مولانا ظفر علی خانؒ اور قادیانی تحریک کی مخالفت
مولانا ظفر علی خانؒ کی قادیانی تحریک کے خلاف 30 سالہ جدوجہد، مضامین، نظم اور ارمغان قادیان کے ذریعے قادیانیت کی مخالفت کا جائزہ۔
متعلقہ موضوعات
مولانا ظفر علی خانؒ اور قادیانی تحریک کی مخالفت
اسلام میں فتنوں کا ظہور قرونِ اولیٰ ہی سے ہوگیا تھا۔ مسیلمہ کذاب کا فتنہ اپنی قسم کا پہلا فتنہ تھا اور مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ نبوت اسی فتنے کی ایک صورت تھا۔ اسلام نے اپنے ظہور کے ابتدائی سالوں میں آہستہ آہستہ ترقی کی۔ آنحضرت ﷺ کی حیاتِ مبارکہ میں جن لوگوں نے اسلام قبول کیا، انہیں دربارِ نبوت میں اسلامی عقائد کے سمجھنے کا اچھی طرح موقع ملا تھا۔
آنحضرت ﷺ کے انتقال کے بعد فتوحات کا سیلاب امڈ آیا اور روم و ایران اور مصر کی بادشاہتوں کو خس و خاشاک کی طرح بہا کر لے گیا اور اس عہد میں بکثرت لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔ ہر طرف: ’’یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اﷲِ اَفْوَاجًا‘‘ کا منظر دکھائی دینے لگا۔ یہ لوگ اسلام میں داخل ہوگئے۔
برصغیر پاک و ہند میں قادیانی فتنہ کی ابتداء
برصغیر (پاک و ہند) میں جب برطانوی استعمار کا قبضہ ہوگیا تو انہوں نے یہ سوچا کہ اب ہم نے یہاں حکومت کرنی ہے اور یہاں دو بڑی قومیں ہندو اور مسلمان آباد ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ ان کے درمیان تفریق پیدا کی جائے اور یہ دونوں قومیں آپس میں لڑتی جھگڑتی رہیں اور ہم لوگ اطمینان سے حکومت کرسکیں۔
انگریز یہ سمجھتا تھا کہ اس ملک (برصغیر) میں مسلمان واحد قوم ہے جو کسی طرح بھی ہماری حکمرانی کو تسلیم نہیں کریں گے۔ ڈاکٹر ہنٹر نے اپنی مشہور کتاب ’’انڈین مسلمانز‘‘ میں لکھا ہے کہ برطانوی حکومت کو مسلمانوں کی جانب سے کبھی مطمئن نہ ہونا چاہئے کیونکہ یہ قوم مذہباً اس امر پر مجبور ہے کہ کسی غیر مسلم فرمانروا کی اطاعت قبول نہ کرے۔
جہاد کو ختم کرنے کے لیے مرزا غلام احمد قادیانی
اس کے بعد برطانوی حکومت نے خفیہ طور پر اس چیز کی ٹوہ لگائی کہ مسلمانوں کو کس طرح کمزور کیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ انگریزوں کو بتایا گیا کہ مسلمان صرف اس صورت میں کمزور ہوسکتے ہیں کہ ان میں جہاد کی سپرٹ کو ختم کیا جائے اور اس لئے کہ جہاد مسلمانوں کا ایک ایسا فریضہ ہے جس پر یہ مسلمان اپنے تمام اختلافات ختم کردیتے ہیں۔
چنانچہ اس جذبۂ جہاد کو ختم کرنے کے لئے انگریز نے مرزا غلام احمد قادیانی کو تیار کیا۔ وہ پہلے مجدد بنا، پھر اس نے مسیح موعود کا دعویٰ کیا اور اس کے بعد نبوت کی کرسی پر بیٹھ گیا اور ساتھ ہی اس نے یہ اعلان کردیا کہ جہاد اب منسوخ ہوچکا ہے، اب اس کی ضرورت نہیں۔
مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابوں میں جو چیز سب سے زیادہ نمایاں نظر آتی ہے وہ تنسیخِ جہاد اور انگریزی حکومت کی تابعداری ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے جو عقائد تھے وہ سب کے سب باطل تھے۔ اس نے اپنے نہ ماننے والوں کو کافر کہا، ان کو گالیاں دیں، انبیاء علیہم السلام اور صحابہ کرامؓ کی توہین کی۔
مرزا قادیانی کے مقابلے میں علماء کرام کی جدوجہد
علمائے کرام نے مرزا غلام احمد قادیانی کے دعووں کی پرزور مخالفت کی، لیکن جن علمائے کرام نے اپنی زندگی کا مطمعِ نظر قادیانی تحریک کی مخالفت ہی رکھا، ان میں مولانا سید انور شاہ کشمیریؒ، مولانا ثناء اﷲ امرتسریؒ، مولانا ظفر علی خانؒ اور مولانا سید عطاء اﷲ شاہ بخاریؒ سرفہرست تھے۔
مولانا ثناء اﷲ امرتسریؒ نے مرزا غلام احمد قادیانی کو اتنا زچ کیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے تنگ آکر ایک اشتہار شائع کیا جس کا عنوان تھا ’’مولوی ثناء اﷲ کے ساتھ آخری فیصلہ‘‘۔ اس اشتہار میں مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا تھا کہ میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ ہم دونوں میں جو جھوٹا ہے، سچے کی زندگی میں کسی وبائی بیماری سے ہلاک ہوجائے۔
اﷲ تعالیٰ نے مرزا غلام احمد قادیانی کی دعا قبول کی اور مئی 1908ء میں مرزا غلام احمد قادیانی اپنی دعا کے مطابق مولانا ثناء اﷲ امرتسریؒ کی زندگی میں وبائی بیماری ہیضہ سے ہلاک ہوگیا اور مولانا ثناء اﷲ امرتسریؒ نے 40 سال بعد مارچ 1948ء میں رحلت فرمائی۔
مولانا ظفر علی خانؒ اور قادیانی تحریک کے خلاف جدوجہد
مولانا ظفر علی خانؒ نے قادیانی تحریک کی تحریر و تقریر اور نثر و نظم کے ذریعہ پرزور مخالفت کی اور ان کے خلاف جہاد کیا اور پورے 30 سال تک قادیانی تحریک کے خلاف سرگرمِ عمل رہے۔
مولانا ظفر علی خانؒ نے بے شمار مضامین اپنے اخبار زمیندار میں قادیانیوں کے خلاف لکھے۔ یہ مضامین زمیندار اور ستارۂ صبح کی فائلوں میں موجود ہیں۔ کاش! کوئی اﷲ کا بندہ اس طرف توجہ فرمائے اور ان مضامین کو زمیندار اور ستارۂ صبح کی فائلوں سے نکال کر کتابی صورت میں شائع کردے۔
مولانا ظفر علی خانؒ نے نظم میں قادیانی تحریک کی جو خبر لی، اس کی مثال نہیں پیش کی جاسکتی۔ مولانا نے ایک مستقل کتاب نظم میں ’’ارمغانِ قادیان‘‘ کے نام سے لکھی جس کے بارے میں فرماتے ہیں:
تم کو منظور ہے سیرِ جہانِ قادیان
اے مسلمانو! خریدو ارمغانِ قادیان
مولانا ظفر علی خانؒ کی نظم اور قادیانی تحریک
مرزا غلام احمد قادیانی ایک مخبوط الحواس شخص تھا۔ آئے دن الٹے سیدھے الہام کرتا رہتا تھا۔ علمائے کرام اس کا ہر وقت نوٹس لیتے اور اس کی خرافات کا جواب دیتے رہتے تھے۔
مولانا ظفر علی خانؒ کبھی اس کے الہامات کی نظم میں تشریح کرتے اور اس کے ساتھ کبھی کبھی اس کا جواب بھی دیتے۔ مولانا ظفر علی خانؒ نے ایک نظم لکھی جس کا عنوان ’’پیغمبر قادیان کا برزخی ترانہ‘‘ تھا۔
