ایک قادیانی کا قبول اسلام: مرزا مسرور احمد کے رضاعی بھتیجے شمس الدین کی ہدایت کی داستان
یہ مضمون جناب شمس الدین کی ہدایت کی داستان ہے جو قادیانی سربراہ مرزا مسرور احمد کے رضاعی بھتیجے ہیں۔ انہوں نے قادیانیت ترک کر کے اسلام قبول کیا۔ یہ احادیث مبارکہ کے مطالعے سے شروع ہونے والا سفر ہے جو حق کی دریافت پر ختم ہوا۔
متعلقہ موضوعات
ایک قادیانی کا قبول اسلام: مرزا مسرور احمد کے رضاعی بھتیجے شمس الدین کی ہدایت کی داستان
تحریر: عبدالقیوم عاصم
خلاصہ
یہ مضمون جناب شمس الدین کی ہدایت کی داستان ہے جو قادیانی سربراہ مرزا مسرور احمد کے رضاعی بھتیجے ہیں۔ انہوں نے قادیانیت ترک کر کے اسلام قبول کیا۔ یہ احادیث مبارکہ کے مطالعے سے شروع ہونے والا سفر ہے جو حق کی دریافت پر ختم ہوا۔
یہ عشق نہیں آساں بس اتنا سمجھ لیجیے
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے
محترم شمس الدین صاحب وہ خوش نصیب انسان ہیں جو عرصہ دراز قادیانیت کی پرفریب راہوں پر بھٹکنے کے بعد حق و صداقت کی فطری اور حقیقی جستجو لیے اسلام کی دہلیز تک پہنچے اور روشنی و نور کی بستی میں داخل ہو گئے۔
قبول اسلام کے بعد پہلا انعام خداوندی زیارت بیت اللہ شریف کی صورت میں ملا۔ گنبد خضریٰ کی ٹھنڈی چھاؤں میں پیارے آقا دو جہاں ﷺ کے قدموں میں کھڑے ہو کر درود و سلام پڑھنے کی انہیں اور ان کی اہلیہ کو سعادت نصیب ہوئی۔
یہاں یہ بات کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ جو لوگ پیدائشی مسلمان ہیں وہ شاید ان لوگوں کی عظمت کردار کو نہ سمجھ سکیں جنہوں نے اپنے مذہب قادیانیت کو ترک کر کے اسلام قبول کیا۔ مذہب ترک کرنا کوئی معمولی واقعہ نہیں اور نہ یہ لباس بدلنا، گھر بدلنا، ملک بدلنا جیسا کوئی عمل ہے۔
ترک مذہب کرنے والا کبھی اپنے ماحول سے بغاوت کرتا ہے، کبھی اسے اپنے والدین چھوڑنا پڑتے ہیں، کبھی وہ اپنے دوستوں کو دشمنوں میں بدلتے دیکھتا ہے، کبھی عزیز و اقارب کی موجودگی میں تنہائی کا عذاب محسوس کرتا ہے، کبھی اسے ایمان کی خاطر اپنے مفادات کو پس پشت ڈالنا پڑتا ہے اور کبھی زندگی سے محرومی کی سزا بھی ملتی ہے۔
ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ انتہائی اخلاص و محبت کے ساتھ اسلام قبول کرتا ہے اور اپنا سب کچھ چھوڑ کر پرخار وادیوں میں عزیمت کی منزلیں طے کرتا ہوا آبلہ پا، اسلام کی وادی امن میں پہنچتا ہے تو یہاں کچھ لوگ اس پر شک و شبہ کا اظہار کرتے ہیں۔
یہ بات ان متلاشیان حق کے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ ہوتی ہے۔ مگر مبارکباد کے مستحق ہیں یہ اہل عزیمت جو ہر پریشانی و مصیبت کا نہایت خندہ پیشانی سے مقابلہ کرتے ہیں۔ اللہ رب العزت قدم قدم پر ان کی مدد فرماتا ہے۔
شمس الدین صاحب کا تعارف
محترم شمس الدین 1974ء میں محلہ فیکٹری چناب نگر میں پیدا ہوئے۔ موصوف کے والد حمید احمد مرزا مسرور احمد (سربراہ جماعت قادیانی) کے رضائی بھائی ہیں۔ محترم شمس الدین صاحب مرزا مسرور احمد کے رضائی بھتیجے ہیں۔
محترم شمس الدین نے ابتدائی تعلیم چناب نگر میں حاصل کی۔ تین سال فضل عمر ہسپتال میں بھی خدمت سرانجام دے چکے ہیں۔ ملازمت کے سلسلے میں آج کل عارضی طور پر لاہور مقیم ہیں۔
آبائی پس منظر: بیعت کی داستان
محترم شمس الدین صاحب کے دادا فتح محمد کے دادا نے میرزا غلام احمد قادیانی کی بیعت کی تھی۔ یہ بیعت کیسے ہوئی، اس کی دلچسپ داستان یہ ہے:
جب وہ قادیان گئے تو میرزا غلام احمد قادیانی کے خادم نے پوچھا کہ آپ دور سے پیدل آئے ہیں، کھانا کھا لو۔ انہوں نے کہہ دیا کہ ہمیں بھوک نہیں ہے۔ کچھ دیر بعد پھر پوچھا کہ کھانا کھاؤ گے۔ انہوں نے پھر انکار کیا کہ ہمیں بھوک نہیں ہے۔
کچھ دیر بعد میرزا غلام احمد قادیانی مہمان خانے میں خود آئے اور کہا کہ "مجھے اللہ نے خبر دی ہے کہ آپ کو بھوک لگی ہوئی ہے۔ آپ کھانا کھا لیں۔”
فتح محمد کے دادا نے کھانا کھا کر میرزا غلام احمد قادیانی کی بیعت کر لی کہ میرزا قادیانی کو ہماری بھوک کا غیب کے ذریعے پتا چل گیا ہے۔ جبکہ میرزا قادیانی کے خادم نے پہلے پوچھ لیا تھا کہ آپ کہاں سے آئے ہیں اور یہاں پہنچنے میں کتنا وقت لگا ہے اور خادم نے میرزا قادیانی کو بتا دیا تھا۔
اتنی دور سے مہمان آئے ہیں اور کھانا نہیں کھاتے۔ میرزا قادیانی نے اپنے اندازے کو غیب کی خبر میں تبدیل کر لیا۔ ان کی سادگی میرزا قادیانی کے کام آ گئی۔ یوں محترم شمس الدین صاحب کے آباؤ اجداد قادیانی ہوئے۔
قبول اسلام کا سفر
راقم 17 فروری 2013ء محترم عرفان محمود برق صاحب اور محمد ظفر اللہ رانجھہ (للیانی) کی معیت میں محترم شمس الدین صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔ قبول اسلام کی مبارکباد دی اور قادیانیت ترک کرنے کا سبب معلوم کیا۔
محترم شمس الدین صاحب نے بتایا: "میری پیدائش قادیانی ماں باپ کے گھر ہوئی۔ میری فیملی کے تمام افراد سوائے میری اہلیہ کے قادیانی ہیں۔ میں اور میری اہلیہ نے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اکٹھے اسلام قبول کیا ہے۔”
"بدقسمتی سے میرے آباؤ اجداد میرزا غلام احمد قادیانی کی حقیقت کے بارے کچھ جانے بغیر قادیانیت کو قبول کر بیٹھے۔ انہیں بتایا گیا تھا کہ یہ ‘اسلام’ کی اصلاح کے لیے آسمانی دعوت ہے اور میرزا غلام احمد کی صورت میں مسیح موعود اور مہدی موعود ظاہر ہو گئے ہیں۔”
"میرا بھی یہی عقیدہ تھا کہ قادیانیت ہی صحیح اسلام ہے اور قادیانی ہی سچے مسلمان ہیں اور دوسرے لوگ کافر، دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ ہم میرزائیت کے بارے میں صرف میرزائی علماء کی تحریرات پڑھا کرتے تھے۔”
"چنانچہ یہ نظریہ پختہ ہوتا گیا کہ قادیانی ہونے کی حیثیت سے ہم ہی حق پر ہیں اور جو لوگ میرزا غلام احمد، مسیح موعود اور مہدی موعود پر ایمان نہیں لاتے وہ باطل پر ہیں۔ میں نے میرزائیت کے بارے میرزائی لٹریچر ہی پڑھا تھا۔ مسلمانوں نے میرزائیت کے بارے میں جو کچھ تحریر کیا ہے وہ میرے علم میں نہیں تھا۔”
ہدایت کا ذریعہ: احادیث مبارکہ
"اللہ رب العزت جب کسی انسان پر خاص فضل و کرم کرتا ہے تو اسے دین اسلام کا علم عطا فرماتا ہے۔ میری ہدایت کا ذریعہ بخاری شریف اور مسلم شریف اور مسند ابی یعلیٰ موصلی کی احادیث تھیں۔”
پہلی حدیث: صحیح بخاری سے
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ یقیناً ابن مریم تم میں حاکم عادل ہو کر اتریں گے۔ پس صلیب توڑیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جنگ ختم کر دیں گے۔ مال کی اس قدر کثرت ہو جائے گی کہ اسے کوئی قبول نہ کرے گا۔ یہاں تک کہ دنیا اور دنیا بھر کے سب مال و متاع سے ایک سجدہ اچھا معلوم ہو گا۔” (صحیح بخاری ج1 ص490)
نوٹ: میرزا قادیانی خود کہتے ہیں: "مسلمانوں کے لیے صحیح بخاری نہایت متبرک اور مفید کتاب ہے۔” (کشتی نوح ص60، خزائن ج19 ص65)
شمس الدین صاحب بیان کرتے ہیں: "جب میں نے اس حدیث مبارکہ کو پڑھا تو میں سوچ میں پڑ گیا کہ میرے آقا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ قسم کھائے بغیر بھی کوئی بات فرما دیں تو درست ہوتی ہے۔ اس کو ماننا ہمارے لیے ضروری ہوتا ہے اور اس حدیث مبارکہ میں میرے پیارے نبی ﷺ قسم اٹھا کر فرما رہے ہیں اور ساتھ تاکید بھی فرما رہے ہیں۔”
"قسم اس وقت اٹھائی جاتی ہے جب کوئی بات عقلاً ماننا محال ہو۔ یقین دہانی کی آخری حد ہوتی ہے۔ جب کوئی عام مسلمان بھی قسم کھا کر بات کرتا ہے تو ہم فوراً مان جاتے ہیں اور اس خبر یا بات میں کوئی اشتباہ نہیں رہتا۔”
دوسری حدیث: صحیح مسلم سے
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ ضرور ابن مریم (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) روحاء (مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مقام) کی گھاٹی میں حج یا عمرہ یا دونوں کی لبیک پکاریں گے ایک ساتھ۔” (مسلم شریف جلد اول ص316)
دلچسپ بات یہ ہے کہ میرزا قادیانی کے نزدیک بھی یہ حدیث 1891ء تک درست تھی۔ (ازالہ اوہام ص884، خزائن ج3 ص582)
میرزا قادیانی کا اپنا اصول
میرزا قادیانی خود کہتے ہیں: "جو بات قسم اٹھا کر کہی جائے اس سے صرف ظاہر معنی مراد لیے جاتے ہیں وہاں تاویل یا استثناء نہیں ہوتا۔”
"اور قسم کھا کر کوئی بات کہنا اس پر دلالت کرتا ہے کہ کہی ہوئی بات ظاہر پر محمول ہے۔ اس میں نہ کوئی تاویل ہے اور نہ کوئی استثناء۔ ورنہ قسم کھانے کا کیا فائدہ ہے۔” (حمامۃ البشریٰ ص14 حاشیہ، خزائن ج7 ص192)
تیسری حدیث: مسند ابی یعلیٰ سے
"قسم اس ذات عالی کی جس کے قبضے میں ابوالقاسم ﷺ کی جان ہے۔ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ضرور اتریں گے امام ہو کر، منصف ہو کر، حکم بن کر، عدل کرنے والے۔ پھر آپ علیہ السلام عیسیٰ میری قبر پر آئیں گے اور فرمائیں گے کہ اے محمد (سلام ہو تم پر) تو میں ضرور جواب دوں گا۔” (مسند ابی یعلیٰ ج6 ص101)
شمس الدین صاحب کا تجزیہ
"ان تینوں احادیث کو جب میں نے غور و فکر سے پڑھا تو میرا یقین مزید پختہ ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول تین بار قسم کھا کر تاکید فرما رہے ہیں۔ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہی دوبارہ نازل ہوں گے۔”
"دوسری طرف میرزا قادیانی قسمیں کھا کر کہہ رہے ہیں: حق کی قسم ابن مریم فوت ہو گیا ہے، دوبارہ نہیں آئے گا۔”
میرزا قادیانی کے دونوں بیانات میں کتنا تضاد ہے! ایک طرف وہ کہتے ہیں کہ مسیح ابن مریم کے آنے کی پیش گوئی ایک اول درجے کی پیش گوئی ہے جس کو سب نے بالاتفاق قبول کر لیا اور جس قدر صحاح میں پیش گوئیاں لکھی گئی ہیں، کوئی پیش گوئی اس کے ہم پلہ ثابت نہیں ہوتی۔ (ازالہ اوہام ص557، خزائن ج3 ص400)
لیکن دوسری طرف وہ اسی عقیدے کو باطل قرار دیتے ہیں۔
مرزا قادیانی کے تضادات
مرزا قادیانی خود اعتراف کرتے ہیں: "جب تک مجھے خدا نے اس طرف توجہ نہ دی اور بار بار نہ سمجھایا کہ تو مسیح موعود ہے اور عیسیٰ فوت ہو گیا ہے، تب تک میں اسی عقیدے (نزول مسیح) پر قائم تھا جو تم لوگوں کا عقیدہ ہے۔” (اعجاز احمدی ص6، خزائن ج19 ص113)
اگر وفات مسیح اور عدم نزول کا عقیدہ قرآن مجید میں ہوتا، سب سے پہلے قرآن مجید اس کا اعلان کرتا۔ معلم اعظم محمد رسول اللہ ﷺ قرآن مجید کو سمجھنے اور سمجھانے والے، وہ اعلان فرما دیتے اور تیس آیات قرآنی کی نشاندہی فرما دیتے۔
تیرہ سو سال کے مجددین کو بھی وفات عیسیٰ کی آیات نظر نہ آئیں۔ میرزا قادیانی کو 1891ء تک قرآن دانی کا دعویٰ ہونے کے باوجود عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں کی تیس آیات نظر نہ آئیں۔ چودھویں صدی میں میرزا قادیانی کو قرآن مخالف الہام ہونے شروع ہوئے۔
میرزا قادیانی مزید لکھتے ہیں: "یہ تو ایک سر الٰہی اور بھید کی بات تھی جو آج سے قبل کسی پر بھی منکشف نہ ہوئی تھی۔ نہ نبی ﷺ پر نہ صحابہ اور آئمہ دین پر، نہ قرآن میں نہ حدیث میں۔ بلکہ یہ تو ایک سر مکتوم تھا جسے اب خدا نے صرف اور صرف مجھ پر ہی منکشف فرمایا۔” (اتمام الحجہ ص2، خزائن ج8 ص275)
نبوت کے بارے میں مرزا قادیانی کا موقف
میرزا قادیانی کا اعتراف: "میرے دعویٰ کی بنیاد انہیں الہامات سے پڑی اور انہیں میں خدا نے میرا نام عیسیٰ رکھا اور جو مسیح موعود کے حق میں آیتیں تھیں وہ میرے حق میں بیان کر دیں۔ اگر علماء کو خبر ہوتی کہ ان الہامات سے تو اس شخص کا مسیح ہونا ثابت ہوتا ہے تو وہ کبھی ان کو قبول نہ کرتے۔ یہ خدا کی قدرت ہے کہ انہوں نے قبول کر لیا اور اس پیچ میں پھنس گئے۔” (اربعین نمبر2 ص21، خزائن ج17 ص369)
یہ بیان دھوکا دہی کا کھلا اعتراف ہے۔ میرزا قادیانی اعتراف کر رہے ہیں کہ وہ قرآن و حدیث کی بنیاد پر مسیح موعود نہیں بلکہ اپنے الہامات کی بناء پر مسیح موعود ہیں۔
امت مسلمہ کا اجماع
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضور اکرم ﷺ کا ارشاد مبارک ہے:
"بے شک اللہ تعالیٰ میری امت کو گمراہی پر جمع نہیں کرے گا اور جماعت پر اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہے اور جو کوئی اس سے جدا ہو گا وہ دوزخ میں جا گرے گا۔” (ترمذی شریف)
جماعت بمعنی اجتماعی وحدت، لہذا امت مسلمہ بحیثیت مجموعی بے دین اور گمراہ نہیں ہو سکتی۔ اس طرح تمام محدثین، مفسرین، مجددین اور اکابرین امت اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں اور آخر زمانے میں نازل ہوں گے۔
خود میرزا غلام احمد قادیانی کا کہنا ہے: "ان المسیح ینزل من السماء بجمیع علومہ” یعنی عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے کامل علوم کے ساتھ نازل ہوں گے۔ (آئینہ کمالات اسلام ص409، خزائن ج5 ص409)
جناب شمس الدین کی اپیل
"میں نہایت سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ، میں ان سب لوگوں سے جو اسلام کی سچی محبت اور تلاش میں اب تک قادیانیت کو قبول کیے ہوئے ہیں، اپیل کرتا ہوں کہ وہ اچھی طرح یہ سمجھ لیں کہ کسی اعتبار سے بھی قادیانیت اسلام نہیں ہے۔”
"یہ حقیقت ہے کہ اس کے بانی نے اس کو ‘احمدیت’ کا نام دیا۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ شروع سے یہ ایک نیا مذہب ہے۔ علاوہ بریں قادیانیوں کے چند بنیادی عقائد اور اعمال قادیانیت کو اسلام سے بالکل جدا کر دیتے ہیں۔”
**”اس لیے اس کے کٹر پیروؤں کو قرآن کے اس ارشاد کو یاد رکھنا چاہیے اور اس پر غور و فکر کر لینی چاہیے کہ جو بھی اسلام کے علاوہ کسی اور مذ
