7 ستمبر 1974 ختم نبوت | تاریخی فیصلہ اور ہماری ذمہ داریاں

اپریل 1984ء میں رابطہ العالم الاسلامی کے تحت مکہ مکرمہ میں ہونے والی کانفرنس میں 140 مسلم تنظیموں کے وفود نے شرکت کی۔ اس کانفرنس میں عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ، قادیانیت کے خلاف قراردادوں اور مسلمانوں میں اتحاد و یکجہتی کے پیغام پر زور دیا گیا اور مشترکہ طور پر اس گروہ کے کفر پر اتفاق کیا گیا۔ یوں اس اجلاس کا اثر صرف پاکستان تک محدود نہ رہا بلکہ عالم اسلام کے ہر کونے میں اس مسئلے پر شعور اجاگر ہوا۔

متعلقہ موضوعات

7 ستمبر 1974 ختم نبوت | تاریخی فیصلہ اور ہماری ذمہ داریاں

عقیدہ ختم نبوت دین اسلام کی بنیاد اور اساس ہے۔ قرآن و سنت اور آثار صحابہ ؓ کے بعد تمام مفسرین، فقہاء اور پوری امت مسلمہ کا بھی اس بات پر اجماع ہے کہ حضرت محمد ﷺ خاتم النّبیین ہیں۔ آپؐ کے بعد کسی کو منصب نبوت پر فائز نہیں کیا جائے گا۔

اس عقیدے کا انکار، دراصل قرآن، سنت اور امت کے اجماع کا انکار ہے۔ جب کہ اس عقیدہ پر کامل ایمان رکھنا فرض ہے۔ دین اسلام کے اس متفقہ عقیدہ و ایمان کے بعد کسی نئے نبی کو ماننا نہ صرف کفر بلکہ کفر بواح ہے، خواہ وہ واضح انداز میں نبوت کا دعویٰ کرے خواہ اشارۃً یا کنایۃً۔

حضور خاتم النّبیین ﷺ کی پیش گوئی کی روشنی میں ساڑھے چودہ سو سال سے امت میں نبوت کے جھوٹے دعوے دار آئے اور ہر دور میں امت مسلمہ کی طرف سے ان کا محاصرہ و محاسبہ کیا گیا۔ برصغیر پاک و ہند میں بھی انگریزی سرکار کی ایما پر مرزا غلام احمد قادیانی نے اس ناپاک جسارت کا ارتکاب کیا۔ جس پر تمام مکاتب فکر کے علماء کرام نے کفر کے فتاوی صادر فرمائے۔

اپریل 1984ء میں رابطہ العالم الاسلامی کے تحت مکہ مکرمہ میں ہونے والی کانفرنس میں 140 مسلم تنظیموں کے وفود نے شرکت کی۔ اس کانفرنس میں عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ، قادیانیت کے خلاف قراردادوں اور مسلمانوں میں اتحاد و یکجہتی کے پیغام پر زور دیا گیا اور مشترکہ طور پر اس گروہ کے کفر پر اتفاق کیا گیا۔ یوں اس اجلاس کا اثر صرف پاکستان تک محدود نہ رہا بلکہ عالم اسلام کے ہر کونے میں اس مسئلے پر شعور اجاگر ہوا۔

تقسیم ہندوستان کے بعد پاکستان میں مسلسل اس گروہ کو امت سے آئینی وقانونی طور پر جدا کرنے کا مطالبہ ہوتا رہا۔ 1953ء میں تحریک ختم نبوت چلی جس میں لاہور کی سرزمین پر 10 ہزار مسلمانوں نے جام شہادت نوش کیا۔

یہ مطالبہ اس وقت پورا ہوا جب 29 مئی 1974ء کا سانحہ چناب نگر (ربوہ) پیش آیا۔ چناب نگر کی سرزمین سے گزرنے والی ٹرین میں نشتر میڈیکل کالج ملتان کے مسلمان اسٹوڈنٹس پر قادیانیوں نے دھاوا بولا۔ اس واقعہ کے بعد عوامی احتجاج اور ملک گیر ہڑتالوں کے بعد یہ مسئلہ قومی اسمبلی میں پیش ہوا۔

7ستمبر 1974ء کو پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینیٹ نے تاریخی فیصلہ کیا اور قادیانیوں/احمدیوں مرزائیوں کو متفقہ طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا۔ یوں اسلام اور پاکستان کے متفقہ آئینی فیصلے کے طور پر عقیدۂ ختم نبوت کو تحفظ فراہم کیا گیا۔

7ستمبر ہماری تاریخ کا نہایت اہم دن ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے اس دن آئین میں ترمیم کا ایک تاریخی بل اتفاق رائے سے منظور کر لیا۔ پوری ملت اسلامیہ جسد واحد کی طرح یکجا ہو کر فاتح قرار پائی۔

اکثر لوگ اس فیصلے کے بعد مطمئن ہو کر بیٹھ گئے کہ شاید ان کی ذمہ داریاں ختم ہو چکی ہیں۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ پاکستان میں اگرچہ یہ فتنہ تنزلی کا شکار ہے، لیکن بین الاقوامی سطح پر قادیانیت کا منہ زور گھوڑا بے لگام ہونے کی کوشش میں ہے۔

اس کے سدباب کے لئے انگلستان اور افریقی ممالک میں پاکستان کے آئینی فیصلہ کو عام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت اپنی بساط کے مطابق لٹریچر شائع کرکے تقسیم کے عمل میں سرگرم ہے۔

وقت کی ضرورت یہ ہے کہ آج کے دور میں جہاں دنیا ایک گلوبل ولیج بن چکی ہے، اس عقیدے کے تحفظ کے لئے اقوام عالم میں ایک مربوط اور مضبوط لائحہ عمل ترتیب دیا جائے۔ یہ لائحہ عمل محض ملکی سرحدوں تک محدود نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر موثر سفارت کاری، تبلیغی تحریکات، علمی و تحقیقی کام اور اخلاقی و دعوتی مواعظ پر مشتمل ہونا چاہئے۔

اقوام متحدہ، عالمی انسانی حقوق فورمز اور دیگر عالمی تنظیموں میں مسلمانوں کے عقائد کی حرمت کے بارے میں آگاہی پیدا کی جائے۔

دینی مدارس، مساجد، جدید میڈیا، سوشل نیٹ ورک اور عالمی ذرائع ابلاغ کا بھرپور استعمال کرکے ختم نبوت کے عقیدے کو نوجوانوں اور عام عوام تک پہنچایا جائے۔

نسل نو کے لئے ڈاکومنٹریز، سیمینارز، بین الاقوامی کانفرنسز اور شارٹ کورسز کے ذریعے اس عقیدے کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے۔ فتنہ قادیانیت کے مکروہ نظریات کو منطق و دلیل کے ساتھ بے نقاب کرکے عوام الناس کو صحیح معلومات فراہم کی جائیں۔

اللہ تعالیٰ ہماری کاوشوں کو قبول فرمائے اور ہمارے عقائد کو محفوظ رکھے۔

    عقیدہ ختمِ نبوت ﷺ — مستند علم، واضح رہنمائی

    اپنے سوال پوچھیں Urdu | English | Arabic میں