مرزا غلام احمد قادیانی کے عقائد اور دعویٰ نبوت: اپنی تحریروں کی روشنی میں

 مرزا غلام احمد قادیانی کی اپنی تحریروں سے اس کے رسول، مسیح موعود اور نبی ہونے کے دعوے اور اس کے ابتدائی و آخری عقائد کا جائزہ

متعلقہ موضوعات

مرزا غلام احمد قادیانی کے عقائد اور دعویٰ نبوت: اپنی تحریروں کی روشنی میں

استاذ العلماء فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیاتؒ کی لاہوری گروپ کے چیف گرو اﷲ بخش مرزائی سے مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ نبوت کے بارے میں گفتگو ہوئی تو وہ مبہوت ہوگیا۔ بعد میں اس نے آپ کو خط تحریر کیا۔ آپ نے اسے جواب دیا۔ ان دو خطوط کے ساتھ آپ نے مندرجہ بالا عنوان کے تحت چند حوالہ جات ایک کاغذ پر تحریر کردئیے کہ اس کا جواب آنے پر یہ حوالہ جات بھجوائے جائیں گے۔ مگر مرزائی کا جواب نہ آنا تھا نہ آیا۔ وہ حوالہ جات جو استاذ محترم حضرت مولانا محمد حیاتؒ نے جمع فرمائے تھے پیش خدمت ہیں۔

مرزا غلام احمد قادیانی کی اپنی تحریروں میں رسول، نبی اور مسیح موعود ہونے کے دعوے کے واضح حوالے موجود ہیں۔ ان تحریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے اپنی دعوت کے سلسلے میں رسالت، وحی الٰہی اور مسیح موعود ہونے کے دعوے کو اپنی مشکلات میں سے ایک قرار دیا تھا۔

’’میری دعوت کی مشکلات میں سے ایک رسالت اور وحی الٰہی اور مسیح موعود ہونے کا دعویٰ تھا۔‘‘
(حاشیہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص53، خزائن ج21 ص68)

’’اوائل میں میرا بھی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے۔ وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو ایک جزئی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔‘‘
(حقیقت الوحی ص150، خزائن ج22 ص153)

اس عبارت میں خود مرزا غلام احمد قادیانی یہ بیان کرتا ہے کہ ابتدا میں وہ حضرت مسیح ابن مریمؑ کے مقابلے میں اپنے آپ کو کچھ نہیں سمجھتا تھا، لیکن بعد میں اپنی طرف نازل ہونے والی وحی کا حوالہ دیتے ہوئے یہ کہتا ہے کہ اسے صریح طور پر نبی کا خطاب دیا گیا۔

مرزا غلام احمد قادیانی کی بعد کی تحریروں میں نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ مزید واضح طور پر موجود ہے۔ اس کی اپنی عبارات میں قادیان میں رسول بھیجے جانے کا ذکر، اپنے لیے نبی کا نام مخصوص ہونے کا بیان اور رسول و نبی ہونے کے دعوے کی صراحت ملتی ہے۔

’’سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘
(دافع البلاء ص10، خزائن ج18 ص232)

’’اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزر چکے ہیں ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پائے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا۔‘‘
(حقیقت الوحی ص391، خزائن ج22 ص406)

’’ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔‘‘
(اخبار بدر 5 مارچ 1908ء، ملفوظات ج10 ص127)

’’سو میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں اور اگر میں اس سے انکار کروں تو میرا گناہ ہوگا۔ اور جس حالت میں خدا میرا نام نبی رکھتا ہے تو میں کیونکر انکار کرسکتا ہوں۔ میں اس پر قائم ہوں۔ اس وقت تک جو اس دنیا سے گزر جائوں۔‘‘
(خط بنام اخبار عام مندرجہ 26 مئی 1908ء، مجموعہ اشتہارات ج3 ص597)

یہاں مرزا غلام احمد قادیانی صرف نبی ہونے کا ذکر ہی نہیں کرتا بلکہ یہ بھی کہتا ہے کہ وہ خدا کے حکم کے موافق نبی ہے، اور اگر اس سے انکار کرے تو گناہ ہوگا۔ مزید یہ کہ وہ اپنے اس دعوے پر قائم رہنے کا بھی اعلان کرتا ہے۔

’’خدا تعالیٰ نے اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے ہوں اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کئے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہوسکتی ہے۔‘‘
(چشمہ معرفت ص317، خزائن ج23 ص332)

’’اب ظاہر ہے کہ ان الہامات میں میری نسبت بار بار بیان کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ، خدا کا مامور، خدا کا امین، خدا کی طرف سے آیا ہے، جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لائو اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔‘‘
(انجام آتھم ص62، خزائن ج11 ص62)

اب خود مرزا قادیانی کے ماننے والے غور کریں کہ جب ان کی آخری تحریروں سے دعویٰ نبوت اور اس پر قائم رہنا ثابت ہوگیا ہے، تو اس کے مقابلے میں اس کی پہلی تحریروں کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی ابتدائی تحریروں میں یہ واضح الفاظ موجود ہیں:

’’آنحضرت ﷺ کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت ورسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج1 ص230)

اب سوال یہ ہے کہ جب مرزا غلام احمد قادیانی کی اپنی ابتدائی تحریر میں آنحضرت ﷺ کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت ورسالت کو کاذب اور کافر قرار دیا گیا ہے، جبکہ بعد کی تحریروں میں وہ خود اپنے لیے نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور اس دعوے پر قائم رہنے کا اعلان بھی کرتا ہے، تو اس تضاد کی حقیقت کیا ہے؟

اپنے اسی فتویٰ کے مطابق مرزا غلام احمد قادیانی مندرجہ بالا آخری تحریر کی رو سے خود ہی کافر ٹھہرا۔

    عقیدہ ختمِ نبوت ﷺ — مستند علم، واضح رہنمائی

    اپنے سوال پوچھیں Urdu | English | Arabic میں