قادیانی مصنوعات شیزان کا بائیکاٹ کیوں ضروری ہے
شیزان سمیت قادیانی مصنوعات خریدنا ختم نبوت کے خلاف فنڈنگ ہے۔ قادیانی مصنوعات کا بائیکاٹ جذباتی نعرہ نہیں بلکہ ایمانی تقاضا اور ناموس رسالت کی غیرت کا ثبوت ہے۔
متعلقہ موضوعات
قادیانی مصنوعات شیزان کا بائیکاٹ کیوں ضروری ہے
شیزان منکرین ختم نبوت قادیانیوں کی بدنام زمانہ مشروب ساز فیکٹری ہے۔ یہ فیکٹری اقتصادی اعتبار سے فتنہ قادیانیت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔
سادہ لوح مسلمان بھائیو! آپ نے کبھی غور کیا کہ جب آپ شیزان کی مصنوعات خریدتے ہیں تو آپ کی جیب سے نکلنے والی رقم مالکان شیزان کی تجوریوں میں جاتی ہے اور پھر اس رقم کا کثیر حصہ قادیانیوں کے مرکزی فنڈ میں چلا جاتا ہے؟
اس رقم سے قادیانیت کے کفریہ اور خلافِ اسلام منصوبے مکمل ہوتے ہیں۔ اسی رقم سے قادیانی عبادت گاہیں تعمیر ہوتی ہیں، قادیانی مبلغین کو تنخواہیں دی جاتی ہیں، سادہ لوح مسلمانوں کو قادیانیت کے جال میں پھنسا کر مرتد بنایا جاتا ہے، تحریف شدہ قرآن اور مسخ کردہ احادیث شائع کی جاتی ہیں، قادیانی عقائد پر مشتمل کفریہ لٹریچر شائع کیا جاتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ اور حضور نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کی جاتی ہے، انبیاء کرام علیہم السلام کی توہین کی جاتی ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو گالیاں دی جاتی ہیں اور اسلام و اہلِ اسلام کے خلاف خطرناک منصوبے بنائے جاتے ہیں۔
سوچیں اور خوب سوچیں کہ آپ غیر ارادی طور پر قادیانیوں کے ان کفریہ منصوبوں میں کس حد تک شریک ہو رہے ہیں؟
اے مسلمان! ذرا سوچئے
مسلمان بھائیو! آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ہم شیزان کی مصنوعات خرید کر قادیانی قزاقوں کی جھولیاں مال و دولت سے بھرتے ہیں، اقتصادی طور پر ان کو مضبوط بناتے ہیں اور اس گناہ عظیم کا بار بار ارتکاب کرتے ہیں تو ہماری دینی حمیت اور مذہبی غیرت کا معیار کیا ہوا؟
آپ نے کبھی سوچا کہ جلی ہوئی روٹی اور بے ذائقہ سالن آپ کے حلق سے نیچے نہیں اترتا، اشیائے خوردنی پر مکھیاں بھنبھنا رہی ہوں تو آپ کو گھن آتی ہے، لیکن شیزان جیسا ارتدادی مشروب اپنے معدہ میں انڈیلتے ہوئے آپ کو گھن کیوں نہیں آتی؟
اپنے دشمن کے گھر کی چیز تو آپ نہیں کھاتے، لیکن نبی کریم ﷺ کے بدترین دشمن کا تیار کردہ مشروب آپ کیسے پی لیتے ہیں؟
شیزان کی مصنوعات خریدنا کس قدر خطرناک ہے؟
قادیانی مصنوعات خریدنا قادیان کی جھوٹی نبوت کے کفریہ فنڈ میں معاونت کرنا ہے۔
شیزان کی مصنوعات خریدنا گویا عقیدہ ختم نبوت پر ڈاکہ ڈالنے والوں کے ہاتھ مضبوط کرنا اور ناموسِ رسالت کے دشمنوں کو مسلح کرنا ہے۔
اگر آپ کی غیرت یہ گوارا نہیں کرتی کہ باپ یا بھائی کے دشمن کے ساتھ کاروبار کرکے اس کو فائدہ پہنچائیں تو پھر سوچیں کہ نبی کریم ﷺ کے دشمنوں کے ساتھ کاروبار کرنے اور شیزان کی مصنوعات خرید کر نبی کریم ﷺ کے دشمنوں کے ہاتھ مضبوط کرتے وقت آپ کی غیرتِ ایمانی کہاں رخصت ہو جاتی ہے؟
