ختم نبوت پر احادیث – مستند دلائلتفصیل دیکھیں

مرزا قادیانی کی کتاب کشتی نوح: کاغذ کی کشتی

مولانا غلام رسول دین پوری کے مضمون میں حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کے مقابلے میں مرزا قادیانی کی کتاب "کشتی نوح” کی حقیقت کا تفصیلی جائزہ۔

متعلقہ موضوعات

مرزا قادیانی کی کتاب کشتی نوح: کاغذ کی کشتی

مضمون نگار: مولانا غلام رسول دین پوری

یہ ایک حقیقت ہے کہ ابوالبشر سیدنا آدم علیہ السلام کے بعد سب سے پہلے رسول حضرت نوح علیہ السلام ہوئے ہیں۔ جن کا تذکرہ قرآن مقدس میں تقریباً تینتالیس۴۳ جگہ آیا ہے۔

جس قوم کی طرف حضرت نوح علیہ السلام کی بعثت ہوئی۔ وہ توحید خداوندی اور صحیح مذہب سے یکسر ناآشنا ہوچکی تھی۔ حضرت نوح علیہ السلام نے شب وروز ایک کرکے اسے سمجھایا کہ شاید یہ بدبخت قوم سمجھ جائے اور رحمت خداوندی کی آغوش میں آجائے۔

مگر قوم نہ سمجھی۔ جس قدر حضرت نے سمجھایا۔ اسی قدر بلکہ اس سے کہیں زیادہ قوم نے بغض و عناد میں سرگرمی کا مظاہرہ کیا۔ جس کی تمام تر تفصیلات قرآن پاک میں موجود ہیں۔

بالآخر جب قوم کی ہدایت سے بالکل مایوس ہوگئے اور حضرت کی ساڑھے نوسو سالہ دعوت و تبلیغ کا ان پر کچھ اثر نہ ہوا تو سخت کبیدہ خاطر اور ملول ہوئے۔

تب اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا فرمائی کہ:’’رب لاتذرعلی الارض من الکافرین دیارا‘‘{اے پروردگار!تو کافروں میں سے کسی کو بھی زمین پر باقی نہ چھوڑ۔}

اﷲ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی اور کشتی تیار کرنے کا حکم فرمایا تاکہ ظاہری اسباب کے اعتبار سے مومنین عذاب سے محفوظ ہو جائیں۔

قوم کفار نے مذاق اڑانا شروع کردیا۔ حضرت کشتی بناتے رہے۔ آخر سفینہ نوح تیار ہوگیا اور عذاب خداوندی کا وقت بھی قریب آپہنچا۔

اﷲ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کو مومنین کاملین اور دیگر مخلوق کو کشتی میں سوار کرنے کا حکم فرمایا۔ حضرت نے انہیں سوار کیا۔

طوفان شروع ہوا۔ آسمان سے پانی برسا۔ زمین سے بھی ابلا۔ جب تک طوفان رہا۔ کشتی تیرتی رہی۔ مومنین محفوظ رہے۔ کافرین معاندین غرق درآب ہوگئے۔

یہ ایک ایسی مصیبت ہے جو چودہ صدیوں سے قرآن پاک بیان کررہا ہے اور امت مسلمہ پڑھ پڑھ کر اپنے ایمان کو جلا بخش رہی ہے اور حضورؐ کی اتباع میں روز افزوں بڑھ رہی ہے۔

اس کے بالمقابل دیکھئے! قادیان کا دہقان جس کا نام مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ جب اسے دعویٰ نبوت کا شوق چڑھا اور حرص نے گھیرا کیا۔ تمام نبیوں کے مجموعہ بننے کا جی للچایا۔ تو اپنی کتاب(اربعین نمبر۴)میں لکھا کہ:

’’اب دیکھو کہ خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لئے اس کو مدار نجات ٹھہرایا۔ جس کی آنکھیں ہوں۔دیکھے اور جس کے کان ہوں سنے۔‘‘
(حاشیہ اربعین نمبر۴ص۶، خزائن ص۴۳۵ج۱۷)

اور دوسری اس کی کتاب میں ہے:’’واﷲ انی غالب وسیظھر شوکتی وکل ھالک الامن قعد فی سفینتی یعنی بخدا میں غالب ہوں اور عنقریب میری شوکت ظاہر ہو جائے گی اور ہر ایک مرے گا۔ مگر وہی بچے گا جو میری کشتی میں بیٹھے گا۔‘‘
(البشریٰ جلد دوم ص۱۲۹، تذکرہ ص۷۱۳ج۳)

حضرت نوح علیہ السلام نے جو کشتی بنائی تھی۔ سب مسلمان جانتے ہیں کہ وہ تختوں اور کیلوں سے مرصع تھی اور اس میں سوار ہونے والے مسلمان اور مومنین کاملین عذاب الٰہی سے بچ گئے۔

مرزا قادیانی نے کس طرح کی کشتی بنائی؟ مرزائیوں سے پوچھو تو وہ صرف بتائیں گے نہیں بلکہ دکھا بھی دیںگے اور دے بھی دیںگے۔

وہ ہے ’’کشتی نوح‘‘ ایک طرف مرزا قادیانی اپنی بیعت کو ’’کشتی نوح‘‘ کہہ رہا ہے اور دوسری طرف ’’کشتی نوح‘‘ لکھ کر اپنی امت(مرزائیہ) کو دے دی اور یہ کہہ دیا کہ مشکلات میں اور عذاب الٰہی سے بچنے میں میری کشتی تمہیں کام آئے گی۔ جو مرزائی اس میں بیٹھے گا۔ بچ جائے گا۔

خلاصہ: سوال قادیانیوں سے

قارئین کرام! ذرا غور فرمائیں مرزاقادیانی کی بنائی ہوئی کشتی ’’کاغذ کی کشتی ہے‘‘ کاغذ پانی پڑتے ہی گلنا شروع کر دیتا ہے۔ آگ تو اس کا وجود ہی ختم کر دیتی ہے۔ آخرت میں تو یقینا کام نہیں آئے گی۔

دنیا میں جگہ جگہ طوفان آرہے ہیں۔ سیلاب آرہے ہیں۔ جگہ جگہ بارشیں موسلادھار برس رہی ہیں۔ تھمنے کا نام نہیں لیتیں۔ قادیانی امت بہت پریشان ہے۔ پاکستان میں بھی اور بیرون پاکستان برطانیہ، امریکہ، جرمنی وغیرہ میں بھی قادیانی مجلات، اخبارات ورسائل چیخ رہے ہیں کہ قادیانیت پر ظلم ہورہا ہے۔ پاکستان اور بیرون پاکستان میں جی نہیں سکتے۔

ان تمام تر مشکلات میں قادیانی مرزا قادیانی کی بنائی ہوئی کاغذ کی کشتی ’’کشتی نوح‘‘ میں سوار کیوں نہیں ہوئے؟۔ طوفانوں سے کیوں نہیں بچ جاتے؟۔

نیز کم از کم امت مسلمہ کو یقین دلانے کے لئے ایک مرتبہ مرزا قادیانی کی کاغذ کی کشتی ’’کشتی نوح‘‘ پر سوار ہوکر چناب نگر کے ’’دریائے چناب‘‘ کو پار کر کے تو دکھائیں اور سمجھائیں کہ یوں مرزا قادیانی کی کاغذ کی ’’کشتی نوح‘‘ پر سوار ہوکر طوفانوں، سیلاب وغیرہ سے بچا جا سکتا ہے۔

یہ مرزا قادیانی اور مرزائیوں کی سچائی کی بہت بڑی دلیل ہوگی۔ دیکھیں! مرزائیوں میں سے کون کمر ہمت باندھتا ہے؟۔

’’واﷲ ھوالھادی الی سواء السبیل‘‘

    عقیدہ ختمِ نبوت ﷺ — مستند علم، واضح رہنمائی

    اپنے سوال پوچھیں Urdu | English | Arabic میں