ختم نبوت پر احادیث – مستند دلائلتفصیل دیکھیں

تحفظ ختم نبوت کے چند واقعات

کفر واسلام ، باطل وحق، ہدایت وضلالت، کا باہمی ٹکراؤ ابتداء سے جاری ہے۔ حق وہدایت کا منبع ومرکز نبوت کی ذات گرامی ہوتی ہے۔ اللہ رب العزت نے ہدایت کی خیروبرکت نبوت سے وابستہ فرمائی ہے۔ ہر وہ شخص جو ذات نبوت سے وابستہ ہوا۔ فلاح پاگیا۔ جو نہ بڑ سکا وہ مردود ہوگیا۔ عالم کون ومکان کے مقصود خلاصہ کائنات، وجہ تخلیق عالم اور رشد وہدایت کا منبع وسرچشمہ اللہ رب العزت نے حضورسرور کائناتؐ کی ذات بابرکات کو بنایا۔

متعلقہ موضوعات

تحفظ ختم نبوت کے چند واقعات

کفر واسلام ، باطل وحق، ہدایت وضلالت، کا باہمی ٹکراؤ ابتداء سے جاری ہے۔ حق وہدایت کا منبع ومرکز نبوت کی ذات گرامی ہوتی ہے۔ اللہ رب العزت نے ہدایت کی خیروبرکت نبوت سے وابستہ فرمائی ہے۔ ہر وہ شخص جو ذات نبوت سے وابستہ ہوا۔ فلاح پاگیا۔ جو نہ بڑ سکا وہ مردود ہوگیا۔ عالم کون ومکان کے مقصود خلاصہ کائنات، وجہ تخلیق عالم اور رشد وہدایت کا منبع وسرچشمہ اللہ رب العزت نے حضورسرور کائناتؐ کی ذات بابرکات کو بنایا۔ 

اللہ رب العزت کے خزانہ میں نبوت ورحمت کی جو نعمت تھی وہ آپؐ پر تمام کی تمام نچھاور کردی گئی، یہی وجہ ہے کہ آپؐ خاتم الانبیاء والمرسلین ورحمۃ للعالمین کے اعزاز سے نوازے گئے۔اللہ رب العزت نے رحمت عالمؐ کے اس اعزاز خاتم النّبیین کو ثابت کرنے کے لئے آپؐ کے ذخیرہ احادیث میں دو سو سے زائد روایات موجود ہیں۔ امت کا سب سے پہلا اجماع عہد صدیقیؓ میں ختم نبوت کے مسئلہ پر ہوا۔ چونکہ یہ مسئلہ دین کا اہم بنیادی اور اساسی مسئلہ ہے۔ اس میں چودہ سو سال سے کبھی بھی امت دو رائے کا شکار نہیں ہوئی۔ بلکہ جس وقت کسی شخص نے اس مسئلہ کے خلاف رائے دی امت نے اسے سرطان کی طرح اپنے جسم سے علیحدہ کردیا۔ ختم نبوت کا تحفظ یا بالفاظ دیگر منکرین ختم نبوت کا استیصال دین کا ہی ایک حصہ ہے۔ دین کی نعمت کا اتمام آنحضرتؐ کی ذات اقدس پر ہوا۔ اس لئے دین کے اس شعبہ کو بھی اللہ رب العزت نے خود آنحضرتؐ سے وابستہ فرمادیا اور سب سے پہلے خود آنحضرتؐ نے اپنے زمانہ میں پیداہونے والے جھوٹے مدعیان نبوت کا استیصال کر کے امت مسلمہ کو اپنے عمل مبارک سے کام کرنے کا عملی نمونہ پیش فرمادیا۔ چنانچہ اسود عنسی کے استیصال کے لئے رحمت عالمؐ نے حضرت فیروز دیلمیؓ کو اور طلیحہ اسدی کے مقابلہ میں جہاد کی غرض سے حضرت ضرار بن ازورؓ کو روانہ فرمایا۔ یہ امت کے لیے خود آںحضرت ﷺ کا عملی سبق ہے۔ امت کے لیے خیر و برکت اور فلاح دارین اس سے وابستہ ہے کہ عقیدہ ختم نبوت کا جان جوکھوں میں ڈال کر تحفظ کرے اور منکرین ختم نبوت کو ان کے انجام تک پہنچائے۔ امت نے آںحضرت ﷺ کے اس مبارک عمل کو اپنے لیے مشعل راہ بنا لیا۔ خیر القرون کے زمانے سے لے کر آج تک ایک لمحہ بھی امت اس سے غافل نہیں ہوئی۔

اس وقت آپ حضرات کے سامنے ختم نبوت کے تحفظ کا اعزاز اولیت حاصل کرنے والوں کا ایک سرسری اور اجمالی خاکہ پیش کیا جا رہا ہے۔ تفصیلی ختم نبوت پر دلائل جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

حضرت سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو یہ شرف حاصل ہے کہ آپ جہاں پہلے صحابی رسولؐ اور پہلے خلیفہ اسلام تھے۔ وہاں آپ پہلے محافظ ختم نبوت ہیں۔ جنہوں نے سب سے پہلے سرکاری اور حکومتی سطح پر عقیدہ ختم نبوت کی پاسبانی کر کے منکرین ختم نبوت کا استیصال کیا۔

ختم نبوت کے پہلے مجاہد

حضرت ابو مسلم خولانی جن کا نام عبداللہ بن ثوبؓ بھی ہے اور یہ امت محمدیہ (علی صاحبہا السلام) کے وہ جلیل القدر بزرگ ہیں جن کے لئے اللہ تعالیٰ نے آگ کو اسی طرح بے اثر فرمادیا، جیسے حضرت ابراہیمؑ کے لئے آتش نمرود کو گلزار بنادیا تھا۔ یہ یمن میں پیدا ہوئے تھے اور سرکار دوعالمؐ کے عہد مبارک ہی میں اسلام لاچکے تھے، لیکن سرکارؐ کی خدمت میںحاضری کا موقع نہیں ملا تھا۔ آنحضرتؐ کی حیات طیبہ کے آخری دور میں یمن میں نبوت کا جھوٹا دعویدار اسود عنسی پیدا ہوا۔ جو لوگوں کو اپنی جھوٹی نبوت پر ایمان لانے کے لئے مجبور کیا کرتا تھا۔

اسی دوران اس نے حضرت ابومسلم خولانی کو پیغام بھیج کر اپنے پاس بلایا اور یہ اپنی نبوت پرایمان لانے کی دعوت دی، حضرت ابومسلمؓ نے انکار کیا پھر اس نے پوچھا کہ کیا تم محمدؐ کی رسالت پر ایمان رکھتے ہو؟ حضرت ابومسلم نے فرمایا: ہاں۔

اس پر اسود عنسی نے ایک خوفناک آگ دہکائی اور حضرت ابومسلمؓ کو اس آگ میں ڈال دیا، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے آگ کو بے اثر فرمادیا اور وہ اس سے صحیح سلامت نکل آئے۔ یہ واقعہ اتنا عجیب تھا کہ اسود عنسی اور اس کے رفقاء پر ہیبت سی طاری ہوگئی اور اسود عنسی کے ساتھیوں نے اسے مشورہ دیا کہ ان کو جلاوطن کر دو، ورنہ خطرہ ہے کہ ان کی وجہ سے تمہارے پیروؤں کے ایمان میں تزلزل نہ آجائے۔ چنانچہ انہیں یمن سے جلاوطن کردیا گیا۔ 

یمن سے نکل کر ایک ہی جائے پناہ تھی، یعنی مدینہ منورہ، چنانچہ یہ سرکار دوعالمؐ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے چلے، لیکن جب مدینہ منورہ پہنچے تو معلوم ہوا کہ آفتاب رسالتؐ روپوش ہوچکا ہے۔ آنحضرتؐ وصال فرما چکے تھے اور حضرت صدیق اکبرؓ خلیفہ بن چکے تھے، انہوں نے اپنی اونٹنی مسجد نبویؐ کے دروازے کے پاس بٹھائی اور اندر ایک ستون کے پیچھے نماز پڑھنی شروع کردی۔ وہاں حضرت عمرؓ موجود تھے۔ انہوں نے ایک اجنبی مسافر کو نماز پڑھتے دیکھاتو ان کے پاس آئے اور جب وہ نماز سے فارغ ہوگئے تو ان سے پوچھا: آپ کہاں سے آئے ہیں؟ یمن سے حضرت ابومسلم خولانیؓ نے جواب دیا۔ 

حضرت عمرؓ نے فوراً پوچھا: اللہ کے دشمن (اسود عنسی) نے ہمارے ایک دوست کو آگ میں ڈال دیا تھا، اور آگ نے ان پر کوئی اثر نہیں کیا تھا، بعد میں ان صاحب کے ساتھ اسود نے کیا معاملہ کیا؟

حضرت ابومسلم خولانیؓ نے فرمایا: ان کا نام عبداللہ بن ثوبؓ ہے۔ اتنی دیر میں حضرت عمرؓ کی فراست کام کرچکی تھی، انہوں نے فوراً فرمایا: میں آپ کو قسم دے کر پوچھتا ہوں، کیا آپ ہی وہ صاحب ہیں؟ 

حضرت ابومسلم خولانیؓ نے جواب دیا: جی ہاں۔

حضرت عمرؓ نے یہ سن کرفرط مسرت ومحبت سے ان کی پیشانی کو بوسہ دیا اور انہیں لے کر حضرت صدیق اکبرؓ کی خدمت میں پہنچے، انہیں صدیق اکبرؓ کے اور اپنے درمیان بٹھایا اور فرمایا: اﷲتعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے موت سے پہلے امت محمدیہؐ کے اس شخص کی زیارت کرادی جس کے ساتھ اﷲتعالیٰ نے ابراہیم خلیل اﷲؑ جیسا معاملہ فرمایا تھا۔ (حلیۃ الاولیاء لابی نعیمؒ ج2 ص129، تہذیب تاریخ ابن عساکر ص315ج7)

حضرت نبی کریمؐ کے آخری زمانہ حیات میں یمن وغیرہ کے نگران حضرت معاذ بن جبلؓ تھے۔ اسود عنسی نے دعویٰ نبوت کیا اور اپنا جھتہ بنالیا۔ حضرت فیروز دیلمیؓ کو یہ شرف حاصل ہے کہ آپ نے اسود عنسی کو قتل کیا اس لحاظ سے حضرت فیروز دیلمیؓ پہلے غازی ختم نبوت ہیں۔

حضرت حبیب بن زیدؓ کو مسیلمہ کذاب کے لوگ پکڑ کر لے گئے مسیلمہ کذاب نے حضرت حبیبؓ سے پوچھا کہ کیا آپ محمد رسول اللہؐ کو اﷲرب العزت کا رسول مانتے ہیں؟ جواب دیا ہاں مانتا ہوں۔ مسیلمہ نے دوسرا سوال کیا کہ کیا تم مجھے رسول مانتے ہو جواب میں اس صحابی رسولؐ نے ارشاد فرمایا: ’’ان فی اذنی صمماً عن سماع ما تقول ‘‘ میرے کان تیری اس بات (دعویٰ نبوت) کو سننے سے انکار کرتے ہیں۔

مسیلمہ نے اس صحابی رسولؐ کا ایک بازو کاٹنے کا حکم دیا۔ جو کاٹ دیا گیا مسیلمہ نے اپنا سوال دہرایا مگر جواب وہی ملا۔ پھر دوسرا ہاتھ کاٹا گیا۔ تیسری بار سوال دہرانے پر جواب حسب سابق تھا۔ حتیٰ کہ حضرت حبیب بن زیدؓ کے جسم مبارک کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے انہیں شہید کردیاگیا مگر ختم نبوت کے اس سب سے پہلے شہید نے جناب رسالت مآبؐ کی رسالت کے بعد کسی اور کے لئے رسالت ونبوت کا جملہ سننے کے لے اپنے کانوں کا آمادہ نہیں پایا۔ (الاستیعاب)

حضرت عبداللہ بن وہب الاسلمیؓ صحابی رسولؐ ہیں آنحضرتؐ کی وفات کے وقت عمان میں تھے، خبر سن کر روانہ ہوئے۔ راستہ میں مسیلمہ کذاب نے ان کو گرفتار کرلیا۔ اس نے اپنی نبوت آپ پر پیش کی تو آپ نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا مسیلمہ کذاب نے اس جرم (ختم نبوت پر ثابت قدمی) میں ان کو جیل میں ڈال دیا جب حضرت خالد بن ولیدؓ نے مسیلمہ کذاب پر حملہ کیا تو حضرت عبداللہ بن وہب الاسلمیؓ جیل سے نکل کر حضرت خالدؓ کے لشکر کے اس حصہ میں جاکر شامل جہاد ہوئے جو حضرت اسامہ بن زیدؓ کی کمان میں جنگ کررہا تھا۔ اس لحاظ سے حضرت عبداللہ بن وہبؓ کو ختم نبوت کی خاطر سب سے پہلے گرفتار ہونے کی سعادت حاصل ہے۔ (طبقات ابن سعد حصہ چہارم ص446 اردو)

طلیحہ اسدی نے رحمت عالمؐ کے آخری زمانہ حیات میں نبوت کا دعویٰ کیا ہزار ہا لوگ اس کے گرد کے جمع ہوگئے۔ اس نے اپنے ایک قاصد حیال کو حضورؐ کے پاس بھیج کر اپنی نبوت منوانے کی دعوت دی۔ طلیحہ اسدی کے قاصد کی بات سن کر رحمت عالمؐ کو بہت فکر دامن گیر ہوئی۔ چنانچہ آپؐ نے تحفظ ختم نبوت کی پہلی جنگ کے سپہ سلار کے لئے اپنے صحابی حضرت ضرار بن ازورؓ کا انتخاب فرمایا اور ان قبائل وعمال کے پاس جہاد کی تحریک کے لئے روانہ فرمایا جو طلیحہ کے قریب میں واقع تھے حضرت ضرار نے علی بن اسد سنان بن ابو سنان اور قبیلہ قضا اور قبیلہ بنو ورتا وغیرہ کے پاس پہنچ کر ان کو آنحضرتؐ کا پیغام سنایا اور طلیحہ اسدی کے خلاف فوج کشی اور جہاد کی ترغیب دی۔ انہوں نے لبیک کہا اور حضرت ضرارؓ کی قیادت میں ایک لشکر تیار ہوکر واردات کے مقام پر پڑؤا کیا۔ دشمن کو پتہ چلا ، انہوں نے حملہ کیا جنگ شروع ہوئی۔ لشکر اسلام اور فوج محمدی نے ان کو ناکوں چنے چبوا دیئے مظفر ومنصور واپس ہوئے۔ ابھی حضرت ضرارؓ مدینہ منورہ کے راستہ میں تھے کہ آنحضرتؐ کا وصال مبارک ہوگیا۔ (آئمہ تلبیس ص17ج1)

حضرت سیدنا صدیق اکبرؓ کے عہد خلافت میں ختم نبوت کے تحفظ کی پہلی جنگ یمامہ کے میدان میں مسیلمہ کذاب کے خلاف لڑی گئی۔ اس جنگ میں سب سے پہلے حضرت عکرمہؓ پھر حضرت شرحبیلؓ بن حسنہ اور آخر میں حضرت خالد بن ولیدؓ نے مسلمانوں کے لشکر کی کمان فرمائی۔ اس پہلے معرکہ ختم نبوت میں بارہ سو صحابہ کرامؓ شہید ہوئے۔ جن میں سات سو قرآن مجید کے حافظ وقاری اور بدری صحابہؓ تھے۔ مسیلمہ کذاب کا لشکر چالیس ہزار پر مشتمل تھا، جس میں سے بائیس ہزار مسیلمی میدان جنگ میں ڈھیر ہوئے۔ حضرت صدیق اکبرؓ نے حضرت خالد بن ولیدؓکو لکھا کہ مسیلمہ کذاب کی پارٹی کے تمام بالغ افراد کو بجرم ارتداد قتل کردیا جائے۔ عورتیں اور کم سن لڑکے قیدی بنائے جائیں اور ایک روایت (البدایہ والنہایہ ج6 ص310 اور طبری تاریخ الامم والملوک کی جلد2 ص482) کے مطابق مرتدین کے احراق کا بھی حضرت صدیق اکبرؓ نے حکم فرمایا لیکن آپ کا فرمان پہنچنے سے قبل حضرت خالد بن ولیدؓ معاہدہ کرچکے تھے۔ مسیلمہ کذاب کو حضرت وحشیؓ نے قتل کیا تھا۔ اور بدایہ کی روایت کے مطابق طلیحہ کے بعض ماننے والوں کو بزاخہ میں قیام کے دوران ایک ماہ تک ان کی تلاش میں پھرتے رہے تاکہ آپ ان سے مسلمانوں کے قتل کا بدلہ لیں۔ جن کو انہوں نے اپنے ارتداد کے زمانہ میں اپنے درمیان رہتے ہوئے قتل کردیا تھا۔ ان میں سے بعض (طلیحی مرتدین) کو آپ نے آگ میں جلادیا اور بعض کو پتھروں سے کچل دیا اور بعض کو پہاڑوں کی چوٹیوں سے نیچے گرادیا۔ یہ سب کچھ آپ نے اس لئے کیا تاکہ مرتدین عرب کے حالات سننے والا ان سے عبرت حاصل کرے۔(البدایہ ج6 ص1166، اردو ترجمہ مطبوعہ نفیس اکیڈمی کراچی)

جب حضرت فیروز دیلمیؓ نے اسود عنسی کو قتل کیا تو رحمت عالمؐ کو وحی کے ذریعہ حضرت فیروز کی کامیابی اور اسود عنسی کے قتل کی خبر دی گئی، آپؐ نے یہ خبر سن کر خوشی وانبساط کا اظہار فرمایا اس دنیا سے تشریف لے جاتے ہوئے آنحضرتؐ نے وحی کے ذریعہ سب سے آخری غیر ملکی خبر جو سماعت فرمائی وہ ایک جھوٹے مدعی نبوت اسود عنسی کے قتل کی خبر تھی۔ 

حضرت سیدنا صدیق اکبرؓ جب مسند آرائے خلافت ہوئے تو آپ حضرت اسامہؓ کے لشکر کو روانہ فرمارہے تھے کہ آپ کو یمن سے اسود عنسی کے قتل کی تفصیلات پرمشتمل بشارت پہنچی۔ اس لحاظ سے حضرت صدیق اکبر کو خلافت سنبھالتے ہی سب سے پہلی جو غیر ملکی بشارت سنائی گئی وہ جھوٹے مدعی نبوت اسود عنسی کے قتل کی تھی۔ 

خلافت صدیقی میں پہلا حسن اتفاق

اسود عنسی کے قتل کی بذریعہ وحی رحمت عالمؐ نے آخری خبر سنی اور صدیق اکبرؓ نے یہی خبر بذریعہ قاصد خلافت سنبھالتے ہی سب سے پہلے سنی ، گویا خلافت صدیقی میں یہ پہلا حسن اتفاق تھا کہ جس معاملہ پر رحمت عالمؐ نے اپنے کام کا اختتام فرمایا حضرت صدیق اکبرؓ نے وہاں سے اپنے کام کی ابتداء فرمائی۔ فلحمدﷲ!

سب سے پہلی غیبی تصدیق

نعمان بن بشیر فرماتے ہیں کہ زید بن خارجہ رضی اللہ عنہ انصار کے سرداروں میں سے تھے۔ ایک روز مدینہ طیبہ کے کسی راستے میں چل رہے تھے کہ یکایک زمین پر گر پڑے اور فوراً وفات ہو گئی۔ انصار نے انہیں اٹھا کر گھر لایا اور چاروں طرف سے ڈھانپ دیا۔ گھر میں کچھ انصاری عورتیں ان کی وفات پر گریہ و زاری کر رہی تھیں اور کچھ مرد جمع تھے۔

مغرب اور عشاء کے درمیان جب وقت آیا تو اچانک ایک آواز سنائی دی: "چپ رہو، چپ رہو”۔ لوگ حیران ہو کر ادھر ادھر دیکھنے لگے۔ جب تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ یہ آواز اس چادر کے نیچے سے آرہی ہے جس میں میت ہے۔ لوگوں نے چادر ہٹا کر دیکھا تو زید بن خارجہ رضی اللہ عنہ کی زبان سے یہ الفاظ نکل رہے تھے:

’’محمد رسول اللہ النبی الامی خاتم النبیین لا نبی بعده‘‘

یعنی محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نبی امی ہیں جو انبیاء کے خاتم ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔

اس طرح کے متعدد معجزاتی واقعات جاننے کے لیے ختم نبوت پر واقعات دیکھیں۔

تحفظ ختم نبوت کی تاریخ صحابہ کرامؓ کی بے مثال قربانیوں سے بھری پڑی ہے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے بطور پہلے خلیفہ سرکاری سطح پر منکرین ختم نبوت کا استیصال کیا اور جنگ یمامہ میں بارہ سو صحابہ کرامؓ نے جامِ شہادت نوش کیا۔ یہ واقعات امت مسلمہ کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ ہر دور میں فرضِ عین ہے۔

    عقیدہ ختمِ نبوت ﷺ — مستند علم، واضح رہنمائی

    اپنے سوال پوچھیں Urdu | English | Arabic میں