قادیانی تاویلات کے گورکھ دھندے: مرزا قادیانی کے جھوٹ کا انکشاف
یہ مضمون میرزا قادیانی کے جھوٹ اور تضادات کو اس کی اپنی تحریرات سے ثابت کرتا ہے۔ قادیانی تاویلات کے گورکھ دھندوں کو بے نقاب کرتے ہوئے مستند دلائل پیش کیے گئے ہیں کہ میرزا نے کیسے کیسے من گھڑت دعاوی کیے اور جھوٹ بولا۔
متعلقہ موضوعات
قادیانی تاویلات کے گورکھ دھندے: مرزا قادیانی کے جھوٹ کا انکشاف
تحریر: مولانا قاضی احسان احمد
خلاصہ
یہ مضمون مرزا قادیانی کے جھوٹ اور تضادات کو اس کی اپنی تحریرات سے ثابت کرتا ہے۔ قادیانی تاویلات کے گورکھ دھندوں کو بے نقاب کرتے ہوئے مستند دلائل پیش کیے گئے ہیں کہ مرزا نے کیسے کیسے من گھڑت دعاوی کیے اور جھوٹ بولا۔
جھوٹ: انسانی شخصیت کا بدنما داغ
جھوٹ ایک ایسی لعنت ہے جس کی قباحت، برائی، نحوست تمام اقوام عالم میں متفقہ طور پر مسلم ہے۔ کذب بیانی، خلاف حقیقت گفتگو، انسانی شخصیت پر ان مٹ نقوش چھوڑ دیتی ہے جس کا اثر اس انسان کی زندگی پر ایک بدنما داغ ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے اس کی شخصیت مجروح ہو جاتی ہے اور معاشرے میں اثر و رسوخ بالکل ختم ہو جاتا ہے۔
مرزا غلام احمد قادیانی تاریخ کے اوراق پر ایک بھیانک اور سیاہ باب ہے جس نے جھوٹ اور فریب کی بنیاد پر ایک نئے مذہب کی بنیاد رکھی۔ عجیب بات یہ ہے کہ اس نے خود بھی جھوٹ کی مذمت میں کئی تحریریں چھوڑی ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں یہ جھوٹوں کا سردار اپنے فتاویٰ میں کیا کہتا ہے۔
جھوٹ کی قباحت متعلق مرزا قادیانی کی عبارات
مرزا کی اپنی تحریرات میں جھوٹ کی مذمت:
پہلا فتویٰ: "دروغ گوئی کی زندگی جیسی کوئی لعنتی زندگی نہیں۔” (نزول المسیح ص2، خزائن ج18 ص380)
دوسرا فتویٰ: "ظاہر ہے کہ جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا۔” (چشمہ معرفت ص222، خزائن ص231 ج23)
تیسرا فتویٰ: "جھوٹ ام الخبائث ہے۔” (تبلیغ رسالت ج7 ص30، مجموعہ اشتہارات ج3 ص34)
چوتھا فتویٰ: "جھوٹ بولنے سے مرنا بہتر ہے۔” (تبلیغ رسالت ج7 ص30، مجموعہ اشتہارات ج3 ص34)
پانچواں فتویٰ: "جھوٹے پر خدا کی لعنت… لعنت اللہ علی الکاذبین۔” (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص111، خزائن ج21 ص275)
چھٹا فتویٰ: "جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں۔” (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص13 حاشیہ، خزائن ج17ص56)
ساتواں فتویٰ: "اے بے باک لوگو! جھوٹ بولنا اور گوہ کھانا ایک برابر ہے۔” (حقیقت الوحی ص206، خزائن ج22 ص215)
آٹھواں فتویٰ: "جھوٹ بولنے سے بدتر دنیا میں اور کوئی برا کام نہیں۔” (تتمہ حقیقت الوحی ص26، خزائن ج22 ص459)
مرزا غلام احمد قادیانی اپنی عبارات کی روشنی میں
مرزا قادیانی کے فتاویٰ آپ نے ملاحظہ فرمائے۔ اب ہم اپنے انصاف پسند قارئین کو غور و فکر کی دعوت دیتے ہیں کہ وہ مرزا قادیانی کی مندرجہ بالا تحریرات پڑھیں اور فیصلہ کریں کہ مرزا قادیانی کے قول و فعل میں کس قدر تضاد ہے۔
ہم قادیانیوں سے بھی کہیں گے کہ مرزا قادیانی کی تحریروں کی بھونڈی اور من گھڑت تاویلات کے گورکھ دھندے چھوڑ کر حقیقت کی دنیا میں آئیں۔ خدا کے لیے اپنے آپ کو حقیقت، مجاز، استعارہ، یہ معنی، وہ معنی کے گرداب سے نکال کر صرف اور صرف حق کی تلاش کے لیے ان تحریرات کا مطالعہ کریں۔
یقیناً اللہ تعالیٰ سمیع و بصیر ہے اور ہدایت کے دروازے کھولنے کے لیے تیار ہے۔ آئیے مرزا قادیانی کے جھوٹ ملاحظہ کیجیے:
مرزا قادیانی کے مشہور جھوٹ
جھوٹ نمبر 1: نبی کریم ﷺ کی اولاد کے بارے میں
میرزا کا دعویٰ: "آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے 11 بچے فوت ہوئے۔” (ملفوظات ج7، ص247)
سوال: کیا قادیانی میرزا قادیانی کے اس قول کی تائید تاریخ ملت اسلامیہ سے پیش کرنے پر قادر ہیں؟ نہیں… ہرگز نہیں۔ یہ تاریخی حقیقت کے خلاف بالکل جھوٹا دعویٰ ہے۔
جھوٹ نمبر 2: موت کی جگہ کے بارے میں
میرزا کا دعویٰ: "ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں۔” (تذکرہ ص591 طبع چہارم)
حقیقت: کیا قادیانی یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ میرزا غلام قادیانی اپنی پوری زندگی میں ایک مرتبہ بھی سرزمین مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ گیا ہو؟ اس مقدس سرزمین پر مرنا تو بہت دور کی بات ہے۔ لاہور میں ہیضہ کی موت مرا۔ وہاں سے ریل گاڑی میں… جسے میرزا قادیانی دجال کی سواری کہا کرتا تھا… قادیان لا کر دفن کیا۔
جھوٹ نمبر 3: قرآن میں قادیان کا ذکر
میرزا کا دعویٰ: "قرآن میں تین شہروں کا ذکر اعزاز کے ساتھ ہے: مکہ، مدینہ اور قادیان۔” (تذکرہ ص74،76، ازالہ اوہام ص77، خزائن ج3 ص140 حاشیہ)
سوال: امت مسلمہ کو جو قرآن کریم محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ذریعے سے ملا ہے، اس قرآن میں تو کسی جگہ پر بھی قادیان کا لفظ موجود نہیں ہے۔ البتہ قادیانی بتائیں میرزا قادیانی نے کس قرآن میں قادیان کا لفظ دیکھا تھا؟ کیا یہ قرآن پر تہمت اور جھوٹ و بہتان نہیں؟
جھوٹ نمبر 4: پچاس الماریاں کتابوں کا دعویٰ
میرزا غلام احمد قادیانی کا وجود ہی انگریز کی مہربانیوں کا مرہون منت تھا۔ اس لیے میرزا غلام احمد قادیانی نے کہا:
"میں نے انگریز کی اطاعت اور حرمت جہاد میں 50 الماریاں کتابوں کی لکھی ہیں۔” (تریاق القلوب ص27،28، خزائن ج15 ص155،156)
حقیقت: ویسے تو میرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی چند کتابوں میں اسلام کی بجائے انگریز حکومت کی اطاعت اور جہاد کے حرام ہونے پر اپنے قلم کا زور لگایا ہے۔ تاہم ہمارا قادیانیوں سے مطالبہ ہے کہ میرزا غلام احمد قادیانی کی کل تصانیف تقریباً 80 کے قریب ہیں۔
سوال: کیا قادیانی میرزا قادیانی کی وہ کتابیں جن سے پچاس الماریاں بھر جائیں، ان کتابوں کے نام، سن تحریر، سن اشاعت، مقام طباعت، پیش کر کے اپنے میرزا قادیانی کو سچا ثابت کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں؟ کبھی نہیں۔
جھوٹ نمبر 5: براہین احمدیہ کا فریب
اعلان کیا کہ میں ایک کتاب لکھنا چاہتا ہوں جو اسلام کی حقانیت پر مبنی ہوگی۔ ۵۰ جلدوں پر مشتمل ہوگی۔ دلائل کا انبار ہوگا۔ اس کے لئے مالی معاونت کی ضرورت ہے۔ چندہ دیا جائے۔
حسب استطاعت لوگوں نے چندہ دیا۔ امیروں نے اپنی حیثیت دیکھی۔ غریبوں نے اسلام کی حمایت میں چھپنے والی کتاب کے لئے اپنا حصہ ڈالا۔ پچاس جلدوں کا وعدہ کیا۔ ان کی پیشگی رقم وصول کی۔ منظر عام پر صرف پانچ جلدیں آئیں۔ مزید کتب کا مطالبہ زور پکڑتا گیا کہ باقی جلدیں بھی فراہم کی جائیں۔ مگر کچھ نہ ہوا۔
براہین احمدیہ کتاب کا نام تجویز کیا۔ حصہ اول، دوم ۱۸۸۰ء میں شائع کیا، حصہ سوم ۱۸۸۲ء، حصہ چہارم ۱۸۸۴ء، حصہ پنجم ۱۹۰۵ء تا ۱۹۰۸ء۔
میرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب براہین احمدیہ حصہ پنجم، خزائن۲۱ ص۹ پر لکھتا ہے: "پہلے ۵۰ حصے لکھنے کا ارادہ تھا۔ اب ۵ پر اکتفا کیا گیا ہے۔ صرف ایک نقطہ کا فرق ہے۔ یعنی ۵ کے ساتھ ایک صفر لگادو تو ۵۰ کا عدد ہوجائے گا۔ وعدہ پورا ہوگیا۔”
ہر عقل سلیم رکھنے والا شخص مرزا قادیانی کے اس جھوٹ کی داد دیئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ میرزا غلام احمد قادیانی نے ۵۰ کتابوں کا وعدہ کیا۔ ۵۰ کتابوں کے پیشگی پیسے لئے۔ مگر لکھیں صرف پانچ۔ تو میرزا قادیانی نے جھوٹ بولا۔ دھوکا دیا۔ وعدہ خلافی کی۔ حرام مال کھایا۔
کیا کوئی قادیانی اس بات پر تیار ہے کہ اس کے کسی نے پچاس روپے دینے ہوں اور وہ آدمی اس کو ۵ روپے دے دے اور یہ کہہ کر دے کہ نقطہ ایک خود لگالو، تمہارا ۵۰ کا قرض میں نے ادا کردیا؟
نتیجہ اور سبق
یہ تحریری شواہد واضح طور پر ثابت کرتے ہیں کہ میرزا قادیانی نے:
- قرآن پر جھوٹی تہمت لگائی
- نبی کریم ﷺ کے بارے میں غلط معلومات دیں
- لوگوں سے پیسے لے کر دھوکہ دیا
- مقدس مقامات کے بارے میں جھوٹے دعوے کیے
- اپنی تصانیف کی تعداد میں مبالغه آرائی کی
قادیانی حضرات سے گزارش ہے کہ وہ تاویلات کے گورکھ دھندے چھوڑ کر ان واضح تضادات پر غور کریں اور حق کی تلاش میں انصاف سے فیصلہ کریں۔
عمومی سوالات
کیا مرزا قادیانی نے واقعی جھوٹ کے خلاف لکھا تھا؟
جی ہاں، اس نے جھوٹ کی سخت مذمت کی تھی اور کہا تھا کہ "جھوٹ بولنے سے مرنا بہتر ہے”۔
براہین احمدیہ کا فریب کیا تھا؟
مرزا نے 50 جلدوں کا وعدہ کر کے پیشگی رقم لی، لیکن صرف 5 جلدیں لکھیں اور کہا کہ نقطہ لگا دو تو 50 ہو جائے گا۔
کیا قرآن میں واقعی قادیان کا ذکر ہے؟
بالکل نہیں۔ یہ مرزا قادیانی کا من گھڑت دعویٰ ہے اور قرآن پر تہمت ہے۔
متعلقه مضامین:
- مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت اور اس کا انجام
- مرزا قادیانی انگریزی ایجنٹ – خود اس کے اعترافات
- قادیانی جماعت قادیانیوں کی نظر میں مسترد
