محاسبہ قادیانیت جلد 36 - رد قادیانیت کے اہم رسائل
یہ مواد کیا بیان کرتا ہے؟
کتاب کا تعارف
نام کتاب : محاسبہ قادیانیت جلدبتیس (36)
مرتب : مولانا اللہ وسایا صاحب
صفحات : 432
ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
محاسبہ قادیانیت کی جلد چھتیس(36) پیش خدمت ہے۔ اس میں مختلف علماء کے قادیانیت کے خلاف اہم رسائل، مضامین اور تحریریں شامل ہیں جو مختلف زمانوں میں لکھی گئیں۔ یہ جلد قادیانیت کے فتنے کے رد میں علمی مواد کا ایک اہم مجموعہ ہے۔
اہم نکات
(1) بجواب مکتوب لندن
مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا عبدالرحیم اشعرؒ کا رسالہ۔ 1953ء کی تحریک ختم نبوت کے دوران لندن سے آئے سوالات کے جواب میں لکھا گیا۔
(2) دردمند خاتون
مولانا حافظ عبدالرحمن کینجروی کا رسالہ۔ 1973ء میں نوائے وقت میں شائع شدہ ایک خاتون کے بیان پر لکھا گیا جو مئی 2010ء میں شائع ہوا۔
(3) مسئلہ کشمیر اور قادیانی امت
مولانا اختر کاشمیری کا رسالہ۔ قادیانیت کے خلاف ان کا دوسرا اہم تحریری مواد۔
(4) لندن سے قادیان
صوفی محمد ایاز خان نیازی کا مضمون جو اگست 1972ء میں ماہنامہ ترجمان اہل سنت ختم نبوت نمبر میں شائع ہوا۔
(5) ایک خوش آئند اقدام، ایک لمحہ فکریہ
مفتی عبدالعزیز ہاشمی کا رسالہ جو امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ء پر لکھا گیا۔
(6) الحقائق الاصلیہ بجواب لمحہ فکریہ
حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی کا مرتب کردہ رسالہ۔ منیرالدین شمس کے “لمحہ فکریہ” کے جواب میں لکھا گیا۔
(7) قادیانی نبی اور اس کی عبرتناک موت
اسلامی مشن سنت نگر لاہور کا شائع کردہ رسالہ۔
(8) فیصلہ بہ آیات قرآنی بجواب اشتہار فرقہ قادیانی
جناب انشاء اﷲ صاحب گوجرانوالہ کا ستمبر 1917ء میں شائع شدہ رسالہ۔
(9) مرزاقادیانی کے دعاوی کا عروج ونزول
عبدالبہاء کے لیکچر پر مبنی رسالہ جو قادیانیت کے دعاویٰ کا تجزیہ کرتا ہے۔
(10) خیالات قاسمی (جلد اوّل ودوم)
قاسم علی خان سیونی کا 1898ء میں شائع شدہ رسالہ۔ مرزاقادیانی کی کتاب “ازالہ اوہام” پر نقد۔
کتاب کا خلاصہ
یہ جلد مختلف زمانوں کے نامور علماء کے قادیانیت کے خلاف تحریروں کا مجموعہ ہے۔ اس میں رسائل، مضامین اور جوابات شامل ہیں جو قرآن و حدیث کی روشنی میں فتنہ قادیانیت کا علمی رد پیش کرتے ہیں۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اسے 432 صفحات میں جمع کر کے قارئین کے لیے ایک مستند اور مفید ذریعہ فراہم کیا ہے۔
متعلقہ مواد
