ختم نبوت پر احادیث – مستند دلائلتفصیل دیکھیں

ختم نبوت پر واقعات | مسیلمہ کذاب کے خلاف صحابہ کرامؓ کا جہاد

عقیدہ ختم نبوت اسلام کا وہ بنیادی عقیدہ ہے جس کے تحفظ کے لیے صحابہ کرامؓ نے اپنی جانیں قربان کردیں۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے خلافت سنبھالتے ہی مسیلمہ کذاب کے فتنے کے خلاف جہاد کا اعلان فرمایا اور تمام صحابہ کرامؓ نے بیک آواز اس پر اجماع کیا۔ جنگ یمامہ میں ایک ہی مہینے میں 1200 صحابہ کرامؓ شہید ہوئے جن میں سات سو حفاظ قرآن اور ستر بدری صحابہ شامل تھے۔

متعلقہ موضوعات

ختم نبوت پر واقعات | مسیلمہ کذاب کے خلاف صحابہ کرامؓ کا جہاد

حضورؐ کی وفات مبارک سے چند دن پہلے مسیلمہ کذاب نے دعویٰ نبوت کیا تو آپؐ تک اس کی خبر پہنچی توآپ علیہ السلام نے اس کے مقابلہ کے لیے لشکر تیار کرنے کا حکم فرمایا ۔ لیکن اسی دوران آپ علیہ السلام کی طبیعت ناساز ہوئی۔ آپؐ اس دنیا سے تشریف لے گئے۔ آپ کے بعد آپ کے جانشین حضرت سیدنا صدیق اکبرؓ بنے۔ اس وقت مختلف گروہوں نے اسلام سے دوری اختیار کرتے ہوئے زکوٰۃ دینے سے انکار کیا، کسی نے نیا نبی مسیلمہ کذاب کو نبی مان لیا۔ اس وقت تمام صحابہ نے ان کے خلاف جہاد کرنے کا علان کیا اور صحابہ کو جمع کیا۔ جس کو صحابہ کا اجماع کہا جاتا ہے۔

اسی دوران تمام صحابہ کرامؓ جمع ہوئے سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے تمام صحابہ کرامؓ کے سامنے عقیدہ ختم نبوت اور مسیلمہ کذاب کے کفر کو بیان فرمایا۔ جس تمام صحابہ کرام نے اجماع کرتے ہوئے بیک آواز ہوکر فرمایا کہ حضورؐ آخری نبی تھے۔ آپ کے بعد جو شخص بھی نبوت کا مدعی ہوگا وہ دائرہ اسلام سے خارج ہوگا۔ کفر کے خلاف جہاد کیا جائے گا۔ لہٰذا مسیلمہ کذاب کے خلاف جہاد کیا گیا، اس جہاد میں بہت زیادہ صحابہ کرامؓ شہید ہوئے لیکن صحابہ نے اس جہاد نہیں چھوڑا۔ حتیٰ کہ اس جنگ میں جتنے صحابہ کرامؓ شہید ہوئے اس سے پہلے حضورؐ کے زمانہ مبارک کی جنگوں میں اتنے صحابہ کسی جنگ میں شہید نہیں ہوئے۔ 

حضرت سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو یہ شرف حاصل ہے کہ آپ جہاں پہلے صحابیٔ رسول اور پہلے خلیفۂ اِسلام تھے، وہاں آپ پہلے محافظِ ختمِ نبوّت ہیں جنھوں نے صحابہ کرامؓ کا ختم نبوت پر پہلا اجماع کرواتے ہوئے حضورؐ کی وفات کے بعد سب سے پہلے سرکاری اور حکومتی سطح پر عقیدۂ ختمِ نبوّت کی پاسبانی کرکے منکرینِ ختمِ نبوّت کا اِستیصال کیا۔

جنگ یمامہ — معرکۂ ختمِ نبوّت کی پہلی فیصلہ کن جنگ

حضرت سیّدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت میں ختمِ نبوّت کے تحفظ کی پہلی جنگ یمامہ کے میدان میں مسیلمہ کذّاب کے خلاف لڑی گئی۔ اس جنگ کی چند اہم تفصیلات یہ ہیں:

  • اس جنگ میں سب سے پہلے حضرت عکرمہؓ، پھر حضرت شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہما اور آخر میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے لشکر کی کمان فرمائی
  • اس پہلے معرکۂ ختمِ نبوّت میں بارہ سو صحابہ کرام و تابعین شہید ہوئے جن میں سات سو قرآن مجید کے حافظ و قاری اور ستر بدری صحابہ تھے
  • مسیلمہ کذّاب کا لشکر چالیس ہزار پر مشتمل تھا جس میں سے بائیس ہزار مسیلمی میدانِ جنگ میں ڈھیر ہوئے
  • مسیلمہ کذّاب کو حضرت وحشی رضی اللہ عنہ نے قتل کیا

حضرت صدیقِ اکبرؓ نے حضرت خالد بن ولیدؓ کو لکھا کہ مسیلمہ کذّاب کی پارٹی کے تمام بالغ افراد کو بجرمِ اِرتداد قتل کردیا جائے، عورتیں اور کم سن لڑکے قیدی بنائے جائیں۔ ایک روایت (البدایہ والنہایہ ج:6 ص:310 اور طبری تاریخ الامم والملوک کی ج:2 ص:482) کے مطابق مرتدین کے اِحراق کا بھی حضرت صدیقِ اکبرؓ نے حکم فرمایا، لیکن آپ کا فرمان پہنچنے سے قبل حضرت خالد بن ولیدؓ معاہدہ کرچکے تھے۔

اور ”بدایہ” کی روایت کے مطابق طلیحہ کے بعض ماننے والوں کو بزاخہ میں قیام کے دوران ایک ماہ تک تلاش کرتے رہے تاکہ آپ ان سے مسلمانوں کے قتل کا بدلہ لیں۔ ان میں سے بعض (طلیحی مرتدین) کو آپ نے آگ سے جلادیا، بعض کو پتھروں سے کچل دیا اور بعض کو پہاڑوں کی چوٹیوں سے نیچے گرادیا۔ یہ سب کچھ آپ نے اس لئے کیا تاکہ مرتدینِ عرب کے حالات سننے والا ان سے عبرت حاصل کرے۔

حضورؐ کے زمانہ مبارک میں دولوگوں نے دعویٰ نبوت کیا۔ ایک اسود عنسی،دوسرا مسیلمہ کذاب، اسودعنسی کو قتل کرنے کےلیے حضرت فیروز دیلمیؓ رات کے اندھیرے میں یمن میں تشریف لے گئے اور اس کو قتل کردیا۔جب حضرت فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ نے اَسوَد عنسی کو قتل کیا، تو رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے ذریعے حضرت فیروز دیلمیؓ کی کامیابی اور اَسوَد عنسی کے قتل کی خبر دی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خبر سن کر خوشی و انبساط کا اظہار فرمایا، اس دُنیا سے تشریف لے جاتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کے ذریعے سب سے آخری غیرملکی خبر جو سماعت فرمائی وہ ایک جھوٹے مدعیٔ نبوّت اَسوَد عنسی کے قتل کی خبر تھی۔

مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ میں تمام صحابہ اپنی جانوں، اولادوں، بیویوں کی پرواہ نہ کرتے شریک ہوئے۔ اس جنگ میں 1200سو صحابہ کرامؓ شہید ہوئے۔ جن میں تقریباً 600سو صحابہ کرامؓ قرآن پاک کے قاری وحافظ تھے۔ اور بدری صحابہ بھی شہید ہوئے۔ اس طرح صحابہ کرامؓ نے اس مسیلمہ کذاب کے خلاف جانفشانی سے جنگ کی اور اس فتنہ کو ختم فرمایا۔

طلیحه اسدی اور مسیلمه کذاب نے رحمتِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری زمانۂ حیات میں نبوّت کا دعویٰ کیا، ہزارہا لوگ ان کے گرد جمع ہوگئے، طلیحہ اسدی نے اپنے ایک قاصد حیال کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیج کر اپنی نبوّت منوانے کی دعوت دی، طلیحه اسدی کے قاصد کی بات سن کر رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت فکر دامن گیر ہوئی۔

حضرت ضرار بن ازورؓ — تحفظ ختم نبوت کے پہلے سپہ سالار

چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تحفظِ ختمِ نبوّت کی پہلی جنگ کے لئے پہلے سپہ سالار کے طور پر اپنے صحابی حضرت ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ کا انتخاب فرمایا، اور ان قبائل و عمال کے پاس جہاد کی تحریک کے لئے روانہ فرمایا جو طلیحہ کے قریب میں واقع تھے، حضرت ضرارؓ نے علی بن اسد سنان بن ابو سنان اور قبیلہ قصنا اور قبیلہ بنو ورتا وغیرہ کے پاس پہنچ کر ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام سنایا، اور طلیحہ اسدی کے خلاف فوج کشی اور جہاد کی ترغیب دی۔ انہوں نے لبیک کہا اور حضرت ضرارؓ کی قیادت میں ایک لشکر تیار ہوکر واردات کے مقام پر پہنچا، دشمن کو پتا چلا، انہوں نے حملہ کیا جنگ شروع ہوئی، لشکرِ اسلام اور فوجِ محمدی نے ان کو ناکوں چنے چبوادئیے، مظفر و منصور واپس ہوئے، ابھی حضرت ضرارؓ مدینہ منوّرہ کے راستے میں تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال مبارک ہوگیا۔ (اَئمۂ تلبیس ج:۱ ص:17)

اسی طرح یمامہ کے میدان میں صحابہ کرام نے عظیم قربانیاں دیں۔ حضورؐ اعلان نبوت کے بعد اس دنیا میں 23 سال تشریف فرما رہے۔ اس دوران مشرکین مکہ ودیگر کفار کے خلاف کئی جنگیں ہوئیں۔ ان تمام جنگوں میں 259 صحابہ کرامؓ شہید ہوئے۔ لیکن یمامہ کے میدان میں ایک ہی جنگ میں ایک ہی مہینہ میں ایک دشمن کے خلاف 1200 صحابہ کرامؓ شہید ہوکر امت مسلمہ کو پیغام دے گئے کہ حضورؐ کے بعد مدعی نبوت کے خلاف جان دے دینا لیکن کسی کو نبوت کی مسند پر نہ بیٹھنے دینا۔ یہی وجہ ہے کہ آج چودہ سو سال گزرنے کے باوجود امت مسلمہ ان جیسے مدعیانِ نبوت کے خلاف برسرپیکار ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی جیسے مدعی نبوت اور اس کے ماننے والے قادیانیوں اور مرزائیوں کے خلاف میدان میں موجود ہیں اور تحریری، عدالتی اور عوامی میدان میں ان کا مقابلہ کیا جارہا ہے۔

عقیدہ ختم نبوت اسلام کا وہ بنیادی عقیدہ ہے جس کے تحفظ کے لیے صحابہ کرامؓ نے اپنی جانیں قربان کردیں۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے خلافت سنبھالتے ہی مسیلمہ کذاب کے فتنے کے خلاف جہاد کا اعلان فرمایا اور تمام صحابہ کرامؓ نے بیک آواز اس پر اجماع کیا۔ جنگ یمامہ میں ایک ہی مہینے میں 1200 صحابہ کرامؓ شہید ہوئے جن میں سات سو حفاظ قرآن اور ستر بدری صحابہ شامل تھے۔ حضرت فیروز دیلمیؓ نے اسود عنسی کو قتل کیا اور حضرت ضرار بن ازورؓ نے تحفظ ختم نبوت کی پہلی جنگ میں سپہ سالاری کا فریضہ انجام دیا۔ یہ عظیم قربانیاں آج بھی امت مسلمہ کو یہ درس دیتی ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی جیسے مدعیان نبوت کے خلاف ہر دور میں ڈٹے رہنا فرض ہے۔

    عقیدہ ختمِ نبوت ﷺ — مستند علم، واضح رہنمائی

    اپنے سوال پوچھیں Urdu | English | Arabic میں