی کون کون سی آیات کا نزول ہوا ہے؟
جواب: مباہلے کا ذکر سورۃ آل عمران (آیت: 61) میں آیا ہے، جس میں نجران کے نصاریٰ کے بارے میں فرمایا گیا ہے:
﴿فَمَنْ حَآجَّکَ فِیْہِ مِنْم بَعْدِ مَا جَآئَکَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُوْا اَبْنَآئَنَا وَاَبْنَآئَکُمْ وَنِسَآئَنَا وَنِسَآئَکُمْ وَاَنْفُسَنَا وَاَنْفُسَکُمْ ثُمَّ نَبْتَھِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اﷲِ عَلَی الْکٰذِبِیْنَ﴾
ترجمہ: پھر جو کوئی جھگڑا کرے تجھ سے اس قصے میں، بعد اس کے کہ آچکی تیرے پاس خبر سچی تو تو کہہ دے: آؤ! بلائیں ہم اپنے بیٹے، اور تمہارے بیٹے، اور اپنی عورتیں، اور تمہاری عورتیں، اور اپنی جان، اور تمہاری جان، پھر التجا کریں ہم سب، اور لعنت کریں اللہ کی ان پر، جو جھوٹے ہیں۔
(ترجمہ: شیخ الہندؒ)
اس آیتِ کریمہ سے مباہلے کی حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ جب کوئی فریق حق واضح ہو جانے کے باوجود اس کو جھٹلاتا ہے تو اس کو دعوت دی جائے کہ آؤ! ہم دونوں فریق اپنی عورتوں اور بچوں سمیت ایک میدان میں جمع ہوں اور گڑگڑا کر اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ جھوٹوں پر اپنی لعنت بھیجے۔
رہا یہ کہ اس مباہلے کا نتیجہ کیا ہوگا؟ وہ مندرجہ ذیل احادیث سے معلوم ہوتا ہے:
سچے نبی کے ساتھ مباہلہ کرنے والوں کا انجام
- مستدرک حاکم (ج: 2، ص: 594) میں ہے کہ نصاریٰ کے سید نے کہا کہ: ان صاحب سے یعنی آنحضرت ﷺ سے مباہلہ نہ کرو، اللہ کی قسم! اگر تم نے مباہلہ کیا تو دونوں میں سے ایک فریق زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔
- صحیح بخاری، مسلم، ترمذی اور نسائی میں ہے کہ جب آنحضرت ﷺ نے نصاریٰ نجران سے مباہلے کا ارادہ فرمایا تو عاقب اور سید میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ: ان صاحب سے مباہلہ نہ کیا جائے، کیونکہ اگر یہ نبی ہیں تو نہ ہم فلاح پائیں گے، اور نہ ہمارے بعد ہماری اولاد۔ (درمنثور ج: 2، ص: 38)
- حافظ ابونعیمؒ کی ’’دلائل النبوۃ‘‘ میں ہے کہ سید نے عاقب سے کہا: اللہ کی قسم! تم جانتے ہو کہ یہ صاحب نبیٔ برحق ہیں، اور اگر تم نے اس سے مباہلہ کیا تو تمہاری جڑ کٹ جائے گی۔ کبھی کسی قوم نے کسی نبی سے مباہلہ نہیں کیا کہ پھر ان کا کوئی بڑا باقی رہا ہو، یا ان کے بچے بڑے ہوئے ہوں۔ (ایضاً ص: 29)
- ابن جریرؒ، عبد بن حمیدؒ اور ابونعیمؒ نے ’’دلائل النبوۃ‘‘ میں حضرت قتادہؓ کی روایت سے آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ: اہلِ نجران پر عذاب نازل ہوا چاہتا تھا، اور اگر وہ مباہلہ کرتے تو زمین سے ان کا صفایا کر دیا جاتا۔
- ابن ابی شیبہؒ، سعید بن منصورؒ، عبد بن حمیدؒ، ابن جریرؒ اور حافظ ابونعیمؒ نے ’’دلائل النبوۃ‘‘ میں امام شعبیؒ کی سند سے آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ: میرے پاس فرشتہ اہلِ نجران کی ہلاکت کی خوشخبری لے کر آیا تھا، اگر وہ مباہلہ کر لیتے تو ان کے درختوں پر پرندے تک باقی نہ رہتے۔
- صحیح بخاری، ترمذی، نسائی اور مصنف عبدالرزاق وغیرہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا ارشاد نقل کیا ہے کہ: اگر اہلِ نجران آنحضرت ﷺ سے مباہلہ کر لیتے تو اس حالت میں واپس جاتے کہ اپنے اہل و عیال اور مال میں سے کسی کو نہ پاتے۔ (یہ تمام روایات درمنثور ج: 2، ص: 39 میں ہیں)۔
ان احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ سچے نبی کے ساتھ مباہلہ کرنے والے عذابِ الٰہی میں اس طرح مبتلا ہو جاتے ہیں کہ ان کے گھربار کا بھی صفایا ہو جاتا ہے اور ان کا ایک فرد بھی زندہ نہیں رہتا۔
جھوٹے نبی کے ساتھ مباہلے کا نتیجہ
یہ تو تھا سچے نبی کے ساتھ مباہلہ کرنے کا نتیجہ! اب اس کے مقابلے میں جھوٹے نبی کے ساتھ مباہلے کا نتیجہ بھی سن لیجیے۔
10؍ ذوالقعدہ 1310ھ مطابق 27؍ مئی 1893ء کو مولانا عبدالحق غزنوی مرحوم کا مرزا غلام احمد قادیانی کے ساتھ مباہلہ ہوا (مجموعہ اشتہارات: مرزا غلام احمد قادیانی ج: 1، ص: 427-428)۔ اس مباہلے کا نتیجہ یہ نکلا کہ مرزا غلام احمد قادیانی 26؍ مئی 1908ء کو مولانا غزنوی مرحوم کی زندگی میں ہلاک ہو گیا۔ مولانا مرحوم، مرزا قادیانی کے بعد 9 سال سلامت باکرامت رہے، 16؍ مئی 1917ء کو ان کا انتقال ہوا (رئیس قادیان ج: 2، ص: 192)۔
اس مباہلے نے ثابت کر دیا کہ مرزا جھوٹا تھا، کیونکہ خود مرزا قادیانی کا مسلمہ اصول ہے کہ:
’’مباہلہ کرنے والوں میں سے جو جھوٹا ہو، وہ سچے کی زندگی میں ہلاک ہو جاتا ہے۔‘‘
(ملفوظات: مرزا غلام احمد قادیانی ج: 9، ص: 440)
مرزا کی موت پر اللہ تعالیٰ نے اپنے فعل سے گواہی دے دی کہ مرزا قادیانی جھوٹا تھا، اللہ تعالیٰ کے فرشتوں نے گواہی دی کہ مرزا جھوٹا تھا، خود مرزا نے مندرجہ بالا عبارت میں گواہی دی کہ میں جھوٹا ہوں، اس دن آسمان و زمین نے گواہی دی کہ مرزا جھوٹا تھا، تمام اہلِ علم اور اہلِ ایمان گواہی دیتے ہیں کہ مرزا جھوٹا تھا۔
قادیانیوں کے لیے نصیحت
مرزا قادیانی کے ماننے والوں میں خواہ وہ قادیانی ہوں یا لاہوری، اگر حق و دیانت کی کوئی رمق ہوتی تو وہ ان عظیم الشان گواہیوں کو قبول کر کے مرزائیت سے فوراً توبہ کر لیتے، اور وہ خود بھی یہ سچی گواہی دیتے کہ مرزا جھوٹا تھا۔
لیکن افسوس! کہ قادیانیوں کے عوام ناواقف ہیں، حقیقتِ حال سے بے خبر ہیں، اور قادیانی لیڈر محض اپنے نفسانی جوش، اور اپنی گدی چلانے کے لیے حق و دیانت کی گواہی کو چھپاتے ہیں، اور دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے مسلمانوں کو مباہلے کا چیلنج دے رہے ہیں۔
مرزا قادیانی نے ایسے ہی لوگوں کے بارے میں لکھا تھا:
’’دنیا میں سب جانداروں سے زیادہ پلید اور کراہت کے لائق خنزیر ہے، مگر خنزیر سے زیادہ پلید وہ لوگ ہیں، جو اپنے نفسانی جوش کے لیے حق اور دیانت کی گواہی کو چھپاتے ہیں۔‘‘
(ضمیمہ انجامِ آثم ص: 21، روحانی خزائن ج: 11، ص: 305)
عجیب بات یہ ہے کہ قادیانیوں میں کوئی شریف آدمی اپنے لیڈروں سے یہ نہیں پوچھتا کہ: حضور! مباہلہ تو ایک بار ہوتا ہے، بار بار نہیں ہوتا۔ جب ایک صدی پہلے مرزا غلام احمد قادیانی مباہلہ کر چکا، اور اس مباہلے کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے فیصلہ دے دیا کہ مرزا جھوٹا تھا، تو دوبارہ مباہلے کی چیلنج بازی محض ہم لوگوں کو احمق بنانے کے لیے نہیں تو اور کیا ہے؟دوسرے یہ کہ مباہلے کے لیے قرآنِ کریم کی رو سے دو فریقوں کا اپنی عورتوں اور بچوں سمیت ایک میدان میں جمع ہو کر مل کر دعا و التجا کرنا ضروری ہے۔ آخر یہ کیسا مباہلہ ہے کہ آپ گھر بیٹھے بڑکیں مارتے ہیں، اور میدانِ مباہلہ میں نکلنے کی جرأت نہیں کرتے؟ أَلَيْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِيدٌ؟
