ختم نبوت پر احادیث – مستند دلائلتفصیل دیکھیں

قادیانیوں کے چند خطرناک عقائد و عزائم

قادیانیوں کے عقائد و عزائم اسلام کے بنیادی عقائد کے خلاف سمجھے جاتے ہیں۔ قادیانیت (احمدیت) کے نظریات میں سب سے نمایاں اور خطرناک عقیدہ ختم نبوت کا انکار ہے۔ پاکستان سمیت دنیا کے اکثر اسلامی ممالک نے انہیں غیر مسلم قرار دیا ہوا ہے۔ ذیل میں قادیانیوں کے عقائد و عزائم کے وہ چند خطرناک عقائد بیان کیے جا رہے ہیں جو اسلام کی بنیادی تعلیمات سے سراسر متصادم ہیں۔

متعلقہ موضوعات

قادیانیوں کے چند خطرناک عقائد و عزائم

قادیانیوں کے عقائد و عزائم اسلام کے بنیادی عقائد کے خلاف سمجھے جاتے ہیں۔ قادیانیت (احمدیت) کے نظریات میں سب سے نمایاں اور خطرناک عقیدہ ختم نبوت کا انکار ہے۔ پاکستان سمیت دنیا کے اکثر اسلامی ممالک نے انہیں غیر مسلم قرار دیا ہوا ہے۔ ذیل میں قادیانیوں کے عقائد و عزائم کے وہ چند خطرناک عقائد بیان کیے جا رہے ہیں جو اسلام کی بنیادی تعلیمات سے سراسر متصادم ہیں۔

قادیانیوں کے عقائد و عزائم نے اسلام کی بنیادی اصطلاحات اور مقدس القابات کو شدید تحریف کا نشانہ بنایا ہے۔ الفاظ وہی رکھے گئے ہیں، مگر ان کے مفہوم اور مصداق کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا گیا ہے۔

مرزا غلام احمد کو نبی ماننا

مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ محمد عربی ﷺ اللہ رب العزت کے آخری نبی تھے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو خاتم النبیین کا لقب عطا فرمایا، جس کا مطلب ہے کہ آپ ﷺ پر نبوت کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ اس کے مقابلے میں قادیانی جماعت کا عقیدہ ہے کہ محمد ﷺ ہی کی طرح مرزا غلام احمد بھی اللہ کا نبی ہے۔ یہ عقیدہ قرآن وحدیث اور چودہ سو سال کے اجماع امت کے سراسر خلاف ہے۔

اس موضوع پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے متعدد معجزاتی واقعات موجود ہیں جن میں خاتم النبیین ﷺ کی نبوت کی حتمیت واضح طور پر سامنے آتی ہے۔ تفصیلی ختم نبوت پر واقعات انہی واقعات سے مزید روشنی حاصل کی جا سکتی ہے۔

مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ جن لوگوں نے ایمان کی حالت میں رحمت عالم ﷺ کو دیکھا، وہ مبارک جماعت صحابہ کرامؓ کہلاتی ہے۔ یہ وہ عظیم ہستیاں ہیں جنہوں نے براہ راست آنحضرت ﷺ سے دین سیکھا اور اسے آگے پہنچایا۔

لیکن قادیانیوں کے عقائد و عزائم کے مطابق مرزا غلام احمد قادیانی کے دیکھنے والے بھی صحابی ہیں۔ اس طرح وہ صحابہ کرامؓ کے مقدس لقب کو مرزا کے پیروکاروں پر लागو کر کے اسلامی تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

مسلمان رحمت عالم ﷺ کے خاندان کو اہل بیت اور ازواج مطہرات کو امہات المؤمنین کے قرآنی اعزاز سے جانتے ہیں۔ یہ القابات اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں خود عطا فرمائے ہیں اور ان کا اطلاق صرف آنحضرت ﷺ کے گھرانے پر ہوتا ہے۔

قادیانی جماعت مرزا غلام احمد کے خاندان کو اہل بیت اور ان کی بیوی کو ام المؤمنین قرار دیتی ہے۔ حتیٰ کہ سیدہ النساء اور پنجتن پاک جیسے القابات بھی مرزا کے گھرانے والوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ اسلامی اصطلاحات کا کھلا مذاق اور مقدس ہستیوں کی صریح توہین ہے۔

مسلمانوں کے نزدیک جو شخص رحمت عالم ﷺ کو نہیں مانتا اس کی نجات نہیں ہوگی۔ جبکہ قادیانی جماعت کا موقف ہے کہ جو شخص مرزا غلام احمد کو نہیں مانتا اس کی نجات نہیں۔

اسی طرح مسلمان ہونے کے لیے محمد عربی ﷺ پر ایمان لانا ضروری ہے، مگر قادیانیوں کے نزدیک جو مرزا غلام احمد کو نہیں مانتا وہ مسلمان نہیں۔

مسلمانوں کے نزدیک مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ عظمت والے شہر ہیں، جبکہ قادیانیوں کے نزدیک ان کی چھاتیوں سے رشد و ہدایت کا دودھ خشک ہو چکا ہے اور اب ارض حرم اور ظلی حج کا مقام قادیان ہے۔


قادیانیوں کے عقائد و عزائم کی اصطلاحات کی تحریف (مقایسہ)

نمبراسلامی اصطلاحمسلمانوں کا عقیدہقادیانیوں کے عقائد و عزائم کے مطابق
1صحابیآنحضرت ﷺ کے صحابیمرزا غلام احمد کے پیروکار بھی صحابی
2اہل بیتصرف اہل بیت نبوی ﷺمرزا غلام احمد کا خاندان
3امہات المؤمنینازواج مطہرات رسول ﷺمرزا غلام احمد کی بیویاں
4نجاتمحمد ﷺ پر ایمان لانے سےمرزا غلام احمد پر ایمان لانے سے
5ارض حرم / حرمین شریفینمکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہقادیان

مسلمانوں کے نزدیک قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا آخری، مکمل اور ہمیشہ کے لیے محفوظ کلام ہے۔ اللہ نے خود قرآن کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے اور یہ خطاؤں، تبدیلی اور تحریف سے پاک ہے۔

لیکن قادیانیوں کے عقائد و عزائم بالکل مختلف ہیں۔ قادیانیوں کے عقائد و عزائم کے مطابق مرزا غلام احمد قادیانی کی وحی بھی خدائی کلام ہے اور قرآن مجید کی طرح خطاؤں سے پاک ہے۔ وہ مرزا صاحب کی تحریروں کو الہامی درجہ دیتے ہیں اور بعض اوقات انہیں قرآن کے برابر یا اس سے بھی بالاتر سمجھتے ہیں۔

قادیانیوں کے عقائد و عزائم کے چند اہم نکات یہ ہیں:

  • مرزا غلام احمد قادیانی پر نازل ہونے والی وحی کو وہ قرآن مجید کے برابر خدائی کلام مانتے ہیں۔
  • مرزا صاحب کی کتاب "تذکرہ” کو الہامی کتاب قرار دیتے ہیں اور اسے قرآن کی طرح مقدس سمجھتے ہیں۔
  • مرزا غلام احمد کے زمانے کا اسلام چودہویں رات کے چاند کی طرح کامل اور روشن ہے، جبکہ حضور ﷺ کے زمانے کا اسلام پہلی رات کے چاند کی طرح ادھورا تھا۔
  • مرزا صاحب کے بعد بھی وحی کا سلسلہ جاری رہنے کا عقیدہ رکھتے ہیں، جو قرآن کی حتمیت پر مستقیم حملہ ہے۔

یہ قادیانیوں کے عقائد و عزائم نہ صرف عقیدہ ختم نبوت بلکہ قرآن مجید کی آخری حیثیت پر بھی سنگین حملہ ہیں۔ مسلمان علماء کے نزدیک یہ موقف صریحاً زندیقانہ اور کفر ہے۔


گویا قادیانیوں کے عقائد و عزائم نے اسلام کے بنیادی مفاہیم کو ہی تبدیل کر دیا ہے۔ نبی، رسول، خاتم النبیین، اسلام، مسلمان، صحابہ، اہل بیت، امہات المؤمنین، سیدہ النساء، پنجتن پاک، حرمین شریفین اور ارض حرم جیسی تمام اسلامی اصطلاحات کے مفہوم و مصداق قادیانیوں کے عقائد و عزائم کے مطابق بدل گئے ہیں۔ الفاظ قادیانیوں نے وہی رکھے ہیں، لیکن ان کا حقیقی مفہوم اور مصداق مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ بالکل اس طرح جیسے کوئی شخص پاکستان میں رہتے ہوئے صدر مملکت کہے تو مراد آصف علی زرداری کی بجائے مرزا مسرور احمد لے، چیف جسٹس کہے تو جسٹس اجمل میاں کی بجائے دراب پٹیل مراد لے، اور پاکستان سے مراد قادیان لے۔

    عقیدہ ختمِ نبوت ﷺ — مستند علم، واضح رہنمائی

    اپنے سوال پوچھیں Urdu | English | Arabic میں